16.10.2026, 07:52pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » عالم آرا
 

کیا واقعئی ہم زندہ ہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
22.12.2014, 01:00am , سوموار (GMT+1)

اب ہم نہ رونے کی بات کرینگے نہ دکھوں کی کہ سنتے ہیں کہ جب درد بڑھ جاتا ہے تو دوا بن جاتا ہے ۔اسی طرح شاید دکھوں اور غموں نے ہمیں بے حس ،بے احساس ،بے درد اور بے تکلیف بنا دیا ہے ۔جب اتنے سخت ماحول میں زندگی گزارنا ہو کہ نہ بچوں کی تفریق ہو نہ عورتوں کی اور نہ جوانوں کی تو احساس منجمد ہو جاتا ہے اور لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں درندے گھس اآئے ہیں ۔جنہیں ہمارے لوگوں نے خود ہی پالا تھا ۔کہتے ہیں سانپ سے زیادہ سنپولیا زہر بھرا ہوتا ہے ۔اور اکثر پالتو شیر ہی چیر پھاڑ کر رکھ دیتا ہے ۔لگتا ہے ہم نے بھی کہیں نہ کہیں کچھ پالتو جانوروں سے نقصان اٹھایا ہے جو باتیں اب کی جارہی ہیں وہ کچھ اسی قسم کی ہیں کہ ہمارے پچھلے ادواروں میں جن لوگوں سے صرفَ نظر کیا گیا وہ ہی اآج ہمیں روند رہے ہیں ہمارے مستقبل کو مشکوک بنا رہے ہیں حملے کر کے معصوم جانوں سے کھیل کر ۔ہمارے اداروں کو کمزور بنا کر ۔

لیکن ہم کہاں ہیں ۔شاید خواب دیکھ رہے ہیں ۔بس کمیٹیاں بنا رہے ہیں اے پی سی بلا رہے ہیں ،کیا یہ سب کچھ ہم سب پہلے بھی نہیں کرتے رہے ؟؟ ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں کہ ہر حادثے کے بعد پھر اُسی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں جن سے پہلے بھی کچھ حاصل نہیں ہوا ہوتا ۔ہر کمیٹی اور اے پی سی کا انجام ایک ہی ہوتا ہے کہ وہ فائلوں میں دب جاتی ہے بے نتیجہ ۔زمے دار کون شاید عمل نہ کرنے والے جو اقتدار کی مسند پر بیٹھنے سے پہلے ہر قسم کا سبز باغ دکھاتے ہیں عوام کو اور عوام بھیڑ بکریوں کی طرح ان کے گلے میں موجود رہتی ہے کہ انہیں اپنے گڈرئے کے پیچھے پیچھے چلنا ہوتا ہے اور وہ گردن جھکائے چلتی رہتی ہے ۔یہ ریوڑ اسی طرح اب بھی خاموشی سے حکمرانوں کے ساتھ چل رہا ہے بغیر اآواز اُٹھائے ؟؟؟

کیوں محسور ہیں ہم سب کیا ہم ان پُر تشدد واقعات پر جنہوں نے ہماری اُگتی ہوئی فصل کو مسمار کردیا اپنے کسی بھی بڑے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں کر سکتے ؟؟؟ کیوں اآخر کیوں ۔شاید اس لئے کہ ہم میں وہ حوصلہ ہی باقی نہیں چھوڑا گیا جو ڈت کر کھڑا کردیتا ہے ظلم کے خلاف کہ تم ہماری حفاظت نہیں کر سکے ہم تمہارا ساتھ نہیں دیتے ۔بلکہ ہم تو ان باتوں کو بھی چھوڑ دیتے ہیں جو ماضی میں ہمیں صاف نظر اآرہی تھیں کہ یہ کمزور طاقتیں جو قرضوں کے ڈھیر پر بیٹھی ہیں ۔کیسے اآنکھوں میں اآنکھیں ڈال کر کھڑی ہو سکتی ہیں ۔۔کیسے اپنا حق جتا سکتی ہیں ۔دنیا میں شاید ہی کہیں اتنی دھشت گردی کے بعد اس طرح اطمینان نظر اآیا ہو ۔کیا ہمیں سخت فیصلوں سے دھشت گردوں کو یہ نہیں بتانا چاہئے کہ ہم اپنا بدلہ لے سکتے ہیں ۔ہم اپنے معصوم خون کو رائیگاں نہیں جانے دینگے ۔ہم تمہیں ضرور کیفر کردار تک پہنچائینگے ۔کہ ہم سستی قوم نہیں کہ جسے تم جب چاہو خرید لو ۔عجیب عجیب منظر ہیں جو ہمیں ششدر کر دیتے ہیں ۔تصویر ہے ایک پھانسی چڑھنے والے کے جنازے کی اور اسکی نمازِ جنازہ کی ۔کیا پھانسی جیسی سزا کسی بے قصور کو دی جاسکتی ہے ۔اگر نہیں تو یہ کیا ہے ؟؟ اور انکے اتنے حامی کس بات کی نشاندہی کرتے ہیں ۔؟ ہم حواس با ختہ ہو جاتے ہیں ہماری سمجھ کام نہیں کرتی کہ ہم کیا کر رہے ہیں ؟؟ کیا پیغام دے رہے ہیں ؟کیا ٹھیک ہے کیا غلط ہم سوچ سوچ کر پریشان ہیں ۔

حکومتوں کی زمے داری ہے کہ وہ اپنے لوگون کی انکی جان مال کی انکی اولاد کی حفاظت کرے ۔اور اگر نہیں کر سکتی تو اپنی ناکامی قبول کرے اور کرسی چھور دے مگر ہمارے یہاں اس قسم کی روایت ہے ہی نہیں بلکہ ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی ناکامی ناکامی ہی نہیں ہر ناکامی ایک نیئ کامیابی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے اور حکمران پھر پیر پسار کر سو جاتے ہیں کہ شکر پھر بچ گئے ۔ ہم کب تک انہیں بچاتے رہینگے ؟؟ کیا ہم کبھی اپنے حق کو مانگ سکینگے ؟ یا ہم یونہی 
اپنی نسلوں کی قربانیاں ان بے فیض حکمرانونں کو بچانے کے لئے دیتے رہینگے ۔

کچھ ہی سر پھرے ہیں ہمارے ملک میں جو حق بات کرتے ہیں لیکن وہ بس اتنے ہی ہیں جنکی بات کا اثر نہیں لیا جاتا بلکہ انہیں مجنون قرار دے کر تکیہ سیدھا کر لیا جاتا ہے ۔بس ہم نوحے پڑھنے پر یقین رکھتے ہیں ان واقعات کو روکنے پر نہیں جو ہمیں نوحہ کناں کر دیتے ہیں ۔یہ ہم نے اس لئے لکھا کہ ہر چینل پر نوحہ پڑھا جا رہا ہے لیکن کوئی ان حادثات کی بنیادوں کو کھود نکالنے پر بات نہیں کر رہا اور اگر کر رپہا ہے تو کوئی سُن نہیں رہا کہ کان بند ہیں شاید ۔کیا ہماری زبانیں اب بھی بند رہینگی ؟ ہر حکومت طاقت دیتی ہے ان تمام قوتوں کو جو انہیں کاندھوں پر بٹھا کر لاتے ہیں ۔ملک کسی ایک طاقت سے نہیں بنتا ملک بنتا ہے ایمان کی طاقت سے ملک بنتا ہے ایقان کی طاقت سے ،ملک بنتا ہے ہمدردی کی طاقت سے ۔ملک بنتا ہے احسان کی طاقت سے ،ملک بنتا ہے قانون کی طاقت سے ،ملک بنتا ہے حفاظت کرنے والوں کی طاقت سے ،ملک بنتا ہے عدل کرنے والوں کی طاقت سے ۔ملک بنتا ہے ضمیر کی طاقت سے ،ملک بنتا ہے جزبوں سے ،ملک بنتا ہے قربانیوں سے ،ملک بنتا ہے اچھے لوگوں کی طاقت سے ۔

صرف باتیں اور باتیں ،وہ باتیں جو کوئی فائدہ نہیں دیتیں ۔کیا جواب دین ان بچوں کو جنہوں نے اپنے ساتھیوں کو اپنے سامنے مرتے دیکھا ۔کیا جواب دیں ہم ان بچوں کو جنہوں نے اپنی ٹیچر کو اپنے سامنے جلتے دیکھا ۔کیا جواب دیں ہم ان بچوں کو جو زخمی ہیں اور جنکی آنکھوں سے وہ مناظر نہیں ہٹے جو انہوں نے دیکھے ۔

کیا کہیں ہم ان ماؤں سے جنکی گود اُجڑ گئی کیا کہیں ہم ان باپوں کو جو چھپ چھپ کر آنسو بہا رہے ہیں کیا کہیں ہم ان بہن بھائیوں کو جو اپنے بھائیوں کی کمی محسوس کر  رہے ہیں ۔کیا کوئی جواب دینے کی ہمت رکھتا ہے ۔

کاش ہم نے ریلیاں نکالی ہوتی ان دھشت گردوں کے خلاف کاش پورے ملک کو جمع کر لیا ہوتا کہ ہم احتجاج کرتے ہیں اس ظلم کے خلاف ۔کاش سب کھڑے ہوجاتے کہ اب ہم یہ ظلم نہیں سہینگے ۔

کاش میرے بڑوں نے اپنی سیکیورٹی میں کمی کردی ہوتی کہ نہیں رکھتے ہم یہ سیکیورٹی اپنے پاس کہ جب ہم تمہیں سیکیورٹی نہیں دے سکے تو ہم بھی اس سیکیورٹی کے مستحق نہیں ،کاش ہمارے وہ ایم پی اے اور ایم این اے جو ہمارے ووٹوں سے آتے ہیں اپنی سیکیورٹی واپس کرتے کہ نہیں چاہئے ہمیں سیکیورٹی آو ہمیں مارو ہمارے معصوموں کو نہیں ۔ہے کوئی ہماری حکومت میں اتنی ہمت والا ۔ہمارے معصوموں کی طرح مرنے والا ۔شاید کوئی ایک بھی نہیں کہ ہم انکے بجرے اب بھی سجے ہوئے دیکھ رہے ہیں ہم اب بھی انکے بارکیڈ دیکھ رہے ہیں ہم اب بھی انکی گاڑیوں کے پیچھے چلنے والے دسیوں کاروں کے قافلے دیکھ رہے ہیں ۔ہےکوئی ہمارا ہمدرد ۔ کیا میڈیا اس سیکیورٹی پر آواز اُٹھا سکتا ہے روک سکتا ہے ان سیکیورٹی کے قافلوں کو جو اس ملک کے بڑے استعمال کرتے ہیں اُس ملک میں جہاں چھوٹے بچے محفوظ نہیں جہاں عورتیں محفوظ نہیں جہاں جوان محفوظ نہیں ۔ہے کوئی جواب ہمارے بڑوں کے پاس ۔ شاید نہیں ۔اور شاید نہ ہوگا کہ ہمارے ضمیر سو گئے ہیں اور جب ضمیر سو جائیں تو روشنی ختم ہو جاتی ہے ۔

یہ موم بتیاں جلانا ہمارا کلچر نہیں۔ یہ پھول رکھنا ہماری معاشرت نہیں ۔ پلٹو اپنی طرف ۔پلٹو اپنی اقدار کی طرف پھر چاہے غم ہو یا خوشی اپنی شناخت کو مت تبدیل کرو کہ ہم ایک پہچان رکھتے ہیں اپنی پہچان کو مت چھوڑو ۔اچھی باتوں کی نقل کرو ۔اچھے کاموں کی ترغیب دو چاہے غم ہو یا خوشی ۔مت بھولو اپنے اسباق کہ اسی میں فلاح ہے اور اسی میں عافیت ۔
اللہ جل شانہٰ ہم سبکی خطاؤں کو معاف کرے اور ہم پر رحم فرمائے آمین 

:دیگر مضامین
(01.12.2014) ڈاکو بھی  احتجاج کرنے لگے ؟؟ از:‌ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(14.11.2014) وہ اُجالے لینے گئے ہیں ۔۔۔ از:‌ عالم آرا ، وینکور، کینیڈا
(05.11.2014) سمجھ نہیں آتا ۔کس طرح خود کش سیکیورٹی پار کر جاتا ہے۔ از۔ عالم آرا
(14.10.2014) تجھ کو کسی کی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ۔۔ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا 
(30.09.2014)  انتظار انتظار اور انتظار۔۔۔۔ از :‌عالم آرا ۔۔ وینکوور۔ کینیڈا
(08.09.2014) پارلیمنٹ اور اس کا احترام ۔۔۔۔۔ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور۔ کینیڈا
(26.08.2014) ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم نے ہر بات کو مزاق بنا لیا ہے۔از ۔عالم آرا
(19.08.2014) اگر عوامی مینڈیٹ ہے تو پھر ڈر کیسا؟؟از۔۔۔۔ عالم آرا
(22.07.2014) مسلمانوں پر مشکل وقت ۔۔۔۔ از: عالم آراء ۔ وینکوور
(07.07.2014) بیک ڈور پچھلا دروازہ ۔۔۔۔ از؛ عالم آراء ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(01.07.2014)  ٹانگ مت کھینچو حکومت کرنے دو ۔۔از:‌عالم آراء ۔ ویکوور ۔ کینیڈا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں