غیر منقسم برّصغیر ہندوپاک میں انگریز بہادر کے آنے سے پہلے مسلمانوں میں سنّی شیعہ کا کوئ فرق تھا ہی نہیں یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے اورآپس میں رشتے داریاں بھی کرتے تھے لیکن انگریز نے ہندوستان میں اپنے قدم جمائے رکھنے کے لئے یہاں ایسے دشمنانِ اسلام مدرسے قائم کئے جن کی بنیاد میں تفرقّہ کا زہر بویا گیا اور سادہ لوح وہ مسلمان جو اس دھوکے میں آ گئے وہ آج اسی فصل کی کھیتی ہیں جو انگریز نے ہمارے لئے بوئ تھی،ان مدرسوں کی بنیادی تعلیمات یہ تھیں کہ تمھارے لئے کارساز جو ہے وہ صرف اللہ ہے اور باقی کوئ ہستی قابلِ تعظیم نہیں ،یہاں تک کہ پیارے نبی خاتم النّبیّین کے لئے سلام کی خاطر مودّب کھڑا ہوجانا بھی ممنوع قرار دیا گیا ،سلام پڑھنا تو درکنار اور جب خاتم المرسلین حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے ادب و آداب غیر ضروری قرار پائے تو آپ کی آل پاک و اطہار کا تذکرہ کیا معنی رکھتا تھا ،ایسے میں جلیل القدر اہلسنّت اکابرِ دین سامنے آئے جیسے کہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور اعلٰی حضرت احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور متعدّد زعماء اور علماء اہلسنّت اور انہوں نے ببانگ دہل اہلبیت علیہم السّلام کے تذکروں سے اس وقت کے معاشرے میں اہمیتِ آلِ رسول صلّی اللہ علیہ واٰ لہ وسلّم کو جاگر کیا اور انہی کی تعلیمات کا نتیجہ ہے کہ آج کے پرخطر معاشرے میں بھی یہی اہل سنّت اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر اُس تبلیغِ دین کا فریضہ انجام دے رہے ہیں جو ان کے پیشرو اِس دنیا میں انجام دے کار جنّت مکانی ہو چکے ہیں۔
تبلیغِ دین کے اس صحیح فریضے کو انجام دینے کے لئے انہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کی بلکہ بر ملا کہا کہ اگر حبِّ اہلِبیت میں جان جاتی ہے تو ہم حاضر ہیں ، اورآج کے اس فتنہ پرداز دور میں حبّ اہلِبیت سے سر شار یہ محترم اکابرین اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیرصحیح معنوں میں درست دین کی اہمیت دنیا والوں کو بتا رہے ہیں۔
لال مسجد کے حوالے سے حکومتِ وقت کی دہشت گردی تو زمانے کے سامنے آگئ لیکن اس کی اصل حقیقت اس وقت سامنے آئ جب یو ٹیوب پر اس کے کرتا دھرتا عبد العزیز نے پیارے نبی کی شان میں گستاخی کی اور مولانا طاہر اشرفی نے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ واٰ لہ وسلّم کی شانِ اقدس کا بھرپور دفاع بھی کیا اور شدید غصّے کا اظہار بھی کیا۔
یہی فرق انگریز کے زر خرید افراد نے پورے سماج میں پیدا کر دیا ہے ،ورنہ مسلمان ایک جسد کی مانند تھے ۔
تفرقّہ کیا ہے؟ یہ لفظ فرق اور تفریق سے ماخذ ہے یعنی ایک جیسے دو کے مابین کوئ فرق ہونا یہ فرق یا تفریق پیارے نبی صلّی اللی علیہ واٰلہ وسلّم کے وصال کے بعد شروع ہوئ جب اہلبیت صلّی اللہ علیہ واٰ لہ وسلّم کی امامت کا دور جاری تھا اور اہلِبیت صلّی اللہ علیہ واٰ لہ وسلّم سے نسبت رکھنے والوں نے علی علیہ السّلام کی نسبت اپنے آپ کو شیعانِ علی کہا( جبکہ قران کریم میں اللہ تعالٰی نے بھی بعض مقامات پر انبیاء کرام کے بعض ساتھیوں کو شیعہ کہ کر مخاطب کیا ہے)اور سنّتِ رسول صلّی اللہ علیہ واٰ لہ وسلّم کی سنّتِ کی پیروی کرنے والوں نے اپنے آپ کو سنّی کہلوانا پسند کیا ،اور اس فرق کو کسی بھی فریق نے اپنی آن بان کا مسئلہ نہیں بنایا بلکہ ہنسی خوشی ایک دوسرے کے ہم پیالہ و ہم نوالہ بن کر رہے ۔
آیّے دیکھتے ہیں کہ آج کی یہودی لابی مسلمانوں کے اندر کس طرح سے یہ بیج بورہی ہے ۔۔
اسرائیلی سیکیوریٹی اینٹیلیجنس ایجنسی شین بِٹ کے سابق ڈائریکٹر ایمی ایالوں کے چند برس پہلے دئے گئے انٹرویو میں ایمی ایالون کا کہنا تھا کہ ایران کی شیعہ اسلامی مملکت کا مقابلہ کرنے کے لئے ترکی ،سعودی عرب ،قطر اور اردن کو ملا کر ایک سنّی اتّحاد تشکیل دینا ہے پھر ایمی ایالون کہتے ہیں کہ لیکن ہمیں دیکھنا ہو گا کہ اب سے دس برس بعد مشرقِ وسطٰی کا مستقبل کیا ہونا چاہئے ،اس کے معیارات کیا ہونے چاہئں ،سب سے پہلے ترکی کی قیادت میں ایک اتّحاد کی بات کرتے ہیں ۔
سوال؟آپ ایران کے بارے میں کیا کہتے ہیں ،اسرائیل کو کیا کرنا چاہئے ،
جواب : ایمی ایالون نے اس سوال کا جواب اس طرح دیا کہ ایران ایک خطرہ ہے ،ہم ایران کو نیو کلئر طاقت حاصل کرنے نہیں دین گے ،
ہمیں ایسا ایران ہرگز قبول نہیں کرنا چاہئے ،سوال یہ ہے کہ اس مسئلے پر ہمارے پاس کتنا وقت ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہئے کیونکہ بغیر امریکی حمائت یا بین الاقوامی حمائت کے مشرقِ وسطٰی میں ماحول کو سازگار کئے بغیرایسا نہیں ہو سکتا ،
سوال؟ سنّی اتّحاد سے آپ کی کیا مراد ہئے ؟
میری مراد مصر،اردن سعودی عرب ترکی کا اتّحاد جو یہ سمجھیں کہ گے کہ ان کا بڑا جھگڑا شیعوں سے ہے جن کی قیادت ایران کر رہا ہے اور پھر یہ سنّی اتّحاد ایران اور فلسطینیوں کا سامنا کریں گے ۔
میں بذات خود اس انٹرویو کے جواب میں صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گی کہ قرانِ کریم میں اللہ کریم فرما رہا ہے ،،(یہ پھونکوں سے چراغ کو بجھانے چلے ہیں) تو زرا سا سوچنے کا مقام ہے کہ شیعت کا جو چراغ اللہ کریم نے قریب قریب چودہ سو برس سے جلائے رکھّا ہے اسے پھونکوں سے بجھانے کی اجازت کس کو دیگا۔
ہاں طاغوتی قوّتیں شکست کھا کھا کر پھر سر نیہوڑا ئے ہوئے سوچتی رہتی کہ اب وہ مسلمانوں پر کس طرح شب خون ماریں کہ فاتحِ زمانہ کہلائیں ۔