جاوید چوہدری صاحب ! نہایت ادب کے ساتھ میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا اور آپ کی باتوں کا جواب آپ کو کالم سے ہی دوں گا ۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ کے کالم پڑھنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو گی پر میں بھی چھوٹی سی کوشش کر کے اپنی بات کچھ لوگوں کو سنانا چاہتا ہوں ۔ پچھلے چند ہفتوں میں آپ کے کالم پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں تمام برائیوں کی جڑ عمران خان ہی ہے۔ چند منٹ کے لیے اگریہ بات مان بھی لیں کہ آپ کی بات ٹھیک ہے ، ویسے بھی آپ اتنے جینئیس اور عقل کے بادشاہ ہیں ، غلط بات کر ہی نہیں سکتے۔ پچھلے سو سال سے دنیا آپ کے مشورہ ہی سے تو چل رہی ہے اورآپ نے ورلڈ وار 1 اور ورلڈ وار 2 میں جو مفید مشورے دے کر دنیا کو تباہی سے بچایا تھا اس کی تو کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔
کیا آپ وہی جاوید چوہدری ہیں جو اپنے ہر کالم میں ترقی یافتہ ملکوں کی مثال دیتے ہیں کہ کیسے کوریا کے وزیر اعظم نے کشتی ڈوبنے پر استعفی دے دیا، سوٹزرلینڈ میں فلاں وزیر نے چھوٹی سی بات پر اپنی وزارت چھوڑ دی، وغیرہ وغیرہ۔ یورپئین ملکوں میں کیسے قانون پر عمل ہوتا ہے، یہ باتیں کر کر کے آپ تھکتے نہیں اور جب ہمارے ملک کی بات آئی کہ کوئی ظلم اور نا انصافی کے خلاف کھڑا ہوا ، جب کسی نے قانون کی انصاف کی بات کہ، جب لوگ اپنے حقوق کی بات کرنے کے لیے گھروں سے باہر نکلے تو آپ ان کو فسادی ثابت کرنے پرتل گئے۔
زرداری، نواز، فضل الرحمان ان سب لوگوں کو عمران خان نے اکٹھا نہیں کیا بلکہ یہ سب اپنے مفاد کی خاطر اکٹھے ہوئے ہیں اور عمران خان نے ان سب کے مکروہ چہرے عوام کے سامنے عیاں کر دیے ہیں ۔ یہ ہمیشہ سے اپنے مفادات کے لیے اکٹھے تھے اور رہیں گے۔ چلیں آپ کی بات مان بھی لیں کہ عمران خان کوئی فرشتہ نہیں ہے تو پھر آپ ہی بتا دیں کہ ان کرپٹ اور نا اہل سیاست دانوں سے نجات حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ نے اپنے کالم میں لکھا کہ میں 18 سال عمران خان کو نجات دہندہ سمجھتا رہا لیکن جیسے ہی اس نے دھاندلی سے آئے ہوئے نواز شریف سے استعفی مانگا تو آپ کو ایسا کون سا دکھ لگ گیا کہ وہی عمران خان آپ کو مجرم لگنے لگا ہے۔ پاکستان میں کوئی ایک بھی سیاستدان ہے جو آرمی چیف کو بھی وہی بات کرتا ہے جو عام عوام کے سامنے کرتا ہے؟ کیا پاکستان میں کسی سیاستدان نے فوج کے بغیر اپنی سیاست کا آغاز کیا ؟ اگر پی ٹی وی پر حملہ عمران خان نے کروایا تو وہاں سے پولیس فورس کس نے ہٹوائی ؟
آ ج کل آپ کے ہر کالم کا خلاصہ ایک ہی ہے کہ ہم سب چپ چاپ ظلم سہتے رہیں اور اس کے خلاف بالکل بھی آواز نا اٹھائیں ورنہ سارے چور مل کر ایک مظبوط گروپ بنا لیں گے۔ آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ آپ جیسے صحافیوں کی وجہ سے ہماری قوم کی وہ حالت ہو گئی ہے جیسی اس بادشاہ کے دور میں تھی جس کو عوام نے کہا تھا حضور جوتے مارنے والے بندے زیادہ کر دیں تاکہ ہم جلدی فارغ ہوجائیں ۔