15.10.2026, 04:47pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

مضطرب پاکستان کا پرسکون اور گمشدہ صدر۔ از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
02.09.2014, 04:05am , منگل (GMT+1)

نگہت نسیم ۔سڈنی


پاکستان میں اس کا صدر وفاق کا سربراہ ہوتا ہے۔ پارلیمانی (جمہوری ) نظام میں یہ غیر انتظامی عہدہ ہوتا ہے کیونکہ صدر، وزیر اعظم کی
 اچھی بری بات ہر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ البتہ پاکستان میں مارشل لا حکومت کے دور میں فوجی سربراہ اپنے آپ کو صدر کے عہدے پر فائز کرتے رہے جہاں وہ وزیر اعظم کے انتظامی اختیارات بھی اپنے پاس رکھتے تھے چاہے ان کا اپنا مقرر کیا وزیر اعظم موجود ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی سب سے بُڑی اور بُری مثال پرویز مشرف تھے ۔

جمہوری نظام میں صدر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالا ہو کر وفاق کی نمائندگی کرے اور نامزد ہونے کے بعد سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہو جائے۔ مثال کے طور پر صدر نامزد ہونے کے بعد فاروق احمد خان لغاری پیپلز پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے، جبکہ دوسری طرف آصف علی زرداری صدر ہوتے ہوئے بھی پیپلز پارٹی کا سربراہ بنے رہے بلکہ یوں کہوں کہ پارٹی سے چمٹے رہے ۔۔

پس ثابت ہوا کہ پاکستان میں صدر ڈگڈگی پر ناچتا ایسا بندر ہے جو وزیراعظم کے مزاج کے مطابق اپنے پینترے بدلتا رہتا ہے ۔ سو ایسے میں پاکستان کے موجودہ گم نام صدر ممنون حسین کو بھی وہی کرنا ہے جو وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور شنید ہے کہ بادشاہ سلامت نے کہہ رکھا ہے ۔۔ خبردار جو جمہوریت کی کھڑکی سے منہ باہر نکالا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ صرف ہماری بات پر ہاں ہاں کہتے جایئے اور خود کو ہر غم سے آزاد سمجھیں ۔ ممنون حسین نواز شریف کے اس قدر ممنون ہیں کہ ان کی آنکھوں پر ممنونیت کا پردہ پڑ گیا ہے جسے ہٹا کر وہ اپنی قوم کو سڑکوں پر لہو بہاتے ہوئے بھی نہیں دیکھ پا رہے ورنہ اپنی گمشدگی کی خبریں پڑھ کر آ ہی جاتے اور کہتے کہ میں ہوں ناں ۔۔۔۔۔

دوستو ! جناب ممنون حسین پاکستان کے بارہویں صدر ہیں جنہوں نے 9 ستمبر 2013 میں حلف لیا تھا ۔ اس وقت سے لے کر تاحال وہی صدر ہیں جس پر پاکستانیوں کو کیا یقین ہو خود انہیں خود پر یقین نہیں آ رہا کہ وہ پاکستان کے صدر ہیں ۔ ورنہ جلتے رلتے تڑپتے ہوئے پاکستان پر اپنا سمجھ کر ایک چھوٹا سا بیان تسلی کی صورت ضرور دیتے ۔

اللہ پاک ممنون حسین جیسا بے حس دل اور شعور سے عاری دماغ سے ہر کسی کو کب نوازتا ہے؟ ۔ کس کسی کو ایسا احساس نصیب ہوتا ہے جو کہے چولہے بھاڑ‌میں گئی آزادی ، آگ لگے انقلاب کو ۔۔ اور ہر رات کندھے اچکا کر کہے “ دنیا کب چپ رہتی ہے “ اور لمبی تان کر سو جائے ۔ ۔۔ ان کو جگا کر بہت سمجھایا گیا ہے کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں خانہ جنگی ہونے والی ہے ۔۔ غریب فوجی ضرب عضب سنبھالیں کہ خانہ جنگی روکیں ۔۔۔ اوپر سے اپنا اٹیمی اثاثہ بھی بچائیں‌۔۔ صدر صاحب سوچیئے کہیں یہ نیٹو کی افواج کی مداخلت کی سازش ہی نہ ہو ۔۔ ممنون حسین کی خاموشی موت جیسی ہے جو ٹوٹتی ہی نہیں ۔۔

موت جیسی خاموشی تو 31 مارچ 2010 کے تاریخی دن چھائی ہوئی ہے جس دن شعبہ صدارت کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند کر دی گئیں تھیں ۔ آئینی ترامیم ہویئں اور پارلیمان سے منظوری کے بعد صدر کو منتخب حکومت کو تحلیل کرنے اور فوجی سربراہوں کی تقرری جیسے اختیارات حاصل نہیں رہے ۔کہ آئین کے آرٹیکل 48 کے تحت صدر اپنے وزیراعظم یا اس کی کابینہ کی ایڈوائس کے پابند ہیں اور وہ وزیراعظم کی ایڈوائس کے بغیر کوئی حکم جاری نہیں کرسکتے۔ یوں نئے وزیراعظم کے انتخاب تک صدر مملکت آرڈیننس جاری کرنے اور گورنر راج لگانے سمیت اپنا کوئی اختیار استعمال نہیں کرسکتے۔ ، تاہم آرٹیکل (2)48 کے تحت صدر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ واضح رہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد صدر کے یہ صوابدیدی اختیارات بھی بہت محدود ہوچکے ہیں۔۔۔ یعنی پاکستان میں جمہوریت کی آڑ میں سیاستدانوں نے ایک ڈمی ، ایک شو پیس صدر کی بنیاد رکھ دی گئی یوں چیک اینڈ بیلنس کی تلوار توڑ دی گئی ۔۔۔

ویسے دروغ بر گردن راوی شنید ہے کہ ممنون و مسنون حسین کو عمران خان اور مولوی قادری سے سخت شکایت ہے کہ انہوں ہر ایرے غیرے کے استعفے کا مطالبہ کیا لیکن ممنون حسین کے استعفے کی ایک بار بھی بات نہیں کی۔ یہ قوم ابھی تک زیڈ اے بھٹو کے زمانے کے صدر چوہدری فضل الہی کو نہیں بھولی جنکے بارے میں کسی نے لکھا تھا کہ راولپنڈی کے ایون صدر کی دیواروں پر رات کے وقت ایک شخص وال چاکنگ کرتا ہوا پکڑا گیا۔ اس نے ایوان صدر کی دیواروں پر لکھا ۔۔۔۔۔ صدر فضل الہی کو رہا کرؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پولیس نے جب گرفتار شدہ شخص کے منہہ سے کمبل ہٹایا تو معلوم ہوا کہ وہ خود صدر فضل الہی تھے جو ایون صدر کی دیواروں پر یہ نعرے لکھ رہے تھے۔

پر دوستو ! صدر پاکستان ایک محب وطن پاکستانی بھی تو ہوگا ۔ پاکستان کی اتنی تباہی پر ، اتنی جانی ارزانی پر پوری دنیا چیخ رہی ہے ۔۔ ایک جو چپ ہے تو پاکستان ہی کا صدر خاموش ہے ۔۔ ہائے اس جمہوریت نے تو انسان اور روبوٹ‌ کے سارے فرق ہی مٹا ڈالے ۔۔ کاش بے حسی کے اس لاشے کو پاکستان کے کندھوں سے کوئی اتار دے ۔

:دیگر مضامین
(01.09.2014) دوسروں کو غلط ثابت کرنے کی بجائے اپنے اندر جھانکیں۔از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔۔۔ اشاعت مکرر
(18.07.2014) او مائی گوڈ ۔۔اب مسلمانوں کا کیا ھو گا ؟ ۔از:‌ ڈاکٹر۔نگہت نسیم
(14.07.2014) طاقت نظریے کو کبھی شکست نہیں دے سکتی ۔ از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم
(08.07.2014) سب مل کے مسلماں کہو 'داعش' پہ ہو لعنت ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.06.2014) وطن عزیز پاکستان یوں لگتا ہے کہ آفات اور بلاؤں کی زد میں ہے۔از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(11.06.2014) غور کیجئے کہ ہم مسلمانوں کو زوال کا سامنا کیوں ہے؟... از.... ڈاکٹر نگہت نسیم
(12.05.2014) اتحاد بین المسلمین کے دشمن کون ہیں اور کیوں ۔۔۔۔ ؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(11.04.2014)  طالبان سے زیادہ مسیحا ڈاکٹرز بے گناہوں کو مار رہے ہیں ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(28.03.2014) محبت ہشت پہلو ہے ۔۔۔۔۔ ۔۔ از ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(05.03.2014) مسلمان ممالک میں احتجاج اور مذاکرات ۔۔۔۔از۔۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(03.02.2014) کتابوں ، درختوں ، بلیوں اور جھیلوں سے پیار کرنے والا " امجد شیخ "
(31.12.2013) دہشتگردی ختم کرنے والے ہی دہشت گرد ہیں ماں۔۔۔اشاعت مکرر۔۔۔ ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(03.12.2013)  کس جا کو وطن کہوں ۔۔۔۔ ؟ از“ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(28.11.2013) ایک دوسرے کوکافر کہنے کی روش آخر کب تک؟ دوسری قسط ۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(25.11.2013) ایک دوسرے کوکافر کہنے کی روش آخر کب تک؟پہلی قسط ۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(15.11.2013) میرا سلام لیجئے ۔۔ حسین ابن علی ۔۔۔ ڈاکٹرنگہت نسیم ۔سڈنی
(14.11.2013) کربلا اسلام کی پائیندگی کا نام ہے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
(18.10.2013) اسلام علم کی نشانی اور مسلمانوں کی اکثریت جہالت کی نمائیندہ ؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(17.09.2013) احتجاج ایک خرافات ? ۔۔۔۔۔ از ......؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی
(15.09.2013) ہمارا بے حس اور مردہ معاشرہ زندہ باد ۔۔۔۔۔از؛۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں