گزشتہ نویں قسط میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ‘‘واپس نوید بٹ کے گھر پہنچے تو بھائی جعفر مغل بلتستانی اپنے بیٹے سروش کے ساتھ تیار کھڑے تھے کہ انہوں نے ہمیں لیکر عزا خانہ زینبیہ جانا تھا جہاں مرثیہ نو تصنیف کی محفل تھی‘‘۔میں نے اپنی عادت کے مطابق شور مچا رکھا تھا کہ وقت پر بلکہ وقت سے پہلے پہنچنا چاہیئے اور بیچارے سائیں رحمت اور جعفر مغل جیسے مہمان کے سامنے بے بس نظر آرہے تھے۔ کوئی پچیس تیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد جب ہم وقت سے پہلے امام بارگاہ پہنچے تو ابھی اسکے دروازے بھی نہیں کھلے تھے اور اور ہمیں برفیلی فضا میں باہر گاڑی میں ہی کچھ دیر انتظار کرنا پڑا کہ وقت مقررہ پر پہلے عمارت کی روشنیاں جل اٹھیں تو اس عمارت میں حیات کا احساس ہوا۔
سب سے پہلے جس حسین چہرے سے ملاقات ہوئی وہ یہاں کے ریزیڈنٹ عالم مولانا ذاکر حسین تھے جن کے بارے
میں بہت دیر کے بعد معلوم ہوا کہ وہ مجھ فقیر کو میرے بچپن سے جانتے ہیں اور وہ اس لیئے کہ وہ جس جامع المنتظر میں زیر تعلیم تھے وہ لاہور میں ہمارے گھر سے دیوار بہ دیوار تھا۔ میں نماز اور مجلس سے پہلے جب ان سے ان تمام مقامات کی باتیں کر رہا تھا تو وہ بڑی خاموشی سے میری گفتگو سن رہے تھے لیکن مجلس عزا کے بعد جب انہوں نے میزبان کے طور پر شکریے کے لیئے مائیک سنبھالا تو یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ میں تو صفدر ھمٰدانی کو انکے بچپن سے جانتا ہوں اور پھر میرے والد مرحوم کے حوالے سےا نہوں نے جو کچھ فرمایا میں اسکے لیئے انکا ممنون ہوں۔مولانا ذاکر نے اپنے خطاب میں بڑی وسیع القلبی سے فرمایا کہ ہمیں دینی موضوعات پر اظہار خیال کے لیئے دانشوروں کو بھی اس قافلے میں شامل کرنا چاہیئے تا کہ موجودہ مسائل کے حل کو ہر رخ سے دیکھا جا سکے۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ مجھے یہ فخر ہے کہ میرے مولا نے مجھے یہ اعزاز دیا کہ سویڈن میں سب سے پہلے مرثیہ نوتصنیف پڑھنے کی سعادت میرے حصے میں آئی جس کے لیئے میں مولانا ذاکر کے ساتھ ساتھ اس عزا خانہ زینبیہ کی انتظامیہ کا بھی ممنون ہوں۔
سفر وسیلہ ظفر ہے اس سے تو کسی کو انکار نہیں اور میرے جیسا شخص تو اکثر اس کی عملی تصویر دیکھتا ہے۔
متعدد ممالک اور بے شمار شہروں میں سفر کے دوران بہت سے ایسے افراد مل جاتے ہیں جن سے صرف نام کی شناسائی ہوتی ہے اور یہاں سویڈن میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ایسے بہت سے لوگ ملے جو مجھے آواز کی دنیا کی مناسبت سے جانتے تھے لیکن بالمشافہ نہیں ملے تھے۔ ان میں سے میں ایک نوجوان علی اکبر شگری کو فراموش نہیں کرؤں گا کہ جس نے اس انداز سے ملاقات کی کہ میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ اسکا یہ کہنا کہ‘‘ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ جس آواز کو میں برسوں سے سن رہاہوں اس سے ملاقات بھی ہو جائے گی‘‘ میرے لیئے ایک سعادت تھی۔ میں نے اس نوجوان کو گلے سے لگایا اور سوچتا رہا کہ اس مفاد پرست اور زر کی ماری ہوئی دنیا میں کیا ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں۔ جیتے رہو علی اکبر شگری اور اللہ پاک تمہیں ہر میدان میں ترقی عطا کرے۔اسی عزا خانے میں ‘‘سفر وسیلہ ظفر‘‘ کی ایک اور تعبیر محترم و معظم برادرم شمیم جعفری کی شکل میں بھی ملی کہ جو مجھ سے اور میں ان سے کبھی بالمشافہ نہیں ملا تھا لیکن ہم دونوں ایک دوسرے سے بخوبی شناسا تھے،

شمیم جعفری بھائی سے میرا ایک تعلق جاپان کا بھی ہے کہ انہوں نے ستر کے عشرے میں اور میں اسی کے عشرے اواخر میں کئی برس وہاں گزارے ہیں۔ سویڈن کے عزا خانہ زینبیہ میں شمیم جعفری سے ملاقات ایک تحفہ پروردگار تھی اور وہ اس حوالے سے بھی کہ وہ ادب شناس اور سخن فہم بھی ہیں اور انکی موجودگی میرے حوصلے کا باعث تھی۔
میرے مختصرقیام سویڈن کے دوران بھائی شمیم جعفری نے جو عزت دی اسکی جزا خالق لوح و قلم ہی انکو دے گا۔ انہوں نے اس فقیر کے اعزاز میں اپنے گھر میں ایک نہایت پر تکلف ظہرانے کا انتظام کیا جس میں مولانا ذاکر اورسائیں رحمت کے علاوہ بہت سے احباب موجود تھے۔شمیم بھائی کی اہلیہ شاہین میں جاپانی اور اسلامی میزبانی
بدرجہ اتم موجود ہے اورا سکا اندازہ انکے پکائے ہوئے پرتکلف کھانوں کے زائقے سے ہوا۔شمیم بھائی توکیو کے نگاتا پریفیکچر میں1971میں رہے تھے اور میں اکتوبر1989میں ریڈیو جاپان توکیو میں تھا لیکن سن کے اس تفاوت کے باوجود ہم دونوں میں جاپان ایک قدر مشترک ہے۔انکی اہلیہ کا جاپانی نام ہیساکو تھا اور 1980میں شمیم بھائی کی ہمسفر بننے کے بعد وہ شاہین کی تمام خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ اس گھر کا مرکز ومحور ٹھہریں۔شمیم بھائی مکینیکل انجینئر اور بھابھی شاہین ‘‘نیوٹریشن‘‘ ہیں۔ اللہ تعالی نے سائنس کے دو اہم شعبوں کو کیسے یک جا کر دیا ہے۔انکی بیٹی صدف 1986میں پیدا ہوئیں اور اسوقت بائیو کیمسٹری میں ایم ایس سی

کر رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کامیابی عطا کرے۔
شمیم جعفری کے اکلوتے بیٹے جرار 1988میں پیدا ہوئے اور اسوقت ایجینئرنگ کے طالب علم ہیں۔۔
۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