مندرجہ بالا درد مندانہ تحریر فیس بک پر معروف شاعر اور ادیب خرم خلیق نے چسپاں کی ہے جسے پڑھنے کے بعد مجھے یہ قلمی نوحہ تحریر کرنا پڑ رہا ہے
بھائی خرم خلیق آپ نے جس دردمندی سے اس تکلیف دہ اور دل شکن موضوع کو چھیڑا ہے میں خود بھی اس پر بارہا مختلف فورمز پر احباب سے بات کر چکی ہوں ۔ آپ تو مجھے بخوبی جانتے ہیں لیکن شاید یہاں گفتگو کرنے والے مجھ سے پوری طرح واقف نہ ہوں ، اس لیئے کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچنے کی خاطر اپنے احباب کو یہ بتانا چاہونگی کہ مجھے اپنے اہل سنت ہونے پر فخر ہے ۔ اور میں اہل سنت اس لیئے ہوں کہ اللہ کے حبیب کی اس سنت کو نبھا رہی ہوں کہ " حسین مجھ سے ہے اور میں حسیبن سے ہوں " اور : جس نے حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے کی اور جس نے مجھ سے کی اس نے خدا سے کی اور جس نے حسین کو تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے پہنچائی اس نے خدا کو پہنچائی " ۔۔۔۔
میں ایسے کسی فرد کو صاحب ایمان سمجھتی ہی نہیں ہوں کہ جو اللہ کے رسول سے تو محبت کرے لیکن آل رسول سے نہ کرے ۔ مجھے اپنے اہل سنت سے بھی زیادہ فخر آل رسول کی اس محبت پر ہے جس کا بیج انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے میرے دل میں بویا ۔ آج کا دور ان لوگوں کے لیئے بے حد سود مند دور ہے جو کسی اصول کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں ۔ جبکہ اسلام ایک اصول ہے اور اسی اصول پر پوری کائیانت کے اصولوں کی عمارت کھڑی ہے ۔مفادات کی اس دنیا میں شاید ہی کوئی اس کینسر سے محفوظ رہ سکا ہو ۔ لیکن مجھ آپ جیسے خوش نصیب جو اپنی بات کو کسی مفاد کے بغیر کھول کر بیان کرتے ہیں وہ مولا علی کرم اللہ وجہہ کے بقول یہ جہاد کی اعلی ترین شکل ہے ۔ جو جہاد بالنفس کے بعد جہاد بالقلم ہے ۔
امام بارگاہوں کو آگ لگا دینے سے آل رسول کا نام تو ختم نہیں ہو سکتا ۔۔ ہاں یزیدی فکر کے لوگوں کی پہچان ضرور ہو جاتی ہے ۔ بات کومختصر کرتے ہوئے کہوں کہ اس میں سب سے اہم کردار مسجد ، منبر، اور عالم دین کا ہے ۔۔ مگر یہ کہتے ہوئے کلیجہ پھٹتا ہے کہ مسجد تو اب سنی ، شعیہ ، بریلوی اور حنفی کی ہے ۔۔ اللہ کی نہیں ہے ۔ منبر رسول علماء اور حق کہنے والوں کا نہیں بلکہ اداکاروں اور دین فروشوں کا ہے ۔ یون لگتا ہے جیسے علماء ہمارے درمیان سے اٹھ گئے ہیں۔ اس پر مزید تکلیف یہ کہ مسلم و مومن کی قیادت کرنے والے حرص و لالچ کے بندے بن گئے ہیں ۔ ان کی بھی نظریں ایوان اقتدار پر ہے ۔ انہوں نے دین کو سیاست عمومی بنا رکھا ہے ۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مسالک کے درمیان نفرتوں کے بیج ایسے ہی دین فروش مولویوں نے بوئے ہیں ۔ ان کے لیئے عبا ، قبا اور دستار ایک وردی ہے اور انہوں نے معصوم اور کم علم مسلم و مومن کو شاہ دولے کے چوہوں کی طرح اپنا زہنی غلام بنا رکھا ہے ۔ ایسے مولویوں اور ملاؤں سے بھی زیادہ قصور عام مسلمان کا ہے جو ماں باپ کا فاتحہ دینے لیئے بھی اور نذر نیاز دینے کے لیئے بھی ان ہی کے مرہون منت ہے ۔
تقاضا وقت کا ہے کہ ہم میں سے ہر فرد کو اپنے دینی علم میں اضافہ کرنا ہوگا ۔ اپنے بچوں کو رسول پاک کے ساتھ ساتھ آل رسول کی محبت کا درس دینا ہو گا ۔۔ شعیہ اور سنی کی بجائے مسلمان بن کر سوچنا ہو گا ۔
اسلام اتحاد کا نام ہے نفاق کا نہیں ۔ اسلام محبت کے خمیر سے اٹھایا گیا ہے نفرت سے نہیں۔ اسلام میں ہر فرد اپنے اپنے مقام پر ایک قائد اور سفیر ہے ۔ اور آخر میں یہ بات بھی کہنا چاہونگی کہ جس قیادت کو احتساب کا خوف نہ ہو وہ قیادت خود پرست ، بے رحم اور عوام کش بن جاتی ہے ۔ اور ایسا رویہ نظام حسینی کی بجائے نظام یزیدی کا نمائیندہ ہوتا ہے ۔ ایسے قائدین کا احتساب مجھے اور آپ کو ہی نہیں بلکہ ہم سب کو کرنا ہے ۔ عالم دین کا احترام اور عزت ہم پر واجب ہے لیکن شیر کی کھال پہنے ہوئے گیدڑ پر بھی نظر رکھنی ہے ۔