
جب سے اسلام آباد کے دھرنے شروع ہوئے ہیں احباب اور دوست برابر یہ کہہ کہہ کر شرمندہ کرتے ہیں کہ میں اپنی قلمی رائے کیوں نہیں دیتا۔ اب انکو کیسے بتاوں کہ بعض اوقات وطن عزیز کے سیاسی معاملات پر لکھتے ہوئے انتہائی شرم محسوس ہو تی ہے اور پھر پاکستان کی ٹی وی چینلوں پر ایک سے ایک بقراط کے تجزیے سننے کے بعد کس بے وقوف کا دل کرتا ہے کہ وہ کچھ لکھے
ٹی وی چینلوں نے جیسے بندر کا تماشہ لگا رکھا ہوا ہے اور یوں لگتا ہے ان مادر پدر آزاد ٹی وی چینلوں پر کسی پمرا کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ شاید ہی دنیا میں کوئی اور ایسا ملک ہو جو چوبیس گھنٹے اس قسم کی سیاسی مداریوں کی نشریات پیش کرتا ہو۔ نہ جانے کتنے لوگ مسلسل یہ سیاسی دھرنے اور ان کے حوالے سے تی وی چینلوں کی نشریات دیکھ دیکھ کر اور بقراطی تجزیات سن سن کر ذہنی امراض کا شکار ہو چکے ہونگے
کسی تفصیل میں جائے بغیر یہ عرض کروں کہ مجھے پہلے روز سے اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ یہ حکومت اس مسلے کوحل نہیں کر پائے گی اور کچن کیبنٹ کے بغیر سوچے بولنے والے لوگ اسکو مزید الجھائیں گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ عمران خان کو میں اتنا کریڈٹ ضرور دیتا ہوں کہ اس نے ان لوگوں کو دھرنے میں لا بٹھایا جنکو لوگ برگر فیملی کہتے تھے۔ طاہر القادری کے ساتھ آنے والے لوگ روایتی مولوی کے مقلدین ہیں جو سوچ سمجھ سے عمومی طور پر عاری ہوتے ہیں لیکن کمٹمنٹ کی آکری حد پر اپنے قائد کا فرمان ماننے کے اہل ہوتے ہیں
عمران خان کے مطالبات انتخابی دھاندلیوں کے ارد گرد گھومتے ہیں اورطاہر القادری کا مرکزی نکتہ سانحہ ماڈل ٹاؤن ہے کہ جہاں بیگناہ لوگوں کا خون بہایا گیا اور ہٹ دھرمی کی حد کہ جب تک فوج کے سربراہ نے باقاعدہ سرزنش نہیں کی اسکی ایف آئی ار بھی درج نہیں کی گئی
ہمارے ہاں عام زندگی میں اب اخلاقیات کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں اور ایسے میں سیاست دانوں سے اخلاقیات کی امید پاگل پن ہے۔ ایسے میں وہ احباب دیوانے لگتے ہیں جو بار بار یہ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کو اخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیئے تھا۔ سیاست اور اخلاقیات اور پھر شہباز شریف اور اخلاقیات، افسوس تو اس بات کا ہے کہ شریف فیملی نے ماضی کے تجربات سے ابھی تک کچھ نہیں سیکھا اور ملکی سیاست کو بھی اتفاق فونڈری کی طرح چلانا چاہتے ہیں
قصہ کوتاہ یہ کہ اسلام آباد میں دھرنوں کا ڈرامہ بظاہر تا دم تحریر جاری ہے اور اسمیں تازہ ترین پیش رفت وزیر اعظم کی درخواست پر فوج کے سربراہ کا ثالث اور ضامن بننا ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہر مرتبہ جب بھی ملک میں مارشل لا لگا تو اسکی وجہ یہی سیاست دان تھے جو سیاست سے نابلد ہیں۔ میرے نزدیک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو ثالث اور ضامن بننے کی درخواست کرنا دراصل حکمران جماعت کی اپنی نا اہلی کا اعتراف ہے کہ عمران اور قادری صاحب کو وزیر اعظم اور انکے رفقا پر کوئی اعتماد نہیں
ہماری عدلیہ نے بھی اس معاملے میں کوئی قابل فخر کردار ادا نہیں کیا بلکہ اپنے بیانات اور عدالتی کاروائی میں وہ باقاعدہ فریق بنتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ انکا سارا زور شاہارہ دستور کو کھولنے اور باہر سپریم کورٹ کے سامنے لٹکی ہوئی شلواروں پر رہا ہے۔ منٹو کی کالی شلوار یاد آ گئی۔ جج حضرات کو عوام کی کوئی تکلیف نہ تھی بلکہ اپنی یہ تکلیف ہے کہ وہ عدالت کے صدر دروازے سے نہین جا سکتے یا پھر شاہراہ دستور سے نہیں گزر سکتے۔
ان حالات میں جس چیز نے مجھ جسیے انسان کو بہت حوصلہ دیا ہے وہ دھرنے کے شرکا کا شعور ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود کوئی ایک لائٹ یا گملا نہیں ٹوتا اور اسی طرح حکومت اس ضمن میں قابل تعریف ہے کہ اس کسی قدم پر بھی دھرنے کے شرکا پر تشدد کا نہیں سوچا۔
خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کے عوام جو اصحاب کعف کی نیند سوئے ہوئے تھے اب بیدار وہ چکے ہیں، کاش یہ بیداری پھر گہری نیند میں تبدیل نہ ہو جائے
افسوس اس بات کا ہے کہ سیاست دان پھر ایک بار ناکام ہو گئے اپنے معاملات کو خود سلجھانے میں اور انکو مسلے کے حل کے لیئے فوج کے دروازے پر دست دینی پڑی ہے۔ سیاسی معاملات میں فوج کوخود ملوث کرنے کی یہ بہترین مثال ہے۔ میں تو اسکو بھی مارشل لا کی ہی ایک صورت کہتا ہوں۔ یہ اسی طرح ہے کہ کوئی ڈاکٹر اپنے طبی مسلے کے حل کے لیئے کسی رکشہ ڈرائیور سے مدد مانگے
خدا جانے ہمارے ہاں سیاست اور سیاست دان کب بالغ نظر ہونگے؟
اب صورت حال یہ ہے کہ معاہدے کے لیئے چوبیس گھنٹے کا وقت ہے گویا آج جمعے کی رات تک کا وقت اور جو بھی معاہدہ فوج کی ثالثی میں ہو گا فوج کے سربراہ اسکے ضامن بھی ہونگے۔ عمران خان اور طاہر القادری کی جنرل راحیل سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور جنرل راحیل آج جمعے کو ایک بار پھر وزیر اعظم سے مل رہے ہیں۔ عمران خان نے اس ملاقات کے بعد دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف نے انہیں یقین دلایا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں اپنے استعفے سے متعلق بیان پر قائم رہتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر دوپہر تک استعفے کا مطالبہ نہ مانا گیا تو شام کو ہم فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مقصد کے بہت قریب آگئے ہیں، صرف وزیراعظم کا استعفیٰ باقی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ نہیں آتا، دھرنا جاری رہےگا۔
اسی قسم کے خیالات کا اظہار طاہر القادری نے بھی دھرنے کے شرکا سے خطاب میں کیا
اب دھرنے کا یہ اونٹ تو کسی نہ کسی کروٹ جلد یا بدیر بیٹھ جائے گا لیکن شاید سیاست دانوں کو اپنی بے عزتی اور بے توقیری کا احساس بھی نہ ہو کیونکہ۔۔۔۔۔۔ شرم انکو مگر نہیں آتی۔۔۔ نہ اجنے فوج کو خود سیاسی معاملات میں مدعو کرنے والے کس منہہ سے پھر مارشل لا کی برائی کرتے ہیں۔
میں جاوید ہاشمی کی اس بات کی حمایت کرتا ہوں کہ ایجنسیاں جو چاہتی ہیں کروا لیتی ہیں، صورتحال پر افسوس ہے پاکستان کی آزادی کا خواب کھو دیا ہے۔ تمام سیاستدانوں نے سرنڈر کر دیا، قوم کے سامنے سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں۔