14.10.2026, 12:16pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

لندن سے سیالکوٹ براستہ دبئی ۔ قلم کار فرخندہ رضوی کا پہلا مختصر سفرنامہ ۔ دوسری قسط
14.09.2014, 08:20am , اتوار (GMT+1)

فرخندہ رضوی ریڈنگ ۔ انگلینڈ



پہلی قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاراپریل کی شام ہم نے بُرج خلیفہ دیکھنے کا پروگرام بنایا ویسے تو پہلے بھی دیکھ چکی تھی مگر بچوں کے ساتھ کچھ اور ہی مزا ہوتا ہے ۔یہاں کی سب ہی عمارتیں اتنی بلند ہیں کہ نیچے سے اوپر تک دیکھتے دیکھتے آخری کنارے تک جب نگاہیں پہنچ بھی نہیں پاتیں کہ جسم پیچھے گرنے کا احساس ہونے لگتا ہے ۔امارت خلیج فارس کے جنوب مشرق پر واقع ہے ۔دبئی نے حال ہی میں بہت جدید بڑے تعمیراتی منصوبوں کے ذریعے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے ۔کھیلوں کی تقریبات ،شہر کی بلند ترین عمارات ،خاص طور پر بلند عمارت برج خلیفہ ، جہاں کچھ دیر پہلے ہم کھڑے تھے برج خلیفہ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے یہ سات ستاروں کا عیش و آرام والا ہوٹل ہے ۔اجمیرا ساحل سمندر سے ایک مصنوعی جزیزہ پر واقع ہے ۔یہ جزیرہ ۲۸۰ میٹر یعنی ۹۱۹ فٹ پر واقع ہے ۔یہ حصہ رواہتی عرب کشتی کے سفر کی نقل کر کے ڈزائن کیا گیا ہے ۔ٹاورکے اردگرد فائبر گلاس استعمال کیا گیا ہے ۔اسکا ایک ستون ۲۰۰ میٹر خلیج فارس کے اوپر ہے ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری قسط


برج خلیفہ کے اردگرد پانی جو جھیل کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے ۔یہاں شام سات بجے میوزک کے ساتھ فوارے چلائے جاتے ہیں ۔یہی منظر میں سپین کے شہر بارسلونا میں دیکھ چکی تھی مگر دبئی سے زیادہ یہ منظر بارسلونا میں خوبصورت لگا شاہد سپینش میوزک میں زیادہ جادو تھا یہاں فواروں سے نکلنے والا پانی لگتا جیسے سُر کی تال پر رقص کر رہا ہو ۔فواروں سے نکلنے والا پانی بھی برج خلیفہ کے آخری سرے کو چھونے کی کوشش میں تھا ۔پہلے جب یہاں کھڑی تھی تو اگست کا مہینہ گرمی اور پانی کی حبس نے پسینے سے شرابور کئے رکھا ۔مگر آج موسم بھی اچھا تھا آدھ گھنٹے پہلے تیز بارش نے گرمی کا زور کم کر دیا تھا ۔آج بچوں کے ساتھ کچھ اور ہی مزا تھا ۔۔بیٹی اور بھانجی کا خیال تھا کہ برج خلیفہ سے پوری دبئی کا نظارہ کروایا جائے ۔۔جب وہاں سے معلومات لی گئیں تو ایک آدمی کی ٹکٹ تقریباََ سو پونڈ کے قریب تھی ۔بچے تو راضی تھے مگر ہم دونوں بہنوں نے پاکٹ پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔اور اسے باہر سے ہی دیکھ کر خوش ہو لیئے ۔۔دبئی مال دنیا میں سب سے بڑا مال سمجھا جاتا ہے ۔سیاحت امارت میں غیر ملکی نقد رقم کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیئے دبئی حکومت کی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے ۔سیاحوں کیلئے دبئی کی توجہ بنیادی طور پر خریداری کی 99فیصد پر ہے ۔کہتے ہیں ۲۰۱۵ تک دبئی پندرہ ملین سے ذائد سیاحوں کو ایڈجسٹ کرنے کی توقع ہے۔دبئی مال میں سب سے بڑا سنیما جس میں ۲۸۰۰ نشستوں کی جگہ اور بائیس سکرین بھی ہیں ۔دبئی میں دہرا Deiraگھروں میں گولڈ یعنی سونے کے شہر کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ویسے بھی دبئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ اور ڈیوٹی فری ہوائی اڈا کہلاتا ہے ۔ مال سے نکلنے کے بعد ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا ۔اور گھر کی طرف رُخ کیا

