16.10.2026, 04:53am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

دیکھو اور انتظار کرو۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی
13.12.2014, 04:05am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔شمس جیلانی
 ہمارے یہاں عام رواج ہے کہ جو کہتے ہیں وہ کر تے نہیں ہیں لہذا کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا کہ وہ کریگا کیا؟ ۔ اسلامی اصطلاح میں ایسے لوگو ں کے لیے جو عرفیت بیان ہوئی ہےاور ان کا قیام کہاں ہوگا میں یہاں دہرانا نہیں چاہتا ؟
 جب کہ دعویٰ ہر ایک کا یہ ہی کہ ہم یہ تعطل ختم کرنا چاہتے ہیں ، جو کہ ہمارے یہاں عدالتی زبان میں سٹیٹس کو (status-qua )کہلاتا ہے ۔ اس کے حصول کاطریقہ بڑا آسان ہے جس چلتے  ہوئےکام میں تعطل پیدا کرنا ہوتو کسی وکیل صاحب کو حسب ِحیثیت چار پیسے دیدیں اور وہ عدالت میں پیش ہوکر مقدمہ داخل کرکے عارضی حکم ِ امتناعی لے لیں گے جو کہ عام  طور پر تین دن کا ہوتا ہے۔ لیکن آگے ٹال مٹول کے اتنے راستے ہیں کہ وہ تاعمر بھی چل سکتا ہے ۔ اگر ہم تفصیل میں جائیں تو صفحات بھر جائیں گے اور حیلے ختم نہیں ہو نگے، چونکہ وکیلوں کا دھندا ہی اسی پر ہے لہذا ہم راز فاش کر کےانکا کاروبار خراب کرنا نہیں چاہتے۔ مگر یہ بھی ہمارے ملک میں مروجہ رواج سے مشروط ہے کہ کورٹ تو حکم امتناعی ( Add interim injection )دیدیتی ہے لیکن واسطہ اگر قبضہ گروپ سے ہے تو پھر حکم ِ امتناعی کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے ؟ہاں! اگر حکمِ ِ امتناعی قبضہ گروپ کے حق میں ہے تو بات دوسری ہے وہاں دوسرا فارمولہ نافذ ہو تا ہے کہ “ قبضہ سچا دعویٰ جھوٹا“ 
 ہم جب یہ مضمون لکھ رہے ہیں تو ہمارے یہاں جمعہ کی صبح ہے  جبکہ پاکستان میں دھرنے کی شام ہوچکی ہے۔ دھوم بہت تھی کراچی والے دھرنے کی، مگر ہوا کچھ بھی نہیں ؟ اچھا ہی ہوا ورنہ ایک آدھ شہید اور بڑھ جاتا ۔کوئی بیاہی بیوہ ہوجاتی یا کوئی کنواری ہی بیوہ ہوجاتی،  کسی گھر کا سکون تباہ ہوجاتا پھر بڑے لیڈر سوگ کا اعلان کر کے اس کی تیاریوں میں لگ جاتے، مقامی قیادت اس کی نماز جنازہ میں شرکت کرلیتی اور بس؟ مسئلہ یہ ہے کہ آخر اس تکلف کی ضرورت کیا تھی؟ جب سب جانتے ہیں کہ ہمارے یہاں تبدیلی نیچے  سےنہیں، اوپر سے آتی ہے ۔ جھرلو کے بل بوتے پر جیتے ہوئے ہار جاتے ہیں اور ہارے ہوئے جیت جاتے ہیں ۔ یہ مشق ستم ایک دو دن سے نہیں، تاسیسِ پاکستان کے پہلے سال سے جاری ہے ۔عوام کی یادداشت کو تازہ کراتا چلوں کہ پہلے مردِ آہن خان عبد القیوم خان تھے جن کے سراس جھرلو کی ایجاد کا سہرا ہے۔ کس نے باندھا تفصیل جانے دیجئے پرانے گڑے  مردےاوکھاڑنے سے کیا فائدہ ؟
