15.10.2026, 01:59am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

پاکستان کی 80 سالہ تاریخ میں کبھی اتنا تباہ کن سیلاب دیکھنے میں نہیں آیا۔
21.09.2014, 01:10am , اتوار (GMT+1)

اشتیاق بیگ
پاکستان اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں سے دوچار ہے اور اس آفت کا مقابلہ کرنے کے لئے قوم ایک بار پھر مدد کے لئے نکل آئی ہے لیکن ہر شخص حیران ہے کہ پاکستان کی 80 سالہ تاریخ میں کبھی اتنا تباہ کن سیلاب دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے جیسے بے شمار سوالات مجھ سے بھی کئے جارہے ہیں ۔کچھ لوگوں نے گلوبل وارمنگ اور کچھ نے جنگلات کے کاٹنے اور زمینی درجہ حرارت بڑھنے کے باعث گلیشیئر کے پگھلنے اور زیادہ بارشوں کو موجودہ سیلاب کی اہم وجوہات بتایا ہے۔ اس تناظر میں میرے کچھ قارئین نے مجھ سے یہ درخواست بھی کی کہ سیلاب کی وجوہات پر ریسرچ کرکے کچھ لکھوں۔ میں کوشش کروں گا کہ آج کے کالم میں سائنسی معلومات اور بین الاقوامی ریسرچ کی روشنی میں حقائق پیش کرسکوں۔ زمین کا ایک حفاظتی نظام جسے ”فضا“ کہا جاتا ہے جو کرہ ارض پر زندگی کی حفاظت کے لئے ایک ڈھال کے طور پر کام کرتا ہے۔ فضا جن گرین ہاؤس گیسوں پر مشتمل ہے ۔ اس میں اوزون گیس جو زمین سے تقریباً 30 میل اوپر فضا میں ایک تہہ جھلی کی شکل میں پائی جاتی ہے جسے اسٹریٹو سفیئر کہا جاتا ہے ۔یہ جھلی زمین کو الٹر وائلٹ شعاعوں اور خطرناک آلودہ کار سے بچاتی ہے۔ اس کے علاوہ گرین ہاؤس گیسوں میں آبی بخارت کی مقدار سب سے زیادہ پائی جاتی ہے جن کا فضائی تبدیلی میں کلیدی کردار ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کی ایک خصوصیت گرین ہاؤس اثر ہے جو زمین پر زندگی کو سپورٹ کرنے والے درجہ حرارت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ”اثر“ سورج کی روشنی کو گزرنے دیتا ہے جس سے زمین کی سطح گرم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ سورج کی کچھ روشنی اپنی طرف کھینچ کر اسے واپس سورج کی طرف بھی بھیج دیتا ہے۔ درجہ حرارت کے بڑھنے کے اس عمل گلوبل وارمنگ کہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹر گورنمنٹل پینل آف کلائیمٹ چینج (IPCC) 2007ء کی رپورٹ کے مطابق اکیسویں صدی میں پوری دنیا میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے درجہ حرارت کا ایک ڈگری سینٹی گریڈ سے لیکر 6ڈگری سینٹی گریڈتک بڑھنے کا امکان ہے۔ اس رپورٹ کی رو سے اس صدی میں دنیا میں سمندروں کی سطح کا 9 سینٹی میٹر سے لے کر 88سینٹی میٹر تک بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق اس بات کا 90% امکان ہے کہ کرئہ ارض کا ٹمپریچر بڑھنے سے گرم ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کی رفتار بڑھ جائیگی اور66%سے زائد امکان ہے کہ خشک اور گرم آندھیوں میں اضافہ ہوگا۔سائنسدانوں کے مطابق گذشتہ 35سالوں سے سمندری درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ سیلاب اور تباہ کن طوفانی آندھیوں کی طاقت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں کرئہ ارض کا بڑھنے والا درجہ حرارت پوری دنیا میں ایک جیسا نہیں ہوگا کچھ خطوں میں گرمی میں شدید اضافہ ہوگا جس کا مشاہدہ چند روز قبل عمرے کی ادائیگی کے دوران مجھے ہوا جہاں مکہ اور مدینہ میں درجہ حرارت 44 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔

گلوبل وارمنگ سے بحر آرکٹیک میں برفانی تہہ ریکارڈ لیول تک کم ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ انٹارکٹیک گلیشیئرز غیر متوقع شرح سے پگھل رہے ہیں جس سے سمندروں کی سطح بلند ہورہی ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے ساحلی علاقوں میں سیلاب آرہے ہیں جس سے ساحلوں پر رہنے والے لوگ اور دیگر جنگلی حیات وہاں سے دوسری جگہوں پر منتقل ہورہی ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق سمندری طوفانوں میں اضافے کی وجہ گلوبل وارمنگ ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق گرمی کی شدت بڑھنے سے بڑے گلیشیئرز کے پگھلنے سے پانی کی وسعت اور سطح میں اضافہ ہوگا جس کی وجہ سے سمندروں میں طغیانیاں بڑھ جائیں گی۔مثال کے طور پر بر اعظم آرکٹک کے قطبی گلیشیئرز میں ہر دس سال میں 9% کمی واقع ہو رہی ہے جو خطرہ کا الارم ہے۔ سمندروں کی سطح میں تبدیلی سے ساحلی علاقے نہایت متاثر ہوں گے جس کے لئے اگر ساحلوں پر مضبوط حفاظتی بند نہیں باندھے جاتے تو ان علاقوں میں سیلاب سے نقصان بڑھ جائے گاجس سے وسیع پیمانے پر ساحلی اور نشیبی علاقوں کی آبادیاں متاثر ہوں گی۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے فضا میں آبی بخارات کی شرح بڑھنے سے کرہ ارض میں بارشوں میں شدت آئی ہے۔ ہمیں آج کل یہ تبدیلیاں پاکستان اور چین میں شدید بارشوں، سیلاب اور طوفان وغیرہ کی شکل میں نظر آرہی ہیں۔ گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات کی وجہ سے دنیا کے بعض خطے فصلوں کے پیداوار کے حساب سے دوسرے خطوں کی بہ نسبت زیادہ حساس ہیں اور ان کے ساحلی علاقوں میں کاشت کی گئی فصلیں زیادہ متاثر ہوں گی۔ ان ممالک میں برازیل، پیرو، افریقہ کا ساحلی علاقہ ، جنوبی مشرقی ایشیا اور چین ، پاکستان اور بنگلہ دیش وغیرہ شامل ہیں۔ موجودہ سیلاب میں بھی پاکستان میں کپاس اور چاول کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔

مختلف تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا میں آبادی میں اضافے ، صنعتی انقلاب، بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی، وسیع پیمانے پر معدنی ایندھنوں کے جلنے کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ روزمرہ زندگی میں عام استعمال کی چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے ٹی وی، موبائل فون، کمپیوٹر،ٹیلیویژن ،ایئر کنڈیشنرز ، بلب اور کاروں کے چلنے سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوا ہے۔ صنعتی انقلاب سے فضا میں آلودگی (کاربن) بڑھی ہے۔کوئلے اور تیل سے بجلی پیدا کرنے کے باعث بھی گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹمبر مافیا نے لکڑی حاصل کرنے کے لئے بے شمار جنگلات کاٹ دیئے ہیں جس کے نتیجے میں زمین پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اور فضائی درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ گزشتہ ایک صدی میں زمین کے درجہ حرارت میں 10 فارن ہائٹ اضافہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ فضا میں اوزون کی تہہ جو زمین کو الٹراوائلٹ شعاعوں سے بچاتی ہے سکڑ رہی ہے اور اوزون جھلی میں شگاف پڑنے سے پہلے سے زیادہ الٹرا وائلٹ شعاعیں زمین پر پہنچ رہی ہیں جن سے جلد کا کینسر، موتیا اور بیماریوں کے خلاف انسانی مدافعتی نظام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دنیا بھر کے ڈاکٹر اور سائنسدان گلوبل وارمنگ کے انسانی صحت پر پڑنے والے مضر اثرات سے متفکر ہیں۔

سائنسدانوں کی پیش گوئی ہے کہ گلوبل وارمنگ کے بڑھنے سے دنیا کے کچھ علاقے زیر آب جبکہ بعض علاقے خشک سالی کا شکار ہوجائیں گے کیونکہ سیلاب اور خشک سالی سے بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ ہوں گی۔ کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافے سے لینڈ سلائیڈنگ بڑھ جائے گی جبکہ جو علاقے خشک سالی کا شکار ہوں گے وہاں کے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ گلوبل وارمنگ کا ایک انفرادی نہیں بلکہ ایک اہم اجتماعی مسئلہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر اجتماعی کاوشوں سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اس سلسلے میں عوامی سطح پر شعور پیدا کریں اورضروری اقدامات کرکے اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناسکیں۔ اس سلسلے میں ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر اور غریب ممالک کی معاونت کریں تاکہ یہ ممالک کم فضائی آلودگی پیدا کرنے والی جدید ٹیکنالوجی، پلانٹس اور مشینری خرید کر اپنے ہاں صنعت، زراعت اور ٹرانسپورٹ کی سرگرمیوں سے بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والی مضر گیسوں میں کمی لاسکیں جو فضائی آلودگی کو کم کرنے کا موجب بنیں گی۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

:دیگر مضامین
(16.09.2014) جاوید چوہدری کے کالم کے جواب میں ایک محب وطن کا جواب ۔از: فہد جاوید ۔ فیصل آباد
(14.09.2014) آسکر پسٹوریس ٹرائل: ایتھلیٹ قتل عمد کے الزام سے بری، قتل خطا کے مجرم قرار
(12.09.2014) عوام پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کب تک جاری رہے گی
(10.09.2014) امام رضا (ع) کی حدیث سلسلۃ الذہب کا مختصر تعارف ۔ از ۔ سید اکمل حسین
(05.09.2014) معروف گلوگار حبیب ولی محمد طویل علالت کے بعد لاس اینجلس میں انتقال کر گئے
(03.09.2014) جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں مقیم مزاحیہ طنزیہ شاعر آفتاب حسین
(02.09.2014) نیپالیوں نے سب سے بڑا انسانی پرچم بنا کر پاکستان کا ریکارڈ توڑ ڈالا
(02.09.2014) توازن ہی خوب صورتی ہے ۔۔ جناب محمد شمیم مرتضی کی طویل تحریر سے اقتباس ۔ قسط اول
(30.08.2014) علم و ادب کے زوال کے دور میں 19 سالہ عروش جاوید کا اعزاز
(28.08.2014) مائیکرو سافٹ نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور ونڈوز 9 تیار کرلی
(22.08.2014) خصوصی کوہ پیمائوں کی مدد سے بگ بین ٹاور کی صفائی
(20.08.2014) اسلامی جمہوریہ افغانستان اپنا پچانوے واں یوم آزادی منارہا ہے
(19.08.2014) منبر سے بڑی بڑی باتیں کرنے والے اپنا حساب کتاب بھی پیش کریں
(16.08.2014) فرینکفرٹ میں پاکستانی قونصل جنرل نےچودہ اگست پر پرچم کشائی کی
(15.08.2014) چراغاں کر گئے اُستاد جگ میں ۔ ۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ اظہرؔ نقوی
(13.08.2014) فرینکفرٹ میں پاکستانی قونصل جنرل چودہ اگست پر پرچم کشائی کرینگے
(12.08.2014) چودہ اگست پاکستان کا یوم آزادی ہے۔سید اکمل حسین کا اس موقع پر تخلیقی عمل
(06.08.2014) دبئی: اسلامی تاریخ کی نادر و نایاب اشیا کی عظیم الشان نمائش اختتام پذیر
(04.08.2014) سابق ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی بیگم اشرف عباسی انتقال کرگئیں
(31.07.2014) معروف شاعر ادیب اور منقبت نگار خرم خلیق کی اہلیہ سلوا خرم وفات پا گئیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں