پاکستان کے ممتاز شاعر،فلمی نغمہ نگار،ناول نگار ، محقق اور اردو ادبیات کے استاد احمد عقیل روبی گذشتہ روز 74برس کی عمر میں انتقال کر گئے، وہ کچھ عرصہ سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے،احمد عقیل روبی کا اصل نام غلام حسین تھا۔

مرحوم لدھیانہ کے نزدیک واقع ایک شہر سنگرور میں 1940میں پیداہوئے ، وہ والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔سات برس کی عمر میں سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا،قیام پاکستان کے بعد پاکستان چلے آئے اور 36برس تک محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے،مختلف کالجوں میں اردو ادب پڑھاتے رہے
انھوں نے ایف اے تک کے تعلیمی مراحل خانیوال میں طے کئے،بی اے گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے کیا اورایم اے کیلئے لاہور آ گئے جہاں ان کا تعلق ناصر کاظمی،اعجاز باقررضوی اور انتظار حسین سے بنا۔ناصر کاظمی کے حوالے سے کتاب ”مجھے تو حیران کر گیا وہ“ جبکہ سجاد باقر رضوی سے متعلق کتاب”باقر صا حب“ لکھی۔ درس و تدریس کا آغاز ڈگری کالج مظفر گڑھ سے بطور لیکچرر کیا۔ کچھ عرصہ بعد صادق ایجرٹن کالج بہاولپور آ گئے،یہاںسے شیخوپورہ تبادلہ ہو گیا جہاں وہ 13 برس تک پڑھاتے رہے۔1983میں ان کا تبادلہ ایف سی کالج لا ہور ہو گیا،2000میںاسی ادارے سے ریٹائر ہوئے۔مرحوم ایف سی کالج میں صدر شعبہ اردو بھی رہے،یہاں ان کے رفقاءمیں ڈاکٹر حسن رضوی، ڈاکٹر طارق عزیز، مختار ترابی، ڈاکٹر شبیہہ الحسن شامل تھے۔
ادب کے علاوہ ان کاتعلق شوبز کی دنیا سے بھی رہا۔ نصرت فتح کے حوالے سے بھی کتاب لکھی۔مرحوم موسیقی کے اسرار و رموز کو بھی سمجھتے تھے۔فلموں کیلئے گیت لکھے،جن فلموں کیلئے نغمہ نگاری کی ان میںنکی جئی ہاں،مہندی والے ہتھ، جگ ماہی، لونگ دا لشکارااور مجاجن شامل ہیں، ان کے گیت سپر ہٹ ہوئے جس پر انھیں کئی ایوارڈ بھی ملے۔ اردو فلموں کیلئے بھی گیت لکھے، مرحوم نے سجاد گل کی فلم تیر ے پیا ر میں، ریما کی فلم کوئی تجھ سا کہاں،شہزاد رفیق کی فلم رخصتی، ثمینہ پیر زادہ کی فلم شرارت کے گانے لکھے۔23 مارچ 2012کو حکومت پاکستان نے انھیں تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا جو آپ کو14 اگست 2013کو دیا گیا۔ ان کی مشہو ر کتابوں میں سوکھے پتے بکھرے پھول)شاعری( ملی جلی آوازیں)انگریز ی نظموں کا ترجمہ (آخری شام)منظوم ڈرامہ( سورج قید سے چھوٹ گیا)نظمیں(بلائی10 )یونانی شاعر ی کا ترجمہ( باقر صا حب)سوانح عمری( مجھے تو حیران کر گیا وہ)ناصر کاظمی کا طویل خاکہ(نصرت فتح علی خان)سوا نح عمری(کھرے کھوٹے)خاکے( چوتھی دنیا)ناول( جنگل کٹا) ناول(بنجر دریا)ناول( کہانی ایک شہر کی)طویل نظم(بولڈ اینڈ بیوٹی فی)طویل خاکہ( ساڑھے تین دن کی زندگی) ناول( کر نیں تار ے پھول)بچوں کی نظمیں( یونان کا ادبی ورثہ)تنقید(آدھی صدی کا خواب)ناول((قتیل کہانی )طویل خاکہ( علی پور کا مفتی )طویل خاکہ(مرحوم یونانی اساطیر کا خصوصی طور پر مطالعہ کرتے تھے، ان کی ہر تحریر میں یونانی اساطیری حوالے ملتے ہیں
۔۔۔۔۔Pak Arts۔۔۔۔۔۔۔ بشکریہ ۔۔۔۔