|
اور مجھے اب اس دنیا کی ہر شے سے ڈر لگتا ہے۔از۔صدف مرزا
05.03.2016, 01:02am , ہفتہ (GMT+1)
صدف مرزا۔ڈنمارک
جانے کتنی بار کہا تها
ماں....دیکھ مجهےڈر لگتا ہے
دیکھ.. یہ دنیا کن نظروں سے دیکھ رہی ہے
دیکھ
کہ پارا پارا دل کے ہر ٹکڑے سے خون کی ندیاں
آنکهوں تک آ پہنچی ہیں
ڈوب چلا ہے قریہ جاں تک
ماں
دیکھ یہ دهارے
میرے سر سے گزر رہے ہیں
لیکن ماں کی نیند نجانے کیسی تهی
اس نے آنکھ تلک نہ کھولی
اس نے مڑ کر ایک نظر نہ دیکها
بیٹوں کے کاندھوں پر جاتے
مٹی اوڑھ کے سوتے سوتے
ایک نظر تک بهی نہ ڈالی
اور مجهے اب اس دنیا کی ہر شے سے ڈر لگتا ہے
|