17.10.2026, 06:04am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

بھانت بھانت کی بولیاں۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
10.01.2015, 04:01am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔ شمس جیلانی

بھانت بھانت کی بولیاں۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
    ہمارے سامنے آج تین گرماگرم عنوانات ہیں ۔ ہمارے قارئین تینوں پر ہمارے خیالات پڑھنا چاہتے ہونگے مگر ہم نے اپنے اوپر خود ساختہ پابندی عائد کررکھی ہے جیسے کہ بعض لوگ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلیتے ہیں؟ چونکہ ہمارے لیے عہد کی پابندی لازمی ہے۔ جبکہ بعض مسلمان یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں عہد تو ہوتے ہی توڑنے کے لیے ہیں اور وعدے ہوتے ہی ٹہلانے کے لیے ہیں؟ ہم چونکہ پرانے وقتوں کے لوگوں میں سے ہیں ہم اپنا عہد نبھاتے ہوئے ہفتے کے ہفتے، عالمی وقت کے مطابق لکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں کوئی ایک عنوان منتخب کرنا پڑتا ہے۔ مگر آج تینوں عنوانات ایسے ہیں جن پر لکھنے کو دل مچل رہا ہے۔ اس لیے جیسے  کہ لوگ نظریہ ضرورت کےتحت چار شادیا ں کرلیتے ہیں ہم نے بھی آج تینوں عنوان منتخب کرلیے  ۔سب سے پہلا تو ہے  ایک پھانسی کامعاملہ؟
جبکہ آپ نے اکثر یہ محاورہ سنا توہوگا کہ “ کرے داڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا “ مگر یہاں معاملہ الٹ گیا کہ کرے مونچھو ں والا اور پکڑا جا ئے داڑھی والا۔  معاملہ تھا دو دہشت گردوں کا جو کہ ہم نام تھے۔ دونوں میں “اکرام“ مشترکہ تھا یعنی دونوں  نام کےاکرام تھے ایک کے ساتھ حق لگا  ہواتھا اور دوسرے کے ساتھ کچھ بھی نہیں ۔ جبکہ ایک کی مونچھیں اور دوسرے کی گھنی داڑھی تھی، ایک سندھ میں پیدا ہوا تھا اور دوسرا جھنگ کے علاقے شور کوٹ میں ؟ لیکن کہلاتے دونوں لاہوری تھے۔ جبکہ لاہور جو داتا (رح) کی نگری ہے، میاں میر (رح) کا شہر ہےجنہوں نے زندگی بھر محبت بانٹی ۔اس کا بھلا دہشت گردوں سے کیا تعلق؟ مگر جب اللہ دینے پر آتا ہے تو کیسے بندوبست کرتا ہے۔ پولس نے ڈیتھ وارنٹ اکرام الحق کے حاصل کر لیے؟ اکرام لاہوری  کےجرم میں، جس کی تاحال سندھ  سےمنتقلی بارہ سال میں نہیں ہوسکی اور اسے پولس  ہر مقدمے میں اکثرلاپتہ قرار دیتی رہی ۔ اسے یہ مقدمہ نبٹانے کا موقعہ مل گیا؟
بس میڈیا کوجیسے ہی پولس نے اطلاع دی ۔اس نے حسب روایت اکرم کی ویڈیو تک دکھانا  شروع کردی کہ وہ اتنا با اثر تھا کہ وزیر اعظم کے گھر میں ان کے ساتھ فوٹو کھنچوا کر نکل گیا۔ یہ جانتے ہو ئے کہ آج کے دور میں جعلی ویڈیو اور فوٹو سب کچھ عام ہیں۔ جب کہ اکرام الحق کے سرپرستوں کو پتہ چلا کہ اب ان کے شاگرد کی پھانسی ہو ہی جانا ہے تو وہ جھنگ پہونچ گئے اور مک مکاؤ ہوگیا۔ جس پر کہ مجسٹریٹ نے پھانسی پر عملدر آمد روک دیا ۔  حالانکہ ڈیٹھ وارنٹ پر وقت تک لکھا ہوتا  ہےاور وقت نکل جائے  تو پھانسی نہیں ہوسکتی تھی۔  اب پتہ نہیں کہ یہ لاسٹک اور چنگم کا دور ہے ۔ لہذا اب چھوٹی سی رسی کھنچ کر بہت دور تک پہونچ جاتی ہے۔ جو کہ کسی چھوٹی سی ڈبیہ میں بند ہوتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اس تصویر کا کرشمہ ہے جو اس پر بنی ہوتی ہے۔ چونکہ پاکستان میں ایک کے بجا ئے تین قوانین نافذ ہیں لہذا پتہ نہیں کہ کس نے کونسا استعمال کیا تھا؟ لہذ پوری فائیل دیکھے بغیر کو ئی بڑے سے بڑا قانون داں یہ نہیں بتا سکتا کہ پولس نے کونسا قانون استعمال کیا اور عدالت نے کس قانون کے تحت چھوڑا۔؟جنہیں پاکستان چھوڑے زیادہ عرصہ ہوچکا انہیں شاید پتہ نہ ہو لہذا میں بتا ئے دیتا ہوں کہ وہاں تین اقسام کے قوانین نافذ ہیں۔ ایک بر طانوی قانون ہے جو ورثے میں ملا تھا اور اب وہ پاکستان کریمنل کوڈ کہلاتا ، دوسرا شریعت لاءجو ضیاالحق صاحب کا عطا کر دہ ہے اور تیسرا دہشت گردی ایکٹ ہے۔
    پولس چالان کرتے وقت پوچھتی ہے کہ کونسی دفعہ لگوانی ہے۔ مثال کے طور پر قتل کرکے اگر چھٹنا ہو تو شریعت لاء کہ اگر قاتل واقعی پھنس گیا تو لے دے کے چھٹ جا ئے گا۔ اگر دفعہ تین سو دو لگی  ہوئی ہے تو مدعی حکومت ہوتی ہے پولس پیروی ویسی ہی کرتی جتنا اسے گڑ پڑتا ہے اور جس طرف سے پڑتا ہے۔اس میں چھٹنے میں تھوڑی مشکل ہو سکتی ہے ۔اور تیسرے ہنگامی قوانین مشرف  کےدور کے ہیں ان عدالتوں کی اپیل صرف سپریم کورٹ میں ہوسکتی ہے۔ اکرام الحق کو سزا دہشت گردی کی عدالت سے ملی تھی ۔ مگر مجسٹریٹ کے پاس پھانسی روکنے کی بظاہر کوئی گنجائش نہیں تھی۔ مگر وہ کیا کرتا کہ ایک طرف تو ساری دہشتگردوں کی قیادت اور دوسری طرف نہ جانے کیا کچھ۔؟ بہر حال داڑھی والا مونچھوں کی جگہ پھانسی پاتے پاتے بچ گیا؟
ورنہ توزک ِ جہانگیری میں ایک اور اضافہ ہوجاتا، جس میں بہت سے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے کے کیس بھی شامل ہیں۔ یہاں تک تو پہلے عام تھا کہ پولس نظریہ ضرورت کے تحت ملزم اگر نہ پیش ہو تو دوسرے کو اس کی جگہ پیش کرکے تاریخ لے لیتی تھی۔ مگر یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقعہ تھا کہ اصل کے بجا ئے ڈیتھ وارنٹ اس نے دوسرے  کے اس کے لیے جاری کرالیے۔ لہذاان لوگوں میں تشویش ہونا قدرتی بات ہے جن کی گردنیں موٹی ہیں۔
     اب آتے ہیں عمران خان کی شادی کی طرف؟ کہ میڈیا نے ان کے اس ارشاد کواتنا اچھالا، جو کہ انہوں نے جلسے میں جوش خطابت یا ازرراہ تفنن فرمادیا تھا۔ کہ “ جس دن نیا پاکستان بن جا ئے گا میں شادی کرلونگا“ چونکہ کپتان کے ساتھ وہ خان بھی ہیں  چونکہ نیا پاکستان بننا یا نہ بننا تو کسی اور ہاتھ میں ہے۔ مگر انہوں نے اپنا وعدہ پورا کردیاکہ شادی کرلی میڈیا سونگھتی ہی رہی؟ مگر مولانا نے بھنک نہیں پڑنے دی خبر بھی جب ہوئی جب نکاح ہو چکا تھا اور وہ لڑکی  کےگھر نہیں بلکہ لڑکے گھر میں ہوا، یہ نئے پاکستان کی نئی بات ہے ؟ اور وہاں سے صرف ایک خبر مل سکی کے نکاح خواں اپنے ہی دستخط  کرنابھول گئے۔ اب خانصاحب اور بیگم صاحب ایک اور ایک مل کر انشا اللہ گیارہ ہو جائیں گے؟ خواتین کا ونگ آئندہ سے بیگم صاحبہ سنبھالا کریں گی اور مردوں کاوہ خود؟ جو اس اعلان سے ظاہر ہے کہ انہوں فرمایا کہ١٨جنوری کو بیگم صاحبہ بھی ان کے ساتھ ہونگی؟ اس پر دو تبصرے بڑے دلچسپ ہیں ۔ایک تو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا ہے اور دوسرا ہے ان کے پرانے ساتھی جناب جاوید ہاشمی صاحب  کاکہ مولانا نے اپنی عمر تو بتائی  نہیں مگر یہ فرما یا کہ “ عمران خان تو مجھ سے بڑے ہیں “ حالانکہ ان کی عمر کسی نے نہیں پوچھی کیونکہ سال گرہ منانا انکی شریعت میں بدعت ہے۔ لہذا وہ کسی کو معلوم بھی کیسے ہوسکتی ہے۔ جبکہ جاوید ہاشمی کا فرمانا یہ ہے کہ عمران خان کے شادی کرنے کے بعد ان کی بیوی ڈرنے لگیں ہیں اور پہلے سے زیادہ خدمت کرنے لگی ہیں “  جبکہ پرویز رشید صاحب نے ٹیپ کا بند یہ یہ کہا ہے کہ ہم اٹھارہ جنوری سے پہلے جوڈ شیل کمشن کی بریکنگ نیوذ چلوادیں گے تاکہ وہ بجائے دھرنا دینے کہ اپنا ہنی مون منا سکیں۔ اس سلسلہ میں تازہ خبر یہ کہ عمران خان اور ان کی بیگم صاحبہ مع بچوں کے مدرسے گئے اس سے وہ کیا میسیج قوم کو دینا چاہتے ہیں وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے ، یہ مستقبل میں پتہ چلے گا۔ جبکہ ایک خبر یہ ہے کہ ولیمے میں صرف اسکول کے بچے اور فقراء اور مسکین مدعو ہونگے ؟ شاید مولوی صاحب یہ ان کو بتادیں کہ ولیمہ حضور (ص) وہ سنت تواترہ  جو انہوں (ص) نے ترک نہیں فرمائی۔ اور بلا تخصیص پورے شہر کو دعوت دیتے تھے؟
تیسری بات ہے مولانا فضل الرحمٰن اور ایم کیو ایم  میں جاری مناظرہ  ؟ اسے سن کر ہمیں بہت پرانی تا ریخ یاد آگئی ، ایک صاحب ہوا کرتے تھے خواجہ حسن نظامی جو بہ یک وقت اخبار نویس بھی تھے اور حضرت خواجہ نظام اولیاء (رح) کے سجادہ نشین بھی ۔ مگر جب وہ لکھنے پر آتے تو پھرکسی کو بھی نہی چھوڑتے تھے۔  مگرمولانا کی یہ روش پہلے تو نہیں تھی اب کیا ہوا؟ اگر ان کی ذات کے بارے میں کوئی اخبار نویس پوچھ لیتا  تو ناراض ہوجاتے تھے؟ ان کے مزاج میں یہ بڑی اہم تبدیلی ہے خدا خیر کرے ؟ میرے خیال وہ میں وہ جلد ہی نارمل ہو جا ئیں گے ۔کیونکہ نواز شریف صاحب نے کہدیا ہے کہ ان کے تحفظات دور کر دیے جائیں؟ ور وہ اکثر دور ہوہی جاتے ہیں ؟ یہ تو ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ہوتا ہے ۔ ہمارے ایک وزیر اعظم  صاحب نے الیکشن اسی مسئلہ پر لڑا کے انہیں  ایک معاہدے پرتحفظات تھے۔ جو تھا امریکہ اور کنیڈیا کے درمیان، وہ منتخب ہوگئے۔ پھر ان کی طلبی، امریکن صدر سے ملاقات ہوئی واپس تشریف لائے تو انکے تحفظات دور ہوچکے تھے۔ پاکستان میں بھی زیادہ تر کے تحفظات دور ہوچکے ہیں ۔ جو رہ گئے ہیں ان کے بھی جلد دور ہوجا ئیں گےکہ گردن تو سب کو پیاری ہوتی ہے؟


:دیگر مضامین
(03.01.2015) موجودہ دور میں مسلمانوں کی اقسام ۔۔۔ از ... شمس جیلانی
(27.12.2014) کس قدر دھوکا دیارنگِ گلستاں نے ہمیں۔۔از۔۔۔۔۔شمس جیلانی
(20.12.2014) سچ تو یہ ہے کہ یہ  کار واں  پھرلٹ گیا۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(19.12.2014) ۔۔۔ اور کار واں  پھرلٹ گیا۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(13.12.2014) دیکھو اور انتظار کرو۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ شمس جیلانی
(06.12.2014) ہوئے تم دوست جس کے۔۔۔ ؟ ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(29.11.2014) جوگرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(22.11.2014) ;مومن فراست سے محروم  کیوں؟۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(15.11.2014) ان کو نہ  ہر گزناپئے اسوہ رسول (ص) سے ۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی
(08.11.2014) خود نہ بدلیں، مگرقرآن بدلنا چاہیں۔۔از۔۔ شمس جیلانی
(01.11.2014) شدت پسندی اور تبلیغ کرنے والی باجیاں۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(25.10.2014) مشرف بہ اسلام کرنے سے پہلے اچھی طرح پرکھیئے؟ از۔۔۔ شمس جیلانی
(18.10.2014) نوشتہ دیوار پڑھیے حکمرانوں کو مشورہ۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(11.10.2014) ایک درمند ِ ملت کا خط اور اس کا جواب۔۔۔ از ۔۔۔شمس جیلانی
(05.10.2014) حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا مثا لی کنبہ۔۔۔۔  از۔۔ شمس جیلا نی
(27.09.2014) کام نہ پہلے کرتے تھے کام نہ اب کچھ کر نا ہو گا۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(20.09.2014) واقعی کیا جاگ رہا ہے پاکستان۔۔۔از ۔۔۔۔ شمس جیلانی
(13.09.2014) ذرا سوچیں آفات آسمانی ہم سے کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.09.2014) جھوٹوں کی لڑائی اس پر چوروں کی گواہی۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.08.2014) جھوٹ ، جھوٹ , جھوٹ اور جھوٹ۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں