15.10.2026, 10:39pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

۔۔۔ اور کار واں  پھرلٹ گیا۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
19.12.2014, 12:00am , جمہ (GMT+1)

از۔۔۔ شمس جیلانی

 ہماری پوری تاریخ کاروانوں کے لٹنے سے عبارت ہے۔ ایک سو پینتیس ما ؤں کی گود اجڑ گئی۔ جانے انہوں نے کن امیدوں کے ساتھ اپنے بچوں کو پڑھنے کے یے بھیجا ہوگا ، ان میں ہر قسم کی مائیں ہونگی ،کچھ اپنے بچوں کو ماڈرن بنا نا چاہتی ہونگی! مگر وہ اسکول چونکہ آرمی کے نام سے موسوم ہے زیادہ تر وہ ہونگی جو انہیں“ جرنیل کرنیل بنا نا “ چاہتی ہونگی۔  کیونکہ وہ سرزمین ہی ایسی ہے کہ جہاں جرنیل اور کرنیل بنانا ہر ماں کا خواب ہوتا ہے۔ کچھ مائیں ایسی بھی ہونگی جنہوں نے اسلامی تاریخ پڑھی ہوگی اور آرمی اسکول بچوں کو پڑھنے کے لیے اس حکم کے تحت بھیجا ہوگاکہ علم کا حصو ل ہر مومن کا فرض ہے اور میرا بچہ وہاں سے حضرت علی (رض) ، حضرت خالد (رض) بن ولید اگر نہ بھی بن سکا تو طارق بن زیاد تو بن ہی جا ئے گا؟ مگر علم کے دشمنوں نے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور بزعم خود دنیا میں اپنے برانڈ کا اسلام لانا چاہتےہیں۔ جبکہ قرآن کے مطابق شیطان ان کے کردار انکی نگاہ میں اچھا بنا کرپیش کرتا ہے کہ وہ اپنے خیال میں جنتیوں جیسا کام کر رہے ہیں۔ کیونکہ معصوموں کے معصوم ہونے کے بارے میں دورائیں نہیں ہوسکتیں ؟ جبکہ اسلام تو خواتین، بچوں اور بوڑھو کی حالت جنگ میں بھی حفاظت کاحکم دیتا ہےاور ان کے علاوہ ہر بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل کہتا ہے ۔ انہوں نے تو معصوم اور ایسے معصوموں کو موت کے نیند سلا دیا جس کی تلقین سوائے شیطان کے کوئی نہیں کرسکتا؟
 جب کہ اسلام نے ہر اچھے مسلمان کی پہچان یہ بیان کی ہے کہ اس کے ہاتھ سے کسی کو ضرر نہ پہونچے؟ پھر قرآن کہہ رہا کہ ایک مومن کے قتل کی سزا ہمیشہ کے جہنم ہے جس سے قاتل کسی کی سفارش کسی کی شفاعت سے معاف نہیں کیا جا ئے گا۔ اللہ تعالیٰ نہ ایسوں کو پاک کریگا نہ ان سے کلام فرمائیگا۔ اس کے برعکس فرشتے منہ کے بل گھسیٹ کر اسے جہنم میں پھینک دیں گے۔ لیکن ظلم یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہورہا اسلام کے نام پر اور طالبان کے نام پر لہذا یہ بھی نہیں کہا جاسکتا جو مار رہے مر رہے ہیں ان کی نگاہوں سے یہ قر آنی تعلیم نہیں گذری ہو گی جو ہم نے اوپر بیان کی۔ پھر وہ کونسا جادو ہے جو کہ ان کے کانوں میں پھونک دیا جاتا ہے کہ وہ جہاں علم دین حاصل کرنے گئے تھے وہاں سے درندے بن کر نکلتے ہیں ؟ جب کے ایک صدی پہلے تک گوکہ مدرسوں کے علم کا معیار وہ نہیں رہا تھا جو پہلے تھا مگر اس کے باوجود کم ازکم یہ درسگاہیں درندے تو نہیں بنا رہی تھیں؟ وہ مساجدکو امام اور درگاہوں گدی نشین فراہم کر رہی تھیں ۔ آخر یہ کیا ہوا کہ نفرتوں کاوہ جن پھر بوتل سے باہر آگیا جوکہ ایک ہزار سال کےبعد ہلاکو نے بوتل میں فدا ئین کی اینٹ سے اینٹ بجا کر بند کیا تھا۔
اب ماشا ءاللہ ہمارے یہاں علم کا تناسب اس وقت سے تو کہیں زیادہ ہے جبکہ لکھے پڑھے لوگ خال خال پائے جا تے تھے۔ آج انٹر نیٹ کی دنیا ہے ہر قسم کا تاریخی مواد ایک سیکنڈ میں ہرایک کے بارے میں مل جاتا ہے؟  ساری دنیا اسے ڈھونڈ نکلالنے میں ناکام کیوں ہے کہ ایسا کیوں ہوا ،کب سے ہوا اور اس کے ذمہ دار کہیں وہ ہی تو نہیں ہیں جو بھیڑیئے ہیں اور کھالیں بھیڑ کی پہن رکھی ہیں۔ جو ملت اسلامیہ کے ماتھے پر کلنگ کا ٹیکہ ہونے کے باوجود اپنی عیاریوں کی بنا پر اسلام کی نشاة ثانیہ کے دعوے دار بنے ہوئے ہیں ۔ جنہوں نے بھائیوں کو بھائیوں سے لڑا دیا اور اس قدر فضا میں زہر بھر دیا کہ جرم قتل جوکہ اسلام میں سب سے زیادہ قبیح فعل ہے وہ ان کی قائم کردہ یونیورسٹیوں کے علماءاور طالبعلموں کی نگاہوں میں مستحسن بن گیا؟
 وہی آجکل ہمیں یہ سبق سکھا رہے ہیں کہ غیر مسلم قومیں اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی جبکہ وہ شروع سے ان کے آلہ کار بن کر ابھرے اور جتنا ان کی شدت پسندی نے دنیا میں اسلام کو بدنام کیا اتنا کسی نے نہیں کیاجبکہ غیروں پر الزام لگانے کے بجائے اگر  ہم اپنے گریبان میں جھانک کے دیکھیں تو چودہ سال میں جتنا مسلمانوں نے خود مسلمانوں کو قتل کیا اس کا عشر ِعشیر بھی غیر مسلموں نہیں کیا۔
آجکل وہی تسلی بھی دے رہے ہیں ان ماؤ کو جو ان کی بوئی ہو ئی نفرت کی کھیتی کا شکار ہوئیں اور انکی گود اجاڑ نے کاباعث ہوئی۔ انہیں تلقین کر رہے ہیں کہ فکر مت کر و تمہارے شہید بچے تمہیں جنت میں لے جانے کا باعث ہونگے۔؟کوئی ان سے پوچھے کہ اب تک ان کے اپنے بچے ان کو جنت میں پہونچانے کا کتنا ذریعہ بنے ہیں ، جواب نفی میں ملے گا؟ کیوںکہ وہ تو عوام کی جیب پر یورپ اور امریکہ میں پڑھنے کے نام پر عیاشی کررہے ہیں جب کہ فارغ تحصیل ہو کر بھی ان کا دل اپنے ملکوں میں نہیں لگتا اور وہاں عیاشی کرتے رہنے میں ہی انہیں اپنی عافیت نظر آتی ہے۔آخر یہ ہمارے اپنوں کا گھنونا کردار ہمیں کیوں نظر نہیں آتا؟ یہ قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے؟
 یہ معصوم بچے یقینا اپنے ان مان باپ کے لیے شفیع ہونگے جنہوں نے خود کو اسلامی کردار میں ڈھا لا ہوگا اور انہیں اچھا مسلمان بننے کا سبق بھی دیا ہوگا ۔ جس کی پہچانی یہ ہے کہ جس کے شر سے پڑوسی سے لیکر ساری دنیامحفوظ ہو۔ جو اللہ کے بتا ئے قوانین پر عمل کرتا ہو برائی سے روکتا ہو۔ بھلائیوں کی تبلیغ کرے ۔نہ کہ نفرت اور برائیوں کی تبلغ کرتا ہو؟
ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے سنت نہیں بدلتا وہ ان قوموں کو تباہ کر تا آیا ہے جو اس کے احکامات کے آگے سر نہیں جھکاتی تھیں؟ جبکہ ہماری اس کے بنا ئے ہوئے قوانین پر عمل کرتے ہوئے جان جاتی ہے یاشرم آتی ہے؟ ہزاروں دہشت گر اب تک جیلوں میں سالوں سے بند تھے ، جن کا بوجھ حکمرانوں کی طرح عوام کی جیبوں پر ہے۔ ان کو پھانسی اس لیے نہیں دی گئی کہ ہم کو ان سے شرم آتی ہے جو سزائے موت پر یقین نہیں رکھتے ؟ پھر بھی ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں جبکہ دنیا کے سب سے زیادہ طاقت ور اور ترقی یافتہ ملک امریکہ میں سزائے موت پر آج بھی عمل ہورہا ہے ۔ حالانکہ ہمیں اس سے شرم آنا چاہیے جوکہ ہمارا رب ہے۔ میں اپنے گزشتہ کالم میں بھی تحریر کرچکا ہوں؟ پھر دہرا رہاہوں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سورہ زخرف کی آیت ٥ میں فرمارہا کہ تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہارے اوپر سے قرآن ہٹالوں ؟ پھر آگے کی آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے۔ کہ یہ اسکی رحمت ہے کہ لیت ولعل اورانکار باوجود ابھی تک  سزا یوں نہیں دے رہا ہے اور ڈرارہاہے۔ (شاید  سدھر جائیں)
 کل پھر اس سانحہ عظیم پر ساری قوم اکٹھا ہو گئی اور اور مدھانی میں سے بلونے کے بعد جو مکھن بر آمد ہوا وہ یہ تھا آٹھ ہزار میں سے صرف وہ جنکو دہشت گردی کے جرم میں سزا دی گئی تھی اورجن کی تعداد چارسو ہے ان کواب پھانسی دیدی جائے۔( جوکہ پانچ سال سے بحکم سرکار رکی ہوئی تھی جس کا کسی مسلمان کو حق نہیں ہے مگر ہمارے صدر کو ہے، جبکہ ملزموںکوسزا دیتے ہوئے رحم کھانا بھی ہمارے یہاں منع ہے)۔ یہ ان ہزاروں میں سے ایک مثال ہے جو ہم نے اس کے قوانین التوامیں ڈالے ہوئے ہیں۔ گر اسکے بجا ئے وہ ان میں سے ایک کا اور اضافہ کردیتے کہ جو صادق اور امین نہیں ہیں وہ خود مستعفی ہو جا ئیں ؟ ورنہ انہیں عدالتیں فارغ کردیں تو بہت بڑا کارنامہ ہوتا؟ اور ہم مغضوب ِ علیھم سے انعمت علیھم میں شامل ہو جاتے ؟کیونکہ ان کی جگہ پھر ایسے لوگ لیتے جو خدا سے ڈرنے والے ہوتے، اس کے بعد طالبان کے اپنی برانڈ کا اسلام لانے کے سارے منصوبے ناکام ہوجاتے، اس لیے کہ دین تو امراءکا چلتا ہے اگر وہ نیک ہونگے توسارا نظام خود بخودنیک بن جاتا؟ کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ تم اگر میرے راستے پر چلوگے تو میں اپنی رحمتوں سے نوازدونگا۔
 مگر باقی معاملات وہیں کے وہیں رہے جس کی وجہ سے ان کو بڑا دھچکا لگا جو اپنی قیادت سے امیدیں باندھ یٹھے تھے۔ ہم نے انہیں بہت پہلے کہدیا تھا کہ کچھ نہیں ہوگا؟ وہ اب سب کے سامنے آگیا ہے کہ امپائر نے اپنا کام نکالنے بعد ہاتھ اٹھا دیا ہے جبکہ اٹھا تو پہلے ہی لیا تھا۔ لہذا ماؤں کے کارواں کے ساتھ سیاسی کارواں بھی ایک دفعہ پھر لٹ گیا اور کسی کوکانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ کیونکہ اس سانحہ نے انہیں موقع فراہم کیا جو پھنسے ہوئے تھے یک جہتی کے نام پر اپنی جان چھڑانے کا۔ اس لیے کہ جان بچانا فرض ہے جو سب کو پیاری ہے؟


:دیگر مضامین
(13.12.2014) دیکھو اور انتظار کرو۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی
(06.12.2014) ہوئے تم دوست جس کے۔۔۔ ؟ ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(29.11.2014) جوگرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(22.11.2014) ;مومن فراست سے محروم  کیوں؟۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(15.11.2014) ان کو نہ  ہر گزناپئے اسوہ رسول (ص) سے ۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی
(08.11.2014) خود نہ بدلیں، مگرقرآن بدلنا چاہیں۔۔از۔۔ شمس جیلانی
(01.11.2014) شدت پسندی اور تبلیغ کرنے والی باجیاں۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(25.10.2014) مشرف بہ اسلام کرنے سے پہلے اچھی طرح پرکھیئے؟ از۔۔۔ شمس جیلانی
(18.10.2014) نوشتہ دیوار پڑھیے حکمرانوں کو مشورہ۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(11.10.2014) ایک درمند ِ ملت کا خط اور اس کا جواب۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
(05.10.2014) حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا مثا لی کنبہ۔۔۔۔  از۔۔ شمس جیلا نی
(27.09.2014) کام نہ پہلے کرتے تھے کام نہ اب کچھ کر نا ہو گا۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(20.09.2014) واقعی کیا جاگ رہا ہے پاکستان۔۔۔از ۔۔۔۔ شمس جیلانی
(13.09.2014) ذرا سوچیں آفات آسمانی ہم سے کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.09.2014) جھوٹوں کی لڑائی اس پر چوروں کی گواہی۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.08.2014) جھوٹ ، جھوٹ , جھوٹ اور جھوٹ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں