|
سامراجی قوتوں کے اپاہج اور مفلوج غلام
26.03.2009, 02:20am , جعمرات (GMT+1)
احسن پریمی۔اسلام آباد
پاکستان میں اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے بعد بننے والی جمہوری حکومت کا پہلا سال مکمل ہوگیا ہے اپنے پہلے سال کے دوران حکومت کو متعدد چیلنجوں کا سامنا رہا ۔تاہم اس سال کا سب سے بڑا فیصلہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں معزول کیے گئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت معزول ججوں کی بحالی تھا ۔ جسے تجزیہ کاروں نے موجودہ حکمرانوں کا اپنی مرضی کے خلاف حادثاتی کار نامہ قرار دیا ہے۔اگرچہ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت کے پہلے سال کی مدت ختم ہونے پر ایک اہم کامیابی اعلی عدالتوں کے تمام معزول ججوں کی تین نومبر 2007ءسے قبل والی پوزیشن پر بحالی ہے۔ جمہوری حکومت کے سال کی تکمیل سے پہلے حکومت اور پارلیمنٹ سے پاکستان کے عوام کو بہت توقعات تھیں کہ وہ ملک کو مشکلات سے نجات دلائے گی اور عوام کے مقدرکو بدلے گی۔لیکن موجودہ حکومت نے اپنے ایک سال میں کو ئی بھی ایسی قا بل قدر کاروائی نہیں کی جسے عوامی پذیرائی ملی ہو۔ اگرچہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ 16مارچ کو عدلیہ کو بحال نہ کرتے تو ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوجاتا۔ عدلیہ کی بحالی پر پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے میرے گھر پر آکر مبارکباد دی لیکن صدر آصف علی زرداری کے سامنے خاموش تھے۔ پنجاب میں گورنر راج کو د وماہ سے زیادہ طوالت نہیں دی جاسکتی۔ شہبازشریف حکومت بحال ہوئی تو پیپلز پارٹی کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ حکومت میں بیٹھے گی یا اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کرے گی۔ اپوزیشن میں سیاسی جماعتیں ختم نہیں ہوجاتیں۔ نوازشریف سے ملاقات میں صدر کے دو پیغامات دیئے کہ حکومت ان کی نااہلی کی نظرثانی کی درخواست کی پیروی اور میثاق جمہوریت پر عمل کرنا چاہتی ہے وزیراعظم نے کہا کہ 16مارچ کو عدلیہ کی بحالی کا اعلان نہ کیا جاتا تو ملک کو شدید خطرہ لاحق ہوجاتا۔ ہم پاکستان کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے اور نہ ہی ذات پات کی آڑ میں کوئی سازش ہونے دیں گے معزول ججوں کی بحالی کے مسئلہ کو سندھ اور پنجاب میں فاصلے پیدا کرنے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر یہ سندھ اور پنجاب کا مسئلہ تھا تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی کیوں دی۔ انہیں ہمیشہ وفاق کی علامت کیوں کہا گیا۔ وہ ساری زندگی چاروں صوبوں کی بات کیوں کرتی رہیں اور ہم ”چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر “کے نعرے کیوں لگاتے رہے۔ ہم نے 16مارچ کو فیڈریشن قائم رکھنے کا فیصلہ کیا جو ملک اور قوم کے مفاد میں تھا۔ ہمارے پاس صرف ایک یہی آپشن تھا۔ اسی مقصد کیلئے میں نے صدر کو ایڈوائس دی اور انہوں نے معزول ججوں کی بحالی کے فیصلے پر دستخط کئے۔ میاں نوازشریف کے پاس میں صدر آصف علی زرداری کے ہی دو پیغام لے کر گیا تھا اور میں نے ان کی جانب سے پیشکش کی کہ اگر وہ عدلیہ کی بحالی کے بعد اپنے خلاف نااہلی کے فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل میں جانا چاہتے ہیں تو وفاق اس اپیل کی پیروی کرنا چاہتی ہے۔ جس پر میاں نوازشریف نے کہا کہ وہ عدلیہ کی آزادی کو تسلیم کرتے ہیں اور ریویو پٹیشن میں بھی جانا چاہتے ہیں جبکہ دوسری بات میں نے ان سے یہ کی کہ آئندہ میثاق جمہوریت کو بنیاد بنا کر معاملات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ میثاق جمہوریت میں نے نہیں بنایا بلکہ اس پر محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کے دستخط ہیں اور ہم اسی کے تحت پارلیمنٹ ، ملکی آئین اور اداروں کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اب ہر کوئی عدالتی فیصلوں کو من وعن تسلیم کرے گا۔ اگر لانگ مارچ ہم خود کرسکتے ہیں تو اس کا حق دوسروں کو کیوں نہیں دے سکتے۔ کیا محترمہ بے نظیر بھٹو کو لانگ مارچ روکنے کیلئے نظر بند نہیں کیا گیا۔ ہم پر آنسو گیس پھینکی گئی اور مجھے ہاو ¿س اریسٹ بھی کیا گیا عدلیہ کی بحالی سے قبل پیپلز پارٹی کے کارکن بھی دل گرفتہ تھے اور جب عدلیہ کو بحال کیا گیا تو ارکان اسمبلی نے مجھے ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے اور گھر پر آکر مبارکباد دی لیکن جب وہ صدر آصف علی زرداری کے سامنے بیٹھے تھے تو گومگوں میں تھے کہ مبارکباد کس کو دیں۔ محترمہ نے خود چیف جسٹس کے گھر کے باہر کھڑے ہوکر کہا تھا کہ وان کے چیف جسٹس ہیں جنہیں وہ بحال کریں گی اور ان کے گھر پر جھنڈا لہرائیں گی۔ کیا ہم نے محترمہ کی خواہش پوری کرکے کوئی غلطی کی ہے۔ ہم نے انہی کے وعدے کی تکمیل کی ہے۔ شریف برادران کی نااہلی کے خلاف نظر ثانی کی درخواستیں اگر منظور کرلی گئیں تو پنجاب حکومت بحال ہوجائے گی لیکن کوئی بھی پیپلز پارٹی کو مجبور نہیں کرے گا کہ وہ حکومت میں شامل رہے۔۔ دوسری صورت میں پیپلز پارٹی میں مسلم لیگ (ق) کے ساتھ مل کر حکومت بناسکتی ہے لیکن اگر اپوزیشن میں بھی بیٹھنا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اپوزیشن میں پارٹیوں میں نکھار پیدا ہوتا ہے ۔ پنجاب میں چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے بعد کبھی بھی پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں رہی لیکن وفاق میں ہم حکومت بناتے رہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں پنجاب میں حکومت نہ ملنے کی صورت میں مایوسی نہیں پھیلانی چاہئے ہمارے پاس کیا کچھ نہیں ہے پیپلز پارٹی کا صدر بلامقابلہ منتخب ہوا، ملکی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم متفقہ طور پر پیپلز پارٹی کا بنا، سپیکرقومی اسمبلی وچیئرمین سینٹ بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ جبکہ مرکز کے علاوہ چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں بھی پیپلز پارٹی کی ہی مخلوط حکومتیں بنیں۔ میں پنجاب میں گورنر راج کے حق میں نہیں ہوں آج ایڈوائس دوں تو کل صدر اسے ختم کردیں گے لیکن میں نے فیصلے کا حق صدر کو دے رکھا ہے اس کے باوجود پنجاب میں گورنر راج کو دو ماہ سے زیادہ طوالت نہیں دی جاسکتی اور اسے ختم کرنا پڑے گا کیونکہ گورنر راج کی مدت بڑھانے کیلئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری لینا پڑے گی جہاں حالات ہمارے موافق نہیں ہیں اور اتحادی جماعتیں بھی اس پر ہمارا ساتھ نہیں دیں گی۔ تاہم میں چاہتا ہوں کہ پنجاب میں حکومت ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے قائم نہ کی جائے چاہے ہمیں اپوزیشن میں ہی کیوں نہ بیٹھنا پڑے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے شہادت ذاتی مفادات کیلئے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کیلئے پائی تھی۔ اور ہمیں ان کے اس مشن کو آگے بڑھانا ہے تاکہ ارکان اسمبلی کو طاقتور اور پارلیمنٹ کو بااختیار کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی سے پارٹی کا گراف اوپر آیا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ آمرانہ دور میں صدر پرویز مشرف کی حالت کیا تھی اور وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی نہ کرسکے جبکہ میں نے حکومت سنبھالنے کے فورا بعد صدر آصف علی زرداری کو پارلیمنٹ سے خطاب کی دعوت دی اور اب وہ دوبارہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر 28مارچ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے جس میں وہ حکومت کی پالیسی اور پیپلز پارٹی کے منشور پر ہی اظہار خیال کریں گے۔ ہم کسی بھی صورت محترمہ بے نظیر بھٹو کی قربانی کو ضائع نہیں ہونے دیں گے اور ہر صورت ان کے ویڑن پر عمل درآمد میثاق جمہوریت کی روشنی میں کریں گے کیونکہ میثاق جمہوریت پر محترمہ بے نظیر بھٹو کے اپنے دستخط موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کو صرف تھانہ کچہری اور پٹواری کاکنٹرول حاصل کرنے تک ہی محدود نہیں ہوجانا چاہئے بلکہ محترمہ کے نظریہ کے مطابق ملک کی اقتصادی حالت اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کسی کو صدر کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے میں انہیں جو بھی ایڈوائس دوں گا بالآخر اس پر دستخط انہوں نے ہی کرنے ہیں۔ معزول ججوں کی بحالی وکلا، سول سوسائٹی اور جمہوریت پسند قوتوں کی بڑی کامیابی ہے لیکن سیاسی جماعتیں اس کا کریڈٹ لینے کے بجائے بجلی کے بحران اور مہنگائی سمیت عوام کو درپیش مسائل پر مشترکہ حکمت عملی طے کریں۔ملک میں امن و امان کی صورتحال نازک ہے اور کسی کی جان و مال محفوظ نہیں ہے جبکہ عوام کے لئے صحت اور تعلیم کی سہولتوں کی فراہمی کی حالت بھی ابتر ہے۔ بیرونی طاقتیں چھوٹے صوبوں میں مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا کر رہی ہیں۔اس لئے تمام سیاسی جماعتوں کو ہوش مندی سے کام لینا چاہیے۔ سیاسی جماعتیں معزول ججوں کی بحالی کا کریڈٹ لینے کے بجائے عوام کے حقیقی مسائل پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کر کے عوام کو ان مسائل سے نجات دلائیں۔ امریکی ڈرون حملے نہ روکے گئے تو اسلام آباد میں دھرنا دیئے جانے کی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں۔امید ہے کہ صدر پارلیمنٹ سے خطاب میں میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کے لئے ٹھوس فریم ورک اور ٹائم ٹیبل کا اعلان کریں گے میثاق جمہوریت کو حقیقت کا روپ دیا جانا ضروری ہے ۔ عوام اس انتظار میں ہیں کہ کب موجودہ حکومت ملک کے سیاسی اور اقتصادی نظام میں انقلابی تبدیلیاں لائے گی تاکہ وفاق کو مضبوط کرنے کے ساتھ قومی اداروں کو موثر بنایا جائے اور وسائل کو عوام کی ترقی پر خرچ کیا جائے عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے اس ضمن میں کچھ بھی نہیں کیا اور ایک سال گزار دیا ہے جمہوری سال کے آخری دنوں میں معزول ججز کی بحا لی حکومت کے ہاتھوں ایک حا دثاتی کاروائی ہے جو جمہوری سال کے ایک سال مکمل ہو نے کے بعد جعلی پو لیس مقابلے کی طرح اپنے کھا تے میں ڈال دیا ہے بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت معزول ججز کی بحا لی کے اعلان کے چند گھنٹوں قبل تک بھی بد نیتی پر قائم تھی ہمارے حکمرانوں کو سات سمندر پار سے اپنے نا خدائوں کا فون آگیا کہ یہ کرنا ہے اور انھوں نے ملک کے عوام یا خدا کی خوشنودی کی بجا ئے امریکی کی خوشنودی حاصل کر نے کیلئے یہ کار نامہ کر دکھا یا جبکہ امریکہ کے آنے والے دنوں میں پاکستان میں اپنے کئی ایک خو فناک پلان جیسے بلوچستان میں امریکی ڈرون حملوں کی وسعت جیسے کئی ایک منصوبے تھے وہ اپنے ناپاک عزائم کی تکیل کیلئے یہ نہیں چاہتا تھا کہ ملک میں کو ئی ایسی فضا ساز گار نہ رہے جس کے دوران اس کے اہداف میں کو ئی مشکل پیش آئے لہذا مریکن نے اپنے راستے کا سپیڈ بریکر ختم کر دیا جو ملک بھر کے عوام کو حکمرانوں کی طرف سے شہید بے نظیر کے وعدے کی تکیل کی شکل میں ملا۔اگر چہ معزول ججز کی بحا لی کا کر یڈٹ براہ راست امریکہ کو جا تا ہے کیونکہ اس مسئلے کو فی الفور حل کروانے کے پس پردہ اس کے کچھ اپنے مفادات تھے لیکن امریکہ سے پہلے ہمارے عوام کو بھی کر یڈٹ جا تا ہے جنھوں نے لانگ مارچ کی شکل میں امریکہ کو خوفزدہ کر نے کیلئے ایک بنیاد فراہم کی تھی۔امریکہ کو یہ بھی خدشہ تھا کہیں عوام اقتدار چھین کر اکسٹھ سالہ سا مراج کے ایجنٹوں کا وہ نظام ختم نہ کر دیں جس نظام کے تحت انھوں نے ہر دور حکومت میں ہمارے نام نہاد سیاستدانوں اور غلام حکمرانوں کواپاہج اور مفلوج بنا کر رکھا ہوا ہے
|