گزشتہ دسویں قسط میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ‘‘شمیم جعفری کے اکلوتے بیٹے جرار 1988میں پیدا ہوئے اور اسوقت ایجینئرنگ کے طالب علم ہیں‘‘۔
انکے گھر کی سب سے بڑی خوبی مجھے ان بچوں کی تربیت نظر آئی جو بلاشبہ ماں اور باپ دونوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ شمیم بھائی کے گھر میں جب نماز ظہر کے لیئے صف باندھی گئی تو اذان دینے والی آواز نے جب اپنی طرف مجھے متوجہ کیا تو ایک عجییب سی خوشی ہوئی کہ یہ آواز شمیم بھائی کے بیٹے جرار کی تھی۔ہم لوگ جو اپنے اپنے وطن ثانی میں مقیم ہیں ہمیں اپنے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دینا پڑتی ہے،اپنی زبان،ثقافت اور دین کے معاملے میں،اوت جو والدین اس ذمیداری کو سمجھ لیتے ہیں انکا مستقبل اکثر محفوظ ہو جاتا ہے ورنہ خدا اپنا رحم کرے۔
مجھے خوشی ہے کہ شمیم جعفری اور انکی اہلیہ شاہین اس حوالے سے اپنا مستقبل محفوظ کر لیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ اسوقت شمیم جعفری کے دسترخوان کے کھانوں کا ذکر کر کے آپ کے منہہ میں بھی پانی بھر لاؤں لیکن اتنا ضرور عرض کرتا چلوں کہ کھانے میں اگر صاحب خانہ کی محبت بھی شامل ہو تو اسکا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ بس اتنا کہوں گا کہ شکریہ بھائی شمیم جعفری اور شکریہ بھابھی شاہین۔ اور جیتے رہو صدف اور جرار،مولا ہر امتحان میں تم دونوں کو کامیاب کریں۔آمین
سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہولم میں مسلمانوں کو اپنے دینی اور مذہبی تہوار اور تقریبات کے اہتمام کی جہاں مکمل آزادی ہے وہاں اہم تقریبات کے اہتمام کے لیئے مقامی حکومتیں بھی ہر ممکن تعاون کرتی ہیں۔اسی حوالے سے مختلف مسالک کی تنظیمیں اپنے اپنے انداز میں مختلف دینی اور مذہبی تقریبات منعقد کرتی ہیں۔سٹاک ہولم میں اہل تشیح کے لگ بھگ دس عزا خانے میں جنہیں اہل عرب،ایرانی،کرد،عراقی اور پاکستانی وغیرہ چلاتے ہیں اور محمرم الحرام میں عشرہ محرم سے لیکر چہلم امام حسین علیہ السلام تک کی مجالس عزا منعقد ہوتی ہیں اور اسکے علاوہ آءمہ کی ولادت و شہادت پر دیگر اہم تقریبات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔

ان عزا خانوں میں دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے علما اور زاکرین کے علاوہ خطیب حضرات بھی تشریف لاتے ہیں اور فضائل و مصائب اہلبیت بیان کرتے ہیں۔لیکن یہ سویڈن کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ کسی شاعر اہلبیت نے اپنا تحریر کردہ مرثیہ نو تصنیف پیش کیا۔
اس مقصد کے لیئے سٹاک ہولم کی متحدہ پاکستانی تنظیم ''فریناڈے پاکستان نیئر'' کی دعوت پر جناب میاں جاوید،جعفر مغل بلتستانی کے علاوہ رحمت علی المعروف سچل سائیں کی دعوت پر مشاعرے کے لیئے لندن سے تشریف لانے والے معروف شاعر،ادیب،محقق،برادکاسٹر اور شاعر اہلبیت صفدر ھمٰدانی نے زینبیہ سینٹر کی خصوصی دعوت پر جمعہ 30 جنوری کی شام مرثیہ نو تصنیف پیش کیا جو اس حوالے ایک تاریخی بات تھی کہ سویڈن میں پہلی مرتبہ کسی شاعر نے خود تصنیف مرثیہ پیش کیا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اس امر کا ادراک ہوا کہ مرثیہ اپنے طور پر ایک مکمل مجلس عزا ہے جس میں فضائل و مصائب اہلبیت پیش کیئے جاتے ہیں۔مجلس عزا کے آغاز محمد علی نے حدیث کساء پیش کی جس کے بعد
رحمت علی اپنے مخصوص انداز میں صفدر

ھمٰدانی کی ایک مقبول رباعی اپنی پر سوز آواز میں سنائی۔
''وجد میں جب بھی کبھی اسم؛ جلی لکھتا ہوںپھول حسنین کو زہرا کو کلی لکھتا ہوں۔رحمت علی نے صفدر ھمٰدانی کا مختصر تعارف کروایا اور انہیں مرثیہ نو تصنیف پیش کرنے کی دعوت دی۔
شاعر اہلبیت صفدر ھمٰدانی نے مرثیہ پیش کرنے سے قبل اپنی تمہیدی تقریر میں بہت مختصر طور پر مرثیے کی تاریخ بیان کی اور اس بات پر زور دیا کہ مجالس عزا میں مرثیہ کا اہتمام کیا جائے کیونکہ یہی آئمہ کی مقبول ترین صنف تھی اور عدم توجہی کی وجہ سے دم توڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیغام کربلا کو عام کیا جائے اور ذکر اذکار کے ساتھ ساتھ عمل پر زور دیا جائے اور عام لوگ اپنے مطالعے کو وسیع کریں۔
اسکے بعد شاعر اہلبیت صفدر ھمٰدانی نے سکینہ بنت الحسین کی شہادت کے حوالے سے مرثیہ پیش کیا جسے موجود افراد نے بہت سراہا اور خاس طور پر مصایب جناب سکینہ پر خوب رقت ہوئی۔
مجلس عزا کے اختتام پر زینبیہ سینٹر کے ریزیڈینٹ عالم جناب مولانا زاکر حسین نے صفدر ھمٰدانی کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خاص طور پر قرآن پاک کی سورہء شعرا کے حوالے سے پروردگار اور محمد و ال محمد کی مدح کرنے والے شعرا کی عظمت کا ذکر کیا۔ مولانا ذاکر حسین نے لاہور وسن پورہ کے جامع المنتظر میں اپنے زمانہ طالب علمی کا ذکر کرتے ہوئے صفدر ھمٰدانی کے خانوادے خاص طور پر پاکستان کی آزادی کا اعلان کرنے والے صفدر ھمٰدانی کے والد مرحوم مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے علم و فن کا تذکرہ کیا اور دعا کی کہ پروردگار لوح وقلم شاعر اہلبیت کے قلم کو اور انکے کلام کو مزید نکھار دے۔
لگ بھگ ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی مجلس عزا کے اختتام پر حاضرین نے مہمان شاعر کے ساتھ تصاویر
بنوائیں جن میں سے چند یہاں پیش کی جاتی ہیں
۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