آپ پوچھیں گے کہ پھر آپ نے ذکر کیوں کیا ؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ دنیا میں مروجہ طریقہ کار ہے کہ جو جس ایجاد کا موجد ہوتا ہے اس کا ہی نام لکھا جاتا ہے ورنہ بد دیانتی میں شمار ہوتا ہے اور ہمیں اپنا دین پیارا ہے؟ کیونکہ ہمارا رب قرآن میں ارشاد فرمارہا ہے کہ  “اگر تم قر آن پر عمل نہیں کرسکتے تو کیا میں اس کو تم پر سے ہٹادوں  “ یہ بہت سخت بر ہمی کا اظہار ہے جو اس عزیز اور قدیر کی طرف مسلمانو ں کے لیے وعید آئی ہے؟ لیکن مسلمانوں کے لیے ہے تمام عالم کے لیے تو نہیں ہے۔ ہم اس کو دہرادیتے ہیں کہ اپنے اوپر نافذ کرنے والے پیارے  نبی(ص) نے فرمایا کہ “ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے مگر وہ جھوٹا نہی ہوسکتا“ لیکن اس کے برعکس ہم نے اس میں اتنی ترقی کی ہے کہ اس کا الٹ ہیں؟  ہرکوئی ان کے نام لیوا تو ہے مگر ان میں سے آج کل کوئی سچا نہیں ملتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آدمی بدل جاتے ہیں ۔ شہادت دینے کو کوئی نہیں ملتا جبکہ ہمیں حکم ہے کہ شہادت مت چھپاؤ چاہیں وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے والدین  کےخلاف ہو؟ فیصل آباد کاواقعہ رونما ہوا میڈیانے اس کی ہر قدم کی فٹج بنا ئی ۔ وہ بیچاری کیا کرے کہ آج کے دور میں ایک چہرے پر کئی سجا نے کا رواج عام ہے۔ ایسے میں کسی اور کی شکل سجا کر آجائے تو وہ کیا کرے؟ جبکہ شہادت کے قحط کا یہ عالم ہو کہ حکومت پنجاب حلوائی کی دکان پر نانا  جی کی فاتحہ یعنی سرکاری فنڈ جسے اسلامی اصطلاح میں بیت المال کہتے ہیں ۔ اس سے آدھا کروڑ روپیہ دینے کا اعلان کر دے تو بھی کو ئی شہادت دینے کو اس لیے تیار نہیں کہ کیا جانے کون کس کا چہرہ لگا کر کس کے حکم سے آیا ہو؟ اور اسے وہ رقم وصول کر نے اور برتنے سے پہلے موت نہ آلے؟ عمران خان کراچی میں دھرنا دینے پر اس لیے زور دے رہے تھے کہ وہ دکھائیں کہ کراچی اب وہ نہیں رہا جو پہلے کبھی تھااب ان میں وہ بھی شامل ہیں؟یعنی جو کراچی میں اپنے جلسے کر سکتا ہے وہ پورے پاکستان کا پہیہ جام کر سکتا ہے کہ پاکستان کا وہ دل جو ہوا؟ جبکہ حکومت کہہ رہی تھی دعویٰ ثابت کر کے دکھاؤ؟
  اس کشمکش میں اسٹاک ایکس چینج  کا جو گراف گر گیا وہ تو ریکارڈ پر ہے۔ لیکن اس دن مزدوری پر نہ جانے کی وجہ سے کتنے لوگو ں کے چولہے نہیں جلے کتنے بچے بھوکے سوئے ان کا چونکہ  ریکارڈرکھنے کا رواج کہیں نہیں ہے اس لیےکہیں ریکارڈ  بھی نہیں ہےاور نہ ہو گا؟ ہمارے یہاں افزائش نسل پہلے سے ہی ہمارے لیے مسئلہ ہے اس کے باوجود کے حکمراں قصدا ً یا اپنی نا اہلیوں کی بنا پر کبھی تھر میں نو زائیدہ بچوں کے قاتل بنتے ہیں، تو کبھی پنجاب میں اسپتالوں میں انکو بیٹر مہیا نہ ہونے کی وجہ سے آپ ہی بچے مر جاتے ہیں؟ لہذا اگر کسی ہنگامے میں سو پچاس آدمی مر جا ئئیں تو کون پو چھتا ؟البتہ دعوے کرنے والو کو اپنے کرتب دکھانے کا موقعہ ملنا چاہیے کیونکہ یہ جہانگیر کا انصاف ہے جوکہ ا یک پنجابی فلم کے ایک مامے جج نے دیا تھا کہ“ تم بھٹی  بناؤاور تم بھٹی ڈھاؤ  “ جبکہ مقدمہ یہ تھا کہ ایک کمزور خاتون کے دروازہ پر ایک طاقتور خاتون نے بھٹی بنا لی تھی۔
 یہاں بھی سیاسی کھیل جاری ہے اور دونوں طرف کے کپتان اپنی ٹیموں کو کھلا رہے ہیں ۔ مگر یہ نہیں جانتے کہ کھیل کھیل میں کتنا نقصان ہو تا ہے۔ سوا ئے اس کے کہ وقت زیاں ہے اور جو قوم وقت ضائع کرنے کے لئے مشہور ہو اس کے لیے وقت کی اہمیت کیا ہو سکتی ہے؟ جبکہ وقت  سےہماری ضد م ضدا ہے کہ“ ہمیں وقت کی قدر کرنے کو مالک نے کیوں فرمایا“ ورنہ اگر چند دن پہلے مذاکرات ہو جاتے تو کیا حرج تھا۔ وہی کہ فیصلہ دلوں میں رہ جاتا کہ الطاف بھائی  کےعلاوہ کوئی  اور بھی کراچی کو بند کرا سکتا ہے؟
 اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد وزرا ء کے یہ بیان آنا شروع ہوگئے کہ اب وقت لڑائی کا نہیں عمران خان واپس پارلیمنٹ میں آجائیں ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا بلکہ انکا ، ان کے ساتھیوں کا استقبال کیا جائے گااور اگر اپنے واجبات اب تک نہیں لیے ہیں تو ہمارے یہاں یہ بھی روایت موجود ہےکہ سرکاری اہلکاروں کو سالوں کی تنخواہ ایک ساتھ دیدیتے ہیں؟  چاہیں کوئی کام کر رے یانہ کرے یا بھارت میں بیٹھ کر پاکستان میں کیڑے نکالتا رہا ہو؟
اور ہان! یہ کوئی نہ پوچھے کہ ان دو سالوں میں پارلیمان نے کتنے قانوں بنا ئے جو اس کا کام تھا جس کے وہ حق محنت لینے کے حقدار ہیں؟ جہاں تک ہماری یاداشت میں ہے اس کا زیادہ تر وقت دھرنے کا توڑ دریافت کرنے اور یقین دہانی پر گزرا ہے  کہ ہم جمہوریت کوپٹری سے نہیں اتر نے دیں گے؟ جبکہ جمہوریت واقعی پٹری سے نہیں اتری کیونکہ کہ ریفری کی خواہش ہی نہیں تھی، اسے پٹری سے اتارنے کی ۔ جب کہ وہ حکومت کی تہمت لیے وہ دوسروں کے کندھوں پر کام اچھی طرح چلا رہا  ہو۔ تو وہ  حکومت لیکرکیوں خود کو بدنام کرے؟

:دیگر مضامین
(06.12.2014) ہوئے تم دوست جس کے۔۔۔ ؟ ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(29.11.2014) جوگرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(22.11.2014) ;مومن فراست سے محروم  کیوں؟۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(15.11.2014) ان کو نہ  ہر گزناپئے اسوہ رسول (ص) سے ۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی
(08.11.2014) خود نہ بدلیں، مگرقرآن بدلنا چاہیں۔۔از۔۔ شمس جیلانی
(01.11.2014) شدت پسندی اور تبلیغ کرنے والی باجیاں۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(25.10.2014) مشرف بہ اسلام کرنے سے پہلے اچھی طرح پرکھیئے؟ از۔۔۔ شمس جیلانی
(18.10.2014) نوشتہ دیوار پڑھیے حکمرانوں کو مشورہ۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(11.10.2014) ایک درمند ِ ملت کا خط اور اس کا جواب۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
(05.10.2014) حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا مثا لی کنبہ۔۔۔۔  از۔۔ شمس جیلا نی
(27.09.2014) کام نہ پہلے کرتے تھے کام نہ اب کچھ کر نا ہو گا۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(20.09.2014) واقعی کیا جاگ رہا ہے پاکستان۔۔۔از ۔۔۔۔ شمس جیلانی
(13.09.2014) ذرا سوچیں آفات آسمانی ہم سے کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.09.2014) جھوٹوں کی لڑائی اس پر چوروں کی گواہی۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.08.2014) جھوٹ ، جھوٹ , جھوٹ اور جھوٹ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں