16.10.2026, 12:42pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ماہ پارہ صفدر
 

 قومی یادگار حکومت کے عزم کی عکاس ہوگی۔ از ۔ ماہ پارہ صفدر۔ اشاعت مکرر
16.12.2015, 07:40am , بدھ (GMT+1)

ماہ پارہ صفدر
پاکستان کیا بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کی حالیہ تاریخ  پر نظر ڈالیے تو پشاور جیسی بربریت کی کوئی اور مثال نہیں مل سکے گی۔  یہاں ذبح کی جانے والی  سب سے چھوٹی بچی کی عمر صرف بانچ برس تھی، اور سکول میں  اس کا دوسرا دن  اس کی زندگی کا آخری دن ہوگیا۔ بچوں کو صرف قتل ہی نہیں بہت سوں کے گلے کاٹے گئے، اساتذہ کو بچوں کے سامنے زندہ جلایا گیا اور فرعونیت اور بر بریت کی نئی تاریخ رقم کی گئی۔

یہ بھیانگ خواب نہیں ایک ایسی  بھیانک حقیقت تھی، جو درجنوں والدین  کی زندگیوں میں ہمیشہ کے لیے آنسو بو گئی۔   ایک سو چالیس  سے زیادہ  گھروں سے ایک ساتھ  ماتم کی آوازیں  بلند ہوئیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایوان اقتدار کے در دیوار ہل جاتے۔   ایک قومی جزبہ عود کر آتا۔  سیاسی حکومت یہ اعلان کرتی  کہ ہمیں افسوس ہے ہم 
آپ کی حفاظت کی ذمے داری سے پوری طر ح عہدہ برا نہیں ہوسکے، ہم اب آپ کے بچوں  کی زندگیاں تو واپس نہیں لاسکتے، مگر ہم اس غم کو قومی  سانحے میں تبدیل کردیں گے۔  ہم آپ کے پھولوں کو اس  اہتمام سے دفنائیں گے کہ یہ قومی تاریخ میں ایک مثال بن جائے۔  ان سب پھولوں کے کفن و دفن  حکومت کی ذمے داری ہوگی۔ اور ریاست کی پالیسیوں کے باعث دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے جنازوں کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائیگا۔  

مگر شائد یہ وہ خواب تھا جو میرے جیسے عام لوگ ہی دیکھتے ہیں بھلا اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والوں کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ  عوام کے دکھ درد میں اس طرح سے شریک ہوں۔

سب بچوں اور ان کو پڑھانے والے قابل احترام اساتذہ کے جنازے اپنے ہی عزیزوں کے کندھوں پر نکلے اور ہمیشہ کے لیے  ڈھیروں  مٹی  تلے گم  ہوگئے۔

آنکھوں سے اوجھل ہونے کے باوجود  یہ بچے ستاروں کی طرح لوگوں کے ذہن میں جھلملاتے رہے۔ کبھی شمعوں کی صورت میں جل کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہے۔ تو کبھی احتجاجی نعروں میں گونجتے رہے۔  

 کہتے ہیں کہ لاہور میں انتی شمعیں جلیں کہ پورا ماحول دہواں دہواں ہوگیا۔

 مگر اہستہ آہستہ یہ  بھیانک واقعہ  لوگوں کے ذہنوں سے بلکل اسی طرح محو ہوتا جارہا  ہے جیسے  لہریں اٹھتی ہیں شور مچاتی ہیں، ساحل کو بھگوگتی ہیں اور واپس لوٹ جاتی ہیں، اور ساحل پہلے کی طرح خاموش ہوجا تا ہے۔ 

 تاہم پشاور کے آرمی سکول میں گونجنے والی  گولیوں کی آوازیں اتنی اونچی تھیں کہ  صاحب اختیار کے بہرے کا نوں پر جوں رینگنے لگی۔ اور ابکی بار یہ فیصلہ ہو ہی گیا کہ دہشت گردی سے  نمٹا جائیگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس مرتبہ اچھے اور برے طالبان کے درمیان کوئی  فرق روا نہیں رکھا جائیگا۔  گزشتہ پندرہ برس سے ان ہی اچھے اور برے طالبان کی ریاستی پالیسی  نے ہزاروں بیگناہ  شہریوں اور خود سیکورٹی اہلکاروں کی جان لے لی۔ ہر دہشت گردی کے واقعے کے بعد  حکومت یہ اعلان کرتی رہی کہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا، مگر حکومت کے یہ اعلان ریت کی دیوار ثابت ہوتے رہے۔ عوام سنتے رہے اور کبھی دہشت گردی تو کبھی مذہبی جنونیت  کا نشانہ بنتے رہے کبھی سٹرکوں پر، کبھی بازاروں  میں کبھی مسجدوں میں تو کبھی امام بارگاہوں میں ۔ یہاں تک کہ یہ جنونیت اس حد بڑھی کہ فوجی تنصیبات تک جا پہنچی۔ کبھی کامرہ کمپلس پر جا جھپٹی تو کھبی مہران بیس  پر پنجے  گاڑے ۔ یہاں تک فوج کے اپنے  ہیڈ کواٹر میں بیھٹے  اعلیٰ اہلکار  بھی دہشت گردوں سے نہ بچ سکے۔  مگر یہ سب کچھ  اچھے اور برے طالبان کا فرق ختم نہ کرسکا۔ اور کل کے اچھے طالبان آج کے دہشت گرد ثابت ہوتے رہے۔

   تو اب کیسے یقین کرلیا جائے کہ سیاسی اور فوجی قیادت کو بچوں کے قتل عام کے بعد اپنی ناکامیوں اور غلطیوں کا واقعی احساس ہوگیا ہے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ صوبہ سرحد کی حکومت جو تبدیلی پر یقین رکھتی ہے۔ وہ اس واقعے کو دہشت گردی کے خلاف پالیسی کا نکتہ آغاز قرار دیکر تمام بچوں کی یاد کو ایک قومی یاد گار میں تبدیل کرے۔ ایک ایسی قومی یاد گار جس میں تمام مقتو لین کے ساتھ اگر ہمدردوں کے نہیں تو کم از کم  قاتلان  کے نام درج ہوں۔ تاکہ ہماری ائیندہ آنے والی نسلیں  ان وحتشوں سے آگاہ رہیں۔ اور یہ واقعہ  بھی دہشت گردی کے دوسرے واقعات کی طر ح ماضی میں دفن نہ ہوجائے۔ 

 ایسی ایک  یاد گار ہی حکومت کے عزم و اردے کی سچائی کی ضامن ہو سکتی ہے۔

 ورنہ ماضی کے  وعدوں کے ڈ سے ہوئے عوام یہ سمجھنے میں شائد غلط نہ ہوں کہ حکومت کا دہشت گردی سے نمٹنے کا عزم اب  کی بار بھی محض لفاظی سے زیادہ کچھ نہیں۔  

:دیگر مضامین
(28.06.2015) بریڈ فورڈ میں پائی جانے والی فرقے وارانہ کشیدگی منکشف ہو گئی۔ از۔ ماہ پارہ صفدر
(28.09.2014) پاکستان میں چند حکمراں خاندانوں کی چودھراہٹ ؟؟ از۔۔۔۔۔ ماہ پارہ صفدر
(13.04.2014)  مرد کے بچے بنو۔مرد کے بچے ۔۔۔ از۔۔۔۔ ماہ پارہ صفدر
(04.04.2014) ‎اور پھر نابو ڈارلنگ چلے گئے۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔۔ ماہ پارہ صفدر
(24.03.2014) یوکرین:طاقت کے کھیل میں نقصان کس کا ہوگا ؟تجزیاتی تحریر ۔ماہ پارہ صفدر
(25.06.2013) میری ماں ۔۔۔۔ نام کی نہیں عمل کی شمس۔از ۔ ماہ پارہ صفدر



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں