یہ خبر سُن کر ہمیں ہنسی بھی اآئی اور نہ معلوم ڈاکوؤں سے ہمدردی ہوئی یا ان لوگوں پر غصہ اآیا جو ڈاکو ؤں سے بھی بھتہ لیتے اور بقول اُن کے انہیں بھی مشکل میں ڈال دیتے ہیں کہ وہ مذید ڈاکے ڈالیں تاکہ بقول ڈاکو کے اُس کے پاس کچھ بچ سکے ۔سمجھ نہ اآئی کہ ہم اسپر کیا تبصرہ کریں ۔ہمارے ملک میں تو وہ ڈاکو بھی ہیں جو کھلے عام ڈاکے ڈالتے اور ہماری معیشت کو سالوں پیچھے دھکیل دیتے ہیں اور بڑے بڑے عہدوں پر براجمان بھی رہتے ہیں ۔ ان پر کوئی ہاتھ بھی نہیں دال سکتا کیونکہ وہ معزز بھی ہوتے ہیں اور طاقتور بھی ۔وہ ڈاکہ بھی عزت کے ساتھ ڈالتے ہیں انتہائی معزز طریقے سے اور پیسہ ملک میں بھی نہیں رکھتے بلکہ باہر بھجوا دیتے ہیں ۔تاکہ کوئی پریشانی نہ ہو ۔
ہم اُس وقت بڑے حیران ہوتے جب ہم نے کچھ معزز کرسیوں پر بیٹھے لوگوں کی تنخواہ سُنی دس لاکھ پندرہ لاکھ بلکہ اکثر شاید اس سے بھی زیادہ ہو ۔ہمارے ہوش ٹھکا نے آگئے ،اس وقت ہمیں اندازہ ہوا کہ ہمارا ملک کس قدر ترقی کر رہا ہے ۔ایک طرف دو وقت کی روٹی کھانے کو پیسہ نہیں اور ایک طرف انبار ہیں پیسے کے ۔بے شک سب کے پاس ایک جیسا نہیں ہو سکتا کہ یہ تقدیر ہے مگر جو جتنی محنت کرے اُسے اس کا صلہ تو ملنا چاہئے ۔عام آدمی کو روز گار تو مئیسر ہونا چاہئے جو کسی بھی جمہوریت کا لازمی جزو ہے ۔
احتجاج اُسی طرح چل رہے ہیں اور چار حلقے اپنی جگہ موجود ہیں وہ ٹس سے مس نہیں ہورہے ۔حکومت کہتی ہے بیٹھے رہو ۔۔ وہ کہتے ہیں بیٹھے رہینگے ۔۔۔سُنا ہے کہ ایک شرط یہ بھی لگائی جارہی ہے کہ اپنے نکات میں سے احتساب کا نکتہ ہٹا دو تو بہت سی پارٹیاں تمہارے ساتھ ہو جائینگی ۔ہمارے سامنے بہت بڑا سوالیہ نشان آگیا ہے ۔۔ ہم سوچ رہے ہیں اگر ہم نے ناجائز نہیں کمایا تو احتساب سے ڈ ر کیسا ؟؟
لوگ کرپشن سامنے لا رہے ہیں لیکن ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کرپشن کیسز کو کیوں کھولا نہیں جاتا ۔تاکہ ایک وہ ڈگر جو ملک میں چل رہی ہے کہ جو چاہے جیسے چاہے الزام تراشی کردے اُسے روکا جائے ۔دو تین بھی ایسے کیسز پر توجہ دے دی جائے تو شاید ہم بہت بڑے اجر و ثواب کے مستحق ٹہہرینگے کیونکہ ہم ملک سے ایک ایسی فضا کو ختم کر دینگے جو لوگوں میں بد اعتمادی اور انتشار کو پھیلانے کا باعث بن رہی ہے اور یہ سب جب ہی ممکن ہوگا جب عدلیہ طاقتور ہوگی اور تیزی سے مقدمات کو نمٹانے کی کوشش کرے گی ۔یا کم از کم اُن لوگوں پر ہاتھ ضرور ڈالے گی جو ملوث ہیں ان کرپشن کیسز میں ۔ہم تو یہ بھی حیران ہوتے ہیں کہ لوگ بڑے آرام اور آسانی سے اپنی طاقت استعمال کر کے سب کو دبا دیتے ہیں ۔ان تمام برائیوں کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔جب عدلیہ بحال ہوئی تھی تو ہم نے اپنی ایک تُک بندی میں مشورہ دیا تھا کہ عدلیہ تو بحال ہوگئی اب اپنے جج خود بنو اور خود کو بھی عدل دینے والا بنائو ۔لیکن ہمارا مشورہ بھلا کس کھیت کی مولی ہے ؟؟؟
ایک اور بات جو محسوس کی جارہی ہے وہ ہے بے جا طرفداری یا صرف اپنے مفاد کی خاطر حق بات سے صرف نظر کرنا ۔ہم جن ممالک کی مثال دیتے ہیں کیا کبھی ہم نے انکی انتظامی صلاحیتوں اور اُن کی اس بات سے اتفاق کی کوشش کی کہ جس کسی پر بھی الزام لگے چاہے صحیح یا غلط اُسے اپنے عہدے سے دستبردار ہونا چاہئے جب تک کہ وہ اُس الزام سے بری نہ ہو اور اگر اس پر الزام ثابت ہو جائے تو اُسے کسی بھی بڑے ادارے میں
نوکری نہیں ملنی چا ہئے ۔
ایک دوسرے پر الزام دھرنے والے بھی قانون کی گرفت میں لائے جانے چاہئیں اگر انہوں نے الزام تراشی کی ہے بغیر کسی تحقیق کے ۔کیونکہ ہم جو روئیے اپنا رہے ہیں یا جن تکلیف دہ حرکات کو اختیار کر رہے ہیں وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے زوال کا سبب بن سکتی ہیں ۔ہمیں اپنے طرز تخاطُب اور زبان پر بھی توجہ دینی چاہئے کیونکہ سیکھا وہ ہی جاتا ہے جو سامنے ہو رہا ہوتا ہے اس لئے جب ہم مجمعے میں موجود ہوں یا جلسوں میں ہمیں اس بات پر ضرور نظر رکھنی چاہئے کہ ہمارے مخاطب ہمارے اپنے ملک کے لوگ ہوتے ہیں ۔جو ہم میں ہی سے ہیں چاہے وہ وزیر ہوں یا مشیر سیاست دان ہوں یا عام لوگ ،ہمیں انہیں ہی ٹھیک بھی کرنا ہے اور کیفرَ کردار تک پہنچانا بھی ہے کیونکہ ان کے زمے ہے حکومتوں میں موجود رہتے ہوئے ملک کی فلاح نہ کرنے کا جواب دینا ۔یہ کہہ دینا کہ اس پارٹی میں وڈیرا ہے اور اُس پارٹی میں جاگیر دار ہے کافی نہیں کیونکہ یہ وڈیرے اور جاگیر دار بھی پاکستان کے ہیں کسی دوسرے ملک سے نہیں اآئے اور یہ بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنا کوئی دوسرا مگر یہ بات لازم ہے کہ انکے ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی جائے انہیں مجبور کیا جائے کہ یہ اپنے روئے ٹھیک کریں ۔کیونکہ پارٹیوں میں پیسے والوں کی موجودگی اُس پارٹی میں کسی قسم کی کمی نہین ہے بلکہ یہ ہی وہ لوگ ہیں جو مدد بھی دیتے ہیں کیونکہ ہر پیسے والا برا ہے نہ بے ایمان لیکن اُسے اپنے اثاثے ضرور بتانے چاہئیں کیونکہ دولت اللہ دیتا ہے اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ جسے چاہے جتنا چاہے دے گا اور پھر اُس سے حساب بھی لے گا کہ کہاں خرچ کیا اور کس مد میں لگایا تو یہ تفریق تو موجود ہے کہ کسی کو زیادہ دے کر آزمائے گا کسی کو کم دے کر لیکن یہ بھی فرما دیا کہ تمہارے پیسے تمہاری دولت میں غریبوں اور مسکینوں کا حق ہے۔
مگر ہم کتنے بے حس ہیں کہ ہمارے بڑے ان غریبوں اور بے کسوں کی بے کسی ہی سے کماتے ہیں اور اُنکی بے کسی اور مجبوری میں اضافہ کر دیتے ہیں ۔بس ایسے دولت مندوں کے خلاف کھڑے ہونا لازم ہے ۔ اور اُن سے لوٹی ہوئی دولت کا واپس لانا بھی حق ہے ۔کیونکہ یہ عوام کا پیسہ ہے ۔
آج کا جلسہ بھی کامیابی سے ہوگیا تیس تاریخ پر سب کی نظریں ہیں دیکھیں کیا ہوگا ؟؟
کیونکہ جب تک کچھ ہوگا نہیں تبدیلی اآئیگی نہیں خالی باتوں سے نہ کبھی کچھ ہوا ہے نہ ہوگا مگر جب کوئی ٹھان لے کہ اب بدلنا ہے تو نہ آندھیاں اس کا راستہ روک سکتی ہیں نہ طوفان ۔بس ٹھان لینے کی بات ہے اور جب جوان خون ابلنے لگتا ہے بڑے بڑے طوفان اُسکے سامنے ڈھیر ہو جاتے ہیں خلوصِ نیت سب سے بڑی چیز ہے جب آپ خلوص کے ساتھ کوئی کام کرتے ہیں تو اللہ بھی مدد گار ہوتا ہے ۔
ہماری دعا ہے کہ ہمارے ملک میں ایمانداری اور عزت احترام کی ہو اچلے جو سب کے لئے ہو ۔ہماری دعا ہے کہ ہمارے بڑے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں ۔متحد ہونا ضروری ہے حق کا ساتھ دینا لازمی ہے تاکہ ہم اپنی تقدیر کو بدل سکیں ۔جو چند مفاد پرستوں نے اپنے نام لکھ لی ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ بس حکومت ان کا حق ہے کہ وہ پیدا ہی ہوئے ہیں بادشاہت کے لئے تو ایسے لوگوں کو اب نوشتئہ دیوار پڑھنا چاہئے ۔کہ ہلکی ہلکی ہوا بھی اکثر طوفان بن جاتی ہے اور سب کچھ اُڑا لے جاتی ہے ،عقلمند اس کا رُخ دیکھ کر اپنی حفاظت کا سامان کر لیتے ہیں ۔اس لئے ہمارا مشورہ ہے کہ جو کچھ کھا چکے اب اُگل دو ۔کہ کہیں کوئی اور طریقہ نہ اختیار کرنا پڑ جائے ۔
ملک ہمارا ہے لوگ ہمارے ہیں اُنکی پریشانیوں کا کم کرنا بھی ہم سب کا ہی فرض ہے چاہے لکھ کر دور کرنے کی کوشش کریں چاہے بول کر ،چاہے سُن کر چاہے سنا کر ،چاہے زور سے یا زبردستی سے ،کہ جب تک ہم کھڑے نہ ہونگے چلنا نہیں سیکھیں گے ۔اس لئے برائیوں کو روکئے اور اچھائیوں کا ساتھ دیجئے کہ یہ ہی کامیابی ہے ۔