15.10.2026, 09:59pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز
 

اچھا تومحمد ادریس یہ بتایئے؟
17.03.2009, 01:05am , منگل (GMT+1)

منیرحسین:آپ 32سال سے ریڈیو پر اُردو میں کرکٹ کمنٹری کی اس سفر کو کیسا پایا۔

ادریس: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے بہت برابر اچھا وقت اور بہت اچھا وقت گزر گیا ہے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ریڈیو پر کمنٹری میں نے دِل بھر کر کی ہے اور سننے والوں کا ایک بڑا حلقہ میرے حصہ میں آیا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری کمنٹری کو ’’قبولِ عام‘‘ کا درجہ نصیب ہوا کرکٹ سے گہری وابستگی ہے۔ پاکستان کے تمام کرکٹ سینٹرز کمنٹری کی، نیوزی لینڈ،آسٹریلیا(تین بار)،سری لنکا(دو،بار)،بھارت(تین بار)، بنگلہ دیش(دو،بار)، شارجہ(دو ،بار)،انگلینڈ(ایک بار) کرکٹ کمنٹری کے سلسلے میں جانا نصیب ہوا ہے۔

منیرحسین: کرکٹ کمنٹری میں داخل ہونا کیسے ہوا وہ کون لوگ ہیں جو آپ کو کرکٹ کمنٹری میں لانے والے ہیں اور ایسے کون حوصلہ افزائی کرنے والے ہیں جنہوں نے آپ کو کمنٹیٹر بنانے میں بھرپور مدد کی۔

ادریس: سب سے پہلے تو جناب مشتاق احمد، میرے بہنوئی کا ذِکر ضروری ہے۔ میں دو ماہ کا تھا کہ میری والدہ کاانتقال ہو گیا۔ میرے بہنوئی مشتاق احمد مرحوم بڑے انسان اور اچھے کرکٹر تھے میری بہن کے رونے دھونے سے وہ مجھے اپنے ساتھ دہرہ دون لے گئے مشتاق صاحب ڈی، اے وی کالج میں لیکچرار تھے ’’6.2"قد تھا ،کسرتی بدن تیز گیند کرتے تھے وہ مجھے ایک بار سائیکل پر ڈون کالج لے گئے۔ منیر بھائی وہ میدان بہت خوبصورت تھا صاف سفید کپڑوں میں کالج کے لڑکے جن میں اچھی تعداد گوروں کی تھی بیٹھنے کا اور میچ دیکھنے کا عمدہ انتظام، سلیقہ اور شائستگی شائقین کی اچھی تعداد جس میں فیملیز بھی شامل تھیں اچھا لگا۔ کھانے کے وقت عمدہ کھانا بیروں نے پیش کیا پھر چائے کا وقفہ عمدہ پیسٹریاں بہت اچھا لگا کرکٹ سے یہ میری پہلی ملاقات دِل میں گھر کر گئی۔ یہ 1944ء کی بات ہے میں اس وقت 9سال کا تھا وہ دِن اور آج کا دِن میں نے صرف ایک کھیل کو اپنا کر اپنی زندگی تقریباً تمام کر لی ہے۔ میں نے کرکٹ دیکھی کلب، سکول، کالج، یونیورسٹی کی معاشیات کے شعبہ کی ٹیم سے کھیلی اور بہت کھیلی۔
کرکٹ کمنٹری میں نے بہت سنی جن میں عمرقریشی، جمشیدمارکر، نادر حسین، تعلے اللہ یار خان، جان آرلٹ، کرسٹوفرمارکن، برائن جانسن، آسٹریلیا کے مے گلوری ، رچی بینو کے نام شامل ہے، پھر پاکستان کے مایہ ناز جناب افتخار احمد اور چشتی مجاہد خاص طور پر کرکٹ کمنٹری سننے کا بہت شرف حاصل رہا ہے۔ اُردو میں صرف آپ سے سب کچھ حاصل کیا ہے۔
میں ریڈیو پاکستان میں 1959ء میں منسلک ہو گیا۔ پشاور میں بھیجا گیا۔ کرکٹ کا شوق دیوانگی کی حد تک تھا پشاور میں جو اوّل درجہ کے میچ ہوتے تو میں دِن کے کھیل کی رپورٹ دیتا۔ 1964ء میں میرا تبادلہ پشاور سے کراچی ہو گیا۔ کراچی میں ریڈیو پاکستان میں مجھے آؤٹ سائڈ براڈ کاسٹ کا پروڈیوسٹر مقرر کیا گیا جس میں ایک اہم ذمے داری کرکٹ میچوں کے لیے کمنٹیٹرز کا انتخاب۔ ان کے لانے لے جانے کے انتظامات ان کو ممکنہ سہولیات فراہم کرنا آنکھوں دیکھا حال نشر کرنے کے جملہ انتظامات شامل تھے۔ یہ 1964ء کی بات ہے اس وقت جناب عمر قریشی، محترم جمشید مارکر، اے ایچ کاردار، روئیداد خان اور منیر بھائی آپ کمنٹری باکس کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا کہ میں بلواسطہ طور پر آپ لوگوں سے اس کی ٹریننگ حاصل کر رہا تھا آس پاس کے لوگ یہ کہتے تھے کہ ادریس تم پروڈیوسر ہو تم ان کمنٹیٹرز کے ساتھ بس بچھے جاتے ہو تم کو تو اِن کے لوٹے اُٹھانے میں بھی عار نہیں۔ میں نے تمام زندگی اپنے سے بڑے لوگوں کی بہت عزت کی ہے اور ان کو احترام کی نظر سے دیکھا ہے آپ سب تو میرے لیے بہت بڑی چیز تھے۔ بس آپ کی خدمت کر کے سہولت فراہم کر کے مجھے بڑا سکون ملتا تھا میرا یہ خیال تھا کہ جتنی سہولت آپ کو کمنٹری کرنے کے سلسلہ میں ریڈیو کا پروڈیوسر پہنچائے گا اتنی ہی خوبصورت کمنٹری لوگوں تک پہنچے گی۔منیر بھائی آپ محترم عمرقریشی،جناب جمشید مارکر، اے ایچ کاردار،جناب ردائیدار خان سب قد آور لوگ تھے۔ ایسے لوگوں کو تو تمام سہولتیں پہلے ہی میسر تھیں۔ میں صرف کمنٹیٹر باکس میں اسی بات کاخیال رکھ سکتا تھا کہ ان محترم لوگوں کے علاوہ کوئی ’’باکس‘‘ میں داخل نہ ہو۔ مشروبات اور چائے پانی کا تسلی بخش انتظام ہو۔ سکون میسر رہے اور بس۔کھیل سے متعلق دیگر ضروری تفصیلات جو اہم ہوں وہ میں پہنچاتا رہوں۔ میں نے آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر سب کچھ سیکھا۔ 1966ء میں مجھے ریڈیو کو خیرباد کہنا پڑا۔ میری شادی جناب عارف کبیر جعفری کی ہمشیرہ سے میری بہن نے طے کی۔ عارف کبیر جعفری صاحب ہمدرد کے بڑے ڈسٹری بیوٹر تھے ان کے اصرار پر اور لوگوں کی بہت زیادہ ضد نے مجھے اس فیصلہ پر مجبور کیا کہ میں ہمدرد سے عارف صاحب کے توسط سے منسلک ہو جاؤں۔1966ء میں، مَیں فیصل آباد آ گیا اور’’ہمدرد‘‘ کی ادویات کی فروخت اور فروغ کے لیے تمام وقت دے دیا، مجھے فیصل آباد ڈویژن کا علاقہ خدمت کرنے کے لیے دیا گیا۔ منیر بھائی زندگی دو حصوں میں اس طرح بٹ گئی کہ 29سال بہنوئی کی سرپرستی میں اگر گزرے تھے تو بقیہ 40سال کی زندگی میرے سالے جناب عارف کبیر جعفری نے سنبھال دی۔

مرحوم عارف کبیر جعفری صاحب کے ساتھ میں نے پارٹنر، ڈائریکٹرکبیر(پرائیوٹ) لمیٹڈ کی حیثیت سے کام کیا۔انتقال سے ایک سال قبل عارف صاحب نے مجھ سے کہا ادریس 40سال سے زیادہ کا عرصہ ہم تم ساتھ رہے تم اس وقت ایک بڑی لمیٹڈ کمپنی کے ڈائریکٹر ہو۔کون جانے کب میرا پردہ ہو جائے ہر چند کہ میری اولاد تم کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن آج کی دُنیا میں سب کچھ یقینی نہیں ہے جب تم آئے تھے میں نے تم کو فیصل آباد دلوایا تھا میرا اب یہ فیصلہ ہے کہ تم ہم سے علیحدہ ہو کر اپنی شناخت سے کام کرو۔ فیصل آباد ڈویژن کی ڈسٹری بیوشن تمہارے نام کر دی جائے گی اور تم اپنا کام کرو، پھر ایسا ہی ہو گیا عارف صاحب یہ فیصلہ کر کے مجھے اپنا کام کرتے دیکھ کر رُخصت ہو گئے۔ یہ میرا فرض ہے کہ میں عارف کبیر جعفری صاحب کا یہ ذِکر نہ کروں کہ وہ کتنے بڑے دِل اور محبت کے آدمی تھے میں نے ان کی زندگی میں ان کے ساتھ اربوں کا کام کیا میں نے ان کی ایمانداری سے رقمیں اکٹھا کیں اور ہمدرد کو بھیج دیتا تھا کوئی مانے گا کہ 40سال سے زیادہ کے عرصہ میں انہوں نے کبھی مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ رقم کہاں آئی کہاں گئی۔ کبھی کوئی سوال کہ کیا اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ مجھ سے چھوٹی، بڑی اور بہت بڑی غلطی سرزد نہ ہوئی ہو۔ میں نے ان سے کبھی چھپایا نہیں ہر دفعہ ہنس کر ٹال دیا اور کہا اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ عارف صاحب کو کرکٹ سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی پھر بھی انہوں نے میرے کرکٹ کمنٹیٹر بننے میں بہت حوصلہ افزائی کی۔ باہر کے دَوروں کے لیے رقم فراہم کی اور کرکٹ کی میری مصروفیات کو کبھی بری نگاہ سے نہ دیکھا،پاکستان میں اور بیرونِ ملک کے دوروں میں میری مصروفیت سے خوش ہوتے تھے۔

منیرحسین:یہ آپ نے اچھاکیاکہ محترم عارف کبیر جعفری صاحب کے بارے میں قدرے تفصیل سے ہمیں بتایا پر یہ ان کی وجہ سے اُردو کمنٹری کو ایک کمنٹیٹر فراہم ہوا۔آپ کرکٹ کمنٹیٹر کی حیثیت سے کب اور کس طرح متعارف ہوئے۔

ادریس: 1976ء میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔ فیصل آباد میں UBLکے ساتھ تین روزہ میچ تھا۔ محترم مقصود اس میچ میں اُردو کمنٹیٹر تھے وہ کس وجہ سے نہ آئے ان کی جگہ اکرم بٹ صاحب نے میری سفارش کی۔ میں نے کمنٹری کی۔ یہ جناب مقصوداحمد صاحب کا احسان تھا کہ انہوں نے یہ سننے کے لیے کہ ان کی جگہ کس کو موقع دیا گیا ہے میری کمنٹری سنی اور خاص طور پر ازخود لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر کے پاس گئے اور کہا کہ یہ ادریس کون ہے؟ اسے قابو کر لو۔ حوصلہ افزائی کرو۔ ریڈیو کو اُردو کمنٹیٹر مِل گیا ہے یہ موقع ملنے سے اچھا ہو جائے گا۔ چودھری اکرم صاحب نے سلیم گیلانی صاحب کی خواہش پر مجھے قومی اور علاقائی اور چھوٹے بڑے مقامی میچوں میں موقعہ فراہم کیا اور میں بتدریج کرکٹ کمنٹری میں آتا چلا گیا۔ جناب شمس الدین بٹ سے کراچی میں محمد نقی صاحب نے سفارش کی کہ مجھے ٹیسٹ میچ کی کمنٹری دی جائے۔
سندھ الیون اور انگلینڈ کی ٹیم کے مابین ایک روزہ میچ تھا شمس الدین بٹ صاحب نے اے۔ آر۔شجیع صاحب اور محمد نقی کی سفارش پر موقع فراہم کیا۔ میچ کے بعد دوسرے دِن میں بٹ صاحب کا شکریہ ادا کرنے گیا تو انہوں نے کہا کہ کمنٹری ٹھیک تھی جو غلطیاں تم نے کی ہیں وہ سب کرتے ہیں تجربہ کے ساتھ اچھے ہو جاؤ گے پھر بٹ صاحب نے ہیڈکوارٹر میں بات کر کے مجھے پاکستان اور انگلستان کے تیسرے ٹیسٹ میچ کی کمنٹری دِلوائی اور یوں میری ٹیسٹ میچ میں کرکٹ کمنٹری کا آغاز ہوا یہ 1978ء کی بات ہے۔ یہ مجھے یاد ہے کہ آپ کسی وجہ سے اس میچ میں کمنٹری کے لیے میسر نہ تھے آپ کے متبادل کے طور پر مجھے موقع مِلا۔
اس پینل میں جناب افتخار احمد، محترم چشتی مجاہد بی۔اے،خان ایکسپرٹ میں فضل محمد اور کرنل شجاع الدین شامل تھے میرے کرکٹ کمنٹیٹر بننے میں جنہوں نے رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی بہت لوگ ہیں۔ دراصل ایک طالبِعلم کی حیثیت سے میں نے سب سے سیکھا اور حاصل کیا، پر بھی سلیم گیلانی، چودھری اکرم، افضل الرحمن،قابلِ قدرجناب منیرحسین، ڈاکٹرمقبول اختر، ڈاکٹر احسن خان اطق، پروفیسر مبشر مرحوم، ٹیسٹ امپائر سیّد محبوب علی شاہ، اے آر سمیع، جناب بدرعالم مرحوم، شبیراحمد(شبن) کے نام شامل ہیں بہت اور کرم فرما ہیں جن کا بھی تہہِدِل سے مشکور ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔

منیرحسین: 32سال کمنٹری سے منسلک رہنے کے بعد آپ کی نگاہ میں اُردو کرکٹ کمنٹری کو کیا مقام مِلا ہے۔ کتنے کمنٹیٹرز اب اُردو کو میسر ہیں۔ کوئی ایسا کیرئیر کمنٹیٹر ہے جو صرف کمنٹری کے بل بوتے پر جی رہا ہے۔

ادریس: اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے منیربھائی آپ کی طویل جدوجہد کے نتیجہ میں اُردو کرکٹ کمنٹری اب چھا گئی ہے۔ ٹی وی کے کمنٹیٹری کے حقوق باہر کے لوگوں کے قبضہ میں ہیں اسی لیے اب پی ٹی وی پر صرف انگریزی میں ہی کمنٹری میسر ہے۔ جناب ماجد جہانگیر خان جو کم گو انسان ہیں اکڑی ہوئی گردن وِرثہ میں مِلی ہے ڈائریکٹر سپورٹس پی ٹی وی کی حیثیت سے وہ کام دِکھا گئے ہیں کہ کم حوصلہ والے پی ٹی وی والے نہ جانے کب پی ٹی وی پر پاکستان کے کمنٹیٹرز کو دوبارہ متعارف کریں گے اور اُردو کمنٹری پھر سے شروع ہو سکے گی۔ محترم ماجد خان صاحب کی یہ ضد تھی کہ کمنٹری صرف سابقہ ٹیسٹ کرکٹر یا ان کے ذاتی دوست(جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلی ہو) کر سکیں گے۔ ماجد صاحب نے پاکستان کے مایہ ناز کمنٹیٹرز جناب منیرحسین، حسن جلیل، احتشام الحق، جناب افتخار احمد، چشتی مجاہد، طارق رحیم، شہزادہمایوں، ریحان نواز، طارق راز، اے آر،زیدی کو پینل سے یکسر اُڑا دیا اور اپنے ہم جولیوں جو ماجد کی تعریف کرتے نہ تھکتے تھے ان کو لے لیا سننے والوں نے بدظن ہو کر سخت شکایت کی کہ اچھے کمنٹیٹرز کہاں گئے؟ کئی طریقوں سے ماجد صاحب کو سمجھایا گیا کہ اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے کچھ حصہ اُن کہنہ مشق لوگوں کو دے دیں جن کے معیار اور انداز کو قبولِ عام کا درجہ حاصل ہے پر جس میں عقل نہ ہو وہ کسی دلیل کو کسی گنتی میں لیتا ہے۔ پھر ایک دِن یہ منحوس فیصلہ انفارمیشن سیکرٹری کو سپانسر کے دباؤ پرکرنا پڑا کہ پاکستان کا کوئی کمنٹیٹر اب PTVپی ٹی وی پر کمنٹری نہیں کرے گا۔ Tenاسپورٹس جو کمنٹری یا کوئی باہر کا چینل کمنٹری کر رہا ہو گا وہ ہی پاکستان ٹی وی ریلے کرے گا۔

منیر بھائی عمر کے اس حصہ میں آپ بھی ہمت ہار گئے اور پی ٹی وی پر اُردو کمنٹری بالکل بند ہو جانے پر احتجاج نہ کیا۔ پی ٹی وی پر اب ایک لفظ اُردو کمنٹری کا نشر نہیں ہوتا۔
البتہ ریڈیو پر کرکٹ کمنٹری میں ایک بہت اچھا اضافہ، ایف۔ایم کا کرکٹ کمنٹری نشر کرنا ہے۔ اس کی ہمت اور آغاز کا بیڑہ جناب مہدی رضا صاحب، ایف۔ایم 107نے اُٹھایا۔ ایف ایم پر کرکٹ کمنٹری اِتنی مقبول ہو گئی ہے کہ اس نے ریڈیو پاکستان کے اے، ایم اسٹیشن سے نشر ہونے والی کمنٹری کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اہم وجہ ایف ایم کی عمدہ پیشکش اور صاف اور دِلکش آوازیں چلتے پھرتے اس کا سنائی دیتا ہے۔ اے، ایم پر کمنٹری ڈھونڈنا ایک کاردارد ہے اور یہ تسلسل کے ساتھ سننے کو نہیں ملتی اس کی کوالٹی خراب اور خلل کے ساتھ میسر ہوتی ہے۔
آپ خوش ہوں کہ اکثر ایف ایم چینل اب صرف اُردو میں کمنٹری نشر کرتے ہیں کیونکہ انہیں کرکٹ کمنٹری کے ذریعہ لوگوں کا سودا بیچنا ہے اور لوگوں کی زبان جو وہ 98%سمجھتے ہیں وہ اُردو ہے۔ میرے خیال میں آپ کے اور میرے سمیت اب اس وقت کم از کم 15اُردو کمنٹیٹرز میسر ہیں اس پہلو پر آپ غور کریں کہ آٹھ اُردو کمنٹیٹرز کے علاوہ 7یک دم آ گئے ہیں چلتے پھرتے کمنٹری کر لیتے ہیں۔ ہمارے یہاں کمنٹیٹر بننے کے لیے نہ کوئی ادارہ ہے نہ خواہش ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ کوئی کسی ذریعہ سے ایک ایسا پلیٹ فارم بنائیں جس میں کمنٹیٹر بنانے کی ایک خواہش شامل ہو۔ پاکستان میں کرکٹ کمنٹری پیٹ بھرے کا سودا ہے۔ گھر کا کھاتا پیتا۔ سوسائٹی میں اچھا مقام رکھنے والا کرکٹ سے عشق کرنے والا ہی یہاں کرکٹ کمنٹری کر سکتا ہے۔ یہاں عام آدمی کرکٹ کمنٹیٹر نہ تو بن سکتا ہے نہ کیرئیر بنا سکتا ہے کیونکہ یہاں کمنٹری کرنے اور اس کے ذریعہ کمانے کے موقعہ ہی نہیں ہیں۔ آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں کہ اب ریڈیو کے پاس مشکل سے نشر کرنے کے حقوق ہوتے ہیں۔ بعض لوگ کمپنی بنا کر حقوق حاصل کر لیتے ہیں۔ وہ من پسند لوگوں کو پینل کا حصہ بناتے ہیں۔ آج کل ریڈیو پاکستان سے ایک دِن کمنٹری کرنے کی فیس بڑھ کر 3500ہو گئی ہے۔ کوئی کمنٹیٹر یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ایک سال میں اسے دو ٹیسٹ میچ اور پانچ ایک روزہ میچ کی کمنٹری مِل جائے گی اس طرح چودہ ہزارٹیسٹ میچ کی کمنٹری سے اورسات ہزار ایک روزہ میچوں سے مِل سکتے ہیں دونوں مِلا کر 52ہزار ہوئے اس طرح فی ماہ پانچ ہزار روپے سے بھی کم ملتے ہیں۔ اس رقم میں کون کیرئیر بنا سکتا ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کمنٹری ایک گھاٹے کا سودا ہے۔ جب بھی آپ کمنٹری کے لیے گئے ہوں گے اپنے پاس سے رقم ضرور خرچ کرنی پڑی ہو گی۔ پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ آپ ٹیسٹ میچ پر کمنٹری کے لیے وسیع تجربہ کے ساتھ جب باکس میں پہنچیں تو ایک صاحب آپ کو ایسے مِل سکتے ہیں جن کو آپ نے کبھی نہ دیکھا ہو کبھی نہ سنا ہو۔ پروڈیوسر صاحب، ان کے آگے پیچھے ہوں گے اور آپ کو سہولت سے سمجھائیں گے کہ یہ اُوپر سے آئے ہیں ٹیسٹ کمنٹری کریں گے اور ان کا بہت خیال کرنے کو کہا گیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کا ایمپائرنگ کا شعبہ اس لحاظ سے بہت مضبوط ہے اس شعبہ میں یہ ممکن نہیںہے کہ کوئی امپائریکدم آ کر ٹیسٹ میچ تو بہت دُور کی بات ہے فرسٹ کلاس میچ کے امپائر کی حیثیت سے کھڑا ہو جائے۔ ایک ضابطہ ایک تنظیم ہے جس میں بڑی عرق ریزی کے ساتھ امپائرز گریڈII، گریڈI، اوّل درجہ کرکٹ اور بین الاقوامی کرکٹ کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کا امپائر اس طرح ٹرینڈ کیا جاتا ہے کہ دُنیائے کرکٹ کو مستند ایمپائرز فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کے ایمپائروں کا باقاعدہ نام ہے۔خواتین ایمپائرز بھی بنائی جا رہی ہیں اور ان کو باقاعدہ کورس کرائے جا رہے ہیں۔

