خبریں اتنی ہیں کہ کس کس کو موضوع بنائیں سمجھ سے بالا، بالا تر ہے ، چھوٹے زرداری کبھی انڈیا کی نیندیں اُڑانے کی بات کر رہے ہیں تو کبھی اپنے سے کہیں بڑے اور پرانے سیاست دانوں کو للکار رہے ہیں ۔وہ تقریر کرنے کے بعد اور بیان دینے کے بعد بالکل اسی طرح خوش ہوتے ہیں جیسے کوئی چھوٹا بچہ کسی بڑے کے ہاتھ سے اپنا کھلونا ملنے کے بعد ،اور باقی کام انکے کارکن پورا کر دیتے ہیں یہ کہہ کر کہ وہ شھید بھٹو کے نواسے ،وہ محترمہ شھید کے بیٹے ،وہ سر شاھنواز کے وارث ۔وہ نوجوان اور سب سے بڑے سیاست دان اور ہم اپنا ٹی وی بند کر دیتے ہیں کہ یہ ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے شھیدوں کا صلہ لے لے کر ہمیں یہاں تک پہنچا دیا ۔اس لئے ہمیں یہ محاورہ یاد اآیا ۔
محاورہ ہے کہ تجھ کو کسی کی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ۔یعنی کسی کی بات میں ٹانگ مت اڑاؤ اپنی مشکلیں بھگتاؤ ۔مگر کیا کریں کہ ہم سے رہا نہیں جاتا ۔جب ہم اپنے حکمرانوں اور اپنے ملک کے چلانے والوں کی باتیں سنتے ہیں ۔اور ان کا تضاد جو اندھوں کو بھی نظر اآتا ہے ،دیکھتے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ عظیم ہے اُسے برا کہنے والے کوئی علم ہی نہیں رکھتے انہیں ایسی مقدس جگہ کو غلط کہنا صرف کم ظرفوں اور کم علموں کا کام ہے ۔ہمیں بھی یہ ہی لگتا ہے لیکن کیا ہم ایسی پارلیمنٹ کو جو آج کل موجود ہے اُسکی شان کے مطابق سمجھتے ہیں جس میں وزیرِاعظم پر نو ٹس ہے ۔جسکے حزب ِاختلاف کے قائد پر کرپشن کے الزامات کی بھر مار ہے ۔سینیٹر اجلاس میں اآتے ہیں وزیرِداخلہ سے اِن بِن ہوتی ہے اور اُسی مقدس ایوان میں دونوں ایک دوسرے کے کرپشن کھولتے ہیں لیکن انتہائی مخمل میں لپیٹ کر ۔وزیرِ اعظم، ثالث بن جاتے ہیں ،باقی ممبران جو حکومت کے اقتدار میں ہیں ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر صبر کرنے کی تلقین کرتے ہیں کہ رُک جاؤ کہیں کوئی اور بھی کچھ کھولنے کھڑا ہوگیا تو کہیں کے نہ رہینگے ۔اور پھر ہم سب ہی دیکھتے ہیں کہ نہ پریس کانفرنس ہوتی ہے اور نہ ہی اُسکے بعد کوئی صفائی پیش کی جاتی ہے ۔یہ سب کیا ہے ؟ کیا واقعئی مقدس ایوان ہے جس میں ایک دوسرے کی چوریاں کھولتے ہیں لیکن کسی انصاف کے ادارے کسی ملک کے بہی خواہ کے منہ سے یہ نہیں نکلتا کہ اگر یہ سب الزامات غلط ہیں تو ثابت کرو ؟؟
کیوں ؟؟؟بس کیوں کا جواب ہمیں اآج تک نہ ملا اور نہ ہی شاید ملے گا ۔ اُمید بھی کم ہے ؟
مگر اگر ہمارے ملک کے جوان اُٹھ کھڑے ہوئے ،اور ہماری خواتین جو ہمیشہ اآزادی اور انقلاب کا حصہ رہی ہیں وہ اگر نکل اآئیں تو انشاء اللہ قسمت ضرور بدلے گی ۔بس ہم اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ گھروں میں بیٹھ کر کوئی انقلاب اآئیگا یا کوئی تبدیلی اآئیگی ۔ہم نے خاموش رہ کر نہ صرف اپنی قوم کو کمزور کر دیا بلکہ اپنے ملک کو بھی ان لوگوں کے حوالے کر دیا جو صرف اپنا مقدر اآزماتے اور اپنا مفاد اور اپنا بھلا کرتے رہے ۔
قوموں کی زندگی میں سب سے اہم ہے اس کا لیڈر اس کا چلانے والا اگر وہ ہی اپنوں اپنوں کو ریوڑیاں بانٹتا رہیگا تو کہاں سے ترقی ہوگی کہاں سے بھلائی ملے گی ۔لوگوں کے زہنوں میں انصاف ہونا چاہئے ،لوگوں کی سوچ میں انصاف ہونا چاہئے ۔لوگوں کو علم ہونا چاہئے کہ جو ظلم سہتے ہیں وہ بھی ظالم ہو جاتے ہیں ،کیونکہ وہ شامل ہوجاتے ہیں اُس برائی میں جو معاشرے کو تقسیم کر دیتی ہے ۔اور کمزور کر دیتی ہے بنانے کی سوچ کو۔ کیونکہ بگاڑنے کی سوچ طاقتور ہو جاتی ہے ۔
ہمارے ملک میں نہ صلاحیتوں کی کمی ہے نہ ہمت کی ،نہ عزم کی کمی ہے نہ محنت کی، بس ایک مسیحا چاہئے جو ان بیماریوں سے نجات دلا دے جنہوں نے کینسر کی طرح اندر ہی اندر ملک کو کمزور کر دیا ہے ۔اور ہم ابھی تک علاج ہوتے ہوئے بھی اسے استعمال نہ کر پائے ۔کیونکہ جو بھی ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے اٹھتا ہے اس پر سب سے پہلے کسی نہ کسی کے ایجنٹ ہونے کا دھبہ لگا دیا جاتا ہے ۔بغیر کسی ثبوت کے ۔اس روئیے میں بھی کمی اآنی چاہئے ورنہ ہم اچھے لوگوں سے بھی محروم ہو جائینگے اور یہ مفاد پرست ٹولہ ہمیں لے ڈوبے گا ۔اللہ نہ کرے ۔
ہم آپ کو مبارک باد بھی دیتے ہیں کہ ایک اور صاحبزادی سیاست میں کود پڑی ہیں محترمہ مریم نواز جن کے ٹوئٹ اب سب کے سامنے اآرہے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ روش کچھ اچھی نہیں ہے کہ سربراہوں کے خاندان ملک کو اپنی جاگیر سمجھیں اور ملک کی قسمت سے کھیلیں ۔ہم نے ساری دنیا میں کہیں ایسی جمہوریت اور ایسی حکومت نہیں دیکھی جیسی ہمارے ملک میں کی جارہی ہے ۔کیونکہ ہم نے شخصیت پرستی شروع کر دی ہے بجائے اچھے لیڈروں کا ساتھ دینے کے ۔
ابھی ایک اور خبر سنی جس نے دل دکھا دیا معاف کیجئے گا اب یہ جملہ تو شاید ہر وقت ہی بولا جانے لگا ہے ۔ایک جوان کو صرف اس لئے گولی مار دی گئی کہ وہ ایک اہم شخصیت کی کار سے اآگے جانے کا گنہگار تھا جو عید کا گوشت بانٹ رہا تھا جو خبر ہم تک پہنچی ۔کچھ بھی ہو ایک جان کو صرف اس لئے لے لینا کہ وہ کہنا نہیں مان رہا تھا کہاں تک جائز ہے ؟ کیا صرف تمہاری جان قیمتی ہے ؟؟ کیوں ٹانگ پر گولی نہیں ماری جاتی کیوں جسم کے کسی ایسے حصے کو نشانہ نہیں بنایا جاتا اگر شک ہو جو جان جانے کا باعث نہ بنے ۔؟؟ کیوں کیوں؟
ماؤں کے کلیجے چھلنی کرنے والے کس کس ماں کو جواب دینگے ۔ایک بھی جوان ختم ہوتا ہے تو ساری ماؤں کے کلیجے ہل جاتے ہیں دِھَل جاتے ہیں ۔کیا مارنے والوں کے دل نہیں ہیں یا انکے اولاد نہیں ہے ؟
بھارت اپنی جارحیت میں لگا ہوا ہے ۔لیکن ہمارے سر براہوں کو ہری ہری سوجھ رہی ہے ۔کیونکہ انہیں کسی بات کا خدشہ نہیں ہے ۔عوام جب تک اپنی طاقت منوائے گی نہیں یونہی مرتی رہیگی روتی رہیگی ۔اس لئے اگر کچھ سر پھرے قوم کی تقدیر بدلنے کی بات کر رہے ہیں تو ہماری دعا ہے کہ اللہ انکی مدد فرمائے اور جگا دے ہماری قوم کو ورنہ تیار رہیں انکی اولاد کی غلامی کو ۔اُس قوم کی حالت بدلی نہیں جاتی جو خود کو بدلنے کی جد جہد نہیں کرتے ۔بس سوچنے کا مقام ہے اور عمل کرنے کی بات ۔
اللہ میرے ملک کو مفاد پرستوں سے بچالے اآمین ۔