آج بانی پاکستان بابائے قوم محمد علی جناح کا 138 واں یوم پیدائش ہے اور پورے ملک میں سرکاری دفاتر اور اسکولوں میں پورے احترام سے چھٹی منائی جا رہی ہے اور نجی اداروں میں دو گھنٹے پہلے چھٹی دے ایک گھنٹے کا اوور ٹائم بچا لیا گیا ہے ۔ قائد اعظم کے بنائے ہوئے ملک میں ان ہی کے مزار پر بادل نخؤاستہ گارڈز بھی بدل دیئے گئے ہیں ۔ اور ٹی وی ۔ ریڈیو اور سرکاری تقاریب میں ان کی جدوجہد کو سراہا بھی گیا اور بچوں نے لہک لہک کر گایا بھی “ یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران “ ۔۔۔۔۔ واقعی دنیا حیران ہے کہ پاکستان کیا دنیا کہ نقشے پر اپنی عوام کے علاوہ سب کو خؤش کرنے کے لئے بنایا گیا تھا
قائد کا سفر مسلسل پر روشنی ڈالنے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ انہیں پتہ چل سکے کہ ان کا سفر رائیگاں گیا ۔اب یہ ان کا وہ پاکستان نہیں رہا جس کے لیئے انہوں نے 1947سر توڑ کوششیں کیں تھی تاکہ پاکستانی سکھ چین اور عزت سے جی سکیں ۔ پر ایسا آزادی کی آدھی صدی کے بعد بھی ممکن نہیں ہو سکا ۔ ہر طرف سوال ہی سوال ہیں ۔ پاکستان کے لئے ہر فرد نے قربانی میں اپنے بہن بھائی ، ماں باپ ، بیوی ، شوہر ، بچے قربان کیئے تھے ۔ کیا اس لیئے کہ جب ان کی نسلیں ثمر بار ہوں تو کوئی طالبان یا کوئی طالبانی سوچ زدہ لوگ ان کے ثمر نوچ کر پھینک دیں ۔ کیا اس لیئے عزتیں لٹائیں گئی تھیں کہ بعد میں کسی کی بھی عزت محفوظ نہ رہے ۔ کیا اس لیئے جائیداد ، نوکریاں ، کاروبار چھوڑ کر سب آگئے تھے کہ وطن پہنچ کر پائی پائی کو ترس جائیں ۔۔ رہنے کو ایک کمرہ بھی میسر نہ ہو ۔۔ علاج معالجے کے نام پر موت کے پروانے پر دستخط ہوں ۔ ۔۔ اسکول کالج موت گاہوں میں بدل جائیں ۔۔ مسجد منبر کی بولیاں لگ سکییں ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا پاکستان بکاؤ ہے ۔۔
کیا پاکستانی اجتماعیت کے دائرے سے باہر نکل چکا ہے ۔۔
کیا ہمیں کوئی بھی خرید سکتا ہے ۔۔۔
قائد اعظم جی سنیئے آُپ کے پاکستان کو اس کے اپنے حکمرانوں نے اپنے مفاد اور ہوس زر کی وجہ سے پہلے دولخت کیا اور اب لخت در لخت کرنے کے سارے گر آزما رہے ہیں ۔ جس فوج پر آپ کو بھروسہ تھا وہی اپنی رکھوالی کے لئے کرائے کے غنڈے پال رہی ہے ۔ ۔۔ جس ڈیمو کریسی کی باتیں آپ کیا کرتے تھے اب ہم سب مل کر اس کو دفنا آئے ہیں ۔۔ بیوروکریسی کے منہ کو خون لگ چکا ہے ۔ ۔۔مسلمانوں کو آزاد ہی کروانا تھا تو زہنی آزادی دلواتے ۔۔۔ روحانی بالیدگی اور اخلاقی ترقی کے نظام کو رائج کرتے ۔
ہائے کیسے بتاؤں کہ میری ماں یہ کہتی مر گئی کہ مجھے پاکستان جانا ہے پر وہ ڈاکوؤں سے بہت ڈرتی تھی ۔۔۔ انہوں نے ڈاکوؤں سے ہی اپنی اولاد بچائی تھی ۔ ایک ماہ پہلے میرے بھائی کے دوست کوہشت گرد ، ٹارگٹ کلنگ سے اسی کو اسی کے گھر کے سامنے مار گئے تھے ۔ اس چھبیس سالہ کڑیل جوان چھبیس سیکنڈ میں ہی مر گیا ۔ سولہ دسمبر کو ہشاور میں 132 پھولوں کو بے دردی سے گولیوں سے چھلنی کیا گیا تو کبھی ان کے ناز شہ رگ کو کاٹ دیا گیا ۔ مائیں رو رو پوچھتی ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔ آنتی جی انہیں بتاتی ہیں کہ پاکستان کا مطلب “ لاالا اللہ “ ہے اور جیو ٹی وی والے کہتے ہیں کہ “ پاکستان کا مطلب ہے پڑھ کر جیو “ ۔۔ مائیں بین کرتے کرتے پوچھتی ہیں کہ کیا “ لا الا للہ “ کسی کو پڑھنے سے روکتا ہے ۔۔ ان کے بچے بھی تو کلمہ گو تھے اور دہشت گردوں نے ان سے کلمہ ہی سنا تھا گویا یقین چاہتے تھے کہ سب محب وطن پاکستانی ہیں ۔
قائد اعظم جی مجھے کہنا ہے کہ کاش آپ پاکستان نہ بناتے ۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم بجلی ، پانی ، گیس ، تعلیم ، تحفظ ، عدل کو یوں نہ ترستے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