15.10.2026, 02:03pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » سیدہ زائرہ عابدی۰بجو
 

خبردا ر ہو جاؤ پاکستانیو ... ۔۔۔ از:‌ سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا 
30.12.2014, 03:05am , منگل (GMT+1)

داعش پاکستان  کے ہر شہر ،ہر ادارے میں سیڑھی لگا  کر داخل ہو چکے ہیں ،ابھی زیادہ دن ہوئے ہیں بس یہی کو مہینہ ہی گزرا ہو گا جب  پاکستان میں خبر آ گئ تھی کہ تحریک طالبان پاکستان کی ایک شاخ نے داعش کے خلیفہ ابو بکر البغدادی کے ساتھ الحاق کر لیا ہے ،اور یہ بات آئینے کی طرح شفّاف ہے کہ ابو بکر البغدادی   اسرائیل کا ایجنٹ ہے ماسرائیل جس کا ایجنڈا امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ ملکر مسلمان ملکوں کو تاراج کرنا اور مسلمانوں کی ایسی نسل کشی کرنا کہ کہ وہ اپنے مسلمان ہونے سے توبہ کر لیں ،،

وطن کے دانشوران چیخ رہے ہیں کہ دشمن پاکستان کے دل میں گھس بیٹھا ہے   ،اُمّ احسان لال مسجد کے مدرسے سے الاعلان کہ رہی ہیں کہ ہاں  ان کے یہاں سے داعش کی حمائت کی وڈیو جاری کی گئ ،،مولانا عبد العزیز کی بھی مکمّل جانبداری ظالمان کی پشت پر موجود ہے  لیکن کسی بھی قومی سلامتی کے تحفّظ رکھنے والےنے  امّ احسان صاحبہ سے  پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ آخر آپ نے اپنی مسجد کو مسجدِ ضرار کیوں بنا لیا ہے ،،اور کراچی جیسے میگا سٹی میں کراچی یونیورسٹی اور این ای ڈی یونیورسٹیز بھی طالبان کے مظبوط گڑھ بن چکی ہیں  روزنامہ امّت نے داعش کا جھنڈا اپنے پہلے صفحے پر ثبت کیا ،لیکن بعد میں پابندی کے سبب ہٹا دیا ، اس کا مطلب ہے کہ آئیندہ آنے والے دنوں کی خدا خیر کرے ۔

کراچی کی جدید بستیوں میں طالبان کے دہشت گرد اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے  اپنے اہداف چننے کے لئے مضافاتی بستیوں سے  لشکرِ جھنگوی اور سپاہَ صحابہ  کی جماعتوں کے نوجوان چن کر انہیں بیس بیس ہزار روپئے کے عوض کرائے کے قتل کے ٹھیکے سونپتی ہیں۔جماعت اسلامی  کے منوّر حسن تو ابھی کچھ ہی عرصے پہلے  پاکستانی قوم کو قتال فی سبیل اللہ کا بیان ے چکے ہیں  ،اس کا مطلب ہے کہ جماعتِ اسلامی کے یہاں داعش کی ضیافتوں کے اہتمام قرار پا چکے ہیں

یہ ہماری قومی زہنی کیفیت ہے اور ادھر دہشت  گرد جماعت تحریک طالبان کے ایک گروہ نےفرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق  حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ترجمان طالبان محمد خراسانی کے مطابق حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان قبول کرتی ہے۔لندن تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)نے سانحہ پشاور میں  قریب قریب  سواسو سے اوپر معصوم بچوں اور باقی بڑوں  کو خون میں نہلا نے کی وحشیانہ منطق پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف آپریشن کرنے والے پاکستانی فوجیوں کے بچوں کو مار کر بدلہ لیا گیا ہے۔اُدھر امریکی نیوز ویب سائٹ”ڈیلی بیسٹ“پر شائع ہونے والی صحافی سمیع یوسف زئی کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے کمانڈر جہادیا روز یر نے انہیں بتایا کہ ان بچوں کو اس لئے نشانہ بنایا گیا کہ ان کے والدین امریکا کے ساتھ ملکر طالبان کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں اور یہ حملہ بچوں کیلئے بھی پیغام ہے کہ وہ اپنے والدین کو وزیرستان میں کاروائیاں کرنے سے روکیں ۔ٹی ٹی پی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ان بچوں کے والدین فوج میں افسران یا سپاہی ہیں اور چونکہ وہ وزیرستان پر گولہ باری کر رہے ہیں اس لئے ان بچوں پر حملہ کر کے بدلہ لیا گیا ہے۔ کمانڈر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی اپنی جگہ چھوڑ نے پر مجبور ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی بھی اس پوزیشن میں ہے کہ جہاں چاہے حملہ کر سکتی ہے اور مزید یہ کہ ان کے پاس پاکستان میں حملوں کی ابھی طویل فہر ست موجود ہے ۔

  ۔آرمی پبلک سکول پردہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں بچوں کی ایک  بہت بڑی تعدادزخمی ہوئی ہے جنہیں پشاورکے لیڈی ریڈنگ ہسپتال اورسی ایم ایچ طبی امدادکیلئے منتقل کیاگیاتاہم اس قدربڑے واقعے کے بعدہسپتالوں کے بلڈبینکوں میں خون کی کمی رہی جس کیلئے ہسپتال انتظامیہ نے شہریوں سے اپیلیں کیں کہ جس پرشہریوں کیساتھ طلباء وطالبات ،سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کی ایک بڑی ہسپتالوں کوپہنچ گئے اورخون عطیہ کیاتاہم بعدازاں خون عطیہ کرنیوالوں کی تعداداس قدربڑھ گئی کہ ہسپتال انتظامیہ نے شہریوں کوواپس کردیا ہے۔

پشاور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن مکمل کر لیا گیا۔آپریشن مکمل ہونے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ 7 دہشت گرد سکول کے عقب میں سیڑھی لگا کر داخل ہوئے اور بچوں کو نشانہ بنایا۔اس سانحے میں 132 بچے اور 9سٹاف ممبرز جاں بحق ہوئے۔جبکہ 121 بچے جن میں 3سٹاف ممبرز بھی شامل تھے زخمی ہوئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فورسز اپنا کام کر رہی ہیں تاہم حکومت ، اپوزیشن اور عدلیہ کو بھی چاہیئے کہ وہ بھی اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ آرمی پبلک سکول میں 1099 بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ سکول میں 4 بلاک موجود ہیں۔سکول کے ایڈمنسٹریٹو بلاک میں بچے کسی تقریب یا امتحان کی وجہ سے جمع تھے جہاں دہشت گردوں نے بچوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ کوئیک رسپانس فورس 10 سے 15 منٹ میں پہنچیں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا۔فورسز نے یرغمالیوں کو زندہ اور سلامت بچانے کی کوشش کی جبکہ نقصان کو کم سے کم رکھتے ہوئے آپریشن کیا گیا۔ اور 960 بچے بحفاظت ریسکیو کر لیے گئے ہیں۔ عاصم باجوہ نے بتایا کہ ایک دہشت گرد آڈیٹوریم میں مارا گیا جبکہ 6 دہشت گرد ایڈمنسٹریٹو بلاک میں مارے گئے ۔اس ٓآپریشن میں ایس ایس جی کے 7 جوان اور2 افسر زخمی ہوئے ہیں جبکہ دہشت گرد اپنے ساتھ اسلحہ اور کھانے کا سامان وافر مقدار میں ساتھ لائے تھے ۔میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ پتا لگا چکے ہیں کہ دہشت گرد کون تھے اور کہاں سے آئے،،کاش  محترم عاصم باجوہ  ابھی حال ہی میں  واہگہ  کے ہولناک حادثے  کے بعد ہی  یہ پتا لگا لیتے کہ ان  کے وطن کے آنگن میں دہشت گرد کہاں سے آنے والے ہیں تو یہ پھول اور غنچے جو  بارود کی آگ  اور بندوقوں کی گولیوں سے شہید ہو گئے ان کیجانیں بچائ جا سکتی تھیں ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے  کہ کمانڈو آپریشن سے پہلے ہی دہشت گردوں نے ۔انہوں نے بتایا کہ سکول کو کلیئر کر لیا گیا ہے جبکہ دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا۔اور اب فورسز واپس جا رہی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور دہشت گردوں کا اسلام سے کیا انسانیت سے بھی دور دور تک کوئی رشتہ نہیں ہے۔

اس ہولناک حادثے کے  عینی شاہدین  نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ دہشت گرد  وں کے پاس اسکول کی عمارت کا نقشہ بھی تھا اور اسکول کے طالب علموں کی تفصیل مع کلاس کے تھی   اس ہولناک قتلِ عام کے عینی شاہد ایک معصوم طالب علم نے بتایا  کہ کلاس  میں فرسٹ ایڈ ٹریننگ کا لیکچر جاری تھا کہ ہمارے پیچھے ہوائ فائرنگ کی آواز آئ کسی نے بھاگ کر کلاس روم کا دروازہ بند کر لیا لیکن زراسی دیر میں  دروازہ  توڑ کر دہشت گرد ہال کے  اندرداخل  ہو گئے اور  وہ ہاتھ میں فہرست لے کر طالب علموں کے نام پکار پکار کر ان کو ایک جانب کھڑا کرتے گئے  اور پھر ان سب پر فائر کھول دیا  ،انہوں نے ایک طالب علم کو سب کے سامنے گلا کاٹ کر زبح بھی کیا۔

اصل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس ہر اہم ادارے کا سیکیوریٹی سسٹم صرف ادارے کے سامنے کے حصّے میں ہوتا ہے اس لئے ہر اہم جگہ پر  تحریک طالبان کے چھ یا سات ظالمان  دہشت گرد اپنے ساتھ  بھاری مقدار میں اسلحہ اور کھانے  کا سامان اپنی  پشتوں پر لاد کر اور سیڑھی سنبھال کر  اٹھائے پھرتے ہیں  اور جہاں دیکھتے کہ وہاں ان کا شکار باآسانی ہاتھ لگ سکتا وہیں سیڑھی لگاکر دیوار پھاند جاتے ہیں  اور جنّات کی طاقت والے یہ چند دہشت گرد ہماری قوم کو  زرا سی دیر میں  بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا کر خود اپنی  خود کش جیکٹوں سے ہلاک ہو کر  ہماری قوم کو  اُس اندھے کنوئیں میں پھینک جاتے ہیں جس میں وہ انہی بھول بھلّوں میں لگ جاتی ہے کہ  آخر سیڑھی سے اترتے چڑھتے بھی ان کو کسی نے دیکھا ہی ہو گا ،
وہ تو سرکاری وردیوں میں تھے ،بے شک وردیاں جعلی تھیں پھر بھی کون ان سے پوچھنے کا مجاز تھا کہ ہمارے اسکول میں فوجی دیوار پھاند کر کیوں آرہے ہیں ۔

یہی سیڑھی تماشہ کراچی میں نیول ہیڈ کواٹر میں پیش آ چکا  ہے اس لئے پوری پاکستانی قوم کو اب  اپنی دیواروں کی خود نگہبانی کرنی ہوگی کہ کہیں ان کے گھروں  میں سیڑھی بردار  دہشت گرد تو نہیں گھسے چلے آرہے ہیں ۔


:دیگر مضامین
(12.12.2014)  سرزمینِ ہند کے نیّرِ تاباں حضرت خواجہ معین الدّین حسن چشتی
(03.12.2014)  مسلمانوں پر کس طرح شب خون ماریں ۔از:‌سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا
(25.11.2014) وطنِ عزیزپاکستا ن میں اسرائیلی سازشیں ۔۔ از:‌سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا 
(20.11.2014) گدھوں کا گوشت شہر میں سپلائی ۔۔۔ از:‌ سیدہ زائرہ عابدی ۔کینیڈا
(13.11.2014) حضرت لقمان رحمۃ اللہ علیہ ۔۔ از:‌سیدہ زائرہ عابدی۔ کینیڈا
(28.10.2014)  پاکستان اور ایران دوستی کے دوراہے پر ۔۔از:‌ سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا 
(16.10.2014) خدا کے لیئے مائیں اپنی آنکھیں کھلی رکھّیں ۔۔از؛ سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا 
(13.10.2014) کہاں ہیں چارہ گر میرے ۔۔از؛ سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا
(04.07.2014)  میرا شہر نا پرسا ں کراچی ۔۔ از: سیدہ زائرہ عابدی ۔ ٹورنٹو
(03.06.2014) انسانی اسمگلنگ ،موت کے سائے تلے ۔۔ سیدہ زائرہ ، ٹورنٹو ، کینیڈا
(20.05.2014)  مصر کے بازار سے پاکستان کے بازار تک ۔از: سیدہ زائرہ عابدی ۔ ٹورنٹو
(06.05.2014) اپنے ننھے پھولوں کی حفاظت کیجئے.. حصہ دوئم ..از: سید زائرہ عابدی
(02.05.2014) اپنے ننھّے پھولوں کی حفاظت کیجئے..پہلی قسط .از: سیدہ زائرہ . ٹورنٹو
(23.04.2014) ٹارگٹڈ آپریشن برائے تحفّظِ اشرافیہ پاکستان ۔از؛سیدہ زائرہ عابدی ۔ ٹورنٹو ( کینیڈا )
(23.01.2014) پھر ایک بار شیعہ قوم دشمن کے نشانے پر ۔۔ سیدہ زائرہ عابدی ۔ایڈمنٹن
(24.10.2011) قذافی ۔۔۔ رونقِ بزمِ جہاں تھا پہلے ۔از؛ خاورچودھری ۔اسلام آباد



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں