اس شہر نابکار کے اندھے ہیں حکمران
ضامن یہ انتشار کے اندھے ہیں حکمران
ان پر خدا کا قہر بھی کیوں ٹوٹتا نہیں
مالک یہ اختیار کے اندھے ہیں حکمران
نابینا لوگ بھی نہیں محفوظ ظلم سے
دشمن یہ انکسار کے اندھے ہیں حکمران
قہر عوام ٹوٹنے والاہے بالیقیں
ہاں مستحق یہ دار کے اندھے ہیں حکمران
صفدر یہ اپنے دور کے خود ہی یزید ہیں
نشے میں اقتدار کے اندھے ہیں حکمران