|
مشرف بہ اسلام کرنے سے پہلے اچھی طرح پرکھیئے؟ از۔۔۔ شمس جیلانی
25.10.2014, 04:01am , ہفتہ (GMT+1)
از۔۔۔شمس جیلانی
مورخہ23 اکتوبر 2014کو کنیڈا کی پارلیمنٹ میں جو واقعہ پیش وہ تمام مسلمانوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ جو لوگ مسلمان ملکوں میں رہتے ہیں وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ جن ملکوں کو وہاں دار الحرب کہا جاتا ہے ،وہاں وی آئی پی کلچر ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ یہاں نہ ہٹو بچو ہے نہ کسی کے لیے روڈ بلاک ہو تی ہے۔ لہذا ہر ایک کی ہرایک شخص اور جگہ تک رسائی بڑی آسان ہے۔ اور پھر کنیڈا جیسا ملٹی کلچرل پہچان رکھنے والا ملک جہاں ہر ایک کوایک جیسے حقوق حاصل ہوں، وہاں تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی پارلیمنٹ میں داخل ہو نے کی کوشش کریگا ؟ اس لیے یہاں حفاظتی انتظامات نہ ہو نے کے برابر ہیں۔ ممبر پالیمنٹ تو دور کی بات ہے ۔ یہاں کسی وزیر کے لئے ، وزیر اعلیٰ کے لیے سکوریٹی کا انتظام نہیں ہوتا، وزیر اعظم کے لیے البتہ ایک آدھ آفیسر سفید کپڑوں میں ملبوس نظر آتا ہے۔ جو صرف اپنی چاروں گھومتی ہوئی نگاہوں سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ ہی حال پہلے امریکہ کا بھی تھا 911سے پہلے ہر آدمی وہائٹ کے چاروں طرف آزادی سے گھوم پھر سکتا تھا، اور یہ تک دیکھ سکتا تھا کہ صدر امریکہ اپنے کسی مہمان کو پچھلے گیٹ سے رخصت کررہے ہیں یا استقبال کررہے ہیں ۔ باقی عمارتوں میں مع پارلیمنٹ باہرگھومتے پھرو، کوئی پوچھتاتک نہیں تھا۔ ابھی بھی وہاں یہ ہی عالم ہے کہ کچھ معمولی حفاظتی تدابیر مزید اختیار کی گئی ہیں ۔ جیسے کہ ابھی ہوا کہ وہاں بھی کسی نے اسی دن باونڈری کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو ٹرینڈ کتوں نے اس کا استقبال کر کے بھگا دیا۔ اس سے پہلے لوگ وہاں بھی جہاں چاہتے تھے نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے اور کوئی کچھ نہیں کہتا تھا کیونکہ اسلام اس وقت تک ایک امن پسند اور اچھا مذہب سمجھا جاتا ،حتیٰ کہ حساس مقامات پر بھی نماز پڑھنے سے کوئی نہیں روکتا تھا،ہم اسی دور میں ناسا کے ہیڈکوارٹر (ہوسٹن) میں گئے نماز وقت جارہا تھا، تو ہم نے ایک پرانے راکٹ کے بازو کے نیچے کھڑے ہوکرباجماعت نماز اداکی۔ نہ کوئی سکوریٹی کامسئلہ پیدا نہ کوئی پوچھنے آیا۔ جبکہ 911 کے بعد ہوائی اڈے پر اسی امریکہ میں باجماعت نماز پڑھتے ہوئے اماموں کو جو کسی میٹنگ میں جارہے تھے گرفتار کرلیاگیا۔،پھرنوبت یہاں تک پہونچ گئی کہ جہاز میں بیٹھے ہوئے کوئی کہہ دے کہ مجھے اس آدمی سے ڈرلگا رہا ہے تو سکوریٹی کامسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ وہاں یہ بے اعتمادی کیوں پیدا ہوئی چند نا عاقبت اندیش نام نہاد مسلمانوں کی حرکتوں کی وجہ سے ۔جس کے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔ اب کنیڈا کی سنئے! ہم جب یہاں آئے تو اپنی سابقہ روش کے مطابق بجائے مسلم کمیونٹی تک محدود رہنے کہ اسے اپنا وطن جانا اور اپنے آپ کو حسب سابق خدمت خلق کے لیے وقف کردیا، تو ہاتھوں ہاتھ لیے گئے۔ سب سے پہلے ہم ایک ملٹی کلچرل سو سایٹی میں شامل ہوئے، ایک تقریب کا پورا انتظام جسے کہ ایک مال میں منعقدہونا تھا ،جہاں چاروں طرف لوگ خرید فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی مال میں جو گول چکرے تھے ان میں سے ایک میں یہ تقریب منعقد ہو نا تھی ۔ہم منتظر تھے کہ پاکستان کی طرح ہٹو بچو ہوگی کہ ایک صاحب نے ہماری توجہ دلائی کہ پریمئیر صاحب تشریف لے آئے ہیں ،استقبال کرو !تو ہم نے دیکھا ایک صاحب عام سے کپڑوں میں ملبوس ہاتھ ہلاتے ہوئے چلے آرہے ہیں ۔ نہ آگے کوئی ہے نہ پیچھے کوئی ہے؟ البتہ اخبار والے اپنے کیمرے لے کر ضرور آگے بڑھے جس سے ہم پہچان گئے کہ یہ ہی پریمیر (وزیرِ اعلیٰ) ہیں ۔ جبکہ ہمارے یہاں معاملہ قطعی مختلف ہے کہ وی آئی پیز کے گھوڑے تک قومی ایر لائین سے آتے جاتے ہیں؟ اور ہر رکن خود ہی نہیں بلکہ اس کے دورداز کے رشتہ دار بلکہ اس کے اہلِ شہر تمام سرکاری وسائل استعمال کرتے ہیں اور قومی خرچے پر انہیں پورا پور ٹوکول دیا جاتا ہے۔ لہذا ہمیشہ پو لس کم پڑ جاتی ہے ۔ اکثر اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کے لیے پولس بچتی ہی نہیں ہے ۔ ابھی کراچی میں ایک جلسہ تھا تو ستار ایدھی صاحب کا دفتر جس میں خیراتی مال تھا وہ لٹ گیا، آس پاس کوئی تھا ہی نہیں سب اس میں مصروف تھے ۔اگرہو تابھی تو کیا کرتا وہ کہیں چھپک جاتا اور واردات کے بعد آتا ؟ اسی طرح ایک سرکاری مشیر کی منگنی میں پہلے ہوا کہ دہشت گرد اپنے ٹارگٹ تک پہونچ گئے اور پولس وی آئی پیز کی ڈیوٹی میں جو منگنی میں شرکت کرنے گئے تھے مصروف تھی۔ خیر یہ تو وہاں کے اپنے رواج ہیں جو کہ صدیوں سے چلے آرہے ہیں ۔ مگر وہ آزاد دنیا جس نے ہم پر ترس کھاکر شہریت دی ہے ؟اگر ہم اس پر رحم نہ کھائیں تو کم ازکم خود پر ہی رحم کھالیں کہ ہمارے ملکوں کے بجٹ کا بڑا حصہ باہر کام کرنے والوںکے ذریعہ پورا ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے نام ونہاد مسلمان ممالک اگر کوئی ان کی تا حیات بھی خدمت کرے تو شہریت دینے کو تیار نہیں ہیں ۔ کہیں ہم اپنی حرکتوں کی وجہ سے ایسا نہ ہو کہ اِنہیں بھی بار دکھائی دینے لگیں اور یہ بوجھ اتارنے کی سوچیں۔ کیونکہ جب یہاں سکوریٹی بڑھانا پڑے گی تو خرچہ تو عوم کی جیب پر آئے گا۔ جیسے کہ ١١٩ کے بعد ہوائی اڈوں کی حفاظت بڑھانے پر اکثرکم فاصلوں پر ٹکٹ سے ٹیکس زیادہ ہوگیا ہے۔ جبکہ ہمارے لوگ جو بھی مسجد میں آجا ئے اور کہے کہ میں اسلام قبول کر نا چا ہتا ہوں تو بچھ جا تے ہیں ۔ کوئی تحقیق نہیں کرتے کہ اس کا کریکٹر کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو پیشہ کے طور پر اختیار کیا ہوا ہے۔ شہر شہر گھومتے ہیں اور بے حساب لوگ مسلمان ہوتے رہتے ہیں۔ ہم ان کی شمولیت پر نعرے بھی لگا تے ہیں ،پتہ جب چلتا ہے جب کو ئی واردات ہوجاتی اور میڈیا اچھالتا ہے کہ فلاں حال ہی میں مسلمان ہوا تھا۔ہماری اس فراخدلی سے وہ بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جو انہیں غلط استعمال کر کے اسلام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں ۔ اب ان صاحب کو ہی دیکھئے جن کا اصل نام Michael Zehaf- Bibeau جس سے انکا مذہب ، قبیلہ دونوں ظاہر ہیں کہ وہ افریقن ہیں۔مگر انہوں نے اپنے نام کے ساتھ کبھی کچھ اور کبھی کچھ لگایا ہوا تھا ۔اس میں احمد کنورٹیڈ بھی شامل تھا۔ جب کہ وہ لبین نزاد کنیڈین تھے اور ان کا تعلق کیوبک سے تھا۔ مانٹریال میں اچھے خاصے ًاوڈ جاب ً کر رہے تھے۔ جس میں یہاں سب سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ یعنی ٣٣۔ ٣٥ ڈالر فی گھنٹہ جبکہ کلرک ساڑھے آٹھ ڈالر پاتا ہے۔ان کو کہیں سے کوکین کے نشے کی لت لگ گئی ۔ نشے کی خربی یہ ہے کہ جو نشئی کے من میں سمجھا ئے وہی اسے بھائے، اچھا خاصا روزگار چھوڑ کر ان کے دماغ میں یہ سمائی کہ تھوڑےدن میں جیل رہ آؤ ں تاکہ میری اصلاح ہو جا ئے ۔ وہاں سے چل کر وہ ہمارے صوبے برٹش کولمبیا میں آگئے ،اور جیل جانے کی کوششوں میں لگ گئے۔ بار بار پکڑے گئے عدالتوں میں پیش ہوئے سزایں ہوئیں ، خلاف معمول انہوں نے جیل سے باہر آنے پر انکار بھی کیا، مگر اہل کار ایک اچھے خاصے آدمی کو پاگل کیسے مان لیتے ،جو نشہ پی لیتا تھا تو پاگل ہو جاتا تھا۔ وہیں انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا وہ سات سال پہلے مسلمان ہو گئے تھے۔وہ جیل اس لیے جانا چاہتے ہیں کہ وہاں علاج ہو جائے اور وہ واپس آکر اچھے شہری بن جا ئیں ؟ ان کی اس انوکھی چاہت نے نہ جانے کتنی کہانیوں کو جنم دیا چونکہ معاملہ عدالت کے سامنے ہے اور وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ کونسی وجہ تھی جو ان کو قومی قبرستان لے گئی اور پھر انہوں نے پارلیمنٹ کا رخ کیا اورمارے گئے۔ یہ بھی اخباری رپورٹ ہے کہ وہ اس پر شاکی تھے کہ ان کے ساتھ کنیڈا میں کوئی اچھا بر تاؤ نہیں ہوا۔ جبکہ مسلمان ملک میں بہت قدرہے اور انہوں نے پاسپورٹ کے حصول کے لیے درخواست دی جوکہ ان کرمنل ریکارڈ کی وجہ سے ہنوزجاری نہیں ہوسکا ۔ نہ جانے وہ اور کیا غضب ڈھاتے کے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ایک خبر یہ بھی کہ وہ ٹویٹر پر کسی دہشت گردکو کچھ دنوں سے پڑھ رہے تھے۔ واللہ عالم مگر ہماری ایک کنیڈین شہری ہونے کی حیثیت سے ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خود کو اس قسم کے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے ،مسجدوں کو مسافر خانہ نہ بننے دین کہ جو آئے وہ ٹھہر جا ئے ۔ اسلام کو بھی اسطرح نہ فروغ دیں کہ جو آجائے اس کوبغیر تحقیق کے مشرف بہ اسلام کر لیں۔ پہلے اچھی طرح تحقیقات کریں کہ وہ کیوں مسلمان ہونا چاہتا ہے اس سے پولیس کلیرنس منگوائیں پھر کچھ کریں۔ کیونکہ اب مسلمانوں کو تعداد بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جو ہیں ان میں اسلامی اقدار اور اوصاف پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ لوگ اصل تعلیمات کو سمجھیں اور جزباتی ہوکر دہشت گردوں کے اعلیٰ کار نہ بنیں اور اسلام کی بدنامی کاباعث ہوں ۔ اللہ سحانہتعلیٰ ہم سب کو بصیرت اور ہدایت دے (آمین)
|