|
نو ستمبر اردو دو کے نامور شاعرجگر مراد آبادی کی برسی ہے
09.09.2015, 07:20am , بدھ (GMT+1)
صفدر ھمدانی لندن
نو سمبر دوہزار چودہ جگر مراد آبادی کی 55 ویں برسی ہے
...........
جگر مراد آبادی کا اصل نام علی سکندر تھا اور وہ 6 اپریل 1890ءکومراد آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 13 سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا۔ ابتدا میں داغ دہلوی اور منشی امیر اللہ خاں تسلیم لکھنوی کے شاگرد ہوئے اور پھر اصغر گونڈوی کے فیضان سخن حاصل کیا۔ ان کے کلام میں حسن و عشق اور کیف و سرور اتنا رچا ہوا تھا اور ترنم اس درجہ والہانہ دل دوز تھا کہ پورے برصغیر کے مقبول ترین شاعر کہلائے۔ ان کی شاعری کے تین مجموعے داغ جگر، شعلہ طور اور آتش گل ان کی یادگار ہیں۔
جگر مراد آبادی نے 9 ستمبر 1960ءکو گونڈہ میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے
...........
آپ بیسویں صدی کے اردو کے مشور شاعروں میں سے ایک ہیں .آپ کو سب سے زیادہ نظموں کو جمع کرنے پر ایوورڈ ملا .آپ کم عمر میں ہی اپنے والد سے محروم ہو گۓ اور آپ کا بچپن آسان نہیں تھا .آپ نے مدرسے سے اردو اور فارسی سیکھی .شروع میں آپ کے شاعری کے استاد رسہ رامپوری تھے .آپ گزل لکھنے کے ایک سکول سے تعلق رکھتے تھے .آپ کا ٩ ستمبر ١٩٦٠ کو انتقال ہو گیا .گوندا میں ایک رہائشی کالونی کا نام آپ کے ننم پر 'جگر گنج ' رکھا گیا ہے .وہاں ایک سچول بھی آپ کے نام پر جگر میموریل انٹر کالج رکھا گیا ہے. .
...........
ے کیف زندگی ہے جیئے جا رہا ہوں میں
خالی ہے شیشہ اور پیئے جا رہا ہوں میں
گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز
کانٹوں سے بھی نباہ کیئے جا رہا ہوں میں
...........
جگر مراد آبادی کی شاعری شعروں کی آمدنہیں بلکہ احساس و محسوسات کا برملا اور دو ٹوک اظہار ہے۔ ایک ایک لفظ اور حرف اپنی جگہ نگینہ ہے اور ان کے ہاں نغمگی روح کی تلاطم خیزی ہے اور شرطِ محبت دراصل ضبطِ محبت ہے۔۔ذرا دل کے تاروں سے نکلتی ہوئی اس صدائے باز گشت کو سنیئے
نغمہ کہ جس کو روح سنے اور روح سنائے
...........
جگر مراد آبادی کا اصل نام علی سکندر تھا اور وہ بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر مراد آباد میں 1890 میں پیدا ہوئے تھے۔ علی سکندر سے جگر مرادآبادی بننے تک کا سفر یوں تو طویل سفر ہے لیکن شعور کی نظر میں یہ ایک فقط ایک جست ہے۔ جگر کی تاریخ وفات
کہیں 1958 اور کہیں 1960 ہے لیکن زیادہ تر تزکروں میں 1960 ہی تحریر ہے۔
انہوں نے غزل کو تغزل کی چاشنی دیکر وہ آبرو بخشی کہ خود غزل اپنے پر نازاں ہے۔ یوں تو فلمی اور غیر فلمی نغمہ نگاری میں بھی جگر نے اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا ہے لیکن انکی شاعری کا تمام تر حسن انکی غزل میں ہے'جگر کی میخواری کوئی پوشیدہ راز نہیں بلکہ وہ خود اسکا ذکر کرتے رہے ہیں اور اسی بلانوشی کے سبب تذکرہ نویسوں کے بقول انہیں بھول جانے کا عارضہ لاحق تھا لیکن یہ عجب معجزہ ہے کہ شعر پڑھتے ہوئے وہ شاذ و نادر ہی بھول کا شکار ہوتے تھے۔
میر تقی میر اور میر درد نے غزل کو جو خونِ دل دیا تھا جگر نے اسکی آبیاری خونِ جگر سے کی اور اس تنومند اور سایہ دار شجر کے سائے میں وہ اندر کے انسان کی آواز کو باہر کے انسانوں کو یوں سناتا رہا کہ اندر اور باہر کی دنیا ایک ہو جاتی اور اس میں ساری سحر کاری جگر کے ترنم کی تھی۔۔۔۔
...........
دنیا کے ستم یا د نہ اپنی ہی وفا یاد
اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد
...........
جگر مراد آبادی کلاسیکی شاعری کے ایک مستند اور صف اول کے نمائیندہ ہیں اور کچھ نقادوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ کلاسیکی شاعری کا عہد جگر مراد آبادی کے ساتھ ختم ہو گیا ہے۔
...........
کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی
بجھا جاتا ہے دل چہرے کی ویرانی نہیں جاتی
محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پہ گزرتا ہے
کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
جگر وہ بھی تو سر تا پا محبت ہی محبت ہیں
مگر انکی محبت صاف پہچانی نہیں جاتی
...........
جگر مراد آبادی کے بزرگ اس وقت کے مغلیہ دربار سے وابستہ تھے اور18 ویں صدی عیسوی میں یہ اعظم پور اور مراد آباد منتقل ہو گئے جہاں جگر نے عربی اور فارسی کی روایتی تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں جگر کا استاد کوئی نہیں تھا لیکن جب وہ پندرہ برس کے تھے تو انہوں نے استاد داغ دہلوی کو اپنی ایک غزل دکھائی تھی۔مظہر جلیل،جگر کے ہم جماعت تھے اور انہوں نے {یادگارِ جگر} نامی کتاب میں لکھا ہے کہ جگر اپنی شاعری تصیح کے لیئے منشی حیات بخش المعروف رسا رام پوری کو دکھاتے تھے جو بعد میں جگر کے استاد بن گئے۔ نوجوانی میں جگر نے آگرے میں ایک عینکیں بیچنے والی کمپنی کے لیئے بھی کام کیا اور 1920 سے 1938 کے دوران میخواری کی طرف ایسے راغب ہوئے کہ بس جیسے بوتل کے ہو کر رہ گئے۔ اسی زمانے میں مشاعروں میں جگر کے ترنم کا طوطی بولتا تھا۔ جگر کے ہاں عشق و محبت کتنے ہی رُخ اور انداز سے موجود تھی۔ وہ بلانوش تو تھے ہی لیکن ٹوٹ کر محبت کرنے والے بھی تھے اور یہ محبت عشقِ حقیقی کا پرتو بھی بن جاتی تھی اور یہی حقیقی عشق تھا کہ جس نے انہیں 1953 میں حج کی سعادت سے فیض یاب کروایا اور کیسےمنفرد انداز میں جگر نے کہا کہ۔۔۔
...........
عاشقی امتیاز کیا جانے
فرقِ نازو نیاز کیا جانے
...........
جگر مراد آبادی خود تو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے لیکن انہیں اپنے روشن ماضی کا شعوری طور پر احساس تھا اور اسی باعث اپنی تمام تر اقدار سے بخوبی واقف تھے۔ان کے نزدیک زندگی کی حقیقت فقط خوبصورتی ہے اور اسی کو وہ کسی فلسفیانہ یا گنجلک انداز میں پیش کرنے کی بجائے عام اور سادہ الفاظ میں پیش کر دیتے ہیں اور اس حوالے سے وہ میر،داغ،مومن اور حسرت کا تسلسل ہیں۔بات کوئی بھی ہو اور موضوع کچھ بھی ہو جگر کے شعروں میں محبت کی دیوی خود بخود آن موجود ہوتی ہے' لیکن یہ ایک عجب سانحہ ہے کہ وہ ایک نامکمل محبت کے شاعر نظر آتے ہیں۔
...........
آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے
وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے
آج کیا بات ہے کہ پھولوں کا
رنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے
مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا
ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے
...........
جگر مراد آبادی کے مجوعہ ہائے کلام میں “داغِ جگر” “شعلئہ طور” اور “ آتشِ گل” کو بہت پزیرائی ملی ہے اور ان میں موجود غزلیں تغزل کی بہترین نمائیندہ غزلیں ہیں۔جگر نے لاہور میں بھی کئی معرکتہ الآرا مشاعرے پڑھے اور وہ ترنم کا سلسلہ جوگزشتہ صدی کے آخر میں اقبال نے شروع کیا تھا اسی کی اتباع میں جگر نے بھی مشاعروں میں اپنی دھاک بٹھائی' لاہور ہی کے ایک مشاعرے میں انکی اس غزل نے جیسے سننے والوں پر قیامت ڈھا دی تھی اور یہ غزل آج بھی جگر مراد آبادی کی مقبول ترین غزلوں میں سے ایک ہے۔
...........
یہ ترا جمالِ کاکُل یہ شباب کا زمانہ
دل دشمناں سلامت دلِ دوستاں نشانہ
میری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے
میری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ
میں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں جو ہے فرق تجھ میں مجھ میں
ترا درد ، دردِ تنہا مرا غم ، غمِ زمانہ
مرے دل کے ٹوٹنے پر ہے کسی کو ناز کیا کیا
مجھے اے “جگر” مبارک یہ شکستِ فاتحانہ
کہاں سے بچ پاتے ہیں کہاں تک علم و فن ساقی
...........
جگر مراد آبادی کی شاعری کو فقط حسن و عشق کی شاعری سمجھ کر نہیں پڑھنا چایئے بلکہ اگر اس عروسِ غزل کے رُخ سے نقاب الٹ دی جائے تو ایک جہانِ دیگر دکھائی دیتا ہے۔20 صدی کے جن چار اردو شعرا کو غزل کی عمارت کے ستون قرار دیا جاتا ہے ان میں حسرت،اصغر اور فانی کے ساتھ جگر کا نام بھی شامل ہے' انہیں 1955 میں انکے مجموعے“ آتشِ گُل” پر سہتیا اکیڈمی” ایوارڈ ملا تھا اور جامعہ یونیورسٹی دلی کی لائبریری میں انکی یاد میں“گوشہ جگر” مختص کیا گیا ہے۔ مجھے اس وقت ایک بھارتی ایسی فلم کانام یاد نہیں آ رہا جس میں جگر نے خود اپنی کچھ نظمیں سنائی ہیں۔ ابھی جو میں نے جگر کی شاعری میں عشق کے موضوع کا ذکر کیا تھا تو اسکی وضاحت خود جگر کے اس شعر سے بخوبی ہو جاتی ہے۔
...........
یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
...........
ارے شبنم آسماں شکیدہ
...........
جگر مراد آبادی کے حوالے سے ایک اور اہم بات آپ کی خدمت میں پیش کرتا چلوں کہ جس کے بارے میں خود ادبی دنیا میں بھی ایک غالب اکثریت کو اس سے کم ہی آگاہی ہے۔ بھارت کی فلمی دنیا میں گیت نگاری کے حوالے ایک بہت بڑا نام اسرار حسین خان المعروف مجروح سلطان پوری کا ہے کہ جو 1919 میں پیدا ہوئے تھے دو ہزار میں انہوں نے وفات پائی۔ مجروح سلطان پوری کو فلمی دنیا میں لانے والے شخص کا نام بھی جگر مراد آبادی ہی ہے۔ 1945 میں مجروح جب ایک مشاعرے کے لیئے بمبئی گئے تو جگر بھی انکے ہمراہ تھے جہاں عوام نے انکی شاعری کو سر کا تاج بنا لیا' اسی محفل میں معروف فلم پروڈیوسر اے آر کاردار بھی موجود تھے جو اپنے فلم “شاہجہان” کی نغمہ نگاری کے لیئے کسی موزوں شاعر کی تلاش میں تھے ۔ کاردار نے مجروح سے ملاقات کے لیئے جگر مرادآبادی کی خدمات حاصل کیں لیکن مجروح نے گیت نگاری سے انکار کر دیا لیکن یہ جگر ہی تھے جنہوں نے مجروح کو گیت نگاری پر راضی کیا اور پھر“جب دل ہی ٹوٹ گیا” والا نغمہ دنیائے فلم میں مجروح کی شہرت کا پہلا قدم بنا اور مجروح اس فلمی دنیا کے بے تاج بادشاہ بن گے'
مجروح سلطان پوری کے اس گیت کی طرح فلمی دنیا میں جگر مراد آبادی کی اس غزل نے وہ شہرت پائی کہ آج بھی موسیقی کے شیدائی اس غزل پر سر دھنتے ہیں
...........
کام آخر جزبہء بے اختیار آ ہی گیا
دل کچھ اس صورت سے تڑپا انکو پیار آ ہی گیا
اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدہء فردا پہ میں
فی الحقیقت جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی گیا
جان ہی دے دی جگر نے آج پائے یار پر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا
...........
یہ دن بہار کے اب راس آ نہ سکے
...........
جگر مرادآبادی بلاشبہ اردو شاعری کا بالعموم اور ارود غزل کا بالخصوص ایک ایسا روشن نام ہے جو زمانے گزرنے اور زمانے بدلنے کے باوجود زندہ و تابندہ رہے گا۔
اردو لائف ڈاٹ کام نے رئیس المتغزلین جگر مرادآبادی کی آواز و کلام کو محفوظ کرنے کے لیئے یہ جو ایک کوشش کی ہے ہمیں یقین ہے کہ ہمارے سامعین اور عشاقِ اردو ادب اس پر اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں گے۔
...........
ہزاروں قربتوں پر یوں مرا مہجور ہو جانا
جہاں سے چاہنا انکا وہیں سے دور ہو جانا
جگر وہ حُسنِ یک سوئی کا منظر یاد ہے اب تک
نگاہوں کا سمٹنا اور ہجومِ نور ہو جانا
...........
|