یہ مضمون اودھ نامہ لکھنو میں بروز ہفتہ ٢٧ ستمبر ٢٠١٤ کو شائع ہوا غور طلب بات تو یہ ہے اس مضمون کو جدید یزیدیت کے عنوان سے شائع کیا گیا ۔۔۔۔۔۔ پر کیوں
واقعہ کربلا کے تذکروں سے ہم کو دو کرداروں کی پہچان ہو جاتی ہے ۔ ایک حسینی کردار ۔۔۔۔۔۔ دوسرا ہے یزیدی کردار
ان کرداروں سے واقفیت ہم کو خود اپنے نفس کا محاسبہ کرنے میں کافی مدد پہنچائے گی ۔۔۔ اور ہم کو یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا ۔۔۔۔ کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یزیدیت خود ہمارے نفس میں یا ہمارے سماج میں سر تو نہیں اُٹھا رہی ہے۔۔۔۔۔
یزیدیت کے معنی ہیں
ا۔ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا
٢۔ احکامات الہی کی کھلم کھلا مخالفت کرنا
٣۔ حرام و حلاک کی تمیز کا ختم ہو جانا
٤۔ خوشنودی خدا اور رسول کے باجائے اپنی خاندانی روایات کو ترجیح دینا۔۔
٥۔۔حصول اقتدار و جاہ کے لئے ہر جائزو ناجائز وسیلہ کو بروئے کارلانا۔۔۔۔۔۔
٦۔ حدود الہیٰ سے تجاوز کرنا
٧۔۔ رسول و تعلیمات رسول کا مضخکہ اُڑانا
٨۔۔ اخلاقی اقدار کو پامال کرنا
٩۔۔ نیک کردار اور نیک فینت افراد پر سب و ستم کرنا ان کو اذیت دینا
١٠۔۔اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے بے گناہوں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگین کرنا
١١۔۔ عقل پر جہل کو برتری حاصل ہونا
١٢۔۔ علم اور علما کی ناقدری کرنا یا حصول علم کے بجائے علما پرستی کو فروغ دینا
١٣۔۔ حق و باطل کی تمیز کا ختم ہونا اور شخصیت پرستی کا رائج ہونا
١٤۔۔ آباواجداد کی اندھی تقلید کو قران و سنگ پر ترجیح دنیا
١٥۔۔ترویج علم اور تبیلغ حق میں رکاوٹیں کھڑی کرنا
١٦۔۔ ٹریبوں اور ناداروں کو ان کے حق سے محروم کرنا اور کمزوروں اور مظلوموں پر ظلم و ستم کرنا
١٧۔۔ دین کو رسم کا درجہ دینا اور رسم کو دین قرار دے لینا
١٨۔۔ اللہ کے بجائے بندوں سے ڈرنا
١٩۔۔ دوستی اور دشمنی کی بنیاد اطاعت الہییٰ کے بجائے اپنے طور پر گڑھے ہوئے دین کو قرار دینا
٢٠۔۔محض جزوی مسائل میں اختلاف کی بنیاد پر دوسرے کی جان و مال اور ۤبرو کو مباح قرر دے لینا
٢١۔۔اللہ کے مقرر کردہ معیار فضلیت تقویٰ اور پرہیزگاری کے بجائے نسلی لسانی جغفرافیائی خاندانی اور کروہی عصبیتوں کی بنیاد پر یا مال دولت جہ و منصب کی بنیاد پر حقوق کو برتری قرار دینا
٢٢۔۔ اللہ پر توکل کرنے کے بجائے حرام ذریعہ سے روزی حاصل کرنا اور اس میں سے کچھ رقم کیس مذہبی کام میں صرف کر کے مطئین ہو جانا کہ اب یہ حرام مال حلال ہو گیا
۔۔۔۔۔
.jpg)
یہ وہ خصوصیات ہیں جو یزیدیت کے عکاسی کر رہی ہین جب کہ کیس سماج میں ہم یہ پائیں کہ مندرجہ بلا سفتیں رواج پار رہی ہیں تو ہم کو سجھ لینا چاہئے کہ وہاں پر یزیدیت ایک نئے روپ میں سر اُٹھا رہی ہے ایسے ماحول میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ہواں پر ذکر حسین کو اس انداز سے پیش کیا جئاے کہ لوگ اپنے نجس کو کود پرکھنے کی کوشیش کریں کیونکہ اس جدید یزیدتی کا میدان نہ تو کربلا ہے اور نہ ہی کوفہ اور نہ دمشق بلکہ خود انسا ن کا ذہن ہے اور اس کے لئے یہ لئے میدان ہے۔۔۔۔۔۔
یہ جدید یزیدیت اس اکسٹھ ھجری والی قدیم یزیدیت سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہے اُس یزیدیت کا چہرہ عالم آشکار تھا مبر یہ جدید یزیدیت وہ ہے جو آج مذہب کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے سماج میں سرایت کر گئی ہے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔
اپ خود صاحب شعور ہیں اور خود غور کریں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل بھی چار ماہ حرمت والے قرار دئے گئے تھے اور اسلام نے بھی ان چارہ ماہ کی حرمت کو نہ صرف یہ کہ برقرار رکھا بلکہ ان کی حرمت میں اضافہ کر دی یہ ماہ ہیں رجب ذیقعدہ۔ ذی الحجہ اور محرم الحرم ۔۔۔۔۔
ان چاروں ماہ میں قتل جنگ و جدال اذیت رسانی وغیرہ سب خاص طور پر ممنوعہ اور ھرام ہیں لیکن آپ ذرا انصاف ہے بتائیں کہ جو طرز ذاکری رائج ہو گئی ہے اس میں ان حرمت والے ماہ کی حرمت بحال رکھی جاتی ہے یا اس کو زائل کر دیا جاتا ہے
کیا ان مہینوں کا انتظار نہیں کیا جاتا ہے کہ ماذی الحجہ میں استقبال عزا کی مجلسوں اور اس کے بعد عشرہ محرم کی مجلسوں میں بڑے اجتماعات کو کطاب کرنے کا موقع ملے تو ہم ذاتیات اُچھال کر اپنے دل کی پھڑاس نکلایں کعنی بنام حسین ان مہینوں کی حرمت کو پامال کیا جائے
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ اس ظلمت کدہ دور میں بلکہ یوں کہوں کہ ہند و پاک بلکہ اب تو یورپی ممالک میں بھی ہمارے بزرگوں نے کیونکر حسینیت کو شمع کو روشن کیا؟
کیا یہ صرف روپے پیسے کے زور پر ہوا جی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے بلند اخلاق و شائستہ زبان نرم روی کے ذریعے پوری نوع انسانی کو عقائد کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانیت کی بنیاد پر دعوت فکر دی ۔۔۔۔ حسین کو محض سیعوں کے تیسرے امام کی حیثیت سے نہیں بلکہ اعلی انسانی اقاار کے مثالی اور مکمل نمونہ کی حیثیت سے پیش کیا ۔۔ جو بھی قریب آیا وہ گرویدہ ہوگیا اس کا دل بھی بارگار حسینی میں چھکا اور ذہن بھی جھکا ہر اک نے اپپے اپنے انداز سے نذرانہ عقیدت پیش کیا
لیکن آج ہماری روش قفعی طور پر غیر اسلامی ہو گئی ہے کیونکہ ہم نے مجلسوں کو محض کاروبار اور عقائد تولنے کی ایک میزان کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے ۔۔۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ جہاں تبلیغی پہلو کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا وہاں انداز ذاکری ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ مجلسیں نہ صرف غیر مسلمین کے لئے بلکہ خود اپنے ہی فرقہ والوں کی دل آزاری کا باعث بن گئی ہیں یہ یزیدیت کا وہ خطرناک روپ ہے جو حسینت کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے
آخر میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمار ذاکریں اور صاحب عبا قبا کو قہم عطا کرئے کہ وہ حسینیت اور یزیدیت میں تمیز کر سکیں اور اس جدید یزیدیت کو دیں سے اُکھاڑ سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم خدا اور اس کے رسول کو خوس کرنے کے لئے یہ کام نہیں کرتے بلکہ عوام اور عوام الناس اور ملا مافیا کو خوس کرنے کے لئے یا دکھاوے کے لئے یہ سب کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسو س صد افسوس ہے