14.10.2026, 10:14am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

ایبولا ، قاتل وائرس کے حوالے سے چشم کشا رپورٹ ۔ احمد خلیل جازم
10.01.2015, 07:02am , ہفتہ (GMT+1)

احمد خلیل جازم

ہم سائنسی ترقی کے جس عہد میں جی رہے ہیں دیکھا گیا ہے کہ حضرت انسان نے ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے لے کر روح کی حقیقت جان لینے تک،کے تجربات کر لیے ہیں ، ایک وقت تھا جب ٹی بی جیسی بیماری سے لاکھوں جانیں ضائع ہو ئیں، شعراء حضرات ٹی بی جیسی بیماری کو آئیڈیل جانتے تھے اور خواہش کرتے تھے کہ انہیں ٹی بی ہو تاکہ ان کا محبوب ان سے محبت سے نہ سہی مروت سے ہی پیش آئے ، پھر ایک وقت آیا کہ ٹی بی کا علاج دریافت ہوا اور اب کسی کو ٹی بی ہو جائے تو ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ سمجھیں ملیریا ہوا ہے، قدرت کا نظام بھی خوب ہے ، جیسے جیسے سائنس ترقی کرتی جارہی ہے ویسے ہی نئی نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، آخر کیا وجہ ہے کہ آج ہم لاتعداد وائریسز کا سامنا کررہے ہیں، جن کے لیے سائنس دان مسلسل تجربات کرکے زندگی بچانے کی تگ و تاز میں مصروف ہیں۔

ماضی قریب کی بات ہے کہ ایڈز نے پوری دنیا اپنی دہشت کی لپیٹ میں لیے رکھا، اور آج تک سائنس اس کی ایسی دوا تیار نہیں کر پائی کہ ایچ ای وی پازیٹو آجائے اور وہ باقی زندگی خوش و خرم صحت مند بسر کر سکے ، ابھی ایڈز کا خوف کم نہیں ہوا تھا کہ ، معلوم ہوا کہ صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے انکشاف کیاکہ ایک انوکھا جرثومہ’’کورونا‘‘ وائرس یعنی این سی او وی انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے۔یہ نیا وائرس انتہائی خطرناک تصور کیا جا رہا ہے ،اس سے نمونیا یعنی سرسام کی بیماری ہوتی ہے اور پھر گردے فیل ہو نے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔پھر 2012میں ایک اور وائرس پیدا ہوا، جسے ’’میرس ‘‘ کا نام دیا گیا ، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے774افراد کی زندگی کا چراغ گل کر دیا ، لیکن ماہرین کے مطابق مڈل ایسٹ میں پھیلنے والا یہ وائرس زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔پھر اچانک ’’پائتھووائرس‘‘ کا شور اٹھا جس نے تیس ہزار سال قبل وبائی صورت اختیار کی تھی اور برف کی تہہ میں جاچھپا تھا لیکن برف ہٹنے اور لیبارٹریز میں تجربات کی بھٹی میں پکنے کے بعد پھر زندہ ہوگیا،پائتھووائرس نامی اس جرثومے کی لمبائی ڈیڑھ مائیکرومیٹر ہے اور یہ اب تک پایا جانے والا سب سے بڑا وائرس ہے ،لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے فی الحال خطرہ نہیں ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ ماضی میں پائی جانی والی لاعلاج بیماریوں پر قابو پایا جاچکا ہے،یعنی قدرت نے ابھی کئی بیماریوں سے ’’فی الحال‘‘ ہمیں چھوٹ دے رکھی ہے ، پھر بھی کبھی کبھار قدرت انسان کو کسی ایسی آزمائش میں ڈال دیتی ہے کہ وہ ماضی میں جن بیماریوں سے نبرد آزما ہونے کا دکھ بھوگتا رہا ہے انہیں بھول کر نئی پیدا شدہ بیماریوں اور وائریس کا سامنا کرتا رہتا ہے۔ حال ہی میں ایک خطرناک بیماری ’’ایبولا‘‘ سے حضرت انسان کا واسطہ پڑا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے دنوں میں اس خطرناک بیماری کے وائرس نے ہزاروں افراد کو لقمہء اجل بنا ڈالا۔

ایبولا وائرس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ 1976 میں یہ مرض سب سے پہلے کانگو اور سوڈان میں رپورٹ ہوا۔یہ وائرس افریقی جنگلات میں بیمار جانوروں جن میں، بندر، چمگاڈر ، بن مانس اور دوسرے جانوروں سے انسانوں تک پہنچ آیا۔ اس کے بارے کہتے ہیں کہ اسی سال پہلی بار دریا سے کچھ میل کے فاصلے پر ’’یامبوکو‘‘ میں شناخت کیا گیا تھا لیکن یہ جس قصبہ میں سامنے آیا اسے بدنامی سے بچانے کے لیے تاکہ وہ قصبہ بیماری کی بدنامی مول نہ لے، اسے اس دریا کا نام دیا گیا۔یوں یہ وائرس اوریعنی ایبولااور بیماری دریائے ایبولا سے موسوم کر دی گئیں۔ بعد ازاں اس دریافت کے باوجود کہ دریائے ایبولا یامبوکو گاؤں کے قربت میں نہیں اسکا نام برقرار رہا۔1976میں اس بیماری کا شکار ہونے والے لوگوں کی تعداد قریباً چھ سو کے قریب تھی جن میں سے ساڑھے چار سو افراد دیکھتے ہی دیکھتے موت کا شکار ہوگئے تھے جس وجہ سے اس وائرس کی خطرناکی عود کر سامنے آئی۔بعدازاں اس بیماری کا شکار اکا دکا مریض سامنے آتے رہے ۔ 1976کے بعد گاہے گاہے اس بیماری کے حملے ہوتے رہے لیکن یہ حملے افریقہ تک ہی محدود رہے۔ حیران کن اور خطرناک حد تک اس بیماری کا شکار سو میں پچاس سے نوئے لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ 2013 تک اس کا شکار ہونے والوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار تھی، لیکن مارچ 2014سے یہ وائرس خطرناک شدت سے انسانیت پر حملہ آور ہوااور دیکھتے ہی دیکھتے دس ہزار سے زیادہ لوگ پوری دنیا میں اس کی لپیٹ میں آگئے۔اور اس میں سے زیادہ تر لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔صحت کے عالمی ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایبولا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک گنی، لائبیریا، سیئرا لیون میں اب تک 6331 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 17800 سے زیادہ لوگ اس مہلک وائرس کی زد میں ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک بیماری کی روک تھام کے لیے ابھی تک ہماری کوشش نا صرف ناکافی ہیں بلکہ کامیاب بھی نہیں ہوسکیں ، یوں یہ مہک وائرس آئے روز اپنا دائرہ اثر پوری دنیا پر پھیلاتا جارہا ہے، اسی وجہ سے اسے قاتل وائرس کا نام دیا گیا ہے۔اگرچہ عالمی ادارہ صحت نے ایبولا وائرس کو عالمی صحت کیلئے خطرہ قرار دے دیا تاہم یہ ادارہ پر امید ہے کہ جلد اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کر لیے جائیں گے۔ دوسری جانب افریقی ممالک لائبیر یا اور سیرا لیون نے ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ماہرین نے کچھ عرصہ قبل اس جان لیوا وائرس کو پھیلنے سے روکنے سے متعلق غور فکر کے لیے جنیوا میں ملاقات کی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ دنیا بھر میں ایبولا سے متعلق ہنگامی صورتحال کا نفاذ کیا جائے کیونکہ ایبولا وائرس عالمی صحت کیلئے خطرہ ہے۔اب تک مغربی افریقی میں ایبولا وائرس سے ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ہیلتھ ورکر بھی شامل ہیں جو متاثرہ لوگوں کی دیکھ بال کے لیے اپنی جانوں کی بھی پروا نہیں کررہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مغربی افریقہ میں اب تک 700 ہیلتھ ورکرز ایبولا مرض کے مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران اس متعدی مرض کا شکار ہو کرہلاک ہو چکے ہیں۔ایک اور افسوس ناک اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے روک تھام یا خاتمے کے لیے درکار وسائل درکار نہیں ہیں اگرچہ برطانیہ ، امریکہ ، چین اور دیگر ممالک نے اس کی روک تھام کے لیے وسائل مہیا کیے ہیں لیکن وہ ناکافی ہیں۔نومبر 2014میں امریکی صدر باراک اوبامہ نے اس بیماری کے پھیلاؤ کو امریکہ میں روکنے کے لیے کانگریس سے 6.2 ارب ڈالر کی منظور کا عندیہ دیا تھا، جس میں سے 5.4ارب ڈالر فوری طور پر منظور کرنے پر زور دیا جائے گا۔ عالمی مالیاتی ادارے ، آئی ایم ایف نے بھی 130ملین ڈالر کی ہنگامی مالی امداد جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہی یہ ادارہ اس خطرناک بیماری کے لیے مزید بھرپور امداد بھی جاری کر سکتا ہے۔انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ نے اپنی میٹنگ کے دوران یہ فیصلہ بھی کیا کہ یہ ایمرجنسی مالی امداد فوری طور پر دستیاب ہو گی۔ بورڈ کے مطابق 130 ملین ڈالرز میں سے 41 ملین ڈالر گِنی، 49 ملین ڈالر لائبیریا اور 40 ملین ڈالر سیرالیون کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کی سربراہ کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارہ، ایبولا سے متاثرہ ملکوں کے حکام کے ساتھ اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے ساتھ رابطے میں ہے اور جلد از جلد اِس وبا پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی۔اس ادارے نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے بعد متاثرہ ملکوں کی معاشی بحالی میں بھی معاونت کی جائے گی۔ان اقدامات سے اس خطرناک اور قاتل وائرس کی شدت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ اس کی علامات ظاہر ہونے کے چند دنوں کے اندر اندر انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے ، اس بیماری کی عمومی علامات میں، تیز بخار، سر درد، جوڑوں میں درد، پٹھوں میں درد، گلے میں درد، کمزوری، معدے میں درد اور بھوک کا ختم ہو جاناشامل ہے۔ جب بیماری انسان پر مکمل قبضہ جما لتی ہے تو مریض کے جسم کے اندر خون بہنے لگتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہی اسکی آنکھوں، کانوں اور ناک سے بھی خون بہنے لگتا ہے۔ بعض مریض خون کی قے بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں اور بعض کھانسی کیساتھ خون تھوکتے ہیں۔ اسکے علاوہ بعض مریضوں کے پاخانے کیساتھ خون آتا ہے اور جسم پر خسرے کے طرح کے دانے نکل آتے ہیں، پھر ڈینگی بخار کی سی کیفت شروع ہوجاتی ہے۔یوں یہ بظاہر ایسی علامات ہیں جو عام حالات میں کسی بھی انسان کو لاحق ہوتی ہیں تو ان کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا لیکن دراصل جب یہ وائرس حملہ آور ہوتا ہے تو ایسی ہی عام علامات سے ظاہر ہو کر خطرناک حد میں داخل ہوتا ہے ۔ جب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور مریض موت کے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔جس طرح ڈینگی بخار کی ابھی تک ویکسین تیار نہیں ہوسکی اسی طرح ایبولا کی ویکسین بھی ابھی تک انسان کی پہنچ س دور ہے۔اس کے پھیلاؤ کا طریقہ کار بھی دیگر متعدی امراض سے قطعی مختلف ہے، جسے سمجھنے کی بہت ضرورت ہے۔ایبولا وائرس کی بیماری نزلے، زکام اور چیچک کا باعث بننے والے وائرسوں کی طرح ہرگز متعدی نہیں ہے لیکن ایبولا وائرس متاثرہ جانور یا انسان کی جلد کے علاوہ انکے جسم سے خارج ہونیوالے سیال مادّوں سے دوسرے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ ناصرف انسان بلکہ یہ جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے بلکہ ایڈز کی طرح یہ بیماری بھی جانوروں سے ہی انسان میں منتقل ہوئی ہے، جس کا پہلے ذکر کیا جاچکا ہے۔ یہ ایک جانور اور انسان سے دوسرے جانور اور انسان کواسی طرح منتقل ہوتا ہے۔ جو لوگ ایبولا وائرس کا شکار ہونیوالوں کی تیمارداری کرتے ہیں یا اس سے ہلاک ہونے والوں کو دفناتے ہیں، انہیں بھی عموماً یہ وائرس لگ جاتا ہے۔جس کے لیے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ بہت زیادہ احتیاط کے باوجود ہیلتھ کارکنان اس کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔اس متعدی وائرس کے افریقی ممالک سے پھیلاؤ کے ذرائع پر بھی غور کیا جارہا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے بہت سارے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جو اس سے قبل شاید ہی دیکھے گئے ہوں۔برطانیہ کی لنکاسٹر یونیورسٹی کے مختلف طرح کے وبائی جرثوموں سے متعلقہ امور کے ماہرین ماضی میں وبائی بیماریوں کا باعث بننے والے وائرس اور بیکٹیریا کے پھیلاؤ کا مطالعہ کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایبولا وائرس کی یورپ آمد کے خطرے سے متعلق جو اعداد و شمار تیار کیے ہیں، ان میں بین الاقوامی سطح پر فضائی سفر کے ڈیٹا کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس بات کا بھی 50 فیصد تک امکان موجود ہے کہ ان اعدا د و شمار کے پیش نظر بہت جلد ایبولا پوری دنیا تک پھیلنے کا خطرہ ہے۔ماہرین کے مطابق اگر مختلف فضائی کمپنیاں افریقہ میں ایبولا وائرس سے متاثرہ ملکوں کو عارضی طور پر آمد ورفت روک دیتی ہیں تو پھر بھی معمول کی پروازوں کے دوران کم تعداد میں مسافروں کولانے کے باوجود ایبولا فرانس، برطانیہ ، امریکہ وغیرہ میں بہت جلد پہنچ سکتا ہے ۔جس کی تازہ مثال امریکہ میں ایبولاکے یک کیس کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ دیگر ممالک سے آنے والے مسافروں کے توسط سے یہ بیماری پھیل رہی ہے کہ ان مسافروں کو خود معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ ایبولا وائرس کو اپنے ساتھ لے کر آرہے ہیں۔

چونکہ ابھی تک اس قاتل وائرس کی ویکسین دستیاب نہیں ہے اس لیے اس سے بچنے کے لیے صرف اور صرف احتیاط سے ہی کام لیا جاسکتا ہے۔ جس شخص کے بارے میں تصدیق ہو جائے کہ وہ ایبولا وائرس سے متاثرہو کر اس مہلک بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے تو اسے فوراً دوسرے انسانوں سے الگ تھلگ کر دینا چاہیے تاکہ بیماری دوسرے انسانوں منتقل نہ ہوسکے۔ بلکہ دیگر لوگوں کو خود اس حوالے سے بہت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ایبولا کے مریض کو ٹھوس غذا کے بجائے پتلی غذادی جانی چاہیے اور اسے آکسیجن بھی لگادینی چاہیے۔ایسے میں مریض کو خون کا دباؤ یعنی بلڈ پریشر معمول پر رکھنے کی دوائیں بھی دی جاتی ہیں اور اسے خون بھی لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس مرض سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ان علاقوں کا سفر بالکل نہیں کرنا چاہیے جہاں ایبولا وائرس پایا جاتا ہو یا پھیل چکا ہو۔ حفظانِ صحت کی خدمات انجام دینے والے افراد بھی نقاب لگا کر، دستانے پہن کر اور عینک لگا کر اس وائرس کے منتقل ہونے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ جس وقت کسی مریض کے مرض میں شدت آ جاتی ہے تو اس وقت بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ ایسے مریض کے جسم کے کسی ایک یا مختلف حصوں سے خون بہنے لگتا ہے اور اس وقت اس کا ایک سے دوسرے فرد یا جانور میں منتقل ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، اور جب خون بہنے کی علامت ظاہر ہوجائے تو مریض کا بچنا لگ بھگ ناممکن سمجھا جاتا، اس لیے مریض کے خون، تھوک اور پسینے وغیرہ سے بچنا بہت ضروری ہے۔ یہ ماں کے دودھ اور مرد سے عورت اورعورت سے مرد کے تعلق کے ذریعے بھی آسانی سے پھیلتا ہے۔

رواں برس اس قاتل وائرس کی روک تھام کے لیے طبعی ماہرین نے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا ہوا ہے تاہم خاظر خواہ کامبابی نصیب نہیں ہوئی اس کے باوجود کسی حد تک ماہرین پرا مید ہیں کہ جلد اس کی ویکسین تیار کر لی جائے گی ۔طبی ماہرین کے مطابق انسانوں پر اس کے علاج کی غرض سے کچھ تجربے کیے گئے ہیں جن کے مثبت اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ محققین نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ایبولا کے خلاف موثر ویکسین تیار کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے، لیکن اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ ایبولا اور اس سے ہونے والی اموات نے دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ۔کہا جاتا ہے کہ ایبولا کا جرثوما خشک آ ب و ہوا والے خطوں میں چند گھنٹوں سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا لیکن خون اور کسی سیال مادے میں یہ کئی روز تک زندہ رہ سکتا ہے۔ فی الحال اس کے علاج یہ ہے کہ اس کے شکار افراد کو پانی اور زیادہ سے زیادہ مشروبات دینے سے اس کی طبیعت میں کسی حد تک بہتری لائی جاسکتی ہے لیکن اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا چاہیے، جہاں ڈاکٹر اور تربیت یافتہ عملہ ہی اس کی بہتر دیکھ بھال اور علاج کرسکتا ہے۔امر یکا کے’ ’نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ‘‘ کے ماہرین نے ایبولا کے علاج کی غرض سے ایک ویکسین کو بیس صحت مند افراد پر آزمایا اور نتائج کے مطابق ان تمام افراد میں اس وائرس کے خلاف کارآمد علامات ظاہر ہوئیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے امید کی جاسکتی ہے کہ مزید تجربات کے بعد یہ ویکسین ایبولا سے نجات دلانے کے لیے استعمال کی جاسکے گی۔
گذشتہ دنوں پاکستان میں بھی ایک مرد میں ایبولا وائرس کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔کراچی کے علاقے ملیر کے رہائشی 45 سالہ ہارون کو ایبولا وائرس کا پہلا مشتبہ مریض بتایا جارہا ہے۔ہارون چند روز قبل ہی لائیبریا سے وطن واپس پہنچا، جہاں وہ ملازمت کرتا تھا۔ کراچی ایئرپورٹ پر تیز بخار کی علامت ظاہر ہونے کے باعث صوبائی حکومت کے محکمہ صحت کو خدشہ ہے کہ کہیں وہ ایبولا کا شکار نہ ہو۔مریض کو نگہداشت کے لیے اسے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا اور اس کے خون کے نمونے حاصل کرکے ملک سے باہر بھجوا دئیے گئے ہیں۔ جب کہ مریض کا کہنا تھا کہ اس کا ایبولا وائرس کے کسی مریض سے دور دور تک واسطہ نہیں رہا۔ پاکستان میں فی الحال ایبولا کی کی علامات چیک کرنے کے لیے وسائل موجود ہیں نہ ہی لیبارٹیرز ، ایسے میں کسی بھی مریض پر شبہ ظاہر ہو تو اس کے خون کے نمونے ملک سے باہر بھجوائے جاتے ہیں۔تاہم سندھ کی حکومت نے اس حوالے سے اقدامات اٹھائے ہیں اور ایک لیبارٹری کے قیام کی منظوری دے دی ہے جہاں ایبولا کے مرض کی تشخیص ہو سکے گی۔

:دیگر مضامین
(07.01.2015) لندن سے سیالکوٹ براستہ دبئی ۔ قلم کار فرخندہ رضوی کا پہلا مختصر سفرنامہ ۔ تیسری قسط
(06.01.2015) زلفی بھٹو.تاریخ پاکستان کا لازوال کردار ۔ از؛ محمد احمد ترازی
(04.01.2015) جشن صبح بہاراں کا پیغام ۔ ۔ ۔ یومِ میلاد تجدیدِ عہدِ وفا اور انقلاب کا دن
(02.01.2015) نعت کےنور سے ہاں میرا قلم روشن ہے
(02.01.2015) دو ہزار چودہ بچوں کے لئے ناگوار اور المناک رہا ۔ یونیسف کی تازہ رپورٹ
(29.12.2014) مصطفےٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام ، مصطفےٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام
(27.12.2014) دسمبر 26۔پروین شاکر خوشبو اور انکار کی شاعرہ کی برسی ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ زرقا مفتی
(26.12.2014) ریڈیو پاکستان سکردو کاعظیم قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیئے محفل مشاعرہ
(25.12.2014) بانی پاکستان محمد علی جناح کی شخصیت کا ہر پہلو ایک روشن مثال
(24.12.2014) ملکہ ترنم نورجہاں کے ایک تاریخی انٹرویو سے اقتباس , نور جہاں کی چودہویں برسی
(24.12.2014) ریڈیو پاکستان سکردو کی جانب سے منقعدہ کل بلتستان نعتیہ مقابلہ
(23.12.2014) سویڈن کے شہر سٹاک ہولم میں سانحہ پشاور کے حوالے سے ایک اہم تقریب
(22.12.2014) لندن کی معروف ریجنٹس سٹریٹ پر ہرسال کرسمس کے موقع پر چراغاں ہوتا ہے
(20.12.2014) گلگت ، بلتستان میں بھی سانحہ پشاور پر ماحول انتہائی افسردہ ہے
(16.12.2014) سولہ دسمبر یوم سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے محمد احمد ترازی کی خصوصی تحریر
(15.12.2014) عالمی اخبار کے لیئے خصوصی تحریر۔ اسلام کے خلاف باطل کی فکری یلغار کا تاریخی جائزہ
(14.12.2014) چہلم امام حسینؓ ۔2 کروڑ سے زائد عزاداران روضہ مبارک پر حاضری دے رہے ہیں
(11.12.2014) بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پانچ برسوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں
(08.12.2014) عشق محمد سے سرشار حقیقی نعت گو۔.... حفیظ تائب
(02.12.2014) حسن کاظمی ۔ ریڈیو پاکستان کی ایک پہلوُدار شخصیّت ۔ از سیّد علی اصغر کاظمی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں