|
ایک ماہ سے عمران خان اور طاہر قادری صاحب کی تقاریر سن رھے ہیں
22.09.2014, 07:20am , سوموار (GMT+1)
رافیعہ گیلانی
پوری قوم ایک ماہ سے زائد عرصہ سے عمران خان اور طاہر قادری صاحب کی تقاریر سن رھی ھے اور یہ بھی سب کو ھی معلوم ھے وہ اپنے مطالبات منوانے کے لئے اسلام آباد شایرہ دستور پر دھرنہ دئے ھوئے ھیں اس سڑک پر بہت سی سرکاری عمارتیں ھیں جس میں وزیر اعظم ھاؤس اور دیگر بہت سی اہم عمارتیں ھیں ، عمران خان صاحب اور ڈاکٹر قادری صاحب بظاہر جس مقصد کے لئے احتجاج کرنے نکلے ھیں وہ اگر بغیر کسی تعصب کے دیکھا جائے تو صحیح ھیں ماڈل ٹاؤن لاھور میں قادری صاحب کے گھر پر رات کے وقت پولیس کی یلغار کی گئی اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں جس میں خواتین بھی شہید کی گئیں اوپر سے ظلم کے ان کے حق میں آیف آئی آر بھی درج نا کی گئی اور نا کسی کوقصور وار ٹھرایا گیا
یہی حال عمران خان صاحب کا ھے الیکشن میں دھاندلی کر کے ان کو ہرایا گیا وہ ایک سال سے زائد عرصہ تک کہتے رھے عدالت بھی گئے انصاف کے لئے لیکن کوئی شنوائی نا ھوئی ، مجبور ھو کر وہ بھی احتجاج کرنے نکل پڑے ، اس صورت حال میں کوئی بھی انصاف پسند آدمی جو جمہوریت کی قدروں سے واقف ھے انھیں غلط نھیں کہے گا - اب بات آتی ھے ان کی تقاریر کی اور ان کے مطالبات کی یا عزم کھیں تو بھی مناسب ھی ھے اگر ان کی تقاریر کی روشنی میں بات کریں تو وہ بھی سچی بات لگتی ھے میرا تعلق کسی پارٹی سے نھیں ھے لیکن ایک پکستانی شہری ھونے کے ناطے میں اچھی طرح جانتی ھوں اپنے ملک کی حالت زار کو ، کہ کس طرح ھمارے سیا ستدان اقتدار کو اپنی وارثتی ملکیت سمجھتے ھیں اور اپنے آخیتارات کا ناجائز اسعتمال کرتے ھیں اور یہی بات انھیں رعونت کی طرف لے جاتی ھے وہ خود کو سیا ہ سفید کا مالک سمجھتے ھیں وہ عوام جس کے پیسے سے یہ لوگ عیش کرتے ھیں ان کو کیڑے مکوڑے دکھائی دیتے ھیں
یہ سراسر ظلم کا نظام ھے یہی بیداری کی بات یہ دونوں عمران خان اور طاہر القادری صاحب کر رھے ھیں اس میں کیا برا ھے ہر پاکستانی کا بھلا ھے غریب کا بزنس میں کا ملازم کا سب کا کیوں کہ موجودہ سسٹم میں ہر ایک فرد کا احتصال ھو رہا ھے سوائے ایک مخصوص طبقہ کے جو اقتدار می مسنند پر برس ہا برس سے قابض ھے ، لیکن یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ھونے کے باوجود اکثر لوگ ایسے ھیں جو عمران خان اور قادری صاحب دونوں کو گالیوں دے رھے ھیں جبکہ وہ حکومتی عہد ہ دار بھی نھیں ھیں یعنی وہ اپنے فائدے کی بات بھی نھیں سننا چاھتے یا ایسی بات پسند نھیں کرتے جو مجموعی طور پر پوری قوم کے مفاد میں ھے میں حیران تھی ایسا کیوں ھے یہ لوگ کیوں اس کام کی حمایت نھیں کرتے جو ملک و قوم کے مفاد میں ھے خود ان کے مفاد میں ھے اگر ملک میں اصلاحات ھونگی تو سب ھی اس سے مستٖفید ھونگے کوئی کسی پر ظلم جبر نھیں کر سکے گا ، عدل انصاف ھو گا
ابھی میرے زہن میں سوال آیا ھی تھا کہ خود ھی جواب مل گیا میں نے ٹی وی آن کیا تو پروگرام آرہا تھا روز چینل پر اس میں میزبان خاتون نے بلائے گئے مہمان سے پوچھا پاکستان میں لوگ دوسرے کی اصلاح کی طرف زیادہ توجہ دیتے ھیں جبکہ اپنی اصلاح نھیں کرتے ایسا کیوں ھے اس پر جو جواب اس شخص نے دیا میں حیران رہ گئی اس نے کہا یہ سب بابا ئے قوم قائد اعظم کی وجہ سے ھے انھیں صرف ملک بنا دیا مگر ملک کو چلانے کے لئے کوئی طریقہ کار وضع نھیں کیا آگے بھی اس نے بہت باتیں کیں جو میرے لئے ناقا بل برداشت تھیں میں نے ٹی ؤی بند کر دیا لیکن مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا کہ ھم وہ قوم ھیں جو اپنے محسنوں کو نا صرف فراموش کر دیتے ھیں بلکہ ان کی کی گئی اصلاحات اور کام سے فائدہ آتھانا تو چاھتے ھیں اتھاتے بھی ھیں لیکن ان کو عزت احترام نھیں دے سکتے نا ان کی خدمات کو ماننے کو تیار ھوتے ھیں ھمیں صرف اپنا آپ اچھا لگتا ھے اسی وجہ سے ھمارے زہنوں میں یہ تصور ھی نھیں ھے کہ دوسرے لے لئے بھی لوگ جیتے ھیں اور دوسرے کا بھلا کرنے والا ھی عظیم ھوتا ھے اور انسانیت کی عظیم معراج کو پہنچتتا ھے ، جب ھماری قوم کے لوگ اپنے قائد اپنے محسن کے بارے میں ایسے کہتے ھیں تو ایسی قوم ایسے لوگوں کو عمران خان یا طاہر القادری ، کی خدمات کیا نظر آئیں گیں -
لیکن یہ بات تو طے ھے اپنے محسنوں کو فراموش کر دینے والی قوم کبھی ترقی نھیں کر سکتی یہ ان کے اعمال کے سبب ھے کہ ان کا سزا کے طور پر ایسے لوگوں سے سامنا ھوتا رھے گا جو انھیں کے پیسے اور ان کی محنت پر عیش کریں گے اور انھیں پر ظلم بھی کریں گے ٓ -
|