میڈیا اور طبی دنیا میں آجکل یہ بات ۔۔۔۔ماں کا دودھ بچے کے لئے بہترین غزا ہے۔۔۔مغرب اور یورپ حتی کہ پوری دنیا میں ایک نعرے کی صورت رائج ہو چکی ہے۔۔حالانکہ یہی بات۔۔ ماں کا دودھ بچے کے لئے بہترین غزا ہے۔۔ کئی صدیاں ہہلے امام علی رضا ع نے طب اور حفظان صحت کے اصول کے طور پر بحثیت ایک اصول و فرمان یا قول بیان کی تھی۔۔۔یہ بات نعرہ اب ہر ایک زبان پر عام ہے لیکن اس اصول کے بیان کرنے والے کا نام پس پردہ ہے۔۔۔یہ ایک خیانت کے مترادف ہے کہ محمد و آل محمد ص وآئمہ اہل بیتؑ کے بتائے ہوئے فرامین کو آجکل مختلف لوگ حتی کہ بعض ملکی سطح کے اخبارات بھی امیر المومنین حضرت امام علیؑ و دیگر آئمہ اہل بیت ؑ کے اقوال و فرامین دیگر ناموں سے چھاپ رہے ہیں۔۔جس کا واضح ثبوت کچھ عرصیہ پہلے عوامی نشاندہی پر ایک قومی سطح کے اخبار میں اس غلطی پر اعتزار یا معافی نامہ چھاپنا ہے۔۔بہرحال جس طرح اسلام مکمل ضابط حیات ہے اسی طرح اس کے پیشوا محمد و آل محمد ص وآئمہ اہل بیتؑ نے بھی زندگی کے تمام شعبوں بشمول ظب و حفظان صحت کے حوالے سے گراں قدر کام انجام دیا ہے۔ اس سلسلے میں طب معصومینؑ بالخصوص طب امام رضاؑ ایک سند کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ قارئین کے سہولت کے لئے اردو میں ۔۔۔طب امام رضاؑ ۔۔کتاب کا لنک دیا جا رہا ہے
اسلئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ علم و حکمت یا ماڈرن سائنس و ٹیکانوجی چاہے طب ہو یا کوئی بھی شعبہ اس کے اولین بانیاں اور اس کے احیا میں میں محمد و آل محمد ص و آئمہ اہل بیت ع کا خاص کردار رہا ہے اور بزبان حدیث رسول ص۔۔میرے اہلبیتؑ کی مثال کشتی نوح ؑ کی سے ہے جو اس میں سوار ہوا اس نے نجات پایا۔۔اسی حقیقت کو امام علی رضاؑ نے اپنے مبارک زبان سے نیشاپور کے مقام پر ہزاروں محدثین کے سامنے ۔۔حدیثِ سلسلۃ الذھب۔۔ یوں بیان فرمایا تھا۔
حضرت امام رضاؑ کی نیشاپور آمد کی خبر لوگ سن چکے تھے،استقبال کیلیے اکٹھے ہوئے امام ہشتم امام رضاؑ سواری پرمحمل میں تشریف فرما تھے،نیشاپور شہر کے درمیان سے گذررہے تھے،وسیع میدان میں بہت زیادہ لوگوں کا اجتماع ہو چکا تھا۔اس موقع پر اہل علم حضرات کے وفود کی ہمراہی کرتے ہوئےاحادیثِ نبوی کے دو(بڑے)حافظ آنحضرت علیہ السلام کی سواری کی لگام اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور عرض کرتے ہیں:اے عظیم امام اور اے آئمہ کے فرزند!آپ کو اپنے پاک و پاکیزہ آباء و اجداد اور اپنے جد بزرگوار حضرت پیغمبر خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہیں کہ ہمارے لیے ایک حدیث بیان فرمائیں تاکہ ہمارے پاس یادگار رہے۔
