ہم اکثر حیران ہوتے ہیں اپنے حکمرانوں کی باتیں سُن کر ،وزیرِ اعظم چین گئے ہیں کہتے ہیں کہ بجلی لینے جارہا ہوں واپسی پر اتنی روشنی ساتھ ہوگی کہ لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائیگی ۔ہم حیران ہیں کہ ایک ایٹمی ملک اتنی بجلی بھی نہیں بنا سکا کہ اپنے ملک کو روشن کر لیتا لیکن ہمارے یہ حکمران ہر لمحہ ہمیں یہ یاد دلانے سے نہیں چوکتے کہ دیکھو ایٹمی دھماکہ ہم نے کیا تھا ۔بالکل صحیح ایٹمی دھماکہ اآپ کے دور میں ہوا مگر کیا اس سے جو فائدے اُٹھائے جا سکتے تھے ہم نے اُٹھائے ہم جو ایک ایٹمی طاقت ہیں جو شاید ساری دنیا میں چند ملکوں ہی کے پاس ہے مگر اُن ممالک نے اسے اپنی طاقت بھی بنایا اور ملک کی ترقی کے لئے استعمال بھی کیا لیکن ہم صرف دھماکہ کر کے خوش ہوگئے ۔بے شک بہت خوشی کی بات ہے مگر ایک ایسا ملک جو ایٹمی طاقت رکھتا ہو اُسے طاقتور بھی نہیں ہونا چاہئے ؟؟
ہمارا خیال ہے کہ چائنا سے روشنی لانا کچھ عجیب سی بات ہے یہ معاہدے کب پورے ہونگے ۔کب ان پر عمل دراآمد کیا جائیگا ۔یہ سوال ہیں جن کا جواب ملنا چاہئے مگر پوچھے گا کون ؟ یہ بھی ایک بڑا سوال ہے ؟؟
واپس اآتے ہی وزیرِ اعظم صاحب جا رہے ہیں جرمنی وہاں سے کیا لائینگے یہ ابھی بتایا نہیں شاید وہاں سے بھی کچھ ایسی چیزیں اآئینگی جو ملک میں نہیں ہیں ۔ ہم تو یہ ہی نہیں سمجھ پاتے کہ ہم جا کدہر رہے ہیں ؟ ملک میں وہ باتیں ہورہی ہیں جو کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں ہیں ۔اس دورے کے بعد جائینگے برطانیہ ۔کہتے ہیں تم دھرنے دو ہم تو ملک کو بنا رہے ہیں ۔دوروں سے جنت نظیر ۔۔۔ اب ہم کیا کہیں سوائے یہ یاد دلانے کے کہ آپ نے کہا تھا ۔۔ ‘اے طائرِ لا ہوتی ‘ شعر تو اقبال کا ہے مگر آپ نے الیکشن سے پہلے یاد دلایا تھا ۔ لیکن الیکشن کے بعد آپ بھول گئے ہیں ہم اس لئے آپ کو یاد دلا رہے ہیں کہ کاسہ پھیلانے والے نیچے سے نیچے ہی جاتے رہتے ہیں اور انہیں احسا س نہیں ہوتا ۔اللہ نے ہمارے ملک کو وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے کاش آپ ملک میں رہ کر ملک کی دولت ہی سے کام لیتے ۔ان دوروں پر جو خرچ ہے وہ ہی بہت سے ٍڈیم بنا دیتا ۔
ایک انتہائی تکلیف دہ خبر پڑھی کہ ایک مسیحی جوڑے کو بے دردی سے جلا دیا گیا ۔بے حرمتی کرنے پر ۔ہم کیسے مسلمان ہیں جو اپنا غصہ ان کمزوروں پر نکالتے ہیں جو ہمارے ملک میں گنتی کے ہیں جب کہ ہمارا منصب تو یہ ہے کہ نرمی محبت اور بھائی چارے کا درس دو ۔کمزوروں پر رحم کرو در گزر سے کام لو ۔فساد سے بچو بھی اور بچاؤ بھی ۔مگر شاید ہم نے آنکھیں موندھ رکھی ہیں کہ ہمیں ان تمام باتوں سے کوئی سرو کار نہیں ، لوگوں میں اتنی بے دردی اور بے رحمی کس طرح اآرہی ہے شاید اس لئے کہ موت سے غافل ہیں جواب دہی سے بے فکر ہیں ۔قانون سے ڈرتے نہیں کہ پتہ ہے کہ قا نون بہت کمزور ہے حکومت کی فکر نہیں کہ وہ ایسے معاملات کو گھاس ہی نہیں ڈالتی بس کمیشن بن جاتا ہے اور بے فکری ۔۔۔ ہمیں دُکھ ہے کہ یہ روئیے ہمارے لئے زہر سے کم نہیں ہیں کہ نہ صرف ہماری اقدار روندی جا رہی ہیں بلکہ ہمارے پیارے مذہب اور دینی شناخت کو بھی مسمار کیا جارہا ہے ۔ان باتوں پر سختی سے نوٹس لینا چاہئے تاکہ لوگ اس قسم کی حر کتوں سے باز رہیں اور ہر بات میں مذہب اور دین کو بیچ میں نہ لائیں ۔اگر دیکھا جائے تو ہمارے سامنے خود ہم مسلمان بھی بہت سی باتوں میں گرفت میں لائے جا سکتے ہیں جو بے ادبیاں ہم جانے انجانے میں کرتے ہیں ۔اوپر آیت لکھی ہوتی ہے نیچے کچرے کے ڈھیر ہوتے ہیں ۔ اخباروں میں اللہ اور نبی کا نام درود اور اکثر اسماء الحسنیٰ لکھے ہوتے ہیں اور اخبار زمین پر پڑا ہوتا ہے اور پھر ری سائیکل میں بھی جاتا ہے ۔اگر ان باتوں پر اآواز اُٹھائی جائے کہ یہ بے ادبی ہے اس سے بچیں تو کوئی سنتا نہیں ۔ہماری استدعا ہے کہ اپنے اندر نرمی اور بھائی چارہ پیدا کریں ۔بحیثیت قوم اپنی شناخت کو متحد ہو کر اور اخلاق اور رواداری سے دوبارہ زندہ کریں کہ زندہ قومیں ہر لمحہ خود کو بنانے اور سنوارنے میں مصروف رہتی ہیں ۔اور ہم تو اُس نبی پاک کی امت ہیں جس کے درگزر اور محبت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا ۔جو صرف مسلمانوں کے لئے نہیں سارے جہان کے لئے رحمت بن کر آئے تھے ۔جنہوں نے غریبوں کو بلا امتیاز ملک و مزہب اپنی محبت سے نوازا تھا ۔ جہاں رحمت کا یہ عالم تھا کہ ہر ایک کے لئے تھی اس میں دشمن بھی شامل تھے ۔اور یہ ہی وجہ تھی کہ ہمارا مذہب پھیلا تھا زور زبردستی سے نہیں بلکہ حسن خلق اور محبت سے ۔
ملک میں سیاسی گھما گھمی اسی شان سے جاری ہے ۔لیکن جن باتوں پر توجہ دی جانی چاہئے وہ لپیٹ دی جاتی ہیں ۔الیکشن کمیشن ابھی تک بے سربراہ کے ہے ۔جن کے نام لئے جارہے ہیں وہ کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں کہ ہمیں معاف کرو ۔۔ ہم تو بس دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ ملک کی تقدیر بدلنے والوں کا ساتھ دے اور ہمارے ملک کو روشن اور طاقتور بنا دے کہ ہمارے کشکول ٹوٹ جائیں اور ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں ۔انشاء اللہ