پریس ریلیز۔جرمنی کے شہر ڈارم شٹاڈ میں قومی یکجہتی اور حب الوطنی کی بنیادوں پر قائم ہونے والی تنظیم ’’ہم ہیں پاکستان ‘‘کے پروگرام کا انعقادشہر کے ایک مقامی ریسٹورانٹ میں ہوا۔پروگرام کے آغازمیں قومی ترانہ پیش کیا گیا ۔جسکے بعد محمود سعیدچئیر مین نے پروگرام کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور پر ہر آنکھ نم ہے ۔اسقدر تکلیف دہ واقع کے بعد ہمیں ہر قسم کے اختلافات کو دور کر کے ملک سے محبت کے جذبے کو اجاگر کرنا ہو گا۔ انہوں اس سانحہ کو المنا ک اور شرمناک واقع قرار دیا ۔
نوجوان رکن عامر محمود نے پروگر ام کے انعقاد کا مقصد جرمن زبان میں بتایا۔اسکے بعد تنظیم کے کم عمر اور جذبہ حب الوطنی سے سر شار رکن محمد علی نے سانحہ پشاورکے بارے میں جرمن زبان میں ذکر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ۔سیاسی اور سماجی شخصیت آزاد حسین نے کہا کہ اس افسوسناک اور تکلیف دہ واقع کو الفاط میں بیان کرنا آسان نہیں ۔ہمیں پاکستان کی ترقی کے لیے یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا ۔ملک کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے لسانی ،صوبائی اور فرقہ ورانہ تعصب کو ختم کر کے پاکستان کے لئے کام کرنے کے لیے پاکستانی بننا ہو گا ۔ارشاد ہاشمی نے اس واقع کی پُر زور مذمت کی اور اسے تاریخی المیہ قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ پُر امید ہیں کہ ایک دن وطن عزیز کے حالات ضرور بہتر ہونگے ۔
جرمن دوست سابس سٹائن نے تاریخی ثقافتی تہذیبی اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا تعارف جرمن زبان میں پیش کیا ۔ملک حیدر نے کہاکہ اس واقع کاتعلق جہاد سے نہیں بلکہ بربریت اور دہشت گردی سے ہے مجرموں کو عبرتناک سزائیں دی جائیں تا کہ ملک میں امن وامان پیدا ہو ۔طارق صاحب نے کہا کہ وہ کاروباری ادارے جو اپنے منافع کا ایک حصہ ایسی تنظیموں کی اعانت کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ۔رانا محمودد جنکا تعلق ڈی ایم ڈیجیٹل سے ہے لندن سے تشریف لائے انہوں سانحہ پشاور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کے پیچھے جو محرکات ہیں انکی طرف توجہ دینی ہو گی تاکہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کیا جاسکے

انہوں نے بانئ پاکستان قائد اعظم کی تعلیمات کی روشنی میں شہریوں کے بنیادی حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہ پاکستان میں بنیادی حقوق بلاتفریق ہر شہری کو حاصل ہونے ضروری ہیں ۔تاکہ ایک صحتمند اور فعال معاشرہ وجود میں آسکے ۔رانا رضوان نے سانحہ پشاور پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقع میں ملوث لوگوں کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ شفیق مراد نے سانحہ پشاور کو تاریخِ انسانی کا المناک اور افسوسناک واقع قرار دیتے ہوئے شعور اور آگہی کی ضرورت پر زور دیا ۔
اظہر خان نے ملی نغمہ ’’ہم ایک ہیں ۔ہم ایک ہیں ‘‘پیش کیا ۔طاہر ملک نے سانحہ پشاور پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے علامہ اقبال کا یہ مصرعہ دہرایا’’دینِ مُلا فی سبیل اللہ فساد ‘‘اسکے علاوہ شرکاء پروگرام نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔اور شہدائے پشاور کے لیے دعائے مغفرت کی گئی
۔پروگرام کے دوسرے حصے میں وطن کے حوالے شاعری کی محفل منعقد کی گئی ۔جس میں ارشاد ہاشمی شفیق مراد اور دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ،اور بعض احباب نے دوسرے شعراء کا ملکی سا لمیت و یکجہتی سے متعلقہ کلام پیش کیا ۔پروگرام کے آخر میں قومی ترانہ دوبارہ پیش کیا گیا ۔اس طرح یہ تعزیتی پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا ۔پروگرام کے انعقاد میں تنظیم کے ممبران چوہدری نعیم گجر ،ظہیربٹ ،طاہر چیمہ ،سجاد یوسف اور چوہدری اصغر نے پروگرام کو منظم کر کے پاکستان سے محبت اور سانحہ پشاور کے معصوم بچوں کی شہادت پر اپنے دکھ درد کا عملی اظہار کیا۔ ۔