
نبی زادی۔۔۔!
حرا کی سرمی آنکھیں
پیمبر کے بدن سے پھو ٹتی کرنوں سے خیرہ ہو رہی ہیں
یتیمی کی عبا میں ایک آسودہ تبسم زیرلب تیری بشارت ورد کرتا ہے۔
فضا میں دور تک پھیلی ہوی تازہ گلابوں کی مہک
نور پیمبر کو تلاوت کر رہی ہے
حراکا سرمی چہرہ فرشتوں کے مہکتے لمس کو محسوس کرتا ہے۔
نبی زادی۔۔۔!
تیرا نور معظم تخت طوبی سے اتر کر دھیرے دھیرے
قلب احمد کا اجالا بن رہا ہے۔
حرا کی محرم اسرار آنکھوں میں بلا کی بیکرانی ہے۔۔
نبی زادی۔۔!
ترے نور مطہر کا اجالا اک نیے منظر میں ڈھلتا ہے
تری آنکھیں
پیمبر کے دمکتے،صورت مہتاب دلآویز چہرے پر
ابھرتے زخم گنتی ہیں۔
تری دلگیر آہوں سے پیمبر کا کلیجہ کٹنے لگتا ھے۔
نبی زادی۔۔۔!
ترے آنسو فرشتوں کو رلاتے ہیں۔
سر شعب ابی طالب
مصایب کے الاوو کی تپش اور چار جانب جہل زادوں کی عداوت کا دھواں پھیلا ہوا ھے۔
شرف کی داستاں لکھتا خدا منظر بدلتا ھے
شہنشاہ عرب تخت رسالت سے کھڑے ہو کر
تری تکریم کرتا ھے۔
سر عرش علی رب جہاں تطہیر کی آیت
لب جبریل کی زینت بناتا ہے۔
تری عصمت بڑھاتا ہے۔
ہوا تیری ثنا کا اسم اعظم گنگناتی ہے
فرشتوں کے سنہرے ریشمی پر تیری چوکھٹ چوم لیتے ہیں
نبی زادی۔۔!
سواد ہجر کی دلسوز آہٹ پھر ترے دل پر
نیے خنجر چلاتی ہے۔
قضا کے سرد ہاتھوں پر تری مادر کا لاشہ ہے۔
جدایی کا کڑا لہجہ نیا نوحہ سناتا ہے
نبی زادی۔۔
کہانی پھر نیی کروٹ بدلتی ھے
قیامت خیز منظر ہے
پیمبر کی اداسی سے بھری نمناک آنکھوں میں
تری فرقت کے آنسو جھلملاتے ہیں
تری جانب بڑی حسرت سے تکتی نیم وا آنکھیں
تری دلگیر آہیں اور بلکتی شام تنھایی
پس منظر میں عزراییل کا لرزیدہ لہجہ
اور ہوا کی ماتمی سرگوشیاں دل چیر دیتی ہیں
شب غربت کف افسوس ملتی ہے
دیار ہجر کی تیرہ شبی کچھ اور بڑھتی ہے
نبی زادی۔۔۔
ترے بےتاب لہجے میں جدایی کے سخن شہر پیمبر کیوں نہ سن پایا؟
ترے زخمی کلیجے کو کویی مرہم نہ مل پایا
تری صبت علی کی صداووں سے مورخ کا ںپ اٹھتا ہے
لہو روتی ہے بیت الحزن کی دلگیر تنہایی۔
نبی زادی۔۔
ترا مغموم چہرہ پھر سر منبر ابھرتا ھے
عجب تاثیررکھتا ہے ترا ذوق مسیحایی
تجھے افکار کی بخیہ گری کے رمز آتے ہیں
سر منبر
الہی ذوق کو تقسیم کرتا جاوداں لہجہ
شباہت میں پیمبر کا دمکتا دلنشیں پیکر
ترے لفظوں میں موجیں مارتا کوثر
ثنا کے سیپ سے وحدت کے موتی چن رہا ھے
رسالت کی روپہلی صبح صادق
خاک زادوں سے مخاطب ھے
ولایت کے سخن تیرے وسیلے سے ا
الہی عدل کا میزان بنتے جا رہے ہیں
ترے ارفع سخن انسانیت کے ذیل میں
پوری کتاب بندگی تحریر کرتے ہیں
نبی زادی۔۔
در جود و سخا کو ورد کرتا وہ گراں تحفہ
جسے لطف پیمبر نے ترا ورثہ بنایا تھا
تجھے کیونکر نہ مل پایا؟
زمانے نے شقاوت کا پرانا درس دھرایا
نبی زادی۔۔
تری گمنام بےسایہ لحد
اجر رسالت سے خیانت کا تسلسل ہے۔۔۔
نبی زادی۔۔۔
ترے جلتے ہوے در کا دھواں لے کر خیانت کار نسلیں
میرے گھر تک آن پہنچی ہیں
مدد یا یوسف زہرا عج
مدد یا یوسف زہرا عج