بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کا 138واں یوم پیدائش ملک بھر میں ملی جوش و جذبے سے منایا گیا۔ملک عزیز کے دیگر حصوں کی طرح سکردو میں بھی بابائے قوم وملت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مختلف تنظمیوں اور

جماعتوں کی طرف سے خصوصی پروگرام ترتیب دئیے گئے۔ریڈیو پاکستان سکردو نے اپنے عظیم قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے ایک خوبصورت محفل مشاعرے کا اہتمام کیا۔ جس میں سکردو بھر سے نامور شعراء نے شرکت کی۔
شعراء نے اپنے منظوم نذرنے کے ذریعے قائد ملت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اوردسمبر کے مہینے میں پشاور میں ہونے والے المناک حادثے کو بھی شکوئے کے طور پر شعراء نے قائد کے حضور پیش کیا۔
شعراء نے اس اہم دن کے موقع پر خوبصورت مشاعرے کا اہتمام کرنے پر ریڈیو پاکستان سکردو کے سٹیشن ڈائریکٹر کوثر ثمرین کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ شعراء نے کہا کہ جب سے کوثر ثمرین نے سٹیشن ڈائریکٹر کا چارج سنبھالی ہے تب سے شعراء اورادیبوں کو ریڈیو پاکستان سکردو پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا بھر پور موقع مل رہا ہے۔
مشاعرے میں شریک شعرا کے کلام سے اقتباس گوشہ ادب کے قارئین کی خدمت میں اس امید سے پیش کرررہا ہوں کہ آپ پسند فرمائیں گے۔
غلام مہدی شاہد
اے میرے قائد اے میرے محسن میں تیرا احساں کیسے بھولوں
تیرے سبب ہے ملا ہمیں یہ مقام انساں کیسے بھولوں
اسی میں مضمر ہے شادمانی اتحاد ، تنظیم یقین و محکم
میں تیرا عاشق ترا سپاہی یہ تیرے فرماں کیسے بھولوں
زبان ملی ہے اماں ملی ہے قرآن و سنت اذاں ملی ہے
یہی ہے دونوں جہاں کی خاطر بقا کے ساماں کیسے بھولوں
فرمان علی خیال
خونِ جگر سے تازہ سخن لکھ رہا ہوں میں
قائد تمہارے نام پہ مدحت سرا ہوں میں
میرے سخن میں تیری محبت کا عکس ہے
تو جلوہ گر ہے جس میں وہی آئینہ ہوں میں
اے پاسبان قوم ، وطن کے مجاہدو
تو میرا حوصلہ ہے تیرا حوصلہ ہوں میں
رسول تمنا
اصولوں کی سیاست تونے کی ہے
حقیقت میں عبادت تو نے کی ہے
مجھے سنتا نہ تھا دنیا میں کوئی
مگر میری سماعت تو نے کی ہے
تمنا قائد اعظم ہے میرا
یہ اظہار محبت تو نے کی ہے
احسان علی دانش
یر ینگ اونگمہ نا یمبو خشا مید سنیگ لا رگانو یو گوید
رگونی شوم وخلا غدونگ ژھنگمی غبیر میندوق ژے فرمو گوید
محمد نا علی منتخ پوئی برکت لا ان قائد
فہ یل فچوید زیربانہ زیر بی خپرونگ رنگ یل لا سمنگردو گوید
نو چن مانگ مو رگالے سونگسید اینا دانش توسینگ اما
دی میولینگ قائدی توت لا زیر کھیانی گیرے گو یود
رضا بیگ گھائل
سب کو یاں تجھ سے محبت ہے میرے بابائے قوم
یاد جو تیری قیادت ہے میرے بابائے قوم
دے دیا تو نے غلامی کے اندھیروں سے نجات
اس قدر تیری عنایت ہے میرے بابائے قوم
تیرے پاکستان کو اس قلعہِ اسلام کو
آج پھر تیری ضرورت ہے میرے بابائے قوم
عارف حسین سحاب
اس طرح سے طے وہ الفت کے سفر کرکے گئے
جتنے اہلِ دل تھے ا ن کے دل میں گھر کرکے گئے
جنت ارضی کی یوں بنیاد رکھی پیار سے
تا ابد اس سرزمیں کو معتبر کرکے گئے
کل تھے جو مغلوب وہ غالب ہوئے ایک بار پھر
کام یہ آسا ں نہیں تھا وہ مگر کرکے گئے
عباس جرات
تیری تصویر آویزں میری سوچوں میں پیہم ہے
میرا سینہ تیری یادوں تیری باتوں کا البم ہے
تمہارے گلستان میں ہورہا ہے کیوں یہ خون ریزی
مجھے اے قائد اعظم اسی ایک بات کا غم ہے
منافق کی علامت ہے ہماری مصلت کوشی
کسی کی بات واضح ہے کسی کی بات مبہم ہے
عاشق حسین عاشق
ہمارا قائد ہمیں زمانے میں بختِ بیدار دے گیا ہے
وہ اپنی ملت کے چپ لبوں کو شعورِ اظہار دے گیا ہے
اسی نے ہم کو سکھا دئیے ہیں تمام گر عَظم و ہمتوں کے
رگوں میں ٹھہرے ہوئے لہو کو وہ شوقِ رفتار دے گیا ہے
چلو اٹھو اب تو مل کے دست ستم کو روکو وگرنہ عاشق
لہو کے دھاروں میں بہہ نہ جائے جو ہم کو گلزار دے گیا ہے
********