اوہ ! میں بھول گیا یا اوہو!مجھے بلکل یاد نہیں رہا یہ جملے ہم اپنی روزمرّہ زندگی میں تقریباً روزانہ ہی سنتے ہیں لیکن یہ کوئ خاص بات نہیں ہے
-خاص بات تب ہے جب کہ اہم ترین کام انسان وقت پر انجام نا دے سکے اور جب اس سےباز پرس ہو تو اسے یہ یاد بھی نہیں ہو کہ اسے کوئ اہم کام سونپا گیا تھا۔اب میں نفسِ مضمون کی طرف آتی ہوں بھول جانا نسیان ہوجا نا یاد داشت کھودینا حافظہ چلے جانا چاروں نام لیکن بیماری ایک ہی ہے یعنی یاد داشت کی کمزوری،یادداشت کی کمزوری اور اس کے اسباب وعوامل اور اُن کا سدِّباب کیسے ہو،کسی بھی انسان کا بیمار ہو نا زندگی کے ایک معمول کاعمل ہے ،لیکن بسا اوقات بیماری اتنی پوشیدہ ہوتی ہے کہ ایک ماہرمعالج ہی اس کی تہ تک جاکر اس کا اندازہ لگا سکتا ہے ۔
یادداشت کی کمی کا مرض اسی طرح بدنِ انسانی میں پوشیدہ ہو کر اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے - ،اس مرض کا تعلّق انسان کے اعصاب سے ہے اورانسانی دماغ اس کا منبع ہے -جس وقت ایک شیر خوارنومولود کی شکل میں دنیا میں وارد ہوتا ہے اس کو اپنےارد گرد اپنا سماج درکار ہوتا ہے ،اسے اپنی ماں کی زات سے آشنائ شیرِ مادر کے زریعے ہوتی ہے تب وہ جان لیتا ہے کہ اس کی ماں کون ہے بھوک لگنے کی صورت میں اپنی مقرّر کردہ جگہ پر ہی اپنی غذاتلاش کرتا ہے یعنی اس کو معلوم ہوتا ہے کہ مجھے اپنی ما ں کی آغوش میں کس مقام پر اپنی غذادستیاب ہو گی ایک شیر خوار بچّے کے اس عمل کویاد رکھنا کہتے ہیں-(داشت کے معنی فارسی زبان میں رکھناہیں ـ)
یہیں سے انسان کی یاد داشت کی کمی یا بہتری کا تعین کیا جا سکتا ہے پھر وہ ارتقائ منازل طے کرتا ہوا بچپن ،جوانی ،بڑھاپےکی منزلوں سے گزر کر فناکی منزل پرپہنچ جاتا ہے ـ ہم میں سے بعض افراد بہت اچھّی یاد داشت کے مالک ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ معاشرے کا ہر فرد ایک جیسی صلاحیتوں کا مالک ہوکسی فرد میں یہ حِس بہت زیادہ ہوتی ہے کسی میں کم ،کم ہوتی ہے لیکن ایسا بہت ہی کم دیکھا گیا ہے کہ کوئ فرد بلکل ہی محرومِ یادداشت ہو دراصل دنیا میں آنے والے ہر انسان کو زندگی کے ہر ہر قدم پر اپنا سماج درکار ہوتا ہے والدین بہن بھائ ،ماں کی جانب سے رشتے دار باپ کی جانب سے رشتے دار محبّتوں کی فراوانی ،جذبوں کی گرم جوشی کے درمیان وہ پل بڑھ کر جوان ہوتا ہے ،لیکن ایک وقت ضرور آتا ہے کہ
وہ اکیلا ہوجاتا ہے بس جب انسان اکیلا ہوجاتا ہے اس وقت سے اس کے اعصاب پر ایک نا دکھائ دینے والا اضمحلال طاری ہونے لگتا ہے اضمحلال طاری ہونے پر وہ کچھ بیزار بیزار سا ہونے لگتا ہے پھر دوسرے نمبر رونے لگتا ہے زرا زرا سی بات پر اس کے آنسو بہ نکلتے ہیں اور پھر اس کی یاد داشت پر منفی اثرات پڑنا شروع ہو جاتے ہیں ۔
یہاں پر میرا مطلب اکیلے پن کی تنہائ نہیں ہے بلکہ زات کی تنہائ ہے,مجھے ایک ایسی مریضہ سے بھی ملنے کا اتّفاق ہوا جو بھوکی ہونے کے باوجود اپنے سامنے رکھّا ہوا کھانا کھانا بھول جاتی تھیں ۔اس کے علاوہ جوبات میرے زاتی تجربے میں آئ وہ یہ تھی کہ جابرانہ طرزِ معاشرت
میں رکھّے جانے والے لوگ بھی آہستہ آہستہ یادداشت کھوبیٹھتے ہیں، ۔ بڑے صدمہ کی کیفیت سے گزر کر یادداشت کمزور ہو جانا ۔
مجھے خود بھی بیس برس پہلے اپنے ساتھ یہ تجربہ ہوچکا ہے جب میں دن کے تین بج جلتی دوپہر میں گھر واپس آئ اس وقت میرے گھر کے سامنے محلّے کےکچھ میرے پاس ٹیوشن پڑھنے والےبچّے ایک برقع پوش پچاس پچپن عمر کی خاتون کے ساتھ کھڑے ملے وہ بچّے میرا انتظار کر رہے تھے ،میں جیسے ہی رکشہ سے اتری بچّے میرے پاس آگئے ان میں سے ایک بڑے بچّے نے کہا ٹیچر ہم صبح سے ان کو آس پاس کے تمام علاقے دکھاچکے
ہیں اور جہاں لے جاتے ہیں یہ کہ دیتی ہیں یہ ان کا گھر نہیں ہے میں نے محترمہ سےاُن کے گھر کا پتا نشان معلوم کیا اور ساتھ لے کر چلدی آدھے گھنٹے سے کچھ کم فاصلہ طے کرکے جب میں نے ان کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچی اور ان سے سے پوچھا کہ کیا یہ انکا گھر ہے تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور ساتھ آئے ہوئے بچّے کہنے لگے کہ ٹیچر ہم ان کو یہاں بھی لا چکے ہیں ،میں نے ان کے انکار کے باوجود گیٹ پر دستک دی اور پھر گیٹ جو کھلا تو وہ مجھ سے کہنے لگیں ہاں، ہاں یہی میرا گھر ہے،گیٹ ان کے جوان بیٹے نے کھولا تھا۔
وہ اسقدر خوش ہوئیں کہ میں بیان نہیں کر سکتی میں نے ان کے بیٹے سے کہا کہ آپ اپنی امّی کو اکیلا نہیں جانے دیا کیجئےآج ان کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا ہے ان کے بیٹے نے کہا کہ میرے جوان ماموں کا ابھی چند مہینے پہلے انتقال ہوا ہے۔ بس جوان بھائ کے انتقال کے بعد سے ان کی یادادشت کمزور ہو گئ ہے ،آج جب میں یہ مضمون تحریر کر رہی ہوں تب مجھے احساس ہورہا ہے کہ کوئ بھی بڑا صدمہ کسی بھی انسان کی یادداشت کو کھو دینے کا ایک عامل ہو سکتا ہے ۔
ان کے گھر کے ایک بڑے کمرے میں بڑے سے تخت کے ساتھ دیوار گیر امام بارگاہ سجی ہوئ تھی انہوں نےاسی امام بارگاہ کے سامنے کھڑے ہوکر دونوں ہاتھ اٹھا کرمجھےخوب دعائیں دیں تھیں ۔
اچھّی یاد داشت کے لئے ہفتے میں کم سے کم چار مرتبہ پچاس گرام خشک میوہ استعمال کریں ، ہڑ کا مربّہ ،چنے کی دال کا حلوہ بھی یاد داشت کو مظبوط کرتا ہے ۔ طبِّ امام میں آ پ علیہ السّلام کا فرمان ہے کہ اگر تم اپنے بچّوں میں یاد داشت کی فراوانی دیکھنا چاہت ہو تو ان کوبکرے کی گردن کا گوشت کھلاؤ۔
رو حانی علاج میں یا حفیظُ یا سلامُ کا ورد یاداشت کی تیزی کا بے مثال علاج ہے
ختم شد