16.10.2026, 03:25pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

عوام کی طاقت کا کریڈٹ اپنے نام نہ لگائیں۔از صفدر ھمٰدانی
18.03.2009, 12:45pm , بدھ (GMT+1)

شکر ہے اس پروردگار کا کہ جس نے فتنہ پرورری اور بدامنی پھیلانے والوں کا جہنم کا رزق کہا اور امن کے پیامبروں کو نویدِ جنت دی۔ لیکن کیا کریں سیاست میں بددیانتی، مفاد پرستی اور دھوکہ دہی کا کہ شاید طوطے کو بھی نظریں بدلنے میں چند منٹ تو ضرور لگتے ہوں گے لیکن وطن عزیز کے ان سیاست دانوں کو اپنے بیان،وفاداریاں اور نظریں بدلنے میں بس چند ثانیے ہی لگتے ہیں اور اس کا مظاہرہ ہم اب رات دن انہی ٹی وی سکرینوں پر دیکھ رہے ہیں جہاں چند روز پہلے تک بیٹھ کر یہ خود فراموش سیاستدان یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ۔۔جسٹس افتخار اب متنازعہ بن چکے ہیں۔۔۔۔۔انہوں نے اپنے بیٹے کو غیر قانونی مراعات دی تھیں۔۔۔۔۔چیف جسٹس کو شرافت سے گھر چلے جانا چاہیئے۔۔۔۔چیف ملک میں بدامنی کا باعث بن رہے ہیں۔۔۔۔۔کیا ملک میں ایک ہی چیف جسٹس رہ گیا جس کے بغیر عدلیہ نہیں چل سکتی۔۔۔۔۔۔کیا عدلیہ کا نام چیف جسٹس ہے ۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔

ایسے بیانات اور فقروں کی کوئی ایک دو گھنٹے کی نہیں بلکہ ایک سو گھنٹے سے زیادہ کی فوٹیج ٹی وی اسٹیشنوں کے پاس موجود ہے اور اب کئی ٹی ٹاک شو میں یہ فوٹیج انہی سیاستدانوں کی موجودگی میں چلائی جا رہی ہے لیکن شاباش ہے ان کے ‘‘تخم ‘‘ پر کہ انکے چہروں پر شرم اور شر مندگی کی ایک ہلکی سی لکیر بھی نمودار نہیں ہوتی اور نہایت ڈھیٹ بن کر کہتے ہیں کہ پارٹی کے سربراہ نے چیف جسٹس کو انکے منصب پر بحال کرنے کا پہلے ہی طے کر رکھا تھا۔

شاہ کے ان وفاداروں کے ذہن تو شاید مفلوج ہوں اور انکی یاداشت کمزور ہو لیکن عوام کی اور میڈیا کی سکرینوں کی یاداشت کمزور نہیں اور انہیں ایک ایک فقرہ اور ایک بیان یاد ہے جو گزشتہ دو برس کے دوران دیا گیا اور ایسے بیانات دینے والوں میں بڑے بڑے ‘‘سطحی‘‘ افراد شامل رہے ہیں۔

ان میں عوام کو غلط انگریزی میں ‘‘سیاست ‘‘ کا سبق پڑھانے والے جہانگیر بدر سمیت،موجودہ وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ،فوزیہ حبیب،بابر اعوان،فرزانہ راجہ،نوید قمر،راجہ ریاض اور اسی طرح کے لوگ شامل ہیں۔آج بھی یہ لوگ حقیقت کو تسلیم کرنے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی بجائے عوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ رہے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری کو بحال کرنے کا تمام کریڈٹ پیپلزپارٹی کو جاتا ہے اور پیپلزپارٹی عدلیہ کا احترام کرتی ہے۔۔۔ : پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر رانا آفتاب۔


یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ صدر مملکت نے لچک دکھائی اور عوام کو فیصلہ قبول کیا جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔۔۔:سابق سینئر وزیر پنجاب راجہ ریاض۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے معزول ججز کو بحال کر کے محترمہ بے نظیر بھٹو کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔۔۔وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزمان کائرہ۔

چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی مدت پوری ہونے پر بے نظیر بھٹو کے وعدے کے تحت صدر زرداری نے قوم سے وعدہ پورا کردیاہے ۔
۔۔۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان۔

یہ تو صرف دس فیصد مثالیں لکھی ہیں اور اگر ایسے ہی دوسرے '' ہز ماسٹر وائس'' نما سیاسی جگادریوں کے بیانات لکھنے بیٹھ گیا تو کتنے ہی صفحات درکار ہوں گے۔ میں حیران ہوں کہ یہ ساری وزرا کی فوج جو ایک بار پھر باہر نکل آئی ہے اور اپنے بادشاہ کے حق میں بیان بازی کر رہی ہے یہ چند روز پہلے تک کس غار میں روپوش تھی اور اب بھی ان کے قائد کہاں ہیں وہ خود کہیں ‘‘چپ شاہ‘‘ کے روزے میں تو نہیں۔

یہ کیسا ظلم ہے کہ ان اور ایسے سیاستدانوں نے بنکوں کے قرض تو کھائے، سٹیل مل اور چینی کی کمی جیسے سیکنڈل میں شامل رہے، اسلام آباد کی زمینوں کو کوڑیوں کے مول خریدا،لیکن اب انکو شرم نہیں کہ پاکستان کے غریب اور مفلس عوام کا یہ کریڈٹ بھی چھیننا چاہتے ہیں کہ انہی عوام کی طاقت کے خوف نے حکمرانوں کو پہلی بار درست فیصلہ کرنے کا موقع ملا اور جہاں کتنے ہی بے گناہ نوجوان بے مقصد گولیوں کا نشانہ بننے سے بچ گئے وہاں حکمرانوں کی اپنی کھالیں بھی بچ گئی ہیں۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ فتح صرف اور صرف پاکستان کے ان عوام کی ہے جنہوں نے پولیس کی تمام تر شیلنگ اور لاٹھی چارج کے باوجود لاہور سےا سلام آباد کا رخ کر لیا تھا۔ انہی عوام کی طاقت نے نواز شریف اور اعتزاز احسن کو حوصلہ دیا کہ وہ تمام رکاوٹوں کو توڑ کر عوام کے ساتھ آ ملیں۔ انہیں عوام کے ننگے پاؤں کی دھمک نے امریکہ میں پاکستان کے حکمرانوں اور اسلام آباد میں ایوان صدر اور ایوان وزیر اعظم کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا اور ان لوگوں کو رات کے اندھیرے میں یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ نئے دن کا سورج طلوع ہونے سے پہلے عوامی خواہش کے احترام کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں ورنہ انکا حال بھی رومانیہ کے چاؤ شسکو اور نیپال کے شاہی خاندان کی طرح ہو سکتا ہے۔

لاہور میں سترہ مارچ منگل کے روز پیپلز پارٹی کے جوڑ توڑ کے ماہر راجہ ریاض نے کوئی نوے یا ایک سو عورتوں اور مردوں کاجلوس نکالا جس میں صدر زرداری کومبارکباد دی جارہی تھی اور شکریہ ادا کیا جا رہا تھا ۔ایک ٹی وی رپورٹر کے پوچھنے پر کہ صرف اتنے سے لوگ ہی صدر زرداری کا شکریہ ادا کرنے نکلے ہیں ؟ تو راجہ ریاض نے جواب دیا کہ اس کا اہتمام جلدی میں کیا گیا ہے اس لیئے تعداد اتنی ہے۔۔۔۔واہ ۔۔۔۔اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے نجی ٹی وی ‘‘اے آر وائی‘‘ کا پروگرام ‘‘آف دی رکارڈ‘‘ جسکے میزبان کاشف عباسی ہیں ایک مقبول پروگرام ہے اور اس پروگرام میں سترہ مارچ کو تحریک انصاف کےعمران خان اور پیلپز پارٹی کے نوید قمر شامل ہوئے اور کاشف عباسی نے اس پروگرام میں پیپلز پارٹی کے وزرا اور شاہ کے وفاداروں کے بیانات کی پرانی فوٹیج چلا کر نوید قمر کو جیسے پانی کے بغیر ہی ذبح کر کے رکھ دیا اور رہی سہی کسر عمران خان نے پوری کر دی۔

اب بھی سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا سب کچھ ہو جانے کے باوجود صدر جو سارے پاکستان کا نمائیندہ ہوتا ہے ایوان صدر میں مسلم لیگ ق سے مل کر پنجاب میں حکومت سازی کو آخری شکل دے رہے ہیں۔ یہ ق لیگ وہی قاتل لیگ ہے جسے پی پی پی اپنے ابدی دشمن کہتی تھی لیکن اب  لوگ انکی مشکل کشائی کو آگے بڑھ رہے ہیں۔ مسلم لیگ ق کو شاید خود کشی کا شوق ہے جو وہ اسی راستے پر چل نکلے ہیں۔
ان لوگوں نے ابھی اپنی آنکھوں سے مسلم لیگ ن سے مسٹر زرداری کا برتاؤ دیکھا ہے لیکن ‘‘دیکھی آنکھوں سے مکھی نگلنا‘‘ سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔

مجھے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ پلیز عوام کا کریڈٹ چھیننے کی کوشش نہ کریں ورنہ اس ملک کے عوام کو اب اپنی طاقت کا اندازہ ہو گیا ہے۔اٹارنی جنرل کھوسہ صاحب کا یہ کہنا کہ ۔۔۔۔سپریم کورٹ کو این آر او سمیت تمام مقدمات اور فیصلوں کا جائزہ لینے کا اختیار ہے تاہم امید ہے عدالت عظمی گڑھے مردے نہیں اکھاڑے گی۔۔۔۔۔اس امر کی غمازی ہے کہ ابھی بھی سرکاری حلقوں میں کچھ ناعاقبت اندیش اپنی حیثیت سے بڑھ کر باتیں کر رہے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ اربوں ڈالر کھانے والوں کو معافی دلوانے والا این آر او، سٹیل مل کا معاملہ،لاپتہ افراد کا مسلہ اور ایسی ہی دوسری باتیں انکے نزدیک گڑھے مردے ہیں۔ کاش ایسے لوگوں کے ضمیر زندہ ہوتے اور سانس لیتی اور چلتی پھرتی لاشیں نہ ہوتے۔

بات کہنے کی یہ ہے کہ اب لوگوں کی چیف جسٹس سے بھی توقعات ہو چکی ہیں اور عدل سے محروم یہ عام لوگ چیف کی سربراہی میں ملکی عدلیہ سے انصاف کے طالب ہیں۔

میں نے گزشتہ برس چودہ اکتوبر دوہزار آٹھ کو اپنے ایک کالم میں لکھا تھا۔۔۔‘‘اس ملک کے حکمرانوں کی آنکھیں اور ضمیر دونوں بند ہیں اور ان کو آنے والے لمحوں کی چاپ سنائی نہیں دیتی۔ ان کو تاریخ کے وہ اسباق و واقعات بھی یاد نہیں کہ جب غربت زدہ عوام ایک سیلاب کی صورت میں نکلتے ہیں تو پھر ان کے سامنے ایوان صدر اور جی ایچ کیو کی بلند فصیلیں بھی ریت کی دیواریں ثابت ہوتی ہیں۔
حالیہ تاریخ میں ایسے بھی ملکوں اور عوام سے لاتعلق حکمرانوں کے واقعات موجود ہیں جنہیں ووٹ دیکر اقتدار میں لانے والے عوام نے خود ہی سڑکوں اور چوراہوں پر لگی ہوئی پھانسیوں پر لٹکا دیا۔ اس کے برعکس ایسے واقعات بھی تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں کہ حکمرانوں نے عوام کی غربت و مصائب کا ادراک کر کے خود کو تاحیات اقتدار کا حامل بنا لیا‘‘۔

اب یہ انتخاب موجودہ حکمرانوں اور انکے حواریوں کا ہے کہ کس راستے کا انتخاب چاہتے ہیں۔

:دیگر مضامین
(02.03.2009) بےشرم حکمران اور بے شرم عوام ۔از۔ صفدر ھمدانی
(26.02.2009) ‘‘عدالت بِک گئی اک بار پھر زردار کے ہاتھوں‘‘از صفدر ھمٰدانی
(08.01.2009) حسین آؤ کہ آج دنیا کو پھر ضرورت ہے کربلا کی۔از۔صفدر ھمٰدانی
(16.12.2008) ب سے بوٹ ، ب سے بش ۔از ۔صفدر ھمدانی ۔لندن
(26.11.2008) پاکستان کا کرپٹ عدالتی نظام۔از صفدر ھمٰدانی
(13.11.2008) سانپ کی بِل سے بجلی کے بِل تک۔ از صفدر ھمدانی
(05.11.2008) اوبامہ کی فتح۔مارٹن لوتھر کنگ کے خواب کی تعبیر؟از صفدر ھمٰدانی
(03.11.2008) تُم نے پاؤں کا جوتا بنایا ہے آئین کو!
(24.10.2008) ایوان صدر میں ‘‘سور مار‘‘ مہم
(14.10.2008) الف سے امریکہ ب سے باجوڑ ، ج سے جوتا ج سے جمہوریت
(14.10.2008) قائد اعظم محمد علی جناح کی تعظیم فرض اول
(14.10.2008) زرداری کی سرداری ہے
(14.10.2008) مت اس طرح سے یہ جمہوریت ذلیل کرؤ!
(14.10.2008) ‘‘اپنے انجام کو پہنچا ہے یزیدِ دوراں‘‘
(14.10.2008) بے عمل حاکم قوم کی موت ہوا کرتے ہیں
(14.10.2008) ‘‘یزیدِ وقت کے دربار میں گیا یوسف‘‘
(14.10.2008) ریڈیو پاکستان جیسے تاریخی ادارے پر رحم کریں
(14.10.2008) اردو شاعری کی ایک روشن سحر‘‘سحر علی‘‘
(14.10.2008) صمدخرم پاگل نہیں مشرف اورامریکہ پاگل
(14.10.2008) وینکور میں ۔روشنی حرا سے۔ کی تقریب رونمائی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں