
دس جنوری ہفتے کی شام فرینکفرٹ جرمنی میں فن و ادب ایسوسی ایشن اور پاک یورو جرنلسٹس فورم کے تین مراحل پر مشتمل ایک تقریب ہوئی جسمیں پہلے مرحلے میں سولہ دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کی شہادت پر تعزیتی اور احتجاجی نشست ہوئی جسکے بعد دوسرے مرحلے میں فیض احمد فیض کے حوالے سے گفتگو ہوئی جبکہ تیسرے مرحلے میں محفل مشاعرہ منعقد ہوئیپہلے دو مراحل کی صدارت عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ، شاعر،ادیب ،دانشور صفدر ھمٰدانی نے کی جب کہ محفل مشاعرہ کے صدر طاہر مجید اور مہمان خصوصی صفدر ھمدانی تھے
پہلے دو مراحل کی نظامت جانب ارشاد ہاشمی نے اور مشاعرے کی نظامت طاہر ملک نے کی
سلیم بھٹی نے تلاوت کلام پاک اور نعت رسول پیش کی جسکے بعد ارشاد ہاشمی نے عہد حاضر میں مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر روشنی ڈالی جسکے بعد صفدر ھمدانی نے سانحہ پشاور کے حوالے سے مفصل تجزیاتی اور فکری گفتگو کی

مسلمانوں کی تاریخ کی مناسبت سے ارشاد ہاشمی نے ایک نظم پیش کی جسکے بعد ڈاکٹر کمال الدین احمد، مسرور باجوہ،محمد رفیق چوہدری اور ڈاکٹر نظام الدین نے سانحہ پشاور پر مختصر گفتگو کی اور حکومت سے قاتلوں کی گرفتاری اور سزا کا مطالبہ کیا
تقریب کا دوسرا حصہ فیض احمد فیض کے لیئے مختص تھا جسمیں اولیں ارشاد ہاشمی نے فیض صاحب کی زندگی پر روشنی ڈالی جسکے
بعد شریف اکیڈیمی کے روح رواں شفیق مراد نے فیض پر اپنا مقالہ پیش کیا

تیسرے اور آخری دور میں ہونے والے مشاعرے میں جن شعرا نے اپنا کلام پیش کیا انکے اسمائے گرامی ہیںسلیم بھٹی طاہر، حمید رانا، شفیق مراد ، ارشاد ہاشمی، طاہر عدیم،طاہر مجید اور صفدر ھمدانیاس تقریب کی مکمل اور مفصل رپورٹ جلد شائع کی جائے گی
اسوقت اس موقع کی چند تصاویر