16.10.2026, 12:54am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

نوشتہ دیوار پڑھیے حکمرانوں کو مشورہ۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
18.10.2014, 04:20am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔شمس جیلانی
 جس طرح غالب سخن فہم تھے کسی کے طرفدار نہیں، ہم بھی چونکہ رمضانیوں میں سے ہیں لہذا رمضانیوں کے مزاج شناس ہیں کسی کے طرف دار نہیں ہے ہمارے خیال میں یہ پاکستان تاریخ میں  تیسری بیداری ہے اور جب بھی ایسی بیداری نظر آئی کچھ نہ کچھ ہو کر رہا پہلی دفعہ اس کے نتیجہ میں پاکستان بنا دوسری مرتبہ پاکستان دولخت ہوا اب ہم تیسری جاگ دیکھ رہے ہیں اور کچھ نہ کچھ ہوکر رہے گا۔ اس لیے کہ اب تک  تاریخ یہ رہی کہ ایک جیسے کئی پشتوں سے آتے رہے ہیں لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ جو لوگ متوقہ تبدیلی لانے والوں کی کردار کشی لگے ہوئے ہیں وہ یہ بھول گئے ہیں کہ  دوسرے مزاہب اور اسلام میں پہلے فرق یہ تھا جو اب نہیں رہا کے ہم بھی اسی راہ پر چل پڑے ہیں جیسا کہ ہم سے پہلے والی قوموں کاتھا کہ انہوں نے توبہ کا دروازہ جو کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے بند کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں اسرائیلیات میں وہ واقعہ ملتا ہے کہ ایک شخص جب ننیانوے (٩٩) قتل کرچکا تو کہیں جاکر اس کا ضمیر جاگا، اور اس نے سوچا کہ کسی بزرگ کے پاس چلنا چاہیئے شاید کوئی راستہ وہ معافی کا نکال دے؟ مگر آج کی طرح انہوں نے تو ایکا کیا ہوا تھاکہ اصل کتاب اور اسکی تعلیمات کی کسی کو ہوا بھی نہیں لگنے دیں گے؟ لہذا ان بزرگ نے اسے ٹکا سا جواب دیدیا کہ تم نے 99 قتل کیئے ہیں تم بہت بڑے گناہگار ہو اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ شاید کرکٹ سے متاثر تھا کہ اس نے اسے بھی قتل کرکے اپنی سینچری مکمل کرلی۔
 مگر تھاجوان ہمت جو کہ اس سے ثابت ہے کہ اگر ایسا نہ ہو تا تو وہ سینچری کیسے بنا تا پھر اس نے اسی بس نہیں کی اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ اس پر مہربان ہوگیا اور اسے کسی سچے بزرگ در مل گیا جس کو اصل کتاب کی تعلیمات یاد تھیں؟ اس نے اسے خوشخبریسنائی کہ اللہ بڑا رحیم ہے کریم ہے، ایسا کر تو توبہ کرلے وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ مگر ایک کام کر کے کہ توبہ کرتے ہی اس بستی کو چھوڑ دینا؟ اس مشورے میں جو سبق پوشیدہ ہے وہ یہ تھا کہ صرف بری باتیں اور بری صحبت نہ چھوڑے تو جو اسکے دل میں ضمیر جاگنے کی وجہ سے بھلائی کی جوت جاگتی ہے۔ بری صحبت کی وجہ سے تھوڑی دیر میں معدوم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے ہمارے یہاں ایک فارسی کا شعر ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ “ ایک ولی کی صحبت ہزار سال کی عبادت ِ بے ریا سے افضل ہے ً یہ شعر اس دور میں کہا گیا تھا جبکہ زیادہ تر عالم با عمل تھے اسی کے ساتھ وہ ولی بھی ہوتے تھے۔ جیسے کہ امام الاولیا ءحضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ان پیر حسن بصری (رح) جنہیں ایک روایت کے مطابق حضرت امام حسن (رض) اور امام حسین (رض) تینوں سے شرف بیعت حاصل تھا، فہرست طویل ہے۔ مگر میں نے ایک نام اس لیے دیدیا کہ آج کے سجادہ نشینوں کو کہیں آپ ان میں شمار نہ کرلیں۔ اور غلط مشورہ دینے پر برا بھلا مجھے کہیں ؟ اگرآپ کو ولی کی تلاش ہو تو اس کا ہر فعل حضور (ص) کے اسوہ حسنہ پر پرکھیں اگر پورا اترتا ہے تو بے شک وہ ولی ہے۔
  ہاں! تو میں ذکر رہا اس گناہ گار کہ جس ننیانوے99 قتل کئے تھے اور ایک نام نہاد بزرگ نے اس کی سینچری مکمل کروادی تھی۔ اس نے بعد میں ان بزرگ کے کہنے پر شہر چھوڑ دیا۔  اورجو شہر اچھی شہرت کا مالک تھا اسکی طرف چلدیا راہ میں موت آگئی دونوں طرف کے فرشتے پہونچ گئے ۔ بھلائی والے جنت کی طرف لے جانے کے لیے اور برائی والے جنہنم کی طرف لے جانے کے لیے؟ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رجوع کیا کہ کریں ۔حکم ہوا کہ زمین ناپ لو اگر وہ بری بستی کے قریب ہو تو اسے جہنم میں لے جاؤ اور اگر اچھی بستی کے قریب تو جنت میں لے جاؤ؟ زمین ناپی گئی تو وہ نیکوں کی بستی کے قریب تھا۔ لہذا جنت والے فرشتے اسے لے گئے۔ اسے بہت سے شاید سر جھٹک رد کردیں کہ یہ ایک کہانی ہے ۔ مگر اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی موجود ہے جس میں یہ واقعہ بیان ہوا۔ محققین وہاں جاکر پڑھ لیں۔
   میرا یہاں اس کو پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم نے انہیں کی طرح توبہ کے دروازے بند کر رکھے ہیں اور اگر کوئی شخص توبہ کر نا چاہے تو اس کو کرید کرید کر اس کا ماضی یاد دلاتے ہیں اور اس کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ کار نہیں ہوتا کہ وہ اپنی راہ پر رواں اور دواں رہے۔ یا پھر اتنے فیاض ہوجاتے ہیں کہ توبہ کے دونوں پٹ کھلے رکھتے ہیں کہ رات کو پی کر صبح کو توبہ کی گنجائش ہو؟ جبکہ اسلام میانہ روی کا مذہب ہے؟
   ہمارے سامنے اسوقت دو شخصیتیں ہیں ایک عمران خان دوسرے ڈاکٹر طاہر القادری؟ انہوں نے کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہوا مگر عوام کے دلوں میں اُمید کرن پیدا کر دی ہے۔ رہا پچھلا کردار ممکن ہے کہ انہوں نے توبہ کرلی ہو؟ اسی قسم کی صورت حال احرارملت مولانا عطا اللہ شاہ بخاری (رح) کو بھی پیش آئی تھی کہ کچھ لوگوں نے  ان کےجلسہ میں آکر فتوے گنا ئے اور کہا کہ آ پ کو تو اتنے علماءکافر کہتے ہیں لہذا آپ کو اسلام پر بات کرنے کا حق ہی نہیں ہے۔ انہوں نے فورا ً کلمہ با آوازِ بلند پڑھا اور حاضرین سے کہا کہ تم گواہ رہنامیں دوبارہ مسلمان ہو گیا ہوں اب تو میری بات سنو! چونکہ دلوں کاحال تو صرف اللہ ہی جانتا ہے ہم صرف دین کو ظاہر پر نافذ کرتے ہیں؟ کام دونوں نے  پہلے بھی اچھا کیا ہے اور  ابھی بھی اچھا کر رہے ہیں ۔ جیسے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہرا ہو تا ہے اسی طرح ہمیں بھی ان میں امید کی کرن نظر آرہی ہے اس لیئے بھی کہ ایک نہیں وہ دو ہیں اگر ایک بہکے گا تو دوسرا اسے یا تو روک لے گا یا اس کی جگہ لے لے گا؟لہذا تجربہ کر لینے میں کیا حرج ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ کو رحم آگیا ہو اور زیادہ بروں سے جان چھٹ جا ئے۔ چونکہ ہمیشہ طرح ایک عالم ساتھ میں ہیں۔ گوکہ سابقہ تجربات تو یہ ہیں کہ جس کے ہاتھ میں لاٹھی آجائے وہ سب پہ قابو پاجاتا ہے۔ مثلا ً تحریک پاکستان میں مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) جن پر جوگندر ناتھ منڈل سبقت لے گیا اور ان کے بجا ئے وزیر شرع بن گیا! مگر وہ (رح) بھی با ہمت آدمی تھے قوم کو قرارداد مقاصد دے گئے جو کہ بطور تلوار دفعہ 62,63  کی شکل میں آج بھی حکمرانوں کے سروں پرلٹک رہی ہے۔ یہ ہی حال ہمارے برادر ملک سعودی عرب کا  بھی ہوا کہ وہاں بھی آل شیخ پر ڈنڈا حاوی ہوگیا اور جو علما ئے حق ہیں وہ جیل اور دار کا مزہ چکھ رہے ہیں  ۔ جبکہ درباریوں کے ہمیشہ کی طرح مزے رہے ہیں، وہ اب بھی ہیں ۔ کہنے  کامطلب یہ ہے کہ تجربات میں نقصان کا احتمال ہو تا ہے مگر اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔
    میں نے شروع میں اور پہلے بھی جاگ کی بات کی تھی اور کرتا ہوں وہ اس بھی ثابت ہے کہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ملتان کے الیکشن میں عوامی نمائندوں  نےیہ کہہ کر عوام کے سامنے جانے سے انکار کر دیا کہ وہ جب ڈبل دبل بجلی بل دکھا ئیں گے تو ہم کیا جواب دیں گے؟ اور اس طرح جاویدہاشمی صاحب کو ہار نصیب ہو ئی۔ جبکہ سابقہ حکمراں پارٹی کو جو پنجاب میں کودنے کے لیے پر تول رہی ا سے بھی صرف چھ ہزار سے بھی کم ووٹ ملے ؟ اصولاً تو موجودہ حکمرانوں کو اس سے سبق لینا چا ہیئے تھ؟امگر تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے کیونکہ مصاحب کہہ رہے ہیں ًتسی فکر نہ کرو تسی شیر او ً۔ جبکہ محمود قریشی صاحب کہہ رہے ہیں کہ خرگوش شیر کو کھا گیا؟ عمران خان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف استعفیٰ مت دو، تاکہ ہمیں اور کام کرنے کا موقعہ مل جا ئے۔ اور عوام پوری طرح بیدار ہو جائیں کیونکہ2015ءالیکشن کا سال ہے؟
 آگے کا منصوبہ کیا ہے وہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ پتہ نہیں انہوں نے شیخ رشید صاحب سے فال نکلوائی ہے یا پروفیسر توپ سے جو سڑک پر طوطا لیے بیٹھا ہو تا ہے ، اس سے اپنا اور طوطے کا پیٹ بھر تا ہے اور اس کی پیشن گو ئیاں اکثر غلط نکلتی ہیں ۔ ہمارے خیال میں وہ تاریخ نہ دیتے تو بہتر ہوتا۔ اس لیے کہ پہلے بھی کئی باتیں ان کی غلط ثابت ہو چکی ہیں۔  جبکہجھوٹ اعتماد کا دشمن ہے؟
 

:دیگر مضامین
(11.10.2014) ایک درمند ِ ملت کا خط اور اس کا جواب۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
(05.10.2014) حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا مثا لی کنبہ۔۔۔۔  از۔۔ شمس جیلا نی
(27.09.2014) کام نہ پہلے کرتے تھے کام نہ اب کچھ کر نا ہو گا۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(20.09.2014) واقعی کیا جاگ رہا ہے پاکستان۔۔۔از ۔۔۔۔ شمس جیلانی
(13.09.2014) ذرا سوچیں آفات آسمانی ہم سے کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.09.2014) جھوٹوں کی لڑائی اس پر چوروں کی گواہی۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.08.2014) جھوٹ ، جھوٹ , جھوٹ اور جھوٹ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں