رشکِ صد اِلحاد ہے دجا ل کا فسق وفجور
حق کے باغی کا فریب ومکر اورکذب وفتور
تھا شعار اُس کا فقط ظلم وستم ،دجل ودغل
دین وایمان وخرد اور ہوش میں جس کے قصور
فاکہہ کا ابنِ ہند ہ ،ابنِ بوسفیاں نہیں
دین وایماں سے تہی جس کے سبھی عقل وشعور
اس کاقصر مملکت تھا عصبیت کا آرگن
راجدہانی جس کی کٹکھانی تھی وہ کلبِ عقور
زہر دے دے کر صحابہ کووہ کرتا قتل تھا
باغیء اِسلام کے دِل میں تھا وہ فسق وفجور
عصبیت ،حقد وحسد پراُ س کا تھا جہل وغرور
اُس کے اِلحادوں بھرے تھے خام کل عقل وشعور
یہ خلیفہ کیسے ہوتا اُمتِ مرحوم کا
من پرستی جاہ میں مخمور تھا خودسرفَخُوْر
مملکت اُس کی بنی کہتے ہیں اِک کٹکھانی تھی
ننگِ ایماں ،ننگِ دیں ،ننگِ وطن ،ملحد کفور
تھی مئے پندار سے مخمور اُس کی بزمِ عیش
قیصری کسرائی میں تھے اُس کے ایوان وقصور
خونِ اہلِ بیت ؑ کی اُ س کے لگی تھی منہ کو چاٹ
اپنے کرتوتوں کے بل بوتے پہ رہتا ناصبور
حق کے تکوینی تقاضوں پر یہ دجال آئے ہیں
جن پہ شاہد ہیں یہاں انجیل وقرآن وزبور
اہلِ حق ہوں آج حق کے واسطے ناحق زبوں
فیصلہ ابلیس کے پاپوں کا ہے یوم الْنَّشُوْر
سمجھو منزل آگئی دجال کا ہے جب خروج
ہے نزولِ ابنِ مریم اور مہدیؑ کا ظہور
اُ س کے شاہی دور میں بدمستیوں کو دیکھ کر
اُس کے ہذیانوں پہ ہے مفقود انساں کا شعور
یہ حقائق مستند تر علم وعرفاں کے جو تھے
تب برائے حق لکھے بیدل ؔ نے برحق یہ سطور