15.10.2026, 02:16pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » عالم آرا
 

سمجھ نہیں آتا ۔کس طرح خود کش سیکیورٹی پار کر جاتا ہے۔ از۔ عالم آرا
05.11.2014, 02:00pm , بدھ (GMT+1)

عالم آرا ۔ وینکوور
سب سے پہلے تومحرم الحرام کا مہینہ ہے ہماری دعا ہے کہ سب طرف عافیت رہے اور یہ سال اور آنے والے سب سال ہمارے لئے اور ہمارے ملک کے لئے امن لے کر اآئیں ِآمین جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے لیکن نوشتہ دیوار پڑھنے کو کوئی تیار نہیں ہے ۔ جو کچھ واگہ سرحد پر ہوا ۔انتہائی قابل مزمت اور قابل نفرت فعل ہے ۔کئنی معصوم اور قیمتی جانیں قربان ہو گئیں ۔حکومنت اور اس کے ادارے ایک دوسرے پر بیان بازی میں مصروف ہو گئے جو ان کا وطیرہ ہے ۔ہم تو صرف اس بات پر حیران رہ جاتے ہیں کہ جب پہلے سے خبر مل جاتی ہے کہ کچھ ہونے والا ہے پھر کیوں آنکھیں میچ لی جاتی ہیں ۔آنکھیں بند کرنا ہم نے اس لئے نہیں لکھا کہ آنکھیں بند تو جب ہوتی ہیں جب کچھ پتہ نہ ہو جب پتہ ہو اور کچھ نہ کیا جائے تو اُسے تو آنکھیں میچنا ہی کھینگے کہ نظر بھی آتا رہے اور کچھ نہ بھی نظر آئے ۔یہ بڑے المئیے ہیں جن سے ہماری قوم گزر رہی ہے ۔ہم تمام مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں ۔کیا گزری ہوگی ان پر جن کے خاندان کے نو اور پانچ افراد ایک ساتھ ۔ساتھ چھوڑ گئے ہم تو سوچ کر بھی آبدیدہ ہیں انکی بے بسی اور بے چارگی ۔
کہاں کمزوری ہے سمجھ نہیں آتا ۔کس طرح خود کش سیکیورٹی پار کر جاتا ہے پتہ نہیں چلتا۔جب تک حکومت ٹھیک نہیں ہوگی یہ سب کچھ یونہی چلتا رہے گا ۔خدانخواستہ 
جو بھی حق بات کرتا یا حق کا ساتھ دیتا ہے اُسے منظر نامے سے ہٹا دیا جاتا ہے جیسا کہ آج کل ھو رہا ہے ۔کیونکہ احتساب یہاں کسی صاحب اقتدار کو برداشت نہیں ۔بلکہ شاید کسی بھی بڑے عہدے دار کو برداشت نہیں کہ اُس کی پوچھ گچھ ہو ؟؟؟÷
 افسوس بس یہ ہی ہے کہ کاش نو من تیل ہوتا اور رادھا ناچ لیتی ۔کہ جب تک ہمارے سیاسی بٹیرے جائے پناھ حاصل کرتے رہپینگے یہ ہی حال رہے گا ۔جو کوئی احتساب کی بات کرے کوئی اسکا ساتھ نہیں دیتا کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں جہاں بھی پیچھے دیکھیں یا تو کرپشن کی کہانی ہے یا بے ایمانی کی ۔اب بھلا جو لوگ گردن تک پیسے میں ڈوبے ہوئے ہیں وہ اپنی دولت کی چھان بین کیسے ہونے دینگے جنہیں غربت اور بھوک کا فرق نہیں پتہ وہ پورے پورے صوبوں کے مالک ہیں اور کہتے ہیں نہ ڈے سوں ۔ظاہر ہے کہ کوئی اپنی ملکیت کیسے چھوڑ سکتا ہے کہ ۔۔۔۔
جو کچھ ہو رہا ہے اس میں کہیں بھی برد باری اور متانت نظر نہیں آرہی استعفوں کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے وہ بھی عجیب ہی ہے ،کہتے ہیں کہ ہم قانون پر عمل کر رہے ہیں ۔اور قانون کچھ اور ہی کہہ رہا ہے اب ایک عام دماغ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ہمارے ملک میں بھلائی کا آنا اور سچائی کا پھیلایا جانا ایک کارِ مشکل ہی نہیں بے انتہاء مشکل ہے ۔ہر بات ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر اور ایک دوسرے کی تضحیک کر کے دریا میں ڈالی جارہی ہے ۔کیا ہم واقعئی خود کو تبدیل کر سکینگے ۔ ضرور ! اگر ہم ان کا ساتھ دینگے جو حق بات کرتے اور خود کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہیں ۔جب تک خود صاف نہ ہوں صاف لوگوں کو آگے نہیں لایا جاسکے گا ۔اس لئے اگر ملک اور قوم کے لئے کچھ کرنے کی خواہش جاگ ہی گئی ہے تو اسے سلاؤ نہیں بلکہ اس میں طاقت بھرو کہ اگر اب بھی کچھ نہ کر سکے تو شاید بچہ جمہورا کی قسمت کبھی نہ بدل سکے گی ۔اور نا تجربہ کاری ہمیں لے ڈوبے گی ۔کل کے بچوں سے توقع بہت ہے لیکن پہلے انہیں تجربے کی منزلوں سے گزارو تو ۔گڈلیاں چلتوں کو بھگاؤگے تو گرینگے اور بہت بری طرح گرینگے ۔ہم تو صرف مشورہ دے سکتے ہیں اور وہ بھی انہیں جنہیں شاید اسکا مطلب بھی پتہ نہیں ہوگا ۔عقل مندوں کو اشارہ کافی ہوتا ہے ۔
حکومت کہہ رہی ہے کہ معاشی حالت بہتر ہو رہی ہے دوسری طرف نوید دی جا رہی ہے کہ قرضہ منظور ہو گیا ہے جلد کھیپ پہنچنے والی ہے بس ہماری ترقی اسی پر منحصر ہے کہ قرضے بڑھائے جاؤ اور ترقی کی چھلانگیں لگائے جاؤ ،،،
ہمارا دل تو یہ دکھتا ہے کہ ملک کی خاطر جب کوئی ایک شخص ہمدردی اور ایمانداری سے کھڑا ہوتا ہے تو کیوں اس کا ساتھ نہیں دیا جاتا کیوں ٹکڑوں میں  بٹ جاتے ہیں ؟؟ کیا ملک سے ہمدردی اور عوام کی فلاح کا سوچنے والے سب دماغ ایک پلیٹ فارم پر نہیں آسکتے ؟ بس یہ ہی وہ مقام پہے جہاں ہمیں عوام کا درد رکھنے والے بہت سے لوگ  منافقت کرتے نظر آتے ہیں ۔کیونکہ اگر برائی کے خلاف کھڑا ہونا ہے تو سب کو ہمت کرنی چاہئے ،
ایک اور مزیدار خبر ہم نے پڑھی کہ گلو بٹ کو گیارہ سال کی قید اور ایک لاکھ روپئے جرمانہ کیا گیا ہے آپ سوچینگے اس میں مزیداری کہاں سے آگئی تو ہم معزرت چاہتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ بھی بیچارہ گاڑی تورنے کے مجرمانہ فعل پر سزاوار ٹہرا ہے لیکن اُسی دن گیارہ لاشیں گرانے والے جو کیمروں کے سامنے موجود بھی تھے اُن میں سے کسی کو سزا نہیں ہوئی ابھی تک ۔ جن پر ایف آئی آر کٹی وہ نام ہیں بہت وزن دار ۔طاقتور ۔۔۔کیا انصاف ہے کہ یہاں بھی کم گناہ کرنے والا سزا وار ٹہرا اور بڑے ابھی بھی بچ گئے ؟؟ کہ جان لینے سے زیادہ سخت ہے کار توڑنا ؟؟؟؟
ہم ہر وقت ایسے ہی فیصلوں کو سنتے اور حیران ہوتے ہیں پی ٹی وی پر کس نے حملہ کیا کیوں کیا کیسے کیا کہیں پتہ نہیں ۔جس نے بھی کیا سامنے تو لانا چاہئے ۔اب تو کیمرہ ہر ہر لمحے کو اپنے اندر محفوظ کرتا ہے پھر بھی فیصلے مشکل ہوتے ہیں کیوں ۔؟ ہمیں گلو بٹ سے کوئی ہمدردی نہیں ہمیں تو صرف یہ سوچ کر افسوس ہوا کہ بڑے گنہگار کس طرح بچ جاتے ہیں کہ ان پر کوئی کیس بنتا ہی نہیں ؟؟اور جو بنتا ہے اُسکی کار روائی اتنی لمبی ہوتی ہے کہ اگلی حکومت آجاتی ہے اور سب کچھ لپیٹ دیا جاتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم انصاف سے دور ہو رہے ہیں ۔یا کم از کم اُسے دیکھ نہیں پا رہے ۔
ہم نے کرکٹ میچ جیت لیا بہت خوشی ہوئی لیکن اسکا سہرا ہر کوئی اپنے سر باندھ رہا ہے ۔اور ہم ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہیں کہ بس ہم اسی طرح تیار حلوے کھانے کے عادی ہیں ۔اللہ ہمارے ملک کا نام روشن رکھے ۔اور اسکا نام روشن کرنے والوں کو سر خرو فرمائے آمین 

:دیگر مضامین
(14.10.2014) تجھ کو کسی کی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ۔۔ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا 
(30.09.2014)  انتظار انتظار اور انتظار۔۔۔۔ از :‌عالم آرا ۔۔ وینکوور۔ کینیڈا
(08.09.2014) پارلیمنٹ اور اس کا احترام ۔۔۔۔۔ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور۔ کینیڈا
(26.08.2014) ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم نے ہر بات کو مزاق بنا لیا ہے۔از ۔عالم آرا
(19.08.2014) اگر عوامی مینڈیٹ ہے تو پھر ڈر کیسا؟؟از۔۔۔۔ عالم آرا
(22.07.2014) مسلمانوں پر مشکل وقت ۔۔۔۔ از: عالم آراء ۔ وینکوور
(07.07.2014) بیک ڈور پچھلا دروازہ ۔۔۔۔ از؛ عالم آراء ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(01.07.2014)  ٹانگ مت کھینچو حکومت کرنے دو ۔۔از:‌عالم آراء ۔ ویکوور ۔ کینیڈا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں