اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عریانیت کے ذریعے اپنی فلموں کی تشہیر میں بولی وڈ فلم انڈسٹری دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔
'میڈیا میں جنس' کے عنوان کے تحت یہ مطالعہ اقوام متحدہ کے تعاون سے جینا ڈیوس انسٹی ٹیوٹ نے کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق بولی وڈ فلموں میں 35 فیصد خواتین کے کرداروں میں کسی نہ کسی حد تک عریانی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
فلموں کی تشہیر کیلئے خواتین کو بے باک انداز میں پیش کرنے کا رجحان دنیا کی تمام فلم انڈسٹریز میں سب سے زیادہ ہے۔
یہاں خواتین کو مثبت انداز میں پیش کرنے کا رجحان انتہائی کم ہے، رپورٹ کے مطابق خواتین دنیا بھر کی آبادی کا نصف ہیں لیکن اس کے باوجود بولی وڈ فلموں میں ایک تہائی سے بھی کم کردار خواتین کو دیے جاتے ہیں جو کہ ایک واضح تقسیم ہے۔
ہندوستان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ کے اشتراک سے بننے والی فلموں میں خواتین کو اہم کردار دینے کا تناسب 23.6 فیصد جبکہ بولی وڈ فلموں میں 24.9 فیصد ہے حتیٰ کہ برطانیہ، برازیل اور جنوبی کوریا میں بھی خواتین کو اہم کرداروں میں پیش کئے جانے کا تناسب 35 سے 38 فیصد ہے۔
خواتین کو فلموں میں شارٹ کپڑوں میں پیش کرنے کے اعتبار سے بولی وڈ فلم انڈسٹری آسٹریلیا اور جرمنی کے بعد تیسرے نمبر پر ہے اور بولی وڈ میں جنسی طور پر پرکشش خواتین کو پیش کئے جانے کا رجحان 25.2 فیصد ہے۔
بولی وڈ میں خواتین اداکار 35 فیصد کرداروں میں انتہائی بولڈ مناظر پکچرائز کراتی ہیں، اس کے علاوہ بولی وڈ فلم انڈسٹری میں خواتین ڈائریکٹرز، مصنف اور پروڈیوسرز کا تناسب بھی بہت کم ہے۔
بشکریہ ٹائمز آف انڈیا