
شاید مجھ جیسا انسان اسی دن کے لیئے زندہ تھا! لیجئے پہلے یہ خبر پڑھ لیجئے اگر آپ نے نہیں پڑھی تو۔۔۔ اس پر مزید لیکن مختصر بات بعد میں کرتے ہیں
خبر یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر کو جھوٹ اور برائی کا منبع قرار دے دیا ہے۔انھوں نے سوموار کی شب نشر ہونے والے ایک ٹیلی ویژن شو کے دوران اپنے فتویٰ میں کہا ہے کہ ''اگر ٹویٹر کو درست طور پر استعمال کیا جائے تو اس سے حقیقی فائدہ مل سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس کو غیر ضروری اور فضول امور کے لیے استعمال کیا جارہا ہے''۔
ان کا کہنا ہے کہ ''ٹویٹر تمام برائی اور تباہی کا منبع ہے۔لوگ اس کو معلومات کا قابل اعتبار ذریعہ سمجھ کر رجوع کرتے ہیں مگر یہ جھوٹ اور غلط بیانی کا ذریعہ ہے''۔واضح رہے کہ سعودی مردوخواتین کی بڑی تعداد اپنے سمارٹ فونز پر ٹویٹر کا استعمال کرتی ہے۔اس طرح یہ ان کے آزادیِ اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔تاہم سعودی صارفین کو انٹرنیٹ پر شتر بے مہار آزادی حاصل نہیں ہے اور حکومت نے بعض قدغنیں بھی عاید کررکھی ہیں۔اس کے علاوہ سعودی معاشرے میں مردوخواتین کو آزادانہ اختلاط کی اجازت نہیں ہے،ٹویٹر یا سماجی روابط کی دوسری ویب سائٹس پر نامحرم مردوخواتین کے درمیان روابط (چیٹنگ) کو معیوب سمجھاجاتا ہے اور علماء کرام اس کی مسلسل حوصلہ شکنی کرتے رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اس خبر اور اسکے مندرجات سے کوئی گہرا اختلاف نہیں، واقعی انٹرنیٹ، فیس بک اور ٹوئیٹر جیسی اختراعات کو بہت سے غلط کاموں کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اسمیں قصور استعمال کرنے والوں کا ہے نہ کہ انٹرنیٹ، فیس بک اور ٹوئیٹر کا۔ وہ شخص جس نے ایٹم دریافت کیا تھا کیا اس نے یہ دریافت ایٹم بم بنانے اور اسے ہیروشیما ناگاساکی پر گرانے کے لیئے کی تھیِ نہیں قطعی نہیں۔ ایٹم کی دریافت پر امن مقاصد کے لیئے تھی لیکن اسکا یہ ظالمانہ اور جابرانہ استعمال انسانی حقوق کے لیئے دن رات شور مچانے والے امریکہ بہادر نے کیا تھا۔ تو کیا اس انسان کش حرکت کے بعد ایٹم کے استعمال پر پابندی نہیں لگ جانی چاہیئے تھی؟ کیا جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے کو حرام قرار نہیں دے دینا چاہیئے تھا؟ کیا یہ فتویٰ نہیں دینا چاہیے تھا کہ جوہری توانائی کا جراثیم سے پاک بہتر فصلوں کے لیئے استعمال قرآن و سنت کے منافی ہے؟ کیا جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال ادویات کی تیاری میں پابند نہیں کر دینا چاہیئے تھا؟
میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم کی ایک علمی حیثیت بھی ہے اور علم تو تاریکی میں راستے تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے نا کہ راستے مسدود کر دیتا ہے۔ مفتی اعظم نے یہ تو ضرور فرمایا کہ ۔۔۔۔ اگر ٹویٹر کو درست طور پر استعمال کیا جائے تو اس سے حقیقی فائدہ مل سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس استعمال کی کوئی مثال نہیں دی۔ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹوئیٹر کو قرآت سکھانے کے لیئے یا انکی مرضی کی اسلام کی تبلیغ کرنے کے لیئے استعمال کرنا ہی اسکا درست استعمال ہے؟ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایسی محدود سوچ کے حامل ممالک میں ٹوئیٹر، فیس بک اور یو ٹیوب پر پابندی لگا لینے سے انکے ملک کے شہری کیا یہ سب چیزیں استعمال نہیں کر رہے؟ پاکستان نے ایک عرصے سے یوٹیوب پر پابندی لگا رکھی ہے تو کیا اس معاشرے میں برائی ختم ہو گئی ہے؟ نہیں قطعی نہیں۔ وہاں کی ایک بڑی آبادی مختلف دیگر ذرائع سے یو ٹیوب دیکھ رہی ہے
ظلم کو ختم کرنے کے لیئے ظالم کا خاتمہ ضروری ہے۔ جہالت کے خاتمے کے لیئے سکول کھولنے سے اسوقت تک کوئی فائدہ نہیں ہو گا جب تک ذہن علم کی اہمیت کے لیئے تیار نہیں کیئے جائیں گے
اسلام میں فتوے کی اہمیت سے انکار نہیں، لیکن فتوے کو جا بے جا استعمال کرنے سے اسکی اہمیت ضرور کم ہوئی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جسکا جی چاہتا ہے جس کسی کے بارے میں فتویٰ صادر کر دیتا ہے۔ مفتی کی بہت سخت شرائط ہیں فتویٰ دینے کے لیئے۔ بلکہ اہل علم کا کہنا ہے کہ مفتی کا کورس کر لینے سے آپ فتویٰ دینے کے قابل نہیں ہو جاتے۔ فتویٰ دینے والے کو روز محشر اپنے فتوے کا جواب دینا ہو گا اور ان ہزاروں لاکھوں افراد کا بھی حساب دینا ہو گا جنہوں نے اس فتوے پر عمل کیا ہے
میں کون ہوتا ہوں سعودی مفتی اعظم کے علم کو چیلنج کرنے والا۔ نعوذ باللہ میری کیا حیثیت کہ شاہی دربار کے مفتی اعظم سے اختلاف کر سکوں۔ لیکن یہ دل چاہتا ہے کہ کاش مملکت سعودیہ کے مفتی اعظم کبھی کوئی فتویٰ مسلم حاکموں ،انکی عوام دشمنی اور بدعنوانیوں کے بارے میں بھی دیتے۔۔۔ مسلم ممالک میں بچوں اور خاص طور پر بچیوں کو علم کی دولت سے محروم رکھنے کے خلاف بھی کچھ ارشاد فرماتے۔۔۔ اللہ کے حبیب کی طرف سے غلامی ختم کرنے کی چودہ سو سال پہلے کے اعلان کے باوجود عوام کو غلام بنا کر رکھنے والوں کے خلاف بھی کوئی فتویٰ صادر کرتے۔۔ مسلم معاشروں میں پھیلی ہوئی انتہا درجے کی برائیوں اور غیر اسلامی روایات کے خاتمے کے بارے میں بھی ارشاد فرماتے۔۔۔۔۔۔۔۔خود سعودی عرب میں انسان دشمن پالیسیوں کی مزمت میں کچھ کہتے، مسلم حاکموں کی سنگدلی اور ملکی وسائل کی لوٹ کھسوٹ پر تنقید فرماتے، مغربی ممالک میں آکر جوا کھیلنے والے اور قبیح افعال میں ملوث ہونے والے سعودی شاہی خاندان کے افراد کے بارے میں اسلامی احکامات کی روشی میں کوئی فتویٰ صادر کرتے، عرب حاکموں کے یورپ میں گھڑ دوڑ میں جوا کھیلنے والے گھوڑوں کے حوالے سے کوئی بات کرتے،،، عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب میں غیر عرب ملازمین سے ہونے والے سلوک پر کبھی کچھ بولتے، عرب اور مسلم ممالک سے حجاب اور عبایہ میں ملبوس ہو کر یورپ اور امریکہ آنے والی خواتین کے یہاں جینز اور نصف بازو والے کپڑے پہن کر بے پردہ پھرنے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے۔۔۔۔
یہ سب برائیاں انٹرنیٹ، فیس بک یا پھر توئیٹر نے نہیں پھیلائی ہیں؟ یہ سب برائیاں ہمارے مسلم معاشروں میں موجود ہیں اور اس سے انکار ناممکن ہے۔
اللہ رسول کے نام پر کوئی ایک فتویٰ عوام دشمن حکمرانوں کے خلاف بھی، عوام کو غلام بنا کر رکھنے والوں کے خلاف بھی، ملکی وسائل لوٹنے والوں کے خلاف بھی، ملکی دولت لوٹ کر امریکہ اور یورپ کے بنکوں میں رکھنے والوں کے خلاف بھی، اسلام کو بدنام کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف بھی، جنت البقیع کو منہدم کرنے والوں کے خلاف بھی، دین رسول میں اپنی مرضی کی ترمیم کرنے والوں کے بارے میں بھی
اللہ آپکو اسکا اجر دے گا