16.10.2026, 03:03am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

جھوٹ ، جھوٹ , جھوٹ اور جھوٹ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
30.08.2014, 04:35am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔ شمس جیلانی

 جس درمند انہ الفاظ میں ہمارے صفدر ھمدانی صاحب نے اپنا مضمون اس موضوع پر لکھا ہے۔ دل چاہا رہا ہے کہ میں کچھ نہ لکھوں اور وہی اس قوم کی تاریخ کے ماتھے پر قیامت آویزان رہے۔ مگر رسم ِ دنیا یہ ہے کہ قارئین ہر روز کچھ نیا چاہتے ہیں ۔ مگر میرے سامنے لکھتے ہوئے وہی مسئلہ آتا ہے کہ میں ان کے بعد کیا لکھوں؟ وہ لندن میں بیٹھے ہیں مجھ سے زیادہ با خبر ہیں پھر صحافت میں تجربہ مجھ سے کہیں زیادہ ہے ان کے پاس  تازہ خبر کی حصول کے ذرائع بھی زیادہ ہیں۔ دوسرے ابھی تک لندن کی وہ مرکزی حیثیت باقی ہے جو کبھی تاج بر طانیہ کے تحت نصف دنیا سے زیادہ ہو نے کی وجہ سے حاصل تھی؟ پھر ہمارے حکمرانوں کے گھر اور کاروباربھی وہی ہیں اور حزب اختلاف کے تمام لیڈروں کے گھر بھی وہیں ہیں۔ بلکہ ایک صاحب تو ان کے شہری ہو نے کہ با وجود اس پوزیشن میں ہیں۔ جب چاہیں پاکستان کی شہ رگ منقطع کر دیں، پہیہ جام کر کے؟ جبکہ میں جہاں اقامت پذیر ہو ں یہ شہر اس کے باوجود کہ سالوں سے رہائش کے لیے بہترین قرار پا رہا ہے مگر اس کی حیثیت لندن کے مقابلہ میں ایک گا ؤں سے زیادہ نہیں ہےاور سورج مشرق طلوع ہو کر یہاں صرف غروب ہو نے کے لیے آتا ہے ۔
یہ ہی وجہ ہے کہ جب وطن ِ  عزیزمیں دن ہو تا ہے تو یہاں رات ہوتی ہے ۔یہاں اور وہاں میں بارہ گھنٹے کا فرق ہے۔ خبریں یہاں پہونچتے پہونچتے میری طرح پرانی ہوجاتی ہیں۔بہر حال آپ لوگوں کی سمع خراشی کرنا میری ذمہ داری ہے لہذا میں یہ مضمون آپکی نذر کر رہا ہو ں کہ وقت ٹالے ٹلتا نہیں اور کچھ نہ کچھ تو لکھنا ہی پڑتا ہے۔
      پندرہ دن سے ایک ڈرامہ بر پا ہے دھر نے کی شکل میں؟ دونوں طرف کے لوگ اپنی اپنی تو پوں کے  دہانے کھولے ہو ئے ایک دوسرے پر گولہ باری کر رہے ہیں ۔ پورے ملک کی اکانو می ہی نہیں بلکہ ہرچیز کو داؤں پر لگا رکھا ہے۔ اس دھرنے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ قوم کی طرح یہ بھی دو گروپوں میں بٹا ہوا ہے۔ صرف ایک چیز ان میں مشترک ہے وہ نواز شریف کی دشمنی ؟
ان میں ایک پاپ کارن پارٹی ہے وہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نیا نقشہ پیش کر رہی ہے ۔اس میں کیمروں کے سامنے خواتین کو اپنے منہ کالے پیلے کیئے اور ناچتے ہو ئے دکھا یا جاتا ہے؟ اگر دوسرے دھرنے کی طرف جائیں تو وہاں باریش بزرگ اپنی نورانی سفید براق داڑھیوں کے ساتھ محو ِ رقص نظر آتے ہیں۔ جبکہ نہ یہ اسلامی تہذیب ہے اور نہ ہی یہ پاکستان نام کے ساتھ لگا کھاتی ہے ؟ہم نے سنا تھا کہ طریقت میں ایک فرقہ ہوا کرتا تھا۔ جو خود ملامتیہ کہلاتا تھا۔ وہ اللہ والے تھے اور نہیں چاہتے تھے کے لوگ ان کے پیچھے لگیں اور ان  کی عبادات میں حائل ہو ں لہذا خود کو اپنے سے دور رکھنے کے وہ رقص کرتے تھے تاکہ جان چھوڑ دیں۔ دوسراگروہ ناچنے والوں کا اہلِ طریقت میں بہت بعد میں پیدا ہوا جو خود کو حضرت مولانا روم کا پیرو بتاتا ہے اور ان مزاروں پر رقص کر تا نظر آتا ہے جن سے رقص کا تعلق کسی تاریخ سے بھی ثابت نہیں ہے جبکہ تمام اہلَ طریقت پوری  طرح شرع کے پابند ہو تے تھے اور مریدوںکو اسلام کی تعلیم دیتے تھے؟ اس پر طرہ یہ ہے کہ سب اپنا رشتہ اس عظیم ہستی سے جوڑ تے ہیں ان کے نام دھمال ڈالتے ہیں جو طریقت کے بانی تو تھے مگر وہ اس فعل کے کبھی مر تکب نہیں ہوئے؟
   دو ہفتے گزر گئے الحامی نعرے جاری ہیں کہ “ میرا دل کہہ رہا ہے ابھی چند گھنٹوں میں یا آئندہ چو بیس گھنٹے میں اچھی خبر آنے والی ہے  “اور جب وہ بات غلط ثابت ہو جاتی تو کہتے ہیں کہ ہم اتنے گھنٹے کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کر یں گے ، وہ لائحہ  عمل کیا ہے وہ راز آج تک نہیں کھل سکا ؟ جیسے کہ اکثر نوسر باز آواز لگاتے ہیں ؟ہم نے اپنے بچپن میں ایک نوسر باز کو آواز لگاتے سنا  “بھائیوں میں آپ کوابھی بتا تا ہوں کہ بارہ بجے چیل انڈا کیوں چھوڑتی ہے “اور پھر کہتا کہ میں انہیں بتا ؤنگا جومیری یہ دوا کی پڑیا خریدے گا ۔ سب سے ایک ایک روپیہ وصول کر تا اور ان ان سے اجازت چاہتا کہ“ یہ روپیہ آپ نے خوشی سے دیا وہ کہتے کہ ہاں پھر پوچھتا میں  “اسکو جیب میں رکھ لوں “ سب کہتے ہاں اور وہ اپنی  رکھ دکان سمیٹ ، چلا جا تا ؟
 چونکہ انسان تجسس لیکر پیدا ہوا ہے ؟دوسرے دن پھر اس کو نئے لوگ مل جاتے اور وہ ہی کھیل دوبارہ دہراتا ۔ رہی نماز وہ ان نہ ان کے ہاں پابندی ہے نہ ان کے یہاں؟ جھوٹے حکمراں بھی ہیں، جھوٹو ں کی اکثریت ہے۔ جبکہ حضور (ص) فرمایا کہ جھوٹا مسلمان نہیں ہو سکتا ؟ لیکن جہاں لنکا میں سبھی باون گز کے ہوں وہاں کسی سے گلا کیا جاسکتا ہے؟
میں نہیں جانتا کہ کہ آپ کے ہاتھ میں جس وقت تک یہ تحریر پہونچے گی تو کوئی تبدیلی آچکی ہو گی یانہیں ۔ مگر میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں بتایا تھا کہ ڈگڈگی کوئی اور بجا رہا ہے؟ اس کا مظاہرہ جس طرح کل ہوا وہ آنھیں کھولنے کے لیئے کافی ہے کہ اک پیغام آیا، آرمی چیف کی طرف سے اور جو لیڈر لائحہ عمل دینے والے اپنے کنٹینر چھوڑ کر ایسے بھاگے کہ جس کا جواب نہیں؟ بات چیت شروع بھی ہو گئی ،اس میں چودھری نثار بھی شامل ہو گئے ؟ اور اس کے بعد اس کی تردید بھی آگئی کہ سب جھوٹ تھا؟ جو دیکھا خواب تھا جو سنا افسانہ تھا؟ اس سے میرے اس گمان کو مزید تقویت ملتی ہے کہ ڈگڈگی کہیں اور بجتی ہے اور بندروں کا رقص یہاں جارہی ۔ آجکل رییموٹ کنٹرول کا دور ہے اور مداری اتنے ہیں جو نظر آتے ؟ ایسے میں کوئی بھلا بتالائے  کہ ہم بتلا ئیں کیا؟
ابھی تک اللہ نے بچا یا ہوا ہے۔ان دھرنوں کو اگر خدا نہ خواستہ کچھ ہو گیا اور کہیں بم پھٹ گیا ؟یا گولی چلا نے پہ کوئی تیار ہوگیا تو ان کا کون والی وارث ہو گا؟ جن کے سروں سایہ اٹھ گیا؟ ہمیں پتہ نہیں کہ جو لوگ حکومت کی بر بریت کی بنا پر ماڈل میں شہید ہو ئے یا زخمی اور اپاہج ہوئے ان کے بچو ں کی حسب وعدہ علامہ صاحب  نےخبر گیری کی یا نہیں؟ اگر کی تو بڑی اچھی بات ہے  کیونکہ وہ تو خود کو سرکار (ص)کا غلام کہتے ہیں اور انہیں وعدہ نبھانا چاہیئے  تھا؟ کیونکہ حضور (ص) فرمایا کہ وعدہ خلاف ہم میں سے نہیں ؟
 حکومت اور حزب اختلاف کے قول میں اتنا تضاد ہے جو پنجاب میں بھی نظر آرہامر کز میں بھی نظرآ رہا ہے؟ پختون خواہ میں  بھی نظر آرہا ہے۔اورفقیر کی گدڑی میں بھی نظر آرہا ہے کہ خود کنٹینر میں ہے اور عوام کھلے میدان اور بارش میں؟
جب تک ہمارا اپنا کردار درست نہ ہو مجھے تبدیلی کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔حکومت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ آسانی  سےاستعفیٰ دے کر چلے جا ئیں گے۔ کہ الیکش میں دھاندلی ہو ئی ہے، یا عدالت نے ان کو الزام دیا ہے؟ یہ دنیا کے مہزب ملکوں میں تو ہو تا ہے ۔ مگر ہماری تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے اور ایسا ہوا بھی ہے تو شاذ نادر ہے؟ اگر قوم قر بانی دے بھی اور اس سے کچھ حاصل نہ ہو تو صرف حکرانوں کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہو سکتا ؟ کیونکہ کنکروں سے جب کنکر ٹٹولیں گے تو بڑا ہی پتھر ہا تھ میں آئے گا کنکروں کے ڈھیر میں کھوجنے سے ہیرا نہیں ملا کرتا؟ ہیرا جب ہی مل سکتا ہے جب پہلے عوام الناس ہیرا بن جا ئیں پھر ان میں منتخب ہو کر ہیرے آسکتے ہیں ااور اسلام کی نشاة ثانیہ ہو سکتی ہے جو کہ پاکستان کے حصول کامقصد تھا؟ اللہ قوم کو بصیرت دے کہ ہم صحیح فیصلے کر سکیں (آمین)

 




 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں