محبت اپنی فطرت میں دین جیسی ہوتی ہے جو توحید پرست ہے اور کسی حال میں شرک( شریک ) گوارہ نہیں کرتی ۔ یہ ایسی منزل ہے جس کی طرف نکلنے والے سارے سفر، داخل ہونے کے لیئے سارے دروازے مسافروں کے لیئے ہر وقت کھلے رہتے ہیں ۔
مجرد محبت کا دامن کئی محبتوں (رشتوں ) سے بندھا رہتا ہے۔ وقت کے حساب سے محبتیں اپنی شدتیں اور جگہیں بدلتی رہتی ہیں ۔ اللہ پاک نے ایسی محبت اپنے لئے اور اپنے حبیب کے لیئے نہیں چنی ۔ اللہ پاک نے یہ کہیں نہیں کہا کہ ایمان والے محبت کرنے والے ہوتے ہیں بلکہ یہ کہا کہ ایمان والے اپنے خدا اور رسول ص سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہوتے ہیں ۔ ایسی مجبت کو تجرید المحبت کہتے ہیں ۔یعنی ایسی شدید محبت جو ساری محبتوں سے بالا تر ہوتی ہے اور اس میں شریک یعنی شرک کا تصور نہیں ہوتا ۔اللہ پاک نے ایسی محبت صرف اپنے اور اپنے حبیب کے لیئے پسند فرمائی ہے۔۔
محبت الہی اور محبت رسول کے لیئے ادب ، اطاعت ، رضا اور محبت کا معیار و پیمانہ ایک ہے ۔ باقی تمام محبتوں کے معیار و پیمانہ رشتوں کے حساب سے الگ الگ ہیں ۔
پہلے خدا پاک انسانوں سے محبت کرتا ہے ، پھر اس بندے کو توفیق عطا کرتا ہے کہ وہ اس سے محبت کرے ۔ جب بندہ اپنے خدا سے محبت کرنے لگتا ہے خدا پاک آسمانوں میں اس کا زکر اپنے فرشتوں کے درمیان کرتا ہے اور زمین پر لوگوں کے دل میں اس بندے کی محبت اور احترام ڈال دیتا ہے ۔ ایسے بندوں کو اللہ کا ولی کہتے ہیں ۔ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی کو اپنا محبوب بناتا ہے تو وہ اس سے ملاقات چاہتا ہے اسے قریب سے دیکھنا چاہتا ہے ۔اللہ پاک نے فرمایا کہ اللہ کے رسول اور اس کے ولی اس کے مظاہر و پیکر ہیں ۔ ان سے ملاقات کیا کرو ۔
آقا علیہ السلام حضور پاک ض اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔
" اے اللہ میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں ، اور میں ان بندوں کی محبت مانگتا ہوں جن سے تو محبت کرتا ہے ۔ میں ہر اس عمل سے محبت مانگتا ہوں جو مجھے تجھ سے قریب کر دے" الہی آمین
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ۔۔۔ جن سے محبت کی جاتی ہے
----کیا کوئی اپنے محبوب سے عداوت کر سکتا ہے
---- کیا کوئی اپنے محبوب کی برائی سن سکتا ہے
----کیا کوئی اپنے محبوب کی غیبت کر سکتا ہیں
۔۔۔۔ کیا کوئی اپنے محبوب سے غصہ کر سکتا ہے
۔۔۔۔ کیا کوئی اپنے محبوب سے شکوہ کر سکتا ہے
یعنی جہاں شدید محبت ہوتی ہے وہاں غصہ یا گلہ نہیں ہوتا ۔۔ پھر جب ہم خدا سے محبت کا دعوی کرتے ہیں تو اس کی طرف آنے والی تکلیف اور پریشانی پر شکوہ کیسا ۔ پھر اس سے خفگی کیسی ۔۔ جب بندہ اللہ پاک کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے تو وہ محبت کے اسرار پا جاتا ہے ۔۔ پھر رب چاہے اسے بیمار کر دے ، فاقوں میں رکھے ، فقیر کر دے ، اجاڑ دے ، تنہا کر دے ، بے نام کر دے ، گم کر دے ، زلیل کر دے ، بس جس حال میں رکھے اس میں خوش رہتا ہے کہ اس کے محبوب کی یہی رضا ہے ۔
کامل محبت کبھی شکوہ نہیں کرتی ۔۔۔۔ انسانوں کے ساتھ کی جانے والی محبتیں کبھی کامل نہیں ہوتیں کیونکہ ہمارا زمینی محبوب کبھی مکمل اور نقص سے پاک نہیں ہوتا ۔ سو کامل محبت کے لیئے کامل محبوب کا ہونا ضروری ہے ۔ کامل محبت ناقص سے نہیں ہو سکتی ۔
کامل محبوب سے محبت کے لیئے قران پاک پڑھیئے کہ یہ وہ خطوط ہیں جو کامل محبوب نے اپنے محبوب کو بھیجے ہیں ۔ کیا اس سے زیادہ خالص اور خوبصورت کتاب کوئی اور ہو سکتی ہے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان خطوط کو پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور محبت کے اسرار سمجھنے کی رمزیں عطا فرمائے ۔۔ الہی آمین