منیر حسین:آپ ایک عرصہ سے کرکٹ سے منسلک رہے ہیں کتنے کھلاڑی آئے اپنا مقام بنا کر ریٹائر ہو گئے آپ نے پاکستان کے کرکٹرز کو کیسا پایا چند بڑے پاکستان کرکٹرز کا اپنی پسند سے ذِکر کیجیے۔

ادریس: میری نگاہ میں پاکستان کی جانب سے جو بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیل گیا وہ ایک بڑا کھلاڑی ہے۔ اس میں صرف ایک ٹیسٹ کھیلنے والے اور سو سے زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والے سب شامل ہیں لیکن ایسے کھلاڑی جو بیٹنگ، بولنگ وکٹ کیپنگ میں عالمی معیار پیش کر سکے ان کی فہرست بھی طویل ہے۔ سب سے اوّل حنیف برادران، اے ایچ کاردار، انتخاب عالم، محمود حسین، خاں محمد، امتیازاحمد، مقصود احمد، نذیرمحمد، علیم الدین، کرنل شجاالدین، نسیم الغنی، وسیم راجہ،ماجدخان،ظہیرعباس،سرفرازنواز، جایود میاں داد، عبدالقادر، توصیف احمد، وسیم اکرم، محسن خان، اقبال قاسم، وقاریونس، عاقب جاوید، سلیم ملک، اعجازاحمد عمران خان، شعیب محمد، انضمام الحق، رمیز راجہ،عامرسہیل،مشتاق احمد، وسیم بار، تسلیم عارف، سلیم یوسف، محمد یوسف، شعیب اختر، شاہد آفریدی کے نام شامل ہیں۔ اتنے ناموں کے بعد بھی کچھ اہم ضرور رہ گئے ہوں گے۔

منیرحسین:آپ پاکستان کے تین بڑے کپتانوں کے نام بتانا پسند کریں گے۔

ادریس: عبدالحفیظ کاردار کے علاوہ پاکستان کرکٹ کے سفر میں دو بڑے کپتان میسر آئے ہیں مشتاق محمد اور عمران خان، یہ نڈر کپتان تھے حوصلہ اور حکمتِعملی سے ٹیم کو کھلاتے تھے کبھی دب کر نہیں کھیلے اکثر موقعوں پر اپنی انفرادی کارکردگی سے ٹیم کے لیے فائندہ مند رہے۔
منیر حسین:یہ توآپ نے لسٹ بہت مختصر کر دی۔
ادریس: منیربھائی۔ ان کے علاوہ پاکستان کے تمام کپتانوں کے قول و فعل میں تضاد تھا وہ اپنی کپتانی میں میچ،کوڈرا کر لینا ہی اپنی منزل سمجھتے تھے۔ ناقابلِ یقین حد تک دفاعی اور ’’دبو‘‘ تھے۔بعض کپتانوں پر میچ’’فکس‘‘ کرنے کے الزامات بھی لگے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کی جہالت تھی اکثر تعلیم سے پیدل تھے اور کم تعلیم کی وجہ سے جگ ہنسائی کا سامان فراہم کرتے رہتے تھے۔ منیربھائی آپ مانیں گے یہ نہ مانیں تعلیم کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ بنگلہ دیش سمیت اس وقت آپ کی پوری ٹیم ایک عام اوسط سے کم تعلیم یافتہ ہے اکثر کی انگریزی یس، نو، گڈ، ویری گڈ، یایا، اوکے، کمنگ اور گوئنگ پر ختم ہو جاتی ہے۔ جس میں موجودہ کپتان بھی شامل ہے

منیرحسین:اپنی زندگی کے تین اہم واقعات کرکٹ سے متعلق بتایئے جو بھلائے نہیں بھولتے۔

ادریس: 1985-86ء میں، میں اپنے پہلے غیرملکی دورے پر سری لنکا گیا۔ یہ سب مِلا کر 65دِن کا تھا۔ تین ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ میچ سری لنکا میں کھیلنے تھے۔ پھر ایشیا کپ تھا جس میں بھارت نہیں آیا۔ پاکستان سری لنکا اور بنگلہ دیش کے مابین مقابلے ہوئے اس کے علاوہ ایک آسٹریلیشیا کپ بھی ہونا تھا۔ پاکستان نے پہلا ٹیسٹ میچ کینڈی میں دو دِن میں جیت لیا۔ ایک موقعہ پر کھیل رُک گیا جب رانا ٹنگا کا کیچ لیگ سلپ میں مدثرنذر نے لے لیا امپائر جو اِس زمانے میں اپنے ملک کے ہی ہوتے تھے نے راناٹنگا کو آؤٹ نہیں دیا تو مدثر نذر رانا ٹنگا کے پاس آئے اور کچھ کہا، رانا ٹنگا امپائر کے پاس گئے اور کچھ شکایت کی اور مدثرنذر سے معافی مانگنے کو کہا۔ امپائر نے عمران خان کو بلایا اور کہا کہ مدثرنذر نے راناٹنگا سے غیرشائستہ بات کی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ مدثر نذر نے راناٹنگا کو Fat-Bafoonکہا ہے۔ عمران خان نے امپائر سے کہا کہ مدثر کو ہر چند یہ کہ ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا پر آپ منصف ہیں کیا واقعی مدثر نذر نے غلط بیانی کی ہے اس پر راناٹنگا نے شورمچایا کہ کپتان نے مدثر کی سائڈ لی ہے کھیل رُک گیا پھر آدھ گھنٹے کے بعد عمران خان کے معافی نامہ کے بعد شروع ہوا۔ دوسرا میچ کولمبو میں تھا بات بہت بگڑ گئی۔ پاکستان کو سری لنکا نے بیٹنگ دی پوری ٹیم 132رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ اس کے جواب میں سری لنکا نے 273رنز بنائے۔ سری لنکا کو141رنز کی برتری حاصل ہوئی۔ پاکستان اس کے جواب میں یعنی دوسری اننگز میں 172رنز بنا سکا۔ دوسری اننگز میں قاسم عمر اور رمیزراجہ،مدثرنذر ایک رن پر آؤٹ، محسن خان 2رنز پر آؤٹ کے بعد ایک زبردست اننگز کھیل رہے تھے چوکے پر چوکے لگا رہے تھے کہ قاسم عمر کے ایک چوکے پر ’’پنڈس‘‘ گیند باؤنڈری لائن سے لاکر امپائر کے پاس پہنچے کہ اس کی شکل تبدیل ہو گئی ہے۔ اس گیند سے کھیل نہیں ہو سکتا۔ گیند دس بارہ اوور استعمال ہوئی ہو گی امپائر نے ’’پنڈس‘‘ کی درخواست قبول کرتے ہوئے اپنے خیال سے اس جیسی گیند فراہم کر دی۔اخلاقی طور پر ایمپائرز نے رمیزراجہ اور قاسم عمر کو گیند دِکھائی کہ اب اس سے کھیل ہو گا۔ رمیز راجہ اور قاسم عمر نے اس گیند سے کھیلنے سے انکار کر دیا کھیل رُک گیا ہزاروں کے تعداد میں آئے ہوئے شائقین چیخنے چلانے لگے کہ کھیل کیوں شروع نہیں ہو رہا کیا پاکستان اب ’’فٹ بال‘‘ سے میچ کھیلے گا۔کھیل رُکا ہوا جھگڑے کا ماحول ہے، پاکستان کے ڈریسنگ رُوم جو بالکل میدان کے ساتھ تھا اس میں لوگوں کے گھس جانے اور لڑائی کا اِمکان گالیوں کھلی کھلی تو سب کو ہی پڑ رہی تھیں۔ میری رسائی ٹیم کے منیجر تک ہوئی تو میں ان کو علیحدہ لے گیا اور کہا کہ قانون یہ ہے کہ جو گیند امپائر متبادل کے طور پر دیں گے کھیلنا تو آپ کو اُسی سے ہے یہ امپائر کی مہربانی تھی جو انہوں نے رمیز راجہ اور قاسم کو دِکھا دی۔ قانون یہ ہی کہتا ہے پھر اسی تبدیل شدہ گیند سے کھیل شروع ہوا۔ پاکستان دوسری اننگز میں 172رنز پر آؤٹ ہوا سری لنکا کو میچ جیتنے کے لیے 32رنز درکار تھے جو انہوں نے دو وکٹوں کے نقصان پر بنائے اور آٹھ وِکٹ کے میچ جیت لیا۔ جاوید میانداد بھی اسی میچ میں بلا لے کر تماشائی تک پہنچ گئے تھے کینڈی کی فتح اور کولمبو کی شکست تک پہنچتے پہنچتے، اتنے حالات خراب ہو گئے تھے کہ عمران خان نے بیان دے دیا کہ اگر تیسرے ٹیسٹ میں مقامی امپائر ہوں گے تو ہم اپنی ٹیم کے ساتھ دورہ چھوڑ کر واپس چلے جائیں گے۔عمران خان دورہ جاری رکھنے کے لیے تیار نہ تھے کہ محترم اعجاز بٹ صاحب معاملہ کو ٹھیک کرنے کے لیے غالباً پاکستان ہی سے یہ کہنے کے لیے تشریف لائے کہ بات اِتنی آگے جا چکی ہے کہ دورہ کا جاری رکھنا ناممکن نہیں ہے۔ کپتان اور پوری ٹیم اب یہاں نہیں رہنا چاہتی اور واپس جا رہی ہے یہ سری لنکا کے امپائروں کے ہاتھوں بے عزت ہو گئے ہیں۔
بات اس حد تک بڑھ گئی کہ جے ورد نے جو اِس وقت سری لنکا کے صدر تھے انہوں نے فون کر کے کہا ضیاء الحق صاحب آپ کی ٹیم ہم سے اور ہمارے ملک سے ناراض ہو کر وطن جا رہی ہے اس کو ہمارے امپائروں سے شکایت ہے۔ بس فون آپ کو اس لیے کیا ہے کہ سری لنکا میں کرکٹ کتنی ہی محبوب کیوں نہ ہو اگر آپ کی ٹیم واپس گئی تو میں جے ورد نے صدر سری لنکا کرکٹ کے کھیل کو بند کر دوں گا۔ مرحوم ضیاالحق نے جے وردنے سے کہا کہ یہ ناممکن ہے کہ پاکستان کی ٹیم ایک آپ جیسے مہربان ملک سے دورہ مکمل کیے بغیر واپس آ جائے اوّل ایسا ممکن نہیں ہے پھر بھی اگرچند دیوانے واپس آنے کا فیصلہ کرنے ہیں تو یہاں سے متبادل پلیئر یا پوری ٹیم بھیج دی جائے گی ان کا یہاں یعنی واپس آنے والوں کا ہم جو کریں گے وہ ہمیشہ کے لیے باعث عبرت ہو گا۔
لیفٹیننٹ جنرل صدر بٹ صاحب فوراً سری لنکا پہنچے معاملات کو طے کیا۔ میں نے عمران خان کے لیے ایک تقریر مرتب کی جس میں انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے اچھے سفیر کی حیثیت سے بہت عمدہ وقت یہاں سری لنکا میں گزار چکے ہیں اور اس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی یا ٹیم دورہ چھوڑ کر واپس جا رہی ہے ہم کرکٹ کے فروغ کے لیے یہاں آئے ہیں اور ایشیا کپ اور آسٹریلیشیا کپ کھیل کر ہی واپس جائیں گے۔یہ تقریر قومی نشریاتی رابطہ پر تمام ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہوئی اور اخبارات کی زینت بنی۔
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا وہ میچ زندگی کا یادگار میچ ہے جس میں ویسٹ انڈیز تین دِن مکمل طور پر میچ کے چوتھے دِن کھانے کے بعد اور شآم تک تقریباً ہار گئی۔ ٹاس جیت کر پاکستان نے بیٹنگ کی 159رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز نے اس کے جواب میں 248رنز بنائے۔ 89رنز کی سبقت حاصل کی۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں 328رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز کو میچ جیتنے کے لیے 240رنز درکار تھے کہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک بڑا ڈرامہ رُونما ہوا چائے کے وقفے سے کھیل کے اختتام تک ویسٹ انڈیز کے 9کھلاڑی 48رنز پر آؤٹ ہو گئے۔
موجودہ قوانین کے تحت تو چوتھے روز آدھ گھنٹے کھیل بڑھا کر فیصلہ لے لیا جاتا لیکن 5رنز کے لیے پانچویں دِن آنا پڑا۔ 53رنز بنا کر ویسٹ انڈیز آؤٹ ہو گئی اور 186رنز سے ہار گئی۔ عبدالقادر نے یادگار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 9.3اوورز میں 16رنز دے کر 6کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ عمران خان نے 13اوورز میں 30رنز دے کر 4وِکٹیں حاصل کیں۔ سلیم ملک نے زخمی بازو کے ساتھ بیٹنگ کی اور دیون رچرڈز نے قسم کھائی کہ چائینز کھانا خواہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو ایک ہی ہوٹل میں دووقت نہیں کھائیں گے۔دراصل ان کا پیٹ خراب ہو گیا تھا انہوں نے دونوں اننگز میں تکلیف سے بیٹنگ کی اور اکثر ڈریسنگ روم میں رہے مارشل نے قیادت کی۔ 53رنز پر ویسٹ انڈیز کا آؤٹ ہو جانا ایک بڑی خبر تھی ویسٹ انڈیز کا اس وقت طوطی بولتا تھا۔
تیسرامیرے لیے یادگار واقعہ اُسی سال یعنی 1987ء کا ہے جب پاکستان نے بھارت کو بھارت میں عمران خان کی قیادت میں شکست دی۔ چنائی، کولکتہ، جے پور،احمدآباد کے میچوں کا نتیجہ نہ نکلا۔ ٹیم بنگلور پہنچ گئی۔ عمران کی خواہش یہ تھی کہ بھارت کو بھارت میں شکست دی جائے۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کی۔ 116رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ کھانے کے وقفہ پر 72رنز پر چھ کھلاڑی آؤٹ تھے۔ میں جب ریحان نواز اور پروڈیوسر کے ساتھ کھانے کے لیے گئے تو ایک کنارے کھڑے تھے،کھانے کی طرف کیا رغبت ہوتی کہ بشن سنگھ بیدی صاحب کی آواز گونجی ، ادریس صاحب لنگ آؤلنگ آؤ۔ کچھ نہیں ہوا50رنز اور بنا لو بات بن جانی ہے۔ بھارت نے 145رنز بنائے۔ 29رنز کی برتری حاصل کی پاکستان نے دوسری اننگز میں 249رنز بنائے۔ بھارت کو میچ جیتنے کے لیے 220رنز کی ضرورت تھی چھوٹے بڑے ڈراموں کے بعد پاکستان آخرکار 16رنز سے جیت گیا۔ عمران خان کی خواہش پوری ہوئی۔ اس میچ کی اہم بات اقبال قاسم کا خاص طور پر بلایا جانا تھا اور اِن کا عمدہ پرفارم کرنا تھا۔ اقبال قاسم نے 9وکٹیں اور توصیف احمد نے 9وکٹیں حاصل کیں۔ اس میچ میں آخری چالیس منٹ میں نے کمنٹری کی جوہرطرح سے میرے لیے یادگار ہے۔

منیرحسین:کرکٹ کمنٹری کی مصروفیت تو لگتا ہے نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے کچھ آپ بتانا پسند کریں گے کہ فیملی کیا ہے اور آپ کی زندگی کے شب و روز میں کتنی حرکت اور برکت ہے۔

ادریس: منیربھائی میری شادی 1964ء میں عارف کبیر جعفری صاحب کی بہن سے ہوئی۔ دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ الحمدللہ سب شادی شدہ ہیں اور بچوں والے ہیں سب کے سب کینیڈین ہیں۔ ایک بیٹا محمد امان دراصل آفس کو مکمل طور پر چلاتا ہے یہ بڑا بیٹا ہے اور ایم بی اے ہے مارکیٹنگ میں چھوٹا بیٹا آج کل عمان میں ٹیلی کمیونیکیشن میں اچھے عہدے پر کام کر رہا ہے فنانس میں امریکہ سے ایم بی اے کیا ہے، تاہم نام عدنان ہے۔ یہ سچ ہے کہ کرکٹ کی مصروفیت کمنٹری کی حیثیت سے محدود ہے پھر بھی اس سلسلے میں لکھنے پڑھنے کا کام جاری رہتا ہے بقیہ اپنا کام ہے یہ روزی روٹی ہے اس کے لیے باقاعدگی سے کام پر آتا ہوں اور کام کرتا ہوں۔ فیملی کا شکریہ آپ کے توسط سے ادا کرنا چاہتا ہوں سچ ہے کہ کرکٹ کی دیوانگی نے اپنے بچوں کا حق اور وقت لیا ہے۔

:دیگر مضامین
(04.03.2009) تم ہی سے ضیا لے کے یہ شمس چمکتا ہے
(01.03.2009) مظفر وارثی کو مدحت شاہ اُمم کی نعمت ملی ہے
(20.02.2009) سوانح حضرت خواجہ غریب نواز
(30.01.2009) حکیم محمد سعید شہید کی سچی کہانی۔از۔محمد ادریس
(21.01.2009) بارک اوباما 4 اگست 1961ءکو ہوائی میں پیدا ہوئے
(13.01.2009) بابا طاھر ایران کے ایک عظیم شاعر
(05.01.2009) بابا فرید گنج شکر
(27.12.2008) بینظیر بھٹو۔ایک لازوال باپ کی لازوال بیٹی
(13.12.2008) امیر کبیر حضرت شاہ ہمدان رحمتہ اللہ علیہ
(16.11.2008) عالمی اخبار کے آرکائیو سے
(01.11.2008) یکم نومبر میری روشن صبح ہے
(30.10.2008) بہت یاد آئیں گے وہ دن مجھے تڑپائیں گے وہ دن!
(15.10.2008) برطانوی بابائے اردو مرحوم رالف رسل کانایاب انٹرویو



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی۔وینکور   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں