آج میں سوچ رہی ہوں کہ میں پاکستانی کیوں ہوں ۔۔ ؟ بھلا قائد اعظم نے کیوں ٹیڑھا میڑھا سا پاکستان بنا کر ہمارے آباؤ اجداد سے عزت و جان کی قربانی مانگی ۔۔؟ کبھی سوچتی ہوں کہ انہیں کوئی حق نہیں تھا ہمیں یوں اکیلا چھوڑکر نومولود پاکستان کو " غریب کی جورو"کی طرح چھوڑجاتے ۔ جانے سے پہلے کوئی پالیسی کوئی آئین ڈھنگ کا تو بنانا چاہیئے تھا کہ آج ہر پاکستانی اپنے ملک میں خود کو آزاد پاتا۔۔ شخصی آزادی ہر مرد و عورت کو ملتی ، حکومت خدا کا خوف کرنے والوں کے پاس ہوتی ۔۔ بچے خوشی خوشی اپنے اسکول مدرسوں میں جاتے اور ہنستے کھیلتے زندہ واپس گھر آ جاتے ۔
نئے سال 2015 کا جشن سڑکوں پر منانے والی پاکستانی قوم اس قدر بے حس ہو چکی ہے کہ اسے خبر ہی نہیں کہ 2014 کے صرف ایک سال میں صرف شہر کراچی میں ٹارگٹکلنگ میں 1822 خاندانوں کو اپنے پیاروں سے محروم کر دیا ۔ تاوان کے لئے 117 لوگوں کو اغوا کیا گیا ۔ تھر کے علاقے میں بھوک سے روزانہ 5 بچے مر جاتے ہیں ۔ دہشت گردی میں کئی ہزار جانیں جا چکی ہیں ۔
آیئے اعداد و شمار دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی سی کی رپورٹکے مطابق 2014 میں صوبوں میں اغوا کی وارداتیں
پنجاب : 7139
سندھ : 1711
خیبر پختون خوا : 524
بلوچستان : 57
اردو پوائینٹ کی رپورٹ کے مطابق اسی برس یعنی 2014 میں دہشت گردوں نے 25 حملے کئے ، جس میں 78 اہلکاروں سمیت 438 افراد شہید ہوئے جبکہ 818 افراد شدید زخمی ہوئے ۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ دردناک واقعہ 16 دسمبر کو پیش آیا جس میں آرمی پبلک اسکول کے 135 بچوں کو زبح کر دیا گیا اور اساتذہ کو زندہ جلایا گیا ۔
اردو پوائینٹ ہی کی ایک رپورٹکے مطابق سندھ کے علاقعے "تھر " میں دسمبر کے مہینے میں غذائی قلت سے مرنے والے بچوں کی تعداد 254 تک پہنچ گئی ہے اور ابھی وہاں موت کا رقصجاری ہے ۔۔
اس سارے تناظر میں کیا حکمرانوں کو زیب دیتا ہے کہ وہ شاہی ناشتے اور کھانے کھائیں ۔ کیا پاکستانی عوام کو زیب دیتا ہے کہ نئے سال کا جشن سڑکوں میں ناچتے ہوئے منائیں ۔ بے حسی اور بے غیرتی کی اس سے زیادہ کیا مثال ہوگی ۔
مجھے آج رنج ہو رہا ہے کہ میں کیوں پاکستان کے لیئے مرتی ہوں ۔ کیوں دن رات آنسو بہاتی ہوں ۔۔ کیوں میری آواز کسی کو جگا نہیں پا رہی ۔۔ کیوں لوگ اپنی آنکھیں نہیں کھول پا رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیئے ایک خط پڑھئے ۔۔ میرے ساتھ زار زار رویئے ۔۔ دعا کیجئے ۔۔
باجی السلام علیکم
باجی آپ سے دعا کی درخواست ہے کہ ان دنوں میں ایک زبردست پریشانی میں مبتلا ہوں میرا سترہ سالہ بیٹا جو کہ نارتھ ناظم آباد میں واقع اسلامک سینٹر میں علوم اسلامیہ کے چوتھے سال کا طالب علم ہے وہ 25 دسمبر 2014 کو سینٹر سے پیپر دے کر گھر نہیں آیا ہے آج اس بات کو آٹھ دن ہورہے ہیں ہم سب شدید پریشان ہیں اس کا موبائل آف جارہا ہے اور کہیں سے کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے میری وائف ادھ مری کیفیت سے دوچار ہے جبکہ خود میری حالت کیا ہے میں آپ کو بیان نہیں کرسکتا ۔
باجی اس معاملے کے حل کیلئے ساری کوششیں کررہا ہوں سب سے رابطہ کیا ہے جو کچھ پاس پلے تھا وہ بھی خرچ کرنے سے دریغ نہیں کیا ۔ روحانی طور پر بھی کوشش کی ہے
ہر آنے والے دن کے ساتھ میری ہمت حوصلہ اور ارادہ کمزور ہوتا جارہا ہے صرف ایک رب کی ہی ذات ہے جس سے امید نہیں ٹوٹتی وہی کارساز ہے باجی میں نے اپنے مسائل کی گھٹری رب کی بارگاہ میں پیش کردی ہے اور اس سے دعا گو ہوں کہ وہ اس گھٹری کی گرہ کھول دے ہماری مشکل آسان فرمادے اور ہمارے گھر اور خاندان کیلئے آسانی پیدا فرمادے آپ سے صرف اتنی گزارش ہے میرے لیے دعا کریں ۔
اللہ کریم اپنے پیاروں کے صدقے میں میرے بیٹے کو سلامتی کے ساتھ گھر واپسی کردے ۔۔ آمین
آپ کا بھائی
(اخبار کی پالیسی کے تحت نام نہیں لکھ رہی )
آہ !
آج ایک آزاد ملک پاکستان کے کتنے ہی آزاد شہری اتنے بے بس و لاچار ہیں کہ اپنے ہی پیاروں کو ڈھونڈ رہے ہیں ؟
دوستو ایسے ملک کا کیا نام ہو ۔۔۔ ؟ کیا یہ وہی ٹیڑھا میڑھا پاکستان ہے جس کے لیئے قائد اعظم نے میرے آباواجداد سے عزت اور خون کی قربانی مانگی گئی تھی ۔۔۔
خدا راہ ایسے ملک کا نام خود رکھ دیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں تھر میں روزانہ 5 بچے بھوک سے مر جاتے ہوں ، جہاں بچے اسکول کے اندر زبح کر دئے جاتے ہوں ، ٹارگٹ کلنگ سے ہر شہر میں کئی جوان مر جاتے ہوں ، جہاں عورتیں جسم فروشی پر مجبور ہوجاتی ہوں ، جہاں کے حکمران 6 کورس کھانے سے کم بات نہ کرتے ہوں اور جہاں کی عوام نئے سال کا جشن منانے کے لئے رات بھر سڑکوں پر ڈانس بھنگڑے ڈالتے ہوں ۔۔۔جہاں کی میڈیا غیروں کے ہاتھوں ناچتا ہو ، جہاں کے رہنے والوں کو اپنے پیٹ سے آگے دیکھائی نہ دیتا ہو ۔۔
کیونکہ یہ ملک مسلمانوں کا ملک “ پاکستان “ تو ہو نہیں سکتا ۔۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک اسلامی جمہوریہ بھی ہو ، اس کے مکین مسلمان بھی ہوں پر ان کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان مرد و عورت کی عزت ، جان و مال محفو'ط نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔!