میرا سفر بس اتنا ساتھا
انسان کے خیالات ایک ایسے آئینے کی مانند ہیں ۔انسانیت کے خدو خیال اپنی تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ بڑی وضاحت سے اجاگر ہونے لگتے ہیں تب ۔ جن وادیوں اور منزلوں سے یہ کارواں رنگ و بو بَن کر گزرتا ہے اُس کی رُو داد الفاظ کا پیکر اختیار کر لیتی ہے اور پھر یہی لفظ کہانی و تاریخ کا روپ دھار لیتے ہیں ۔ہر انسان کی کمزوری اسکا ماضی ہوتا ہے ۔انسان کو ہمیشہ اپنے ماضی سے لگاؤ رہتا ہے ۔اپنے ساتھ گزرے ایک ایک لمحے کو یادیں بنا لیتا ہے ۔
لامتنائی ارتِقائی راستوں کی طرف مڑ کر دیکھنا انہیں چُھونا اُسکی خوشبو کو محسوس کرنا چاہتا ہے۔مجھ سے خوشبو کئی سالوں سے دور تھی۔میرا وجود کچھ رشتوں کی مہک سے خالی ہو چکا تھا ۔
مجھے بھی لگا جسے میں بھی کئی سالوں بعد خود سے گفتگو کرنے لگی ہوں آنکھیں بند کئے ایک رات میں ہی دس دن کا سفر کر ڈالا۔اپنے ملک کے ذروں سے محبت ،اپنا بچپن ،لڑھکپن سب ماضی کے آئینوں سے جھلکنے لگا تھا ۔۔

اکثر ہی سوچتی ہم کیا واقعی پردیسی ہو کر رہ چکے ہیں ۔اپنا ملک چھوڑے ایک عرصہ ہونے کو ہے مگر پھر بھی یہ ہمارا دیس کیوں نہیں بن پایا ۔شاید ہم کہیں بھی جا بسیں ہمارے اپنے وطن کی مٹی ہمیں پکارتی رہتی ہے ۔کتنے ہی مہینے ہونے کو تھے ہر رات بستر پر لیٹتے ہی ایک خواہش بار بار سَر اُٹھانے لگتی ۔میری اماّں کو مجھ سے بچھڑے چار سال کا عرصہ ہوچکا میں ہر ہفتے اُن کی قبر پر حاضری دیتی ہوں شاید اسیلئے مجھے کبھی لگا ہی نہیں کہ وہ مجھ سے جدا ہے ۔اِس کے برعکس میرے والد صاحب کو ہم سے بچھڑے اٹھائیس سالوں کا طویل عرصہ ہوا چکا میرے اور اُن کے درمیان ہزاروں میلوں کا فاصلہ اور اُن فاصلوں پر سالوں کی دھول۔ کئی روز کی کشمکش آخر ایک فیصلے کے موڑ پر لے ہی آئی ۔پھر میں نے پاکستان جانے کا فیصلہ کر ڈالا۔۔۔دس سال کی طویل خاموشی میں کتنے اپنے ہم سے جدا ہو چکے تھے ۔
دو اپریل بروز بدھ
ہماری دبئی کی فلائٹ تھی ۔میں اپنی بیٹی سونیا کے ساتھ ہتھرو ائیر پورٹ پر تھی ۔اِسی فلائٹ سے میری بہن اور بھانجی اپنے بچوں کے ساتھ دبئی کا سفر کر رہی تھی ۔ایک ساتھ سفر کرنا اچھا لگ رہا تھا ۔قیام بھی ہمارا ایک ساتھ ہی تھا ۔میری بیٹی اپنے بیٹے اور بہو کے ہاں اورمیں اپنے بھانجے کے ساتھ ۔یعنی جگہ ایک اور رشتے الگ الگ ۔۔ویسے تو میں اپنے اِسی بھانجے کے پاس چھ ماہ پہلے بھی گئی تھی تب سب ہی کہتے تھے دبئی دیکھنے والی جگہ ہے مگر جب میں اپنے دس دن وہاں گزار کر آئی تو میں اپنی ہی فیملی ممبروں سے اتفاق نا کر سکی ۔۔
کیونکہ نا موسم کے اعتبار سے اچھا لگا اور نا ہی سیرو تفریح کے معاملے میں ۔میں شاپنگ کرنے کی اتنی شوقین بھی نہیں کہ اچھے اچھے خوبصورت شاپینگ مال دیکھ کر خوش ہوتی ۔میری بہن بلکل میرے برعکس ہے ۔اُسے تو دنیا کی سب سے اچھی چیز اور بہترین شغل بس شاپینگ کرنا لگتا ہے ۔۔اِس بار بھانجی کے بچے بھی ساتھ تھے تو سوچا شاید وہ خشک موسم بھی دل کو بھا جائے
ورنہ تو سَرد موسم سے صحرا میں اُترنا کسے اچھا لگتا ہو گا ۔۔

ہم صبح چار بجے دوبئی ائیر پورٹ پر تھے ۔بھانجا لینے آیا ہوا تھا ائیر پورٹ سے تیس منٹ کا فاصلہ طے کر لینے کے بعدہم ایک خوبصورت ریائشی علاقے میں پہنچے ہرطرف دس اور بیس منزلہ عمارات بنی ہوئی تھیں ۔انہیں میں ایک ہلکے جامنی رنگ کی عمارت کے کار پارک میں گاڑی کھڑی کی گئی اور فلائٹ کی بارہ نمبر منزل پر اپنی ایک سال کی پیاری سی بیٹی اور بیوی کے ساتھ رہتا ہے ۔وقت اتنا زیادہ ہو چکا تھاکہ بیٹی تو سوئی ہوئی تھی مگر اُس کی بیوی ہمارے استقبال کے لیئے جاگ رہی تھی ۔جہاز کے سفر سے سبھی تھکے ہوئے تھے لہذا سونے کو چل دیئے۔۔۔صبح جلدی آنکھ کُھل گئی جب آنکھ کھلی تو کمرے میں ابھی تک سناٹا تھا ۔سب ابھی تک سو رہے تھے میں نے دیوار پر لگی گھڑی پر ایک نظر ڈالی تو ابھی نو ہی بجے تھے ۔ظاہر ہے صبح پانچ بجے تو ائیر پورٹ سے گھر پہنچے تھے پھر اتنی جلدی کیسے جاگ جاتے ۔اَب اُٹھ ہی چکی تھی تو سوچا کیوں نا ایک کپ چائے پی لی جائے ۔کمرے میں چھت سے فرش تک بنے شیشے کے دروازے جنکو ہلکے سے براون رنگ سے کوڈ کیا گیا تھا تاکہ باہر سے کچھ دیکھا ئی نا دے اندر سے بھی باہر کے موسم کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا ۔

پہلے تو چُپکے سے اُٹھی کمرے سے باہرنکل کر سیٹینگ روم سے ہلکے قدموں سےایک چھوٹے سے روم میں جھانک کر دیکھا تسلی کی کہ یہی کچن ہے۔چائے کا کپ بنایا اور تھوڑا سا دروازہ بغیر شور کیےکھولااور بالکونی میں چلی آئی ۔اُف اندر کمرے میں جنت اور باہر دوزخ کا گماں سا ہوا ۔کیا واقیعی دوزخ ایسی ہو گی ؟میرا خیال تھا یقین اس سے بڑھ کر ہی ہوگی ۔۔۔ہم نے نجانے دنیا میں رہیتے ہوئے کتنے گناہ کیئے ہوں گے کہ جنت کا تصور مشکل سے ہی کر سکتے ہیں ۔۔ایک دم سے خیالات کو جھٹکا اور بالکونی میں پڑی ہوئی کرسیوں میں نے ایک کا انتخاب کیا اور پاس ہی پڑی چھوٹی سی لکڑی کی میز پر پاؤں پھیلائے اور کرسی پر براجمان ہوگی ۔میرا خیال تھا باقی گھر والے ابھی کچھ دیر بعد ہی اُٹھیں گے کیونکہ صبح ہونے والی تھی سوتے سوتے ۔۔۔مجھے ویسے بھی کہیں نیند نہیں آتی ایک دو دن خود کو سمجھانے میں لگتے ہیں ۔پھر کہیں جا کر دل بہلنے لگتا ہے ۔
دبئی کی صبح اور دوپہر تو زیادہ تر گھر میں لگے ائیر کنڈیشنر کمروں میں ہی گُزر جاتی ہے ۔پہلے جوچیزیں نہیں دیکھی تھیں پروگرام یہ بنا کہ انہیں دیکھ لیا جائے ورنہ جو لوگ دوبئی سے واپسی پر باتیں اتنے خوش باش چہروں سے سناتے ہیں کہ انسان سوچتا ہے کہ پتہ نہیں کس دنیا سے ہو کر آئے ہیں ۔ دِل خود پر ملامت کرتا ہے کہ ہم ابھی تک وہاں کیوں نہیں جا سکے ۔

تین اپریل کی شام ہم نے بُرج خلیفہ دیکھنے کا پروگرام بنایا ویسے تو پہلے بھی دیکھ چکی تھی مگر بچوں کے ساتھ کچھ اور ہی مزا ہوتا ہے ۔یہاں کی سب ہی عمارتیں اتنی بلند ہیں کہ نیچے سے اوپر تک دیکھتے دیکھتے آخری کنارے تک جب نگاہیں پہنچ بھی نہیں پاتیں کہ جسم پیچھے گرنے کا احساس ہونے لگتا ہے ۔امارت خلیج فارس کے جنوب مشرق پر واقع ہے ۔دبئی نے حال ہی میں بہت جدید بڑے تعمیراتی منصوبوں کے ذریعے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے ۔کھیلوں کی تقریبات ،شہر کی بلند ترین عمارات ،خاص طور پر بلند عمارت برج خلیفہ ، جہاں کچھ دیر پہلے ہم کھڑے تھے برج خلیفہ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے یہ سات ستاروں کا عیش و آرام والا ہوٹل ہے ۔اجمیرا unmeirah ساحل سمندر سے ایک مصنوعی جزیزہ پر واقع ہے ۔یہ جزیرہ ۲۸۰ میٹر یعنی ۹۱۹ فٹ پر واقع ہے ۔یہ حصہ رواہتی عرب کشتی کے سفر کی نقل کر کے ڈزائن کیا گیا ہے ۔ٹاورکے اردگرد فائبر گلاس استعمال کیا گیا ہے ۔اسکا ایک ستون ۲۰۰ میٹر خلیج فارس کے اوپر ہے ۔۔
جاری ہے