٣ اپریل آج کا خوبصورت دن ایک خوبصورت باغ کی نذر ہو گیا ۔دوپہر کو کھانا کھا کر نکلے اور سیدھے پہنچے میریکل گارڈن ۔گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی آنکھیں فرط حیرت سے پھیل گئیں ۔باغ کے اندر ایک بڑے سے میلے کا گماں ہونے لگا۔ہر طرف زندگی کے رنگ پھول بن کر مہک رہے تھے ۔بچے آئس کریم اور ٹھنڈے مشروبات ہاتھوں میں پکڑے ہوئے ادھر اُدھر گھوم رہے تھے ۔ہر کوئی فوٹو گرافی میں مصروف ۔کیا سماں تھا ،درجنوں فوٹو گرافر اپنے ہاتھوں میں پھولوں والے اسی باغ کے ڈزائن لیئے آپکے منتظر نظر آتے ہیں کہ کب آپ انہیں فوٹو کھنچیں کے لیئے آواز دیں گے مگر ہم سب کے پاس تو اپنے کیمرے تھے یہ سوچ کر کہ شاہد زندگی میں پھر یہاں آنے کا موقعہ ملے نا ملے دِل کھول کر فوٹو گرافی کی ۔

کہتے ہیں یہ دنیا کا سب سے بڑا پھولوں کا باغ ہے ۔یہ ڈرپ آپ پاشی کے ذریعے پانی کے دوبارہ استعمال کے ساتھ ۴۵ ملین پھول جو لگائے گے ہیں انہیں سراب کرتا ہے ہر طرف خوبصورت پھولوں کے بکھرے رنگ قدرت کے ہونے کا احساس اُجاگر کرتے رہے۔ہر طرف بہار ہی بہار کا گمان جنت کی وادیوں میں لیئے جا رہا تھامیرا دل چاہا کہ اِن پھولوں کو رشتوں کی مانند دِل میں رکھ لوں اور کبھی نا مُرجھانے دؤں ۔کبھی کبھی تو میرے سب رشتے دل کی رگوں میں خون کی گردش بَن کر میرے جسم میں دوڑنے لگتے اور کبھی لفظ بَن کرقلم کی نوک پر جگنوؤں کی طرح چمکنے لگتے ہیں ۔ہر طرف یہاں قدرت کے رنگ بکھرے پڑے تھے ۔اتنی خوبصورتی شاہد ہی کسی باغ میں پہلے دیکھنے کو ملی تھی ۔۔بچے بھی تیلیوں کی مانند ادھر سے اُدھر پھُدکتے رہے گرمی کا کچھ زور بھی تھا ۔سب اپنی اپنی پسند کی آئس کریم سے لطف اندوز ہوئے شام سے پہلے باغ کو بند کر دیا جاتا ہے ۔سب لوگ تین چار گھنٹوں میں پیارے پیارے رنگوں کی آمیزش آنکھوں میں سمیٹے کار پارک کی طرف رُخ کرنے لگے ۔ہم بھی کھانے کی تلاش میں اچھے سے ریسٹورنٹ کی طرف نکل گے ۔سٹرکوں کے کنارے لگائی گئی روشنیاں بہت اچھی لگتی ہیں ۔ویسے بھی دبئی میں رات کو ہی باہر گھومنا اچھا لگتا ہے ۔۔کھانا کھا کر نکلے تو راستے میں شیخ محمد بن زید روڈ سے گزرے تو ہماری نظر گلو بل ولیج کے سائن پر پڑ گئی تو ابھی اسے بند ہونے میں دو ڈھائی گھنٹے باقی تھے لہذا اگلا پڑاؤ یہیں ڈال لیا ۔۔۔اُف اتنا بڑا کار پارک اور وہ بھی کچا کچ بھرا ہوا ۔یہ ٹورسٹ کے لئے سب سے بڑا گاؤں بنایا ہوا ہے یہاں ہر ملک کا ایک شہر بسایا گیا ہے جہاں اُس ملک کی ہر مصنوعات ملتی ہیں ۔دبئی خطے کا پہلا ثقافتی ،تفریح شاپنگ سنٹر ہے پاکستان سے آسٹریلیا تک کی ہر چیز یہاں موجود تھی ۔میری بہن جو شاپنگ کرنے کی دیوانیہے اُس نے کچھ چیزیں خرید ہی لیں ۔مجھے بھی گھر کے لیے شینڈل پسند تو آئے مگر مجھے ابھی آگے پاکستان کا سفر جاری رکھنا تھا ۔لہذا کچھ نا خریدنا ہی مناسب سمجھا ۔۔۔ویسے ہی پھولوں کے باغ میں چل چل کر تھکے ہوئے تھے ۔یہاں دو گھنٹے ہی گزارے اور گھر کی طرف لوٹ گے۔



5..اپریل

آج کا دن ہمارے پاس دبئی میں آخری دن تھا ۔اور ہمارا آج کا پروگرام ڈیزرٹ کا تھا ۔اس کی بکنگ تو یوکے سے ہی کر کے آئے تھے ۔ہمیں گیارہ بجے لُو لُو مارکیٹ پہنچنا تھا ۔وہاں سے ڈیزرٹ جانے کے لیے کوچ آتی ہے ۔تقریبا دو گھنٹے کا سفر تھا ۔وہاں پر ( فور وہیل ڈرائیولینڈ کروزر)گاڑیاں صحرا تک لے جانے کے لیئے تیار ہوتی ہیں ۔صحرائی سفاری روا دینگ پر ریت کے ٹیلوں کی شکلیں بنی ہوئی ہیں ۔وہاں پہنچے تو شام ہونے والی تھی ۔صحرا کی شام ،ریت کے پہاڑ ،پھر سورج کا اِن ریت کے ٹیلوں کی اُوٹ میں چھپنا ۔قدرت کا ایک اور کمال یہی ریت دن کو جہاں سورج آگ اُگلتا اور ریت پر قدم رکھتے ہی پاؤں کے تلوں پر چھالے اُبھر آتے اور شام کو سورج ڈھلتے ہی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بدن کو چھوتے تو دِل چاہتا کسی گرم شال سے بدن کو ڈھانپ لیں ۔ سُنا تھا صحرا کی رات ٹھنڈی ہوتی ہے آج خود دیکھا اور ہر لمحے کو محسوس بھی کیا ۔


ریت کے اِن ٹیلوں کے درمیان صحرا میں مدھم مدھم جلتی روشنیاں بہت ہی خوبصورت دنیا میں لے جاتی ہیں ۔ہلکا ہلکا عربی میوزک درمیان میں ایک چھوٹا سا اسٹیج بھی بنا ہوا اردگرد کشن رکھے ہوئے جن پر لوگ براجمان اور شیشہ (حُقہ کو نیا نام دیا گیا ہے ) کے کش لگاتے ۔کچھ دیر بعد اُسی اسٹیج پر بیلی ڈانسرنمودار ہوتی ہے ۔اور لوگ عربی ڈانس سے خوب محظوظ ہوتے ہیں اور داد بھی دیتے ہیں مجھے لگا میں خواب دیکھ رہی ہوں ایک ایسی ہی صحرا کی شام سندھ سے آگے ٹھٹھہ میں بھی دیکھی ہوئی ہے مگر اُس شام اور اِس شام میں صرف فرق اتنا کہ ایک ایسی بے وفا دسوت کا ساتھ تھا پہلی کتاب بھی جس کے نام کی تھی کبھی کبھی انسان اتنا خود غرض ہوجاتا ہے کہ اپنے مفادات کی خاطر اپنے انمول رشتوں کو داؤ پر لگا دیتا ہے ۔گزری ہوئی یادوں کو دفن کر دیتا ہے ۔میں بھی کہاں سے کہاں نکل گئی ۔کبھی کبھی کسی چیز و جگہ کی مشابہت ماضی میں لے جاتی ہے ۔۔۔۔میرا خیال ہے زندگی میں کوئی اچھا گزرہ ہوا لمحہ یا بُرا کبھی بھولتا ہی نہیں بس ایسا ہوتا ہے کبھی کبھی وقت کی دھول میں دَب سا جاتا ہے ۔یہ خوب صورت شام آنکھوں میں جیسے بس سی گئی ۔خوب کیمرے کا استعمال کیا ۔یہاں ایک آدمی اپنا خوب صورت پرندہ(ہما ) لیئے گھوم رہا تھا ۔تین ریال لیتا ہے اور اُسے آپ چھو سکتے اور چاہیں تو اپنے سَر پر بھی بیٹھا سکتے تھے ۔میں نے بھی اپنا شوق پورا کیا اور ایک لمحے میں وہ شاھین میرے کاندھے اور پَل میں میرے سَر پر تھا ۔میری بیٹی سونیا نے میری تصویر اُتاری ۔۔


دل کھول کر فوٹو گرافی کی گئی اتنی انٹرٹینمنٹ کے بعد کھانا بھی دیا جاتا ہے ۔کم وقت میں خوب مزا آیا شام گہری ہونے سے پہلے گاڑیوں والے پہنچ جاتے ہیں اور اپنی اپنی سواریوں کو پہچانتے ہوئے جیپ کے ذریعے کوچ تک چھوڑتے ہیں ۔پھر اپنی وہی منزل لُو لُو مارکیٹ کیونکہ ہماری گاڑی وہاں پارک تھی ۔اپنی گاڑی تک جب پہنچے تو تقربناََ بارہ بج چکے تھے گھر جانے سے پہلے ٹیک وے سے بچوں کے لیئے (کے ایف سی )لی اور گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔بچوں نے آکرلائی ہوئی کے ایف سی کا لطف لیا
اور سو گئے ۔اور ہم نے اپنا رختِ سفر باندھا ہمیں گھر سے دو بجے نکلنا تھا کیونکہ صبح چھ بجے ہماری سیالکوٹ کے لیئے فلائٹ تھی ۔دو گھنٹے پہلے ائیر پورٹ پر پہنچنا ہوتا ہے ۔۔ ۶ اپریل کی صبح شروع ہو چکی تھی ۔بچے تو سو چکے تھے انہیں سوتے میں پیار کیا اور اجازت لے کر ہم یعنی میں اور میری بیٹی سونیا ہوائی اڈے کے لیئے روانہ ہوئیں ۔ہمیں ہوائی اڈے پر میرا بھانجا ذیشان چھوڑنے آیا ۔اُسے پیار کیا ہزاروں زندگی میں آگے بڑھنے کی دعا ئیں دیں اور خدا خافظ کہا ۔زندگی رہی تو پھر ملنے کا وعدہ کرتے ہوئے امیگریشن ڈسک کی طرف بڑھ گئیں ۔


اِس بار اپنی قومی لائن (پی آئی اے) کا انتخاب نہیں کیا تھا ۔کیونکہ راستے میں دبئی رکنا تھا ۔پہلی بار دبئی سے سیالکوٹ کا سفر امارت ائیر لائن سے کر رہے تھے ہم ۔اپنے وقت سے پندرہ منٹ پہلے ہوائی جہاز نے لینڈ کیا ۔ہمیشہ اپنی ائیر لائن کو دو تین گھنٹے تاخیر سے لینڈ ہوتے دیکھا تھا تھوڑا سا تعجب ہوا ۔کسی بھی ملک میں داخلے کے وقت سب سے دِقت آمیز مرحلہ آمیگریشن کے پُل صراط سے گزرنا پڑتا ہے ۔میں اپنے ملک میں تھی مگر اَب ان کے لیئے اجنبی کیونکہ ہمارے پاس دوہری شہریت ہے اَ ب ۔اس لیے ہمارے پاسپورٹ کو تو اور غور سے دیکھا جاتا ہے جیسے ہم کوئی مجرم ہوں ۔راہداری ختم ہوئی ہم ائیر پورٹ کی عمارت میں داخل ہوئے تو سامنے قطار در قطار امیگریشن حکام سے بزادآزما نظر آئے ۔اتنی طویل فلائٹ کے بعد اتنی لمبی قطاردیکھ کر نفسیاتی طور پر مایوسی سی چھا جاتی ہے ۔

میری زندگی نے مجھے کم از کم یہ سمجھا دیا کہ ضرورت سے زیادہ دُکھ ہوں آنکھیں برسات کی رِم جھم کی طرح برسنے لگتی ہیں مگر آج خوشیاں بھی آنکھوں میں جگنو ؤں کی طرح چمکنے لگی تھیں ۔امیگریشن سے مشکل سے ہی جان چھوٹی ۔آہستہ آہستہ نااہل لوگوں کی طرح ایک ایک پاسپورٹ پر چھان بین ۔خیر یہ کوئی نئی بات تو تھی نہیں ۔فراغت پاتے ہی اپنا سامان لیا اور ہم دونوں باہر کی طرف بڑھیں ۔۶ اپریل بروز اتوار نو بجے صبح دس سال بعد اپنے وطن کے اپنے شہر کی سَر زمین پر کھڑی تھی سامنے ہی اپنی بھانجی کے دونوں بیٹوں کو اپنا منتظر پایا ۔ویسے تو سکائپ اور ویڈیو کال نے فاصلے سمیٹ رکھے ہیں پھر بھی آج روبرو دیکھ کرایسا لگا جیسے واقعی بہت وقت بیت چکا ہے دس سال کے طویل عرصے نے انہیں بچپن سے جوانی کی حدود میں داخل کر دیا تھا ۔چہروں کی خوشی نے مجھے بھی مطمین کر دیا کم از کم رشتوں سے ملنے کی خوشی ابھی باقی ہے ۔دونوں بچوں نے سامان گاڑی میں رکھا ۔گاڑی میں بیٹھتے ہی یاسر اور بابر نے پوچھا امیگریشن میں کوئی مشکل تو پیش نہیں آئی ؟ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کافی مشکل مرحلہ تھا خوبصورتی سے طے ہو گیا ۔انہوں نے میرے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھا اور دُرستگی فرمائی یوں کہیں کہ خوبصورت مرحلہ تھا کافی مشکل سے طے ہوا اور پھر ایک بلند قہقہ۔۔۔۔ہاہاہاہا

جاری ہے

:دیگر مضامین
(31.08.2014) ویسے اگر ''نوشتہ دیوار'' کے معنی نہیں معلوم تو اسے پڑھیں
(29.08.2014) لندن سے سیالکوٹ براستہ دبئی ۔ قلم کار فرخندہ رضوی کا پہلا مختصر سفرنامہ
(27.08.2014) برسلز میں لاکھوں بگونیا پھولوں سے تیار کردہ قالین نمائش کیلئے پیش کیا گیا
(22.08.2014)  اردو کی نامور افسانہ نگار اور ناول نگار قرة العین حیدر کا یوم وفات
(20.08.2014) پاکستان بزنس کونسل اورھلپ ڈیسک کا جشن آزادی۔ رپورٹ ۔ طارق اقبال
(18.08.2014) جرمنی میں ؛ہم ہیں پاکستان؛ کے زیر اہتمام یوم آزادی کی تقریب
(16.08.2014) اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔ ریڈیو پاکستان کا ماہ آزادی کا خصوصی پروگرام
(15.08.2014) ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
(12.08.2014) پاکستان کا یوم آزادی ۔ پیدا کردہ ایک تنازعہ ۔۔۔ چند حقائق۔۔دوسری قسط
(11.08.2014) پاکستان کا یوم آزادی ۔ پیدا کردہ ایک تنازعہ ۔۔۔ چند حقائق۔۔پہلی قسط
(05.08.2014) تین ماہ میں دو مرتبہ لاٹری جیتنے والا خوش قسمت انسان رابرٹ ہملٹن
(02.08.2014) ۔داعش کے ہاتھوں انبیا کے مزارات و مساجد کی تباہی اور خاموش او آئی سی؟
(27.07.2014) معرفت الہی اور اسمائے الہی کا صفاتی مقام ۔۔از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم
(26.07.2014) معرفت الہی اور اسمائے الہی کا صفاتی مقام ۔۔از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم
(24.07.2014) معرفت الہی اور اسمائے الہی کا صفاتی مقام ۔۔از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم
(22.07.2014) معرفت الہی اور اسمائے الہی کا صفاتی مقام ۔۔از:‌ ڈاکٹر نگہت نسیم
(20.07.2014) معرفت الہی اور اسمائے الہی کا صفاتی مقام ۔۔از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(18.07.2014) معرفت الہی اور اسمائے الہی کا صفاتی مقام ۔۔از:‌ڈاکٹر نگہت نسیم
(16.07.2014) سورت فاتحہ ( الحمد ) کے اسرار ۔۔۔۔۔۔۔ از: ڈاکٹر نگہت نسیم
(14.07.2014) نواسہ رسول امام حسن علیہ السلام پندرہ رمضان کو مدینے میں پیدا ہوئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں