پاکستان میں اس کا صدر وفاق کا سربراہ ہوتا ہے۔ پارلیمانی (جمہوری ) نظام میں یہ غیر انتظامی عہدہ ہوتا ہے کیونکہ صدر، وزیر اعظم کی
اچھی بری بات ہر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ البتہ پاکستان میں مارشل لا حکومت کے دور میں فوجی سربراہ اپنے آپ کو صدر کے عہدے پر فائز کرتے رہے جہاں وہ وزیر اعظم کے انتظامی اختیارات بھی اپنے پاس رکھتے تھے چاہے ان کا اپنا مقرر کیا وزیر اعظم موجود ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی سب سے بُڑی اور بُری مثال پرویز مشرف تھے ۔
جمہوری نظام میں صدر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالا ہو کر وفاق کی نمائندگی کرے اور نامزد ہونے کے بعد سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہو جائے۔ مثال کے طور پر صدر نامزد ہونے کے بعد فاروق احمد خان لغاری پیپلز پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے، جبکہ دوسری طرف آصف علی زرداری صدر ہوتے ہوئے بھی پیپلز پارٹی کا سربراہ بنے رہے بلکہ یوں کہوں کہ پارٹی سے چمٹے رہے ۔۔
پس ثابت ہوا کہ پاکستان میں صدر ڈگڈگی پر ناچتا ایسا بندر ہے جو وزیراعظم کے مزاج کے مطابق اپنے پینترے بدلتا رہتا ہے ۔ سو ایسے میں پاکستان کے موجودہ گم نام صدر ممنون حسین کو بھی وہی کرنا ہے جو وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور شنید ہے کہ بادشاہ سلامت نے کہہ رکھا ہے ۔۔ خبردار جو جمہوریت کی کھڑکی سے منہ باہر نکالا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ صرف ہماری بات پر ہاں ہاں کہتے جایئے اور خود کو ہر غم سے آزاد سمجھیں ۔ ممنون حسین نواز شریف کے اس قدر ممنون ہیں کہ ان کی آنکھوں پر ممنونیت کا پردہ پڑ گیا ہے جسے ہٹا کر وہ اپنی قوم کو سڑکوں پر لہو بہاتے ہوئے بھی نہیں دیکھ پا رہے ورنہ اپنی گمشدگی کی خبریں پڑھ کر آ ہی جاتے اور کہتے کہ میں ہوں ناں ۔۔۔۔۔
دوستو ! جناب ممنون حسین پاکستان کے بارہویں صدر ہیں جنہوں نے 9 ستمبر 2013 میں حلف لیا تھا ۔ اس وقت سے لے کر تاحال وہی صدر ہیں جس پر پاکستانیوں کو کیا یقین ہو خود انہیں خود پر یقین نہیں آ رہا کہ وہ پاکستان کے صدر ہیں ۔ ورنہ جلتے رلتے تڑپتے ہوئے پاکستان پر اپنا سمجھ کر ایک چھوٹا سا بیان تسلی کی صورت ضرور دیتے ۔
اللہ پاک ممنون حسین جیسا بے حس دل اور شعور سے عاری دماغ سے ہر کسی کو کب نوازتا ہے؟ ۔ کس کسی کو ایسا احساس نصیب ہوتا ہے جو کہے چولہے بھاڑمیں گئی آزادی ، آگ لگے انقلاب کو ۔۔ اور ہر رات کندھے اچکا کر کہے “ دنیا کب چپ رہتی ہے “ اور لمبی تان کر سو جائے ۔ ۔۔ ان کو جگا کر بہت سمجھایا گیا ہے کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں خانہ جنگی ہونے والی ہے ۔۔ غریب فوجی ضرب عضب سنبھالیں کہ خانہ جنگی روکیں ۔۔۔ اوپر سے اپنا اٹیمی اثاثہ بھی بچائیں۔۔ صدر صاحب سوچیئے کہیں یہ نیٹو کی افواج کی مداخلت کی سازش ہی نہ ہو ۔۔ ممنون حسین کی خاموشی موت جیسی ہے جو ٹوٹتی ہی نہیں ۔۔
موت جیسی خاموشی تو 31 مارچ 2010 کے تاریخی دن چھائی ہوئی ہے جس دن شعبہ صدارت کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند کر دی گئیں تھیں ۔ آئینی ترامیم ہویئں اور پارلیمان سے منظوری کے بعد صدر کو منتخب حکومت کو تحلیل کرنے اور فوجی سربراہوں کی تقرری جیسے اختیارات حاصل نہیں رہے ۔کہ آئین کے آرٹیکل 48 کے تحت صدر اپنے وزیراعظم یا اس کی کابینہ کی ایڈوائس کے پابند ہیں اور وہ وزیراعظم کی ایڈوائس کے بغیر کوئی حکم جاری نہیں کرسکتے۔ یوں نئے وزیراعظم کے انتخاب تک صدر مملکت آرڈیننس جاری کرنے اور گورنر راج لگانے سمیت اپنا کوئی اختیار استعمال نہیں کرسکتے۔ ، تاہم آرٹیکل (2)48 کے تحت صدر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ واضح رہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد صدر کے یہ صوابدیدی اختیارات بھی بہت محدود ہوچکے ہیں۔۔۔ یعنی پاکستان میں جمہوریت کی آڑ میں سیاستدانوں نے ایک ڈمی ، ایک شو پیس صدر کی بنیاد رکھ دی گئی یوں چیک اینڈ بیلنس کی تلوار توڑ دی گئی ۔۔۔
ویسے دروغ بر گردن راوی شنید ہے کہ ممنون و مسنون حسین کو عمران خان اور مولوی قادری سے سخت شکایت ہے کہ انہوں ہر ایرے غیرے کے استعفے کا مطالبہ کیا لیکن ممنون حسین کے استعفے کی ایک بار بھی بات نہیں کی۔ یہ قوم ابھی تک زیڈ اے بھٹو کے زمانے کے صدر چوہدری فضل الہی کو نہیں بھولی جنکے بارے میں کسی نے لکھا تھا کہ راولپنڈی کے ایون صدر کی دیواروں پر رات کے وقت ایک شخص وال چاکنگ کرتا ہوا پکڑا گیا۔ اس نے ایوان صدر کی دیواروں پر لکھا ۔۔۔۔۔ صدر فضل الہی کو رہا کرؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پولیس نے جب گرفتار شدہ شخص کے منہہ سے کمبل ہٹایا تو معلوم ہوا کہ وہ خود صدر فضل الہی تھے جو ایون صدر کی دیواروں پر یہ نعرے لکھ رہے تھے۔
پر دوستو !
صدر پاکستان ایک محب وطن پاکستانی بھی تو ہوگا ۔ پاکستان کی اتنی تباہی پر ، اتنی جانی ارزانی پر پوری دنیا چیخ رہی ہے ۔۔ ایک جو چپ ہے تو پاکستان ہی کا صدر خاموش ہے ۔۔ ہائے اس جمہوریت نے تو انسان اور روبوٹ کے سارے فرق ہی مٹا ڈالے ۔۔ کاش بے حسی کے اس لاشے کو پاکستان کے کندھوں سے کوئی اتار دے ۔