اکتوبر دوہزار چودہ کے اوائل سے ہی سے جب مجھے پاک ایران سرحدوں سے متعلّق اچھّی خبریں نہیں پڑھنے کو مل رہی تھیں اور بالآخرایک دن ایران کی جانب سے پاکستانی سرحد پرگولہ باری نتیجے میں ایک پاکستانی فرنٹئر اہلکار کی شہادت کی خبربھی میرے لئے باعث ملال تھی اور میرا دل عجیب عجیب واہموں میں مبتلا ہو گیا تھا ان خبروں کی صداقت کی کہیں سے کوئ خبر ملنی ممکن نہیں تھی کیونکہ ہمارے سرکاری میڈیا پر ان افراد کا قبضہ ہے جو صرف سامراج کے ہاتھوں بکے ہوئے غلا م ہیں اوراسی سامراج کی غلامی میں ہم نے تمام دوست ممالک سے منہ موڑ کر ہی سامراجی غلامی کا طوق خوشی خوشی پہنا ہوا ہے بہر حال ان تشویش ناک خبروں نے مجھے کئ دن یقین اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کیے رکھّا لیکن جب میں نے ایران کی جانب سے تردید کی خبر پڑھی تب جا کر مجھے یہ یقین آ سکا کہ پاک ایران تعلّقات کا در پردہ دشمن کوئ ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان اتّحاد و بھائ چارگی کے کچھ ناکچھ رشتے کے خلاف ہے ایران کے مجلس شورائے اسلامی کے، خارجہ پالیسی و قومی سلامتی کمیشن کے رکن محمدحسن آصفری نے اسلام آباد کے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کا یہ مغالطہ ہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقے پر گولہ باری کی گئی ہے۔ انھوں نے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے کسی بھی قسم کی گولہ باری یا فائرنگ، انجام نہیں پائی ہے۔
محمدحسن آصفری نے کہا کہ اس مسئلے پر غور کیا جارہا ہے اور اس قسم کا اقدام، ممکنہ طور پر دونوں ملکوں کی سرحدوں پر موجود دہشتگردوں کی جانب سے انجام پاسکتا ہے۔ انھوں نے ایران اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی طرح کےاختلافات نہیں پائے جاتے اور دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں ہمیشہ دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات پر ہمیشہ تاکید کی جاتی رہی ہے،دوسری جانب ایران کے نائب وزیرخارجہ ابراہیم رحیم پورکا کہنا ہے کہ مملکت ایران اپنے دوست ملک پاکستان کے لئے تمام شعبوں میں استحکام کا خواہاں ہے۔
ایران کے نائب وزیرخارجہ ابراہیم رحیم پور نے اپنے دورۂ اسلام آباد میں پاکستان کے وزیراعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایران، تمام شعبوں میں توانا اور مستحکم پاکستان کا خواہاں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان طویل مشترکہ سرحدیں موجود ہیں جن پر خاص طور سے توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔ ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیکیورٹی کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویش دور کرنے کےلئے ایک مناسب راہ تلاش کئے جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ مشترکہ سرحدوں پر بعض مسائل، بیرونی مداخلت سے مربوط ہیں۔اس ملاقات میں پاکستان کے وزیراعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے بھی کہا کہ ان کے ملک نے ایران کے خلاف کبھی کسی اقدام کی حمایت نہیں کی ہے اور دونوں ملکوں کی مشترکہ سرحدوں پر حالیہ کشیدگی میں ایسے ہاتھ کار فرما رہے ہیں جو ایران اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات کے سخت دشمن ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ایران کے نائب وزیرخارجہ ابراہیم رحیم پور، ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے پرآج اسلام آباد پہنچے ہیں ۔
اس سلسلے میں ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اس دہشت گردی کے حوالے سے دہشت گرد تنظیموں جیش العدل اور جند اللہ کی دہشت گردی کے حوالے سے ٹھوس دستاویزی ثبوت موجود ہیں ،ایران کے اس دعوے کو اگر سچّا مانا جائے تو یقیناً یہ مسلح دہشت گردوں کے گروہ دونوں ملکوں کی سرحدوں پر اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں جس کے لئے دونوں ملکوں کو اپنی اپنی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہو گا کیونکہ ایران اور پاکستان کے مابین ایک طویل سرحدی راہداری موجود ہے ۔
اکتوبر کے پہلے ہفتے سے جاری تنازعے میں اب تک ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے کئی واقعات ہو چکے ہیں ؛ تاہم یہ خبر نہایت غیر معمولی اور دونوں ممالک کے درمیان اس علاقے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی نشاندہی کرتی ہے کہ گزشتہ دنوں میں پاکستان نے بھی جواباً ایران پر گولہ باری کی۔ گزشتہ ہفتے کچھ دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے ایرانی سکیورٹی فورس کے تقریباً 30 اہلکار سرحد عبور کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہو گئے تھے ۔ ایرانی اہلکاروں کی اس دراندازی بقول میڈیا پاکستان کی فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار شہید ہوگیا تھا۔میڈیا حسب معمول اپنی مخاصمانہ پالیسی کے سبب یہ بتانے سے قاصر رہا کہ پہلے ایرانی علاقے میں پاکستان سے دہشت گردانہ کارّوائ ہوئ بلکہ اس کے جواب میں پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران سے احتجاج کیا جس کے نتیجے میں بدھ کو تہران میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا ایک دور ہوا جس کا مقصد خفیہ معلومات کا تبادلہ کر کے سرحدی تناؤ کی حالیہ صورت حال پر قابو پانا تھا۔ لیکن یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بدھ کی ملاقات میں سفارت کار اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے لوگوں کے بارے میں معلومات کے تبادلے سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ تہران میں سرکاری افسران کا ایک عرصے سے یہی کہنا ہے کہ پاکستان سرحد پار سے ایرانی علاقوں میں حملے یا تو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا اس سلسلے میں یا اس سلسلے میں دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہے ۔ ایران کئی مرتبہ الزام لگا چکا ہے کہ پاکستان مبینہ طور پر خلیجی ریاستوں کی ایما پر اپنے ہاں ایسے ایران مخالف عناصر کو پناہ اور مدد فراہم کرتا ہے جو تہران کے لیے عدم استحکام کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے ایسے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے ۔ فیصلہ کن موڑ پاکستان اور ایران کے درمیان جاری سرحدی تنازعے کا مرکزی کردار ’ جیش العدل ‘ نامی تنظیم ہے۔ بلوچ سنیوں پر مشتمل یہ گروہ ایران کے سب سے غریب علاقے سیستان بلوچستان میں حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت میں مصروف ہے ۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ جیش العدل دراصل ایرانی بلوچ تنظیم جنداللہ سے نکلا ہوا ایک گروہ ہے جسے امریکہ نے2010 ء میں دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔ جنداللہ 2003 ء میں منظر عام پر آئی تھی اور یہ وہی تنظیم ہے جو صدر احمدی نژاد پر قاتلانہ حملے سمیت ایرانی حکومت کے خلاف مہلک ترین کارروائیاں کر چکی ہے ۔ اس گروہ نے اپنا سب سے بڑا حملہ18 اکتوبر 2009 ء کو سرحدی قصبے پشین میں کیا تھا۔ اس دن ایک خود کش بمبار نے ایک جرگے پر حملہ کر دیا تھا جس میں ایرانی بلوچ قبائل کے سردار اور پاسدارانِ انقلاب کے رہنما شریک تھے ۔ ایران کا کہنا تھا کہ خود کش بمبار سرحد پار پاکستان سے آیا تھا۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں پاسدارانِ انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر نور علی شوستری بھی شامل تھے جو ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی تھے ۔ یہ حملہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تناؤ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ بڑے اختلافات یہ محض اتفاق نہیں کہ جیش العدل نے حالیہ حملے پشین حملے کی پانچویں برسی پر کیے ہیں۔ پانچ برس پہلے کی طرح، اس مرتبہ بھی پاسدارانِ انقلاب کے بڑے کمانڈروں کا یہی کہنا ہے کہ وہ ان حملوں پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور پاکستان پر سخت دباؤ ڈالیں گے ۔ یقینا یہ پاکستان کی جانب سے مدد کا نتیجہ ہی تھا کہ پشین پر حملے کے چار ماہ کے اندر اندر ایران ، جنداللہ کے کمانڈر عبدالمالک رِجی کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اسے جون 2010 ء میں تہران میں پھانسی دے دی گئی تھی۔اس تناظر میں حالیہ دنوں میں ایرانی سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کا دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستانی سرحد کے پار آ جانا اور پھر پاکستانی علاقے کے اندر گولہ باری کرنا، یہ اسی قسم کی کارروائیاں ہیں جو ایران نے پشین حملے کے بعد بھی کی تھیں۔
لیکن اس مرتبہ ایک بڑا فرق یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھی ایرانی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے ۔یہ تمام آثار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے چاروں جانب سے نادیدہ دشمنوں کا سامنا ہے اور اگر پاک ایران کسی تنازعے میں الجھ کر محض جھڑپوں کو ایک جنگ میں بدلتے ہیں تو اس میں فائدہ صرف دشمن کا ہوگا عدم استحکام کا شکار پاکستا ن مذید تنزّلی کی جانب چلا جائے گا میرے خیال میں پاکستان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے پاکستان کے رویے میں تبدیلی آ گئی ہے ۔ لگتا ہے کہ گزشتہ ہفتوں سے چونکہ پاکستان کو افغانستان اور بھارت کے ساتھ سرحدوں پر جھڑپوں سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے ، اس لیے اس وقت پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایران کی سرحد پر اپنا چیک نظام بہتر بنائے اور اپنے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کی بھر پور کارّوائ کر ے ۔ گزشتہ ایک دہائی کے واقعات پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ پاکستان اور ایران دونوں نہیں چاہتے کہ سرحد پر ان کی حکومتوں کو سرحدی تنازعات میں الجھنے کی نوبت آئےکیونکہ ہمارا ازلی دشمن ہم مسلمانوں کی گھات لگائے ہوئے ہے۔
رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے متوقّع مذاکرات میں اس طویل سرحدی لائن کو محفوظ بنانے کے لئے منصوبہ بندی کی تجاویز و اختیارات زیرِ غور لائے جائیں گے اور مجھے یقین ہے کہ ایران کی مدبّرانہ صلح جُو پالیسی کے تحت یہ سنجیدہ مسئلہ ضرور حل کر لیا جائے گا پاکستان کے خارجہ پالیسیز کے مشیر کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے ایران کے ساتھ دوستانہ رشتے نباہنے کی کو شش کرتا رہا ہے اور ابھی بھی یہی چاہتا ہے ۔