چہلم امام حسینؓ، قافلہ عشق کربلا میں موجود، 2 کروڑ سے زائد عزاداران مظلوم کربلا ہفتے کو نواسہ رسول ۖ کے روضہ مبارک پر حاضری دے رہے ہیں، نجف اشرف سے 1 کروڑ عزاداروں کا پیدل قافلہ بھی رواں دواں، ٹلہ زینبیہ پہنچ گیا، ہزاروں

پاکستانیوں کی بھی شرکت، سیکورٹی انتظامات سخت کر دیئے گئے۔ کربلا سے ذرائع نے کو بتایا کہ چہلم امام حسینؓ کے سلسلے میں جہاں دنیا بھر میں جلوس ہائے عزا کا انعقاد ہو رہا ہے اس سلسلے میں سب سے طویل ترین جلوس نجف اشرف امیر المومینن حضرت علی کے روضہ سے کربلا معلی کی جانب رواں دواں ہے جس میں ایک کروڑ سے زائد عزادار شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس قافلے میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی زائرین بھی شامل ہیں جو چہلم امام حسینؓ کے سلسلے میں ایران سے عراق گئے ہیں۔ ایک ہفتے سے عراق کے شہر نجف اشرف سے کربلا معلی تک عاشقان رسول کا جم غفیر کربلا کی طرف پیدل رواں دواں ہے سخت ترین سردی میں 95 کلو میٹر اس قافلہ عشق و عقیدت میں بچے، بوڑھے، مرد، عورتیں شامل ہیں جن میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے، طویل شاہراہ کے دونوں اطراف باقاعدہ عارضی مہمان خانے، ضیافت کدوں، سٹالوں، دستر خوانوں کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ ہے جس میں ہمہ وقت انواع و اقسام کے بہترین کھانے، مشروبات، پھل، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی مفت فراہمی کی جا رہی ہے۔ 13 دسمبر بروز ہفتہ 20 صفر چہلم امام کے موقع پر یہ پیدل قافلے دنیا بھر سے آئے زائرین کربلا کے عظیم اجتماع میں شامل ہو گیا جہاں یہ تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کرنے کا ایک محتاط اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں جب وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے ترجمان نصرت علی شہانی سے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ عزاداران مظلوم کربلا امام علی مقام سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار اور کربلا میں ہونیوالے ظلم پر احتجاج کرتے ہوئے کروڑوں عزاداران نجف اشرف سے کربلا معلی کی جانب گامزن ہیں جس میں ہزاروں پاکستانی بھی شامل ہیں
۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد وحدت کا بہترین مظاہرہ ہے جس میں ہر مکتبہ فکر و مسلک کے افراد شریک ہیں اور امام عالی مقام کو پرسادینے کیلئے پیدل سفر عشق رواں دواں ہیں۔ دوسری جانب عراقی حکومت نے چہلم امام حسینؓ کے سلسلے میں نجف، بغداد، کربلا سمیت دیگر علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کر لئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