بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پانچ برسوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں جس کے بعد دنیا بھر کی منڈیوں میں توانائی سے متعلق کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت میں مندی کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 5ء4 فی صد کمی کے ساتھ 94ء60 ڈالر فی بیرل ہوگئی جو جولائی 2009ء کے بعد سے اب تک کی کم ترین سطح ہے۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں کمی خام تیل کے برآمدی ممالک کی تنظیم 'اوپیک' کی جانب سے 2015ء میں تیل کی پیداوار کے تخمینے میں کمی کرنے کا ردِ عمل ہے۔
'اوپیک' ممالک نے بدھ کو امکان ظاہر کیا ہے کہ 2015ء میں ان کی یومیہ پیداوار 9ء28 ملین بیرل رہنے کی توقع ہے جو ماضی میں لگائے جانے والے یومیہ تخمینے سے تین لاکھ بیرل کم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 'اوپیک' کی جانب سے آئندہ سال پیداوار کا تخمینہ گزشتہ 12 مہینوں کی اوسط پیداوار سے بھی کہیں کم ہے۔
خدشہ ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کی صورت میں تیل کی متلاشی اور پیداواری چھوٹی کمپنیاں اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے کام بند کرنے پر مجبور ہوسکتی ہیں۔
گزشتہ ماہ 'اوپیک' ممالک نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اپنی 30 ملین ڈالر یومیہ کی پیداوار برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا جس کے باعث منڈی میں طلب سے زیادہ رسد کی موجودگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی کے رجحان میں اضافہ ہوا تھا۔
ادھر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور یہ کمی تیل برآمد کرنے والے ممالک کی عالمی تنظیم اوپیک کے نئے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جو گزشتہ 6 سال کی کم ترین سطح ہے۔
اوپیک نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ برس دنیا میں تیل کی مانگ میں مزید کمی ہو جائے گی۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 2.88 ڈالر فی بیرل کی کمی ہوئی ہے۔نیویارک ٹریڈ میں خام تیل کی جنوری کے لئے ڈیلیوری کی نئی قیمت 60.94 ڈالر کی سطح پر آگئی ہے جس کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24 روپے تک کی کمی واقع ہوچکی ہے اور عالمی منڈی میں نئی کمی کے بعد مقامی منڈی میں بھی مزید کمی کا امکان ہے۔