امام رضاؑ حکم فرماتے ہیں کہ سواری روک دی جائے،لوگوں کا جمِّ غفیر امام علیہ السلام کا نورانی چہرہ دیکھ کر بہت خوش ہو جاتے ہیں ،کچھ دیر کے بعد لوگ خاموش ہو جاتے ہیں۔اس وقت حضرت امام رضاؑ مندرجہ ذیل حدیث شریف کو اپنے والد بزرگوار سے حرف بہ حرف بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے باپ،دادا اور اس طرح اپنے اجداد طاہرین علیہم السلام سے نقل کیا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے روایت فرمائی کہ حضرت حق تبارک و تعاليٰ فرماتا ہے:’’کلمۃ لا الہ الا اللہ حصنی‘‘(یعنی کلمۂ لا الہ الااللہ۔اللہ کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق اور اہل نہیں ہے۔یہ میرا قلعہ ہے پس جو شخص میرے قلعے میں داخل ہو جائے وہ میرے عذاب سے محفوظ رہتا ہے)پھر امام رضا علیہ السلام کی سواری آگے بڑھنے لگی تو دوبارہ مخاطب ہو کر امام رضاؑ نے فرمایا:’’لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں اور میں خود(یعنی اہلبیتؑ) انہیں شرائط میں سے ہوں‘‘۔
اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ کلمۂ طیبہ لا الہ الا اللہ کے اقرار کی شرائط میں اس معصوم امام علیہ السلام کی برحق امامت کا اقرار،اطاعت اور ان کے گفتار و رفتار کو دل و جان سے قبول کرنا ہے کیونکہ امام علیہ السلام حجتِ خدا ہیں اور خود خداوندمتعال نے انہیں اپنی خلق کی ہدایت و رہنمائی کیلیے مقرر فرمایا ہے۔
امام رضا اور طب: امام رضا کے علمی فیوض میں سب سے اہم رسالہ ذھبیہ یعنی طب کے موضوع پر ہے۔ دانشور جو اد فاضل نے اپنی تالیف '' طب اسلامی اور جدید میڈیکل سائنس کے انکشافات'' میں طب سے متعلق معصومین (ع) کے ارشادات کو طب النبی (ص) ،طب الصادق اور طب الرضا کے عنوانات کے تحت جمع کیا ہے طب النبی کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار کے ١٤ ویں جلد'' السماالعالم'' میں نقل کیا ہے۔ طب الصادق کی تفصیلات کشف الاحضار ، خصال اور بحار میں موجود ہیں۔ طب الرضا کی اساس وہ تفصیلی خط ہے جو امام رضا (ع) نے نیشاپور میں ٢٠١ھ میں مامون کو ارسال کیا تھا۔ اس ضمن میں مامون اور امام ع کے علاوہ مشہور اطبا یوحنا ابن ماسویہ، جبرئیل بن یختی یشوع، حکیم بن سلمہ کے درمیان '' انسانی جسم اور حفظان صحت کے اصول'' کے موضوع پر تفصیلی بحث ہوئی تھی اس رسالہ میں وہ تمام معلومات موجود ہیں جن پر آج علم طب کی بنیاد ہے مثلاً فزیا لوجی، پتھالوجی، اناٹومی، جسم انسانی کا ڈھانچہ ، اعصاب اور ان کے وظائف وغیرہ یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ اسلامی طب کی بنیاد اعتدال ہے جو قران کریم کی آیت ''کلو والشر بو ولا تسرفوا'' ( سورہ اعراف) ''کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو'' کی عملی تفسیر ہے۔ اس کے کئی تراجم ہیں اور بے شمار شرحیں لکھی گئی ہیں جو عربی اور فارسی میں ہیں لیکن اردو دان طبقہ کے لئے یہ امر باعث فخر و اطمینان ہے کہ علامہ رشید ترابی ١٤ نے بھی اپنی تالیف '' طب معصومین '' کے ذریعہ اس ضمن میں قابل قدر خدمت انجام دی ہے۔ اس کتاب میں مختلف امراض کے لئے چہاردہ معصومین (ع) کے تجویز کردہ علاج کو یکجا جمع کیا ہے۔ ایک جامع مقدمہ میں علامہ موصوف نے اپنے خاص انداز میں صحت انسان سے متعلق قرآن کی آیات اور ائمہ کے ارشادات اور تجربات کو قلمبند کیا ہے