16.10.2026, 12:54am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

ان کو نہ  ہر گزناپئے اسوہ رسول (ص) سے ۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی
15.11.2014, 01:20am , ہفتہ (GMT+1)

شمس جیلانی
       ایک زمانہ تھا کہ لندن کی دنیا میں کلیدی اہمیت تھی۔ جوکہ دوسری جنگ عظیم بعد باقی نہیں رہی مگر اب بھی تمام ممالک کے لوگ اس کو سازشوں اور منصوبہ بندی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ ان سب کی وہ ثانوی رہائش گاہ بھی ہے۔ آجکل وہاں ایسا ہی دو گروپوں کا اجتماعِ ضدین برپا ہے جو کہ پاکستان میں کبھی لڑے اور کبھی ملے رہتے ہیں ۔مگر جب لندن جاتے ہیں تو ایک ہوجاتے ہیں جو اس سے ظاہر ہے کہ تھہرنے کے لیے وہ ہوٹل بھی ایک ہی چنتے ہیں ۔ جبکہ پاکستانی میڈیا کو اس پر اعتراض ہے کہ جب وہاں گھر ہے تو ہوٹلوں میں کیوں ٹھہرتے ہیں ،پاکستان جیسے غریب ملک پر بوجھ کیوں ڈالتے ہیں ؟اور ان کو ملاتے ہیں مدینہ کی پہلی اسلامی سلطنت کے سربراہ (ص)سے کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان (ص) کے اسوہ حسنہ کومسلمانو کے لیے کافی فرمایا ہے ۔ جو کہ اتنا طویل ہے کہ اس چھوٹے سے مضمون میں نہیں آسکتا۔ ایک جھلک دکھا دیتا ہوں وہ (ص) پہلے بھی فقیروں کی جھولی بھرتے تھے اپنی خالی رکھتے تھے پھر حکومت  ملی توبھی خود فاقے سے رہتے تھے اور سائل کو خالی ہاتھ جانے نہیں دیتے تھے بیت المال با قاعدہ بنا نے کی انہیں حاجت اس لیے پیش نہیں آئی کہ ابھی ضرورت مند زیادہ تھے اور مال کم تھا، صبح سے شام تک جو کچھ ان (ص)  کے پاس کہیں سے آتا شام تک کچھ باقی نہیں بچتا تھا۔ پھر ان کے بعد مسلمانوںکے سربراہ حضرت ابوبکر (رض) بنے انہوں نے مال رکھنے کے لیے ایک کوٹھری تو بنا ئی اور ایک بڑا سا تالہ بھی اسے لگا دیا۔ لوگ سمجھتے رہے کہ اس میں بہت مال ہو گا، مگر ان کے نزدیک اپنے مقابلے میں نبی (ص) کے اسوہ حسنہ کے مطابق عوام کی ضروریات زیادہ اہم تھیں ۔ جب ان کے وصال  کے بعداسے کھولا گیا تو ا س میں  صرف ایک درہم تھا۔ انہوں نے اپنا دور یہاں سے شروع کیا کہ حکمراں منتخب ہونے کے بعد بھی اپنا کاروبار نہیں چھوڑا اور حسب دستور جب پہلے دن وہ اپنے مال ِ تجارت کو کندھے پر ڈال کر بازار کی طرف چلے تو لوگوں نے کہا کہ اے امیر المونین! اس طرح کام نہیں چلے گا ؟
 بہتر یہ ہے کہ آپ اب کارو بار چھوڑ دیں اور کچھ بیت المال میں سے لے لیا کریں ۔مگر انہوں نے گوارا نہیں کیا ۔ آخر ایک مرحلہ وہ بھی آیا کہ اپنے دور کے کامیاب ترین تجار اور سابق امیر ترین شخص کے گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی، تو انہوں نے شوریٰ کے مشورے اتنا لینا شروع کیا کہ جس سے روکھی سوکھی چلتی رہے۔ وہ بھی اپنے آخری وقت میں حساب کرکے اور اپنا مکان بیچ کر ادا کر یا۔ حضرت عائشہ (رض) جو کہ ان کی بیٹی اور وہ ام المونین (رض) تھیں جن کے حجرے میں حضور(ص) کا وصال ہوا۔ ان سے پوچھا کہ میرے آقا (ص) کے کفن کے لیے کتنے پارچہ جات تھے؟۔ جواب ملا تین تو فرمایا کہ میرے پاس چار ہیں دو میں پہنے ہوئے ہوں دو دھوکر رکھتا ہوں اس مرتبہ میں بیماری کی وجہ  سےنہیں کرسکا وہ دھوکر استعمال کر لینا اور ایک نیا بازار سے خریدلینا! انہوں نے فرمایا کہ ہم تینوں کپڑے نئے کیوں نہ خرید لیں؟ فر مایا نہیں !میں ایک بھی نیا استعمال نہیں کر تا مگر ہر مسلمان پر اپنے آقا (ص)کا اتباع فرض ہے۔ اور میرے پاس پرانا کپڑا تیسرا نہیں ہے ۔  میرے نزدیک نئے کپڑوں کے زندہ لوگ زیادہ مستحق ہیں۔اسی پر عمل گیا اور ان کے بعد بھی کسی کی جراءت نہ ہوئی کہ وہ ان کی وصیت کو تبدیل کر دیتا۔
اب دوسرے جانشین کی بات کرتے ہیں ۔ انہوں نے ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہو ئے دوبارہ تجربہ نہیں کیا اور شوریٰ کے کہنے پر اتنا لینے لگے جس سے وہ عام آدمی جیسا کھانا کھا سکیں۔ ایک دن بیوی نے میٹھا بنا لیا، تو پوچھا یہ کہاں سے آیا؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میں نے خرچے میں کچھ پسِ انداز کر کے بنایا ہے ۔ کہنے لگے اگر تمہارا روزینہ اتنا ہے جو اس میں سے پس انداز کرلیتی ہو تو اسے کم کر دیتا ہوں۔ لہذ ا اس کے بعداس سے کچھ کم دینا شروع کردیا۔ ان کے دورِ حکومت میں قحط پڑگیا تو انہوں نے وہ چیزیں یہ کہہ کر اپنے دسترخوا ن سی ہٹا دیں جو  کہ عرب عام تھیں جیسے کہ شہد، یہ فرماکر کہ یہ اب عام لوگوں کو میسر نہیں ہے۔ لہذا میں بھی استعمال نہیں کرونگا۔
 ظاہر ہے کہ ایسا شخص محل کیا بناتا دربان کہاں رکھتا۔ کبھی مسجد میں سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر سوجاتے کبھی کسی درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں اپنا عصاءسر کے نیچے رکھ کر سوجاتے ایسے میں ایک وفد با ریاب ہوا اس نے یہ دیکھا تو کہا کہ یہ شخص دنیا کو فتح کر لے گا؟
 ان کے زمانے  میں سرحدیں پھیلتی چلی گئیں اس زمانے کی دونوں سپر پاورزکو انہوں نے شکست دیدی۔ جو مال ان کے خزانوں میں بیکار پڑا ہوا تھا۔ وہ مال غنیمت کے طور اتنا آیا کہ رکھنے کی جگہ نہ رہی تو انہوں دنیا کے سامنے فلاحی مملکت کا تصور پیش کیا۔ بچوں، بیواؤ ں اور بوڑھوں کا، وظیفہ مقرر کر دیا ۔ فوج کو با قاعدہ تنخواہیں مقرر کیں اس پہلے با قاعدہ فوج نہیں تھی وقت پر لوگ شامل ہو جاتے تھے، جب فتح میں مال ِ غنیمت آتا تھا تو اسمیں سے خمس نکال کر باقی  سواروں دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ تقسیم ہو تا تھا۔ تنخواہ مقرر کرنے بعد ان کو حکم دیدیا گیا کہ وہ اسلامی مملکت مں کہیں زمین نہیں خرید سکتے(تاکہ ان کا دل اپنے فرائض منصبی میں لگا رہے ، تجارت اورمال کمانے میں نہیں) جو اہلکار تھے ان کے لیے ایک معیار مقرر ہوا کہ وہ ڈیوڑھی نہیں بنا ئیں گے ،دربان نہیں رکھیں گے چھنے ہو ئے آ ٹے کی روٹی نہیں کھا ئیں گے۔ موٹا جھوٹا پہنیں گےوغیرہ وغیرہ۔
 وہ مساوات کے اتنے قائل تھے۔ کہ جب بیت المقدس کے مذہبی رہنماؤں نے یہ شرط رکھی کہ ہم اس کو پرامن طور  سرنگوں کر نے کو تیار ہیں مگر شرط  یہ ہے کہ ہماری کتابوں میں جو فاتح کی پہچان لکھی ہم وہ ان میں پائیں۔ اس لیے وہ خود تشریف لا ئیں۔ انہوں نے خونریزی بچانے کے لیے دا رالحکومت چھوڑ دیا جس کو چھوڑنے سے پہلے شوریٰ نے منع کیا تھاجب وہ ایران کے خلاف لڑنے جا رہے تھے۔ اسوقت انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تجویز پر حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کو اپنی جگہ اس ہدایت کے ساتھ ایران بھیجا کہ تمہیں حضور(ص) قرابت کہیں مغرور نہ کر دے اور یہ معلوم کرتے رہنا کہ عوام تمہا رے میں کیا کہتے ہیں ؟
 لیکن اس مرتبہ وہ کسی کی نہیں مانے اور انہوں نے جانے کا فیصلہ کر لیا؟ جب یروشلم کے قریب پہونچے تو ایک منزل پہلے چند جنرل آگے بڑھے اور کہا کہ یہاں امراءزرق برق لباس پہنتے ہیں اور ان کے ساتھ فوجی دستہ ہوتا ہے آپ بھی لباس تبدیل فرمالیں اور ہم آپ کو لینے آئے ہیں۔ وہ یہ سن کر برہم ہوگئے فرمایا میں ایسے ہی جاؤنگا۔( کیونکہ وہ پہلے ہی دعا مانگا کرتے تھے کہ اللہ ہمارے اور ایران کے خلاف آگ کا سمندر حائل کردے تاکہ ہمیں ان کے خلاف لڑنا نہ پڑے کیونکہ ان کی برا ئیاں ہم میں بھی آجا ئیں گی اور ہم بھی تباہ ہو جا ئیں گے۔ اس کے توڑ کے لیے جیساہم نے اوپر بتا یا کہ انہوں یہ انتظامات کیے تھے)۔ ان کو واپس کر کے پھر وہ شان سے چلے کہ اونٹ ایک تھا،ایک دن و ہ سوار ہو تے تھے اور غلام اونٹ کی نکیل پکڑ کر چلتا تھا دوسرے دن غلام سوار ہوتا تھااور وہ نکیل پکڑ کر چلتے تھے۔ آج نکیل پکڑ کر چلنے کی ان کی باری تھی۔
اہلیاں یروشلم فصیل پر سے کھڑے ہو ئے دیکھ رہے تھے۔ اور منتظر تھے کہ فوج ساتھ ہو گی دھول آسمان کو چھوتی ہو ئی نظر آئیگی، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے ہے اوردوسراس پر بیٹھا ہوا۔ یہاں جو مسلمان ان کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے انہوں نے پہچان کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور کہا مرحبا یا امیر المونین تو انہیں اندازہ ہوا کہ جن کا انتظار تھا وہ ان ہی میں سے ایک ہے ۔ مگر انہوں نے بتایا کہ جو سوار ہے وہ غلام ہے، جو نکیل پکڑے ہو ئے ہیں یہ امیر المومنن ہیں۔ ان کے مذہبی رہنما نے کہا کہ یہ ہی ان کی پہچان ہماری کتابوں تھی۔ وہ باہر آئے اور اپنے جلو میں ان کو لیے ہوئے قلعہ میں داخل ہو گئے۔ اسی میں نماز کا وقت آگیا تو انہوں نے پیش کش کی کہ آپ یہیں ہماری عبادت گا میں نماز پڑھ لیجئے۔ انہوں کہا کے نہیں میں باہر جا کر پڑھونگا ،مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد مسلمان کہیں اس کو مسجد نہ بنا لیں ۔ انہوں نے عبادت گاہ سے باہر نکل کر سیڑھیوں پر جاکر نماز پڑھی جہا ںلوگوں کے پاؤں پڑتے تھے۔کچھ بچھایا بھی نہیں، جا ءنماز کا ان کے دور میں رواج شروع نہیں ہوا تھا ۔ حتیٰ کہ مسجد نبوی بھی ابھی کھجور کے چھپر کی تھی اور مساجد میں جب سجدہ کرتے تھے، تومتھے میں کنکریاں چبھ جا تی تھیں۔ یہ تھے فاروقِ اعظم جنکے دور میں دجلہ اور فرات تک کا علاقہ فتح ہو چکا تھا۔ اسی لیے انہوں نے وہ تاریخی جملہ فرمایا تھا کہ اگر فرات کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر جا ئے تو عمر ذمہ دار ہے؟
آخر اوروں طرح ان کا وقت بھی آپہونچا اور ایک معقول فیصلے کی وجہ سے ایک ایرانی غلام ناراض ہو گیا اس نے مسجد میں جاکر انہیں شہید کردیا۔ ان کی زبان مبا رک سے سب سے پہلی یہ بات نکلی کہ خدا شکر ہے کہ میرا قاتل مسلمان نہیں ہے۔ انہوں نے بھی پہلے والے کا اتباع کرتے ہو ئے حساب کتا ب کیا، جتنی رقم بیت المال سے اب تک لی تھی وہ اپنی ایک جائداد فروخت کر کے ادا کردی۔ انا للہ وانا علیہ راجعون ہ
 آپ یہ پوچھیں گے کہ آپ نے یہ قصہ یہاں کیوں دہریا ؟ پہلا جواب تو یہ ہے کہ" ان کو نہ ہرگز ناپئے اسوہ رسول (ص)سے۔ جو سر رتک اٹے ہوئے ہیں دنیا کی دھول سے"دوسرا جواب یہ ہے کہ ہوٹل میں اس لیے ٹھہرتے ہیں کہ رعب پڑتا ہے سرکاری خرچے پر۔

:دیگر مضامین
(08.11.2014) خود نہ بدلیں، مگرقرآن بدلنا چاہیں۔۔از۔۔ شمس جیلانی
(01.11.2014) شدت پسندی اور تبلیغ کرنے والی باجیاں۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(25.10.2014) مشرف بہ اسلام کرنے سے پہلے اچھی طرح پرکھیئے؟ از۔۔۔ شمس جیلانی
(18.10.2014) نوشتہ دیوار پڑھیے حکمرانوں کو مشورہ۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(11.10.2014) ایک درمند ِ ملت کا خط اور اس کا جواب۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
(05.10.2014) حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا مثا لی کنبہ۔۔۔۔  از۔۔ شمس جیلا نی
(27.09.2014) کام نہ پہلے کرتے تھے کام نہ اب کچھ کر نا ہو گا۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(20.09.2014) واقعی کیا جاگ رہا ہے پاکستان۔۔۔از ۔۔۔۔ شمس جیلانی
(13.09.2014) ذرا سوچیں آفات آسمانی ہم سے کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.09.2014) جھوٹوں کی لڑائی اس پر چوروں کی گواہی۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.08.2014) جھوٹ ، جھوٹ , جھوٹ اور جھوٹ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں