16.10.2026, 12:52pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » زرقا مفتی
 

پارلیمان کا آدھا سچ ۔ کوئی نہ مانگے اپنا حق ۔ از ۔ زرقا مفتی
03.09.2014, 08:01am , بدھ (GMT+1)

زرقا مفتی ۔لاہور
امسال جشن آزدی پر احتجاجی رنگ غالب رہا ۔ 14 اگست کے دن کو حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ شروع کرنے کے لئے چُنا گیا۔ لاہور سے دو مارچ اسلام آباد روانہ ہو گئے مگر آج بیس روز بعد بھی نہ تو انقلاب آیا ہے اور نہ ہی عوام کو آزادی کی نوید ملی ہے ۔حکومت نے آج اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا تھا۔

آج اس اجلاس میں پارلیمان کا مردہ ضمیر عوام کے سامنے ننگا ہو گیا۔ آج عوام نے جان لیا کہ اُن کے ووٹوں کے سہارے پارلیمان میں پہنچنے والے کتنے خودغرض اور بد عنوان ہیں۔ پارلیمان میں ہونے والی تقریروں سے واضح ہوا کہ ملک کی بیشتر سیاسی جماعتیں عوام کی بہتری کے لئے نہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے گلے سڑے نظام اور بدعنوان حکومت کی بقا کی حمایت کر رہی ہیں۔ دھواں دار تقاریر میں البتہ اتنا تو ہوا کہ حکومت کی کسی نے تعریف نہیں کی ۔

پارلیمان میں ہر مقرر نے اپنا آدھا ادھورا سچ پیش کیا ۔اور اپنا مطمع نظر بھی واضح کر دیا کہ عوام میں سے کوئی نہ مانگے اپنا حق۔معلوم ہوا کہ ہر جماعت اقتدار کے کیک میں سے اپنا حصہ بٹورتے رہنے کی خواہشمند ہے ۔

پارلیمان میں وزیر داخلہ چوہدری نثار نے مظاہرین کی قانون شکنی کا رونا رویا 

یہ نہیں بتایا کہ مظاہرین 21 دن بعد بھی کیوں احتجاج پر مصر ہیں

پولیس والوں کے زخمی ہونے کا ذکر کیا ایک سو ایک ہزار مظاہرین کو زخمی کرنے اور متعدد کو ہلاک کرنے کا اعتراف نہیں کیا انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالے  یہ تسلیم کرنے سے گریز کیا کہ موجودہ صورتحال حکومت کی ہٹ دھرمی سے پیدا ہوئی

 انہوں نے الزام لگایا کہ قادری اور خان نے اپنے ایجنڈے کے لئے فوج کا نام استعمال کیا مگر اپنے جھوٹ بولنے پر معذرت سے گریز کیا کہ فوج کو سیاسی معاملات میں انہوں نے گھسیٹنے کی کوشش کی  اُن کے لب و لہجے سے معلوم ہوا کہ حکومت ابھی مزید ظلم پر آمادہ ہے ۔اُنہوں نے پی ٹی وی پر حملے کا ذکر بڑے شدو مد سے کیا مگر میڈیا پر پولیس حملے کی بے دلی سے معذرت کی۔ سو کھل گیا کہ جمہوریت نہیں ملک میں بادشاہت قائم ہے

چوہدری اعتزاز احسن نے پارلیمان سے خطاب میں کہا کہ حزب مخالف کی تمام جماعتیں مجبورا آئین اور جمہوریت کے لئے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مجبوری یہ ہے کہ اپنی اگلی باری خطرے میں ہے اعتزازاحسن کاکہناتھاکہ لشکریوں کے الزامات میں بہت صداقت بھی ہے دھاندلی بھی ہوئی ماڈل ٹاؤن میں ظلم بھی ہوا

انہوں نے حکومت پر نااہلی کا الزام لگایا اور نواز شریف کو سوچ بچار کا مشورہ دیا کہ وہ تیسری بار ایسی صورتحال میں کیوں ہیں۔ ان کا کہنا تھا اپنےدائیں بائیں (صلاح کاروں) کو بدلیے شاید وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ پی پی پی تو آپ کی ٹانگیں نہیں کھینچ رہی پھر بھی آپ ہیٹ ٹرک کرنے پر تلے ہیں ، انہوں نے وزیراعظم پربھی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اس سے قبل بھی وزیراعظم نوازشریف نے اعلان کیا تھاکہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے اور اگلے دن انہوں نے استعفی دے دیا۔

اعتزازاحسن نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی رہنمانصرت بھٹواورمحترمہ بینظیربھٹونے احتجاجی تحریکوں میں پتھرکھائے یہ لوگ خواتین اور بچوں کو آگے کر کے خود کو محفوظ کر رہے ہیں وہ یہ کہتے ہوئے بھول گئے کہ نصرت بھٹو اور بے نظیر خواتین بھی تھیں ۔ اُنہیں یہ بتانا بھی یاد نہیں رہا کہ بے نظیر سانحہ کارساز کے وقت ایک بلٹ پروف کنٹینر میں سوار تھیں۔ اپنی ہلاکت کے وقت بھی ایک بلٹ پروف گاڑی میں سوار تھیں۔ انہوں نے حکومت سے فرمائش کر کے جیمرز بھی لگوا رکھے تھے

اعتزازاحسن کاکہنا تھاکہ پارلیمنٹ کے سامنے آکراس طرح احتجاج کی روایت غلط ہےکل کوئی آکر کہہ دے کہ وزیرستان سے فوج کا انخلاء کردیا جائے یاکوئی اورمطالبہ کردے توحکومت کیاکرے گی۔

وہ یہ بتانا بھول گئے کہ پاکستان میں پارلیمنٹ کے سامنے آ کر احتجاج کی روایت پی پی پی اور نون لیگ نے ڈالی تھی ۔ اُنہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ جس آئین کی وہ بات کر رہے ہیں وہی آئین عوام کو احتجاج کا حق دیتا ہے ۔ اور جمہوریت اختلاف رائے کو برداشت کرتی ہے۔ احتجاج کرنے والوں کے مسائل حل کرتی ہے گولی نہیں چلاتی 

اعتزاز احسن نے کہاکہ معاملات کوحل کرنے کے لئے حکومتی وزراء کو اپنی زبان میں مٹھاس بھرنا ہوگی، انہوں نے وزیراعظم پربھی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اس سے قبل بھی وزیراعظم نوازشریف نے اعلان کیا تھاکہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے اور اگلے دن انہوں نے استعفی دے دیا۔ یعنی اب بھی اُنہیں شک ہے کہ نواز شریف استعفی دے سکتے ہیں

 اعتزاز احسن نے نون لیگ ، تحریک انصاف اور عوامی تحریک پر بہت مہذب پیرائے میں کڑی تنقید کی  مگر اُن کی ساری تقر یر سن کر بھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کن اصولوں کی بنیاد پر پی پی پی دھاندلی سے بننے والی ظالم اور بدعنوان حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے۔

 اعتزاز احسن کی تقریر سُن کر مجھے اُن کی ایک نظم یاد آ گئی جو وہ خود بھول چکے ہیں سو اُن کی یاد دہانی کے لئے عرض ہے

 یاد ہے تم کو تم نے کہا تھا
 "عدل بنا جمہور نہ ہوگا"
اب کیا سب بھول گئے ہو
 ظلم کے حامی بن بیٹھے ہو
 پہلے تو تم یہ کہتے تھے 
"ریاست ہو گی ماں کے جیسی
ہر شہری سے پیار کرے گی 
کس مشکل میں اب پڑے ہو
  جھوٹ ہی اب تو بول رہے ہو
 بھول گئے ہو سب وہ نعرے 
عدل بنا کمزور ادارے"
 کیوں دیتے ہو ان کو سہارے
  کیا تم بالکل ٹوٹ چکے ہو
 سبق پرانا بھول گئے ہو

 پختون خواہ ملی پارٹی کے صدرمحمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمان کی تمام جماعتیں ایک صفحے پر ہیں۔ وہ یہ بتانا بھول گئے کہ سب کا مشترکہ مفاد اسی میں ہے کہ پارلیمان مزید چار سال کام کرتی رہے انہوں نے کہا کہ اعتزاز احسن نے غلط کہا کہ ہم نواز شریف کا ساتھ مجبورا دے رہے ہیں ہم اپنی کمٹمنٹ کی وجہ سے نواز شریف کا ساتھ دے رہے ہیں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اصل میں کمٹمنٹ کیا ہے انہوں نے کہا کہ ہماری فوج کو دُنیا کے دوسرے ملکوں کی فوج مانند آئین کا احترام کرنا چاہیئے وہ یہ کہنا بھول گئے کہ اور ملکوں کی پارلیمان بھی اپنی فوج کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھتی ہے

 اس کے بعد اچکزئی صاحب نے دہشت گردی کی تعریف پڑھ کر سنائی اور مظاہرین کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی حکومت کو مشورہ دیا کہ ان سب کو گرفتار کرلے یاد رہے کہ پی ٹی وی پر حملے کو دہشت گردی قرار دینے والے اچکزئی قائد اعظم ریذیڈنسی پر حملے کی مذمت بھی نہیں کر سکے تھے وہ حکومت کو ماڈل ٹاؤن کی ریاستی دہشت گردی کے ملزمان کی گرفتاری کا مشورہ دینا یکسر بھول گئے شاید عمر کا تقاضا ہے انہوں نے مظاہرین کے پولیس پر تشدد اور فوج سے حسن سلوک پر بھی اعتراض کیا یہ بھی کہا کہ پولیس پر ہاتھ اٹھانا جرم ہے وہ یہ بتانا بھول گئے کہ پولیس کا نہتے عوام پر گولی چلانا جرم ہے  وہ یہ بتانا بھی بھول گئے کہ پولیس کا میڈیا کے کارکنوں پر تشدد بھی جرم ہے اور لوگوں کی نجی گاڑیوں کے شیشے توڑنا بھی جرم ہے

 ایم کیو ایم کے راہنما خالد مقبول نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کہا کہ اگر ہم نے جمہوریت کی صحیح معنوں میں پیروی کی ہوتی تو مظاہرین حکومت کے سامنے کھڑے نہ ہوتے انہوں نے ماڈل ٹاؤن سانحے کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا  وہ انتخابات میں دھاندلی کا ذکر کرنا بالکل بھول گئے ۔ اگر کرتے تو بات اپنے گھر تک جا پہنچتی  انہوں نے پی ٹی وی پر حملے کی مذمت کی اور ذمہ داروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا

جے یو آئی ف کے مولانا فضل الرحمان نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں سوال اُٹھایا کہ وزیر اعظم کے تیس دن کے لئے استعفی سے کیا مراد ہے ؟اور اس سےکیا فرق پڑے گا۔ اُن کی اس بات میں وزن ہے کیونکہ پولیس اور عدلیہ کے لئے تو وہ بادشاہ سلامت ہی رہیں گے انہوں نے شکایت کی کہ اُن سے جمہوریت چھینی جا رہی ہے پارلیمان پر حملہ ہوا اور وہ دیکھتے رہے وہ یہ بتانا بھول گئے کہ جب پولیس نے خواتین پر شیلنگ کی تو ان کی آنکھ لگ گئی تھی اُنہوں نے قوم سے مطالبہ کیا کہ اس مسلے کا پر امن حل نکالے وہ بھول گئے کہ جمہوری حکومت نے قوم کو صرف ووٹ دینے کا حق دیا ہے باقی تمام عوامی حقوق بحق سرکار سلب ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ افسروں کا دفتر پہنچنا مشکل ہو گیا ہے اور ہمیں پارلیمنٹ آنے کے لئے متبادل راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں ( کیونکہ وہ عوام کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہے ) انہوں نے حکومت کی نااہلی پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ طاقت رکھنے کے باوجود 4-5 ہزار لوگوں سے نہین نمٹ سکی شاید حکومت نے اُنہیں نہیں بتایا کہ مظاہرین چار پانچ ہزار ضرب سو تھے

 اُنہوں نے پولیس کے ساتھ بد سلوکی پر اظہار افسوس کیا وہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس گردی کی مذمت کرنے سے معذور رہے انہوں نے کہا کہ ہم نے چین کے لئے پاکستان میں سرمایہ کاری کو مشکل بنا دیا ہے وہ یہ بتانے سے قاصر رہے کہ کس نے مشکل بنایا ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت شمالی وزیرستان کے لوگوں کو ہماری ضرورت ہے وہ یہ بتانا بھول گئے کہ اُنہوں نے آئی ڈی پیز کی مدد کے لئے ابتک کیا کیا انہوں نے کہا کہ ہم دُنیا کو یہ پیغام نہیں دینا چاہتے کہ ہم اہل حکم کی عزت نہیں کرتے ( یہ تو ہم سب جانتے ہیں مولانا صاحب ہمیشہ حکومت وقت کی بہت عزت کرتے ہیں اور بدلے میں مراعات اور عہدے لیتے ہیں )

جاوید ہاشمی صاحب کی پارلیمان میں آمد پر والہانہ استقبال کیا گیا

مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنے خطاب میں نواز شریف کوتنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نواز شریف 31 سال سے اقتدار میں ہیں، لیکن عوام کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ مسلم لیگ نے اقتدار کے 14 ماہ کے دور میں مجھ سے جو زیادتیاں کیں وہ بیان نہیں کرنا چاہتا جاوید ہاشمی نے کہا کہ ہمیں ذاتی پسند نا پسند سے آگے جانا چاہیے اور مسائل حل کرنے چاہئیں

انہوں نے کہا کہ کسی اور نے مجھے اتنی عزت نہیں دی جتنی عمران خان نے دی (انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ عزت دینے والے عمران خان کو نقصان کیوں پہنچایا

جاوید ہاشمی نے پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے آدھے گھنٹے سے زائد تقریر کی ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ خوشی سے پارلیمنٹ سے استعفی دے کر عوام کے پاس جارہا ہوں، پارلیمنٹ کو نظرانداز کریں گے تو اسے گرانے کی آوازیں آئیں گی، عمران خان کو نہیں بلکہ عوامی مسائل حل نہ کرنے والی پارلیمنٹ کو کٹہرے میں کھڑا کریں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کور کمیٹی کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈی چوک سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اس لئے پارلیمنٹ گرانے والوں کا کس طرح ساتھ دے سکتا ہوں۔

صدر تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم 14 مہینے تک سینیٹ میں کیوں نہیں گئے، اگر حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے تقدس کا خیال نہیں رکھا جائے گا تو اسے گرانے والے لشکر آئیں گے۔ انہوں نے حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ان کے ساتھ بہت زیادتیاں کیں، عمران خان کی مقبولیت بہت ہے اور نوجوان طبقہ ان کے ساتھ ہے۔

جاوید ہاشمی کی تقریر کے اختتام پر ارکان نے ڈائس بجا کر انہیں خراج تحسین پیش کیا جبکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نواز شریف اپنی نشست سے اٹھ کر جاوید ہاشمی کے پاس گئے اور ان سے بغل گیر ہوگئے۔

جاوید ہاشمی پارلیمان میں قرض دوستاں چکانے آئے تھے بالترتیب نون لیگ ، فوج، تحریک انصاف

نون لیگ سے اُن کو یہ اختلاف تھا کہ شریفین خود تو ملک بدر ہو گئے اور ان کو جیل یاترا کرنی پڑی ۔ جیل یاترا کے بعد پارٹی میں ان عزت میں یا عہدے میں اضافہ نہیں ہوا اس لئے استعفی دے دیا

فوج نے ان کی ایک ٹیلی فون کال ٹیپ کر کے بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا تھا اور پانچ سال جیل میں رکھا

تحریک انصاف نے انہیں عزت دی صدر بنایا مگر ان کی اجازت کے بغیر ڈی چوک سے آگے پیش قدمی کر لی تھی یہ سارا ماجرا دیکھنے کے بعد ایک ہی بات سمجھ میں آئی ہے کہ

پارلیمان کا آدھا سچ۔۔۔۔کوئی نہ مانگے اپنا حق

:دیگر مضامین
(24.07.2014) مفاہمت کی سیاست یا منافقت ۔۔از؛ زرقا مفتی ۔لاہور ۔۔۔اشاعت مکرر
(25.03.2013) نیا پاکستان ۔۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف کا لاہور میں جلسہ۔از۔زرقا مفتی
(15.01.2013) ڈاکٹر طاہر قادری صاحب کا جوتا ........ از..... زرقا مفتی ۔ لاہور
(11.10.2012) علم کی شمع سے ہے جن کو محبت یا رب ۔.... از۔...... زرقا مفتی
(05.08.2012) سو بہتر یہ ہوگا کہ پہلے اپنا احتساب کیجئے۔۔۔از۔۔۔زرقا مفتی
(01.11.2011) تحریک انصاف کا جلسہ ۔عوام کی بیداری کا عمل شروع ،از؛ زرقا مفتی
(15.05.2011) موجودہ حالات میں ہم کیا چاہتے ہیں؟ ۔از ؛ زرقا مفتی ۔لاہور
(04.05.2011) یہ طوق غلامی اُتارو تو مانیں ۔از زرقا مفتی ۔لاہور
(04.02.2011) کیا ہم امریکہ کے غلام ہیں؟ از زرقا مفتی
(03.12.2010) لا علمی ہزار نعمت ہے ۔ از؛ زرقا مفتی ۔لاہور
(10.10.2010) امریکہ برائے فروخت۔۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔زرقا مفتی
(24.08.2010) کیا اللہ ہم سے خفا ہے؟ ۔۔از؛ زرقا مفتی ۔ لاہور ۔ پاکستان
(08.08.2010) اے جذبہ ءدل گر میں چاہوں۔۔۔۔۔۔از؛زرقا مفتی ۔لاہور
(16.06.2010) کیا ہم کسی پانچویں پاس سے زیادہ سمجھ بوجھ کے حامل ہیں؟ زرقا مفتی
(23.04.2010) عذاب درعذاب اور گڈ گورنس کا آئینہ ۔ از ۔ زرقا مفتی
(19.02.2010) ہماری قیادت اور افہام و تفہیم ۔از۔زرقا مفتی
(24.01.2010) پاکستانی کرکٹرز کی نراشا ۔از ؛ زرقا مفتی ۔ لاہور
(14.01.2010) ترقی کے لیے منصوبہ بندی ناگزیر ہے ۔از؛زرقا مفتی۔لاہور
(18.12.2009) پاکستان میں ایک نئی صبح کا آغاز۔از؛ زرقا مفتی
(07.12.2009) پاکستان کی دستار۔۔۔۔از؛ زرقا مفتی ۔لاہور



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں